New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 02:37 PM

Urdu Section ( 5 Jan 2018, NewAgeIslam.Com)

The Mufassirin Who Render the Quran A Book of Foolish Nonsense تذکرہ ان مفسرین کا جنہوں نے قرآن مجید کو احمقانہ لغویات کی کتاب بنا دیا

 

 

 

 

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

 18 دسمبر 2017

 سورت نمبر 98 البینہ پر مفسیرین کی تفسیر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کس طرح اپنی اجتماعی تعصب و تنگ نظری کی بنیاد پر قرآن مجید کو احمقانہ لغویات کی کتاب میں تبدیل کر دیا ہے۔

 البینہ/ واضح دلیل

 (1) اہل کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے۔

 (2) اللہ تعالیٰ کا ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھے:

(3) جن میں صحیح اور درست احکام ہوں۔

 (4) اہل کتاب اپنے پاس ظاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے۔

 (5) انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا۔

 (6) بیشک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں۔

 (7) بیشک جو لوگ ایمان ئےاور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں۔

 (8) ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے۔

یہ کافر کون ہیں جو بدترین مخلوق ہیں؟ اس سے قطع نظر کہ انھوں نے ان آیات کا ترجمہ کیسے کیا ہے، ہر مفسر نے تمام اہل کتاب اور تمام مشرکین کو کافر اور بدترین مخلوقات گردانا ہے۔ ان میں سے بعض مترجمین کے ترجمے بعض سے مختلف ہیں جنہوں نے اہل کتاب میں سے صرف کچھ لوگوں کو ہی کافر سمجھا ہے لیکن تقریبا ان میں سے ہر ایک نے تمام مشرکین کو کافر قرار دیا ہے۔ اس جملے کا "اہل کتاب کے کافر اور مشرک" ترجمہ ان مفسرین نے صرف ‘مختلف مذاہب کے کافر’ کیا ہے۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ ان کے لئے تمام غیر مسلم کافر ہیں اور ان آیات میں صرف دوسرے مثلا، بدھ مت اور آتش پرستوں وغیرہ کو ہی کافر کے دائرہ سے خارج کیا گیا ہے۔ شاید ایسا اس لئے ہے کہ صرف اہل کتاب اور مشرکین ہی پیغمبر اسلام ﷺ کے براہ راست سامعین تھے۔ یہاں تک کہ دنیا کے تمام مسیحی ، یہودی یا مشرک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم براہ راست مخاطبین میں سے نہیں تھے۔ تو پھر وہ صرف اہل کتاب میں سے ہی بعض مشیرکین کو کافر کیوں نہیں مانتے جو بدترین مخلوق ہیں؟ ان سب کو کافر مان کر کتاب کا تمسخر کرتے ہیں ، کیونکہ یہ مکمل طور پر دوسرے مذاہب کے لوگوں کو خارج تو کرتا ہےلیکن اہل کتاب اور مشرکین میں سے کسی کو بھی نہیں خارج کرتا! کیا یہ احمقانہ اور لغو بات نہیں ہے؟

کیا اس سورت میں تمام اہل کتاب اور تمام مشرکین کو کافر اور بدترین مخلوق کہا گیا ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے براہ راست سامعین تھے؟ یہ ابتدائی مدنی سورت ہے اور اس کے بعد چند آخری سورتوں میں سے ایک سورت سورہ مائدہ میں ایسی آیتیں ہیں:

 (5:82) ۔۔۔ یقیناً آپ ایمان والوں کا سب سے زیاده دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے اور ایمان والوں سے سب سے زیاده دوستی کے قریب آپ یقیناً انہیں پائیں گے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں، یہ اس لئے کہ ان میں علما اور عبادت کے لئے گوشہ نشین افراد پائے جاتے ہیں اور اس وجہ سے کہ وه تکبر نہیں کرتے۔

 (83) اور جب وه رسول کی طرف نازل کرده (کلام) کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسو سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، وه کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں۔

 (84) اور ہمارے پاس کون سا عذر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو حق ہم کو پہنچا ہے اس پر ایمان نہ ئیں اور ہم اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو نیک لوگوں کی رفاقت میں داخل کردے گا؟"

 (85) اس لئے ان کو اللہ تعالیٰ ان کے اس قول کی وجہ سے ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے۔

لہٰذا، واضح طور پر، قرآن اہل کتاب کے درمیان نبی ﷺ کے تمام براہ راست سامعین کو کافر اور بدترین مخلوق نہیں کہتا ہے بلکہ ان میں سے صرف چند افراد کو ہی کافر کہتا ہے۔

کیا تمام مشرکین کافر اور بد ترین مخلوق ہیں؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست سامعین میں مشرکین کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ تمام کافر اور بدترین مخلوق ہیں؟ بدترین مخلوق ایک انتہائی سخت جملہ ہے جس کا مطلب ہے کہ ان سے بدتر مخلوق کوئی نہیں ہے۔ کسی ایسے شخص سے بدتر کون ہوسکتا ہے جو مندرجہ ذیل آیات کی تعلیمات پر یقین نہیں رکھتا؟

 (7:146) میں ایسے لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گا جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں، جس کا ان کو کوئی حق حاصل نہیں اور اگر تمام نشانیاں دیکھ لیں تب بھی وه ان پر ایمان نہ ئیں، اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں۔ یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل رہے۔

ہم یہ جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے زمانے کے اکثر مشرکین نے اسلام کو قبول کر لیا تھا اور وہ آیت 7:146 میں مندرجہ ذیل لوگوں سے بدتر نہیں ہوسکتے تھے، جنہیں اللہ کبھی اسلام قبول کرنے کی ہدایت نہیں دیگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسری آیت میں ان لوگوں کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اب بھی معافی طلب کر سکتے ہیں:

 (8:33) اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں۔

ذیل کی آیت 8:23 سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر اللہ ان لوگوں میں کچھ بھی بھلائی پاتا تو ان کے دلوں میں اپنے کلام کو اتارتااور چونکہ اکثر مشرکین نے اسلام قبول کر لیا تھا لہٰذا، اس طرح کے تمام مشرکین کے دلوں میں بھلائی تھی اور وہ تمام کافر اور بدترین مخلوق نہیں تھے۔

 (8:23) اور اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دے دیتا اور اگر ان کو اب سنا دے تو ضرور روگردانی کریں گے بے رخی کرتے ہوئے۔

جو مفسرین تمام مشیرکین کو کافر اور بدترین مخلوق تصور کرتے ہیں انہیں ان تضادات کا خیال نہیں ہے جو ایسی تشریح سے پیدا ہوتے ہیں اور قرآن کو بے شمار تضادات یا احمقانہ لغویات کی کتاب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس میں کوئی استثناء نہیں ہے اور ہر مفسر تمام مشرکین کو کافر گرداننے کا مجرم ہے۔

ان مسلمانوں کا کیا حکم ہے جنہیں اس سورت میں بہترین مخلوق قرار دیا گیا ہے؟

کسی بھی استثناء کے بغیر تمام مفسرین ان مسلمانوں کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے ہیں جنہیں بہترین مخلوق قرار دیا گیا ہے۔ ان کے لئے بظاہر تمام مسلمان سب سے بہترین مخلوق ہیں۔ ان متعدد آیتوں کا کیا حکم ہے جن میں مسلمانوں کے درمیان منافقین کی بات کی گئی ہے جن کے لئے آخرت میں جہنم کی یقینی خبر دی گئی ہے؟ یا ان مسلمانوں کو کافر کہا گیا ہے جو سود لیتے ہیں اور زکوٰۃ نہیں ادا کرتے ہیں ؟ تمام مسلمانوں کو بہترین مخلوق قرار دینا قرآن کریم کی بہت سی دیگر آیات کے ساتھ تضاد کا سبب ہے جن میں مسلمانوں کو کافر، فاسق، ظالم اور مجرم کہا گیا ہے۔

لہذا، واضح طور پر اس سورت میں اہل کتاب میں سے ایک چھوٹے سے گروہ اور مشرکین میں سے ایک چھوٹے سے گروہ کو کافر اور بدترین مخلوق قرار دیا گیا ہے۔ اس سورہ میں مسلمانوں کے صرف ایک چھوٹے سے گروہ کو بہترین مخلوق قرار دیا گیا ہے۔ ان لوگوں کا تعین کرنے میں ناکام ہو کر مفسرین نے قرآن مجید کو احمقانہ لغویات کی کتاب کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ لوگ کون ہیں جنہیں سب سے بدترین اور سب سے بہتر مخلوق کہا گیا ہے؟ میرے درج ذیل مضمون میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے:

قرآن میں مخلوقات کا سب سے بہتر کون ہے؟

یہ دلیل کہ اجماع کی اتفاق رائے اللہ کا کلام ہے واضح طور پر ایک بے بنیاد اور شیطانی ہے اور شاید اسے جھوٹے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب کیا گیا ہے۔ اجماع اکثر ماضی میں بھی غلط تھا، یہی وجہ ہے کہ جب اصلاح کار پیغمبروں کو بھیجا گیا تو لوگوں نے ان کا انکار کیا ، انہیں جھوٹا بولا یا انہیں مار دیا " لیکن جب کبھی تمہارے پاس رسول وه چیز ئے جو تمہاری طبیعتوں کے خلاف تھی، تم نے جھٹ سے تکبر کیا، پس بعض کو تو جھٹلادیا اور بعض کو قتل بھی کرڈا" آیت 2:87۔ یہودیوں کو ماضی میں دو مرتبہ سزا دی گئی کیونکہ ان کے علماء کے اجماع نے انہیں غلط راستے پر ڈال دیا۔ اب مزید کوئی اصلاح کار پیغمبر نہیں بھیجا جائے گا کیونکہ ہمارے پاس معجزاتی قرآن ہے جس سے ایک امی کے لئے سچ دریافت کرنا اور علماء کے اجماع کو باطل قرار دینا ممکن ہے۔ ہر اس شخص کا انجام جس نے علماء کے اس باطل نظریہ کو چیلنج کیا ہے یہی رہا ہے کہ اسے ایک جھوٹا اور دغاباز قرار دیا گیا ہے۔ تمام علماء کا اجماع غلط ہے جو قرآن کو احمقانہ لغویات کی کتاب بنا دیتا ہے۔ سچائی کی آواز باطل کی آواز سے ممتاز ہے اور یہ علماء کے اجماع کے باطل نظریہ پر غالب ہو گی۔

 (21:18) بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وه اسی وقت نابود ہو جاتا ہے، تم جو باتیں بناتے ہو وه تمہاری لئے باعث خرابی ہیں۔

ایسے لوگ بھی ہوں گے جو حق کو واضح کریں گے ، اس کی حمایت کریں گے اور جو اس کی کھل کر مخالفت کریں گے:

 (39:32) اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے؟ اور سچا دین جب اس کے پاس آئے تو اسے جھوٹا بتائے؟ کیا ایسے کفار کے لیے جہنم ٹھکانا نہیں ہے؟

 (33) اور جو سچے دین کو ئے اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ پارسا ہیں۔

 (34) ان کے لیے ان کے رب کے پاس (ہر) وه چیز ہے جو یہ چاہیں، نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے۔

 (35) تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کردے اور جو نیک کام انہوں نے کیے ہیں ان کا اچھا بدلہ عطا فرمائے۔

خدا ہمیں ہدایت دے اور سچ کو سامنے لانے اور اس کی مدد کرنے کی طاقت عطا فرمائے۔ اللہ تعالی نے ہمیں ہماری کوششوں کے موعود انعام بھی عطا فرمائے اور غیر اللہ کی باتوں کو اللہ تعالی سے منسوب کر کے خدا کی توہین کرنے سے ہمیں محفوظ فرمائے۔ امین۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-mufassirin-who-render-the-quran-a-book-of-foolish-nonsense/d/113608

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-mufassirin-who-render-the-quran-a-book-of-foolish-nonsense--تذکرہ-ان-مفسرین-کا-جنہوں-نے-قرآن-مجید-کو-احمقانہ-لغویات-کی-کتاب-بنا-دیا/d/113829

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..