New Age Islam
Thu May 19 2022, 11:28 AM

Urdu Section ( 18 Feb 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

On The Hijab Controversy حجاب کا حالیہ تنازع

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

17 فروری 2022

حجاب ایک مسلمان عورت کا صرف مذہبی لباس ہی نہیں ہے بلکہ خواتین کی پارسائی کا ایک معیار بھی ہے

اہم نکات:

1. حجاب صرف مسلم خواتین ہی نہیں بلکہ عیسائی راہبائیں اور مختلف ہندو خواتین وغیرہ بھی پہنتی ہیں

2. پردہ یورپ میں اعلیٰ طبقے کی خواتین بھی پہنتی تھیں

3. ماضی قریب میں نچلے طبقے کی خواتین کو اپنے سینوں کو کا پردہ کرنے کی اجازت نہیں تھی اور اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتی تھیں تو ان پر جرمانہ عائد کیا جاتا تھا یا انہیں سخت سزا دی جاتی تھی۔

-----

Representative Photo: from the files

------

حجاب ایک مسلمان خواتین کا صرف مذہبی لباس نہیں ہے بلکہ ان کی پارسائی کا ایک معیار بھی ہے جسے نہ صرف مسلم خواتین بلکہ عیسائی راہبائیں اور کئی ہندو خواتین وغیرہ بھی پہنتی ہیں۔ پردہ یورپ میں اعلیٰ طبقے کی خواتین بھی پہنتی تھیں۔ جسم کے جن حصوں کو چھپانا ضروری ہے ،ہو سکتا ہے کہ عوامی شائستگی اور نظم و ضبط اس کا مطالبہ کرے، لیکن اگر کسی خاتون کی پارسائی جسم کے کسی حصے کو چھپانے کا تقاضا کرے تو اسے ننگا رکھنے کا مطالبہ محض فحاشی ہے ۔

ماضی قریب میں نچلے طبقے کی خواتین کو اپنے سینوں کو کا پردہ کرنے کی اجازت نہیں تھی اور اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتی تھیں تو ان پر جرمانہ عائد کیا جاتا تھا یا انہیں سخت سزا دی جاتی تھی۔ ایسی خواتین بھی ہیں جو اس حقیقت سے ناراض ہیں کہ مرد اپنے اوپری جسم کو بے نقاب کرسکتے ہیں جب کہ انہیں عوامی مقامات پر اپنے سینوں کا پردہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ آج کے مقبول سماجی معیارات کو دیکھتے ہوئےیہ مطالبہ کرنا اشتعال انگیز ہوگا کہ خواتین بھی سوئمنگ پولز وغیرہ میں اپنے سینوں کو نہ ڈھانپیں، حالانکہ ہو سکتا ہے بہت سی خواتین اس طرح کے اصول کی حمایت بھی کر دیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب بھی بہت سی ایسی خواتین ہیں جو ایسا نہیں کرتیں۔ ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے کہ ایسی خواتین کم ہی رہ جائیں جو اپنے سینے کو کھولنے سے کتراتی ہیں جب کہ ایسا کوئی قانون بھی نافذ ہو سکتا ہے۔

اصولی طور پر ایسا کوئی بھی قاعدہ یا قانون درست نہیں ہونا چاہیے جس کے تحت عورت کا اپنے جسم کے کسی ایسے حصے کو بے نقاب کرنا ضروری ہو جائے جسے اس کی حیا اور پارسائی چھپانے کا مطالبہ کرے۔ دوسروں کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ خواتین کو کون سا حصہ بے نقاب کرنا چاہیے جبکہ عوامی نظم و ضبط اور شائستگی کے اصول کے تحت یہ حکم دیا جا سکتا ہے کہ ایک شخص کو کن حصوں کو چھپانا لازمی ہے۔

جب قرآن یہ کہتا ہے کہ"دین میں کوئی جبر نہیں" (آیت 2:256)، تو یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ اسلام میں کچھ بھی ضروری نہیں ہے کیونکہ کسی چیز میں کوئی جبر نہیں ہے! تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کو مذہب کے معاملے میں مجبور نہیں کرے گا یا ہر شخص اپنی سمجھ کے مطابق اپنے مذہب کی پیروی کرنے میں آزاد ہے۔ کسی چیز کو کسی دوسرے پر تھوپا نہیں جا سکتا۔ اس لیے ضرورت کا تعین غلط ہے۔ ہر شخص کو اپنی سمجھ کے مطابق مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے جب تک کہ ایسا کرنے سے دوسروں کو نقصان نہ پہنچے۔

Representative Photo

------

جو دلائل پیش کیے جا رہے ہیں وہ مایوس کن ہیں اور حجاب پہننے کو ہتھیار لیکر چلنے کے ساتھ موازنہ کرنا ایک بے جا موازنہ کی منطقی غلطی ہے! عارف محمد خان کا یہ استدلال کہ صرف اسلام کے پانچ ستون ہی اسلام میں ضروری ہیں، اسلام سے ان کی لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلام کے پانچ ستونوں کا تعلق فقہ سے ہے قرآن سے نہیں۔ قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کیا گیا ہے اور تمام ضابطے متقی اور پرہیزگار مسلمان کے لیے دنیا اور آخرت کی کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔ حجاب (نہ کہ برقعہ)، جیسا کہ پوری دنیا میں مسلم خواتین صدیوں سے پہنتی آئی ہیں، قرآن کی آیت 24:31 میں خواتین کی پارسائی کے واضح ضابطے کے مطابق ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ جن کے اپنے ایجنڈے ہیں وہ آیت کی مختلف انداز میں تشریح کرنا پسند کرتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی میں اپنی سمجھ کے مطابق عمل کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

میں نے ایک ستر سالہ بزرگ کو ایک ٹی وی بحث میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ ان کے زمانے میں ان کی کلاس میں مسلم طالبات حجاب نہیں پہنتی تھیں۔ اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے کس کالج میں تعلیم حاصل کی۔ یہ وہ دوت تھا جب کالج کی تعلیم میں خواتین کی شرکت بہت کم تھی اور مسلم خواتین کی اس سے بھی کم۔ مزید برآں، مسلم خواتین صرف لڑکیوں/خواتین کے اسکول/کالجوں میں جانے کو ترجیح دیتی ہیں اور شاذ و نادر ہی کوئی مخلوط تعلیمی نظام والے اسکول/کالج میں جانا پسند کرتی ہیں۔ یہ بات معقول ہے کہ جن لوگوں کو مخلوط تعلیمی نظام والے کالج جانے میں کوئی اعتراض نہیں تھا وہ ماضی میں پردے کو بھی ضروری نہیں سمجھتی ہوں گی۔

پچھلی دہائی میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مسلم خواتین کی شرکت دوگنی ہو گئی ہے اور یہ ممکن نہ ہوتا اگر وہ مخلوط تعلیمی نظام والے اسکولوں/کالجوں میں جانے کی ہچکچاہٹ ختم نہیں کرتیں۔ حجاب پہننے کی آزادی نے ہی ان میں سے بہت سی لڑکیوں کے اندر اپنے گھروں سے باہر نکالنے کا جذبہ پیدا کیا اور اگر اسے ممنوع قرار دیا جاتا ہے تو یہ ایک پیچھے ہٹنے والا قدم ہو گا اور ان میں سے بہت سی بچیاں اپنے گھروں میں واپس بیٹھنے پر مجبور ہو جائیں گی۔ یہ ترقی اور جدیدیت کے مقصد کو فائدہ سے زیادہ نقصان پہنچائے گا۔ خواتین کو آزادانہ طور پر وہی پہننے کی آزادی دی جائے جس میں بے تکلف ہوں۔

Representative Photo: From the Files

------

اگرچہ ہو سکتا ہے کہ کچھ خواتین مروجہ پدرسرانہ نظام کی وجہ سے حجاب پہننے پر مجبور کی جائیں ، لیکن تمام خواتین کو اسی نظریہ سے دیکھنا درست نہیں ہے۔ بہت سی خواتین حجاب اپنی مرضی سے پہنتی ہیں کیونکہ یہ انہیں آزادانہ طور پر گھر سے نکلنے کی آزادی فراہم کرتا ہے جس کے بغیر وہ گھر کے اندر بیٹھے رہنے پرمجبور ہو جائیں گی۔ میرے اپنے خاندان میں میری ساس نے کبھی حجاب نہیں پہنا اور میری بیوی نے بھی 25 سال کی عمر تک حجاب نہیں پہنا تھا۔ لیکن جب اس نے اچانک برقع پہننا شروع کیا تو میں حیران رہ گیا۔ یہ تبدیلی ہمارے بچوں کے اسکول جانے کے بعد پیدا ہوئی کیونکہ اسے اکثر گھر سے باہر جانا پڑتا تھا۔ میں نے اسے برقعہ ترک کرنے پر آمادہ کیا کیونکہ اس سے مجھے تکلیف تھی لیکن پھر اس نے حجاب کو اپنا لیا اور پھر اسی پر گامزن رہی۔ میں بہت سی ایسی خواتین کو جانتا ہوں جنہوں نے اس وقت تک حجاب نہیں پہنا جب تک کہ انہوں نے کوئی نوکری نہیں کی یا جب تک ان کا گھر سے اکثر باہر آنا جانا ضروری نہیں ہو گیا۔ حجاب ایسی خواتین کو آزادی فراہم کرتا ہے۔ میں یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ اگر حجاب مسلم خواتین کے مذہبی لباس کی علامت نہیں ہوتا تو بہت سی غیر مسلم خواتین نے بھی اسے اپنا لیا ہوتا اور انہیں بھی اس میں اتنی ہی آزادی محسوس ہوتی۔

میری رائے ہے عدالتوں کو حجاب پر پابندی عائد کرنے کے بجائے پہلے کی حالت کو بحال کرنے کا حکم دینا چاہیے تھا، کیونکہ اگلے احکامات تک لڑکیوں کے حجاب پہننے سے روکنا انہیں اسکولوں/کالجوں سے باہر رکھنے کے مترادف ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کیونکہ بہت سی لڑکیاں اس کی وجہ سے اپنا امتحان لکھنے سے محروم ہو گئیں۔ مجھے امید ہے کہ لوگ عقمندی سے کام لیں گے اور ہم خواتین کو یہ حکم دینا چھوڑ دیں گے کہ انہیں کیا بے نقاب کرنا چاہیے۔

English Article: On The Hijab Controversy

Malayalam Article: On The Hijab Controversy ഹിജാബ്വിവാദത്തെക്കുറിച്ച്

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/religious-clothing-hijab-controversy-female-modesty/d/126402

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..