New Age Islam
Fri Mar 05 2021, 02:09 AM

Urdu Section ( 15 Nov 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

?Is It Possible To Logically Derive A Single Meaning Of Every Verse Of The Quran کیا قرآن مجید کی ایک آیت سے صرف ایک معنی اخذ کرنا ممکن ہے؟

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

14 نومبر 2017

قرآن مجید کی ہر آیت کا ایک واحد معنی اخذ کرنا صرف ممکن نہیں بلکہ میرے تمام مضامین سے یہ ظاہر بھی ہوتا ہے کہ کیسے اس عمل کو انجام دیا جا سکتا ہے۔ اور وہ ایک معنی ہمیشہ دوسری تمام تعبیرات و تشریحات پر غالب صرف اس لئے ہوگا کہ ہر وہ تفسیر جو معنی نہیں ہے وہ قرآن کریم کی ایک یا ایک سے زائد آیتوں سے متصادم ہوگی اور صرف ایک حقیقی معنی قرآن کریم کی تمام آیات کے ساتھ ہم آہنگ ہوگا۔ اس کتاب کو کتاب مبین قرار دئے جانے کی مراد بالکل یہی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ قرآن کی کوئی آیت کسی دوسری آیت کے ساتھ متصادم نہیں ہے۔ تاہم، اکثر ماضی اور حال کے ایسے اسلامی علماء کرام کے لئے کہ جن کی تفہیم قرآن پر نہیں بلکہ احادیث جیسے ثانوی مصادر و مراجع پر مبنی ہے، اور جو قرآن کی آیتوں سے احادیث کی تصدیق و تائید کرنے کے لئے قرآن مجید کی بعض آیتوں کو منسوخ مانتے ہیں ان کے لئے قرآن نہ تو کتاب مبین ہے، اور نہ ہی تضادات سے خالی ایک کتاب ہے، بلکہ یہ ایسے تضادات سے بھری ہوئی ایک کتاب ہے جو اس بات کو لازم کرتا ہے کہ قرآن کی بعض آیات کو منسوخ مانا جائے! جو ہر نزاع میں قرآن کو ایک حتمی فیصل تسلیم نہیں کرتے اور جن کی تفہیم ثانوی ذرائع پر مبنی ہے ان کے ساتھ کوئی معنی خیز بحث و تمحیص ممکن نہیں ہے ، اگرچہ وہ کبھی اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اور وہ اس وجہ سے صرف قرآن پر مبنی کسی بھی بحث و تمحیص سے گریز کریں گے کہ انہیں معلوم ہے کہ قرآن کی تعلیم اور بعض دیگر احادیث پر مبنی ان کے عقائد کے درمیان کیا فرق ہے۔

ان تمام تشریحات کو آسانی کے ساتھ مسترد کیا جا سکتا ہے جو معنی نہیں ہیں ، مثال کے طور پر شیخ البانی کا فتوی "ہر شرک کفر ہے اور ہر کفر شرک ہے"۔ اور اس کے لئے ضرورت صرف اس بات کو ظاہر کرنے کی ہے کہ ایک انسان جسے سچ جانتا ہے اور جس کے بارے میں سچ ہونے کا یقین رکھتا ہے کفر اس کا ایک اضافی تصور ہے۔ کفر عقل کے خلاف ایک بیجا مداخلت اور حق کے خلاف کوئی عمل انجام دینا یا کسی ایسے عمل کا ارتکاب کرنا ہے جسے غلط مانا جاتا ہو۔ کفر کے "چھپانے " کے لغوی معنی کےساتھ اگر کوئی اس معنی کو متعلق کرنا چاہے تو اس صورت میں کفر کا اطلاق اس وقت ہوگا جب آپ حق کے احساس کو دبانے یا چھپانے کے لئے کسی بھی جذبات کو اجازت دیں گے۔ میں نے اپنے مضمون میں کفر کو ایک اضافی تصور ثابت کیا ہے:

Who Is A Kafir In The Quran? (Part 3): Why Kufr Is A Relative Concept While Shirk, Idol Worship Etc. Have Fixed Meanings

اللہ اپنی تمام مخلوقات کو یکساں طور پر ایک متوازی موقع فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی شخص کو مسلمان پیدا ہونے کا شرف حاصل نہیں ہے، یا کسی انسان کے اوپر اس بات کا وبال نہیں ہے کہ وہ غیر مسلم پیدا ہوا ہے۔ ورنہ، اللہ ایک منصف خدا نہیں ہوگا۔ تاہم، صرف شیخ البانی کے فتوی ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے ہر فرقے کی واضح فقہی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کا عقیدہ اس کے برعکس ہے جو تمام مشرکین کو کافر سمجھتے ہیں ، اور اس وجہ سے خدا کے بارے میں ان کا تصور ایک ظالم خدا کا ہے اور اس طرح وہ خدا کی توہین کے مرتکب ہیں۔ اس طرح کا تصور نہ صرف قرآن کے خلاف ایک جرم ہے، بلکہ یہ عقل کے بھی خلاف ہے، اور اس وجہ سے کفر ہے۔ اسی طرح عیسائی اور یہودی بھی اس جھوٹے تصور کے حامل ہیں کہ انہیں خدا کی نصرت و حمایت حاصل ہے۔ تاہم، مشرکین کے پاس صرف ان کے عقائد کی بنیاد پر خدا کی نصرت و حمایت یا اس کی ناراضگی کا کوئی تصور نہیں ہے اور اس حد تک وہ اپنی عقل کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ "مومنوں" کا ایک جھوٹا عقیدہ اور ان لوگوں کا صحیح عقیدہ جنہیں ہم "کافر" کہتے ہیں، مشرکین اور موحدین کے درمیان توازن کو بحال کرتا ہے۔ موحد ایک ایسے ظالم خدا کے عقیدے سے خدا کی توہین کرتے ہیں جس کا ان پر انعام ہے ، جبکہ اس بارے میں مشرکین ذرا متواضع اور منکسر المزاج ثابت ہوئے ہیں جو کسی خاص مذہبی حلقے کے اندر اپنی پیدائش کے حادثے کی بنیاد پر کسی کو اللہ کی جانب سے انعام یافتہ یا اس کے انعامات سے محروم نہیں سمجھتے۔

ہر فرد کا فیصلہ اس کی اس ترقی کی روشنی میں کیا جائے گا جو اس نے حقیقت کے راستے پر حاصل کی ہے۔ جو لوگ اسی مقام پر قائم ہیں جس پر وہ پیدا ہوئے تھے وہ ایک جیسے ہیں، وہ لوگ جو مثبت پیش رفت کرتے ہیں وہ سچ کے متلاشی ہیں اور جو لوگ قدم پیچھے کر لیتے ہیں وہ وساوس اور توہمات کا شکار ہیں۔ زیادہ تر مسلمان صرف اس فرقے کی پیروی کرتے ہیں جس میں وہ پیدا ہوئے ہیں، اور اس وجہ سے وہ دوسرے مذہب کے ان افراد سے مختلف نہیں ہیں جنہوں نے صرف اپنے فرقے کی پیروی کی ہے۔ فرق صرف ان کے انفرادی اعمال میں ہے۔ اگر ان میں سے کسی بھی شخص نے سچائی کا علم حاصل کر کے اپنے عقائد کی اصلاح کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ، یا دونوں نے سچ سے واقفیت حاصل ہونے کے باوجود صرف اس لئے اسے مسترد کر دیا کہ وہ ان کے فرقے کی تعلیمات کے خلاف ہے، تو اپنے عقائد کے معاملے میں دونوں برابر ہیں۔ وہ تمام افراد جو صرف اپنے حالات کی پیداوار ہیں اپنے عقائد کے معاملے میں یکساں ہیں، لیکن ان عقائد کے ساتھ اپنے اعمال میں وہ مختلف ہیں اور ان کا فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔ جنہوں نے شعور کے ساتھ علم حاصل کیا اور خود کی اصلاح کی ان کا مقام اعلیٰ ہے اور جنہوں نے قدم پیچھے کر لئے ان کا مقام ادنیٰ ہے۔

کوئی اور کیوں نہیں یہ کہتا کہ قرآن کی ہر آیت کا واحد معنی منطقی طور پر اخذ کیا جاسکتا ہے؟ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ وہ احادیث کی روشنی میں قرآن کی "تشریح"، کرتے ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں اس کے واضح معنی سے انحراف کرنے اور اس کے "معنی" کو اپنے عقیدے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لئے قرآن مجید کی متعدد آیات کو منسوخ کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ اہل کتاب کی طرح جان بوجھ کر قرآن کے معنی میں تحریف کرتے ہیں (2:75) اور اصل معنی کے بجائے اس کے ضمنی معنی کا استعمال کر کے اس کی تشریح کرتے ہیں۔ کیا معنی کے لئے انہیں احادیث پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے؟ نہیں، قرآن واضح طور پر ایسی ضرورت کا انکار کرتا ہے۔ "یہ آپ کے پاس (ائے محمد) جو کوئی مثال ئیں گے ہم اس کا سچا جواب اور عمده توجیہ آپ کو بتادیں گے" (25:33)۔ اور نبی (ﷺ) پر قرآن مجید ،حق اور بہترین توضیح نازل ہوئی ہے۔ قرآن کریم کی توضیح اور کسی سوال کے جواب کی صورت میں اس کے علاوہ جو کچھ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کیا گیا ہے، وہ قرآن کے اس دعوی کو مسترد کرنے والا ہے کہ قرآن کریم میں ہر طرح کے سوالات کا ہر ممکن طریقے سے بہترین جواب فراہم کر دیا گیا ہے۔ قرآن کی وضاحت بلکہ اس کے معنی میں معمولی تبدیلی بھی پیدا کرنے والی نبی صلی اللہ علیہ سے منسوب تمام احادیث باطل اور سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ وہ تمام حدیثیں جو قرآن کے معنی کو تبدیل نہیں کرتیں یا جن سے اس کے معنی کی خلاف ورزی نہیں ہوتی قبول کی جا سکتی ہیں۔ اور ان احادیث کا تعلق نماز جیسی صرف رسمی روایات سے ہوگا۔

تنسیخ پر یقین کرنے والوں کا کیا؟ تنسیخ جیسا کہ قرآن واضح طور پر بیان کرتا ہے کسی چیز کو اس سے بہتر متبادل سے بدلنا ہے۔ مثال کے طور پر اگلے صحیفوں میں قصاص کے اصول (دوسروں کے ساتھ ایسا ہی کرو جیسا انہوں نے تمہارے ساتھ کیا ہے) کو 'احسن' یا بہتر بدلے کے اصول سے تبدیل کرنا – مثلا ، زدوکوب کا بدلہ معافی کے ساتھ دینا۔ تنسیخ کا تعلق قرآن سے بالکل نہیں ہے، اور اگر ہو تب بھی بہتر کو برے پر ترجیح دی جائے گی۔ "مذہب میں جبر و اکراہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے" کے اصول کو "لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کیا جائے" کے اصول سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ، جو کہ قرآن میں تو بالکل نہیں ہے، لیکن بہت علماء یہ باطل عقیدہ رکھتے ہیں۔ جو قرآن مجید کی منسوخ آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں وہ قرآن کے ایک حصے پر ایمان لانے اور دوسرے حصے سے انکار کرنے کے جرم کے مرتکب ہیں:

(15:90) جیسے کہ ہم نے (آسمانی صحیفوں میں من مانے طریقے سے) ان تقسیم کرنے والوں پر (اپنا عذاب) اتارا۔

(91) (اسی طرح ان لوگوں پر بھی) جنہوں نے اس کتاب الٰہی کے (اپنی سہولت اور مرضی کے مطابق) ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے،

(92) قسم ہے تیرے پالنے والے کی! ہم ان سب سے ضرور باز پرس کریں گے،

(93) ہر اس چیز کی جو وه کرتے تھے۔

جو لوگ مکی قرآن اور مدنی قرآن کی بات کرتے ہیں گو کہ وہ مختلف تھے من مانے طریقے سے قرآن مجید کے ٹکڑے کر رہے ہیں۔ جنہوں نے قرآن کو ٹکڑوں میں بانٹا وہ وہی ہیں جنہوں جو اس کی کچھ آیتوں کو منسوخ مانتے ہیں۔ اور ایسے لوگ سبھی متعلقہ آیات کو نظر میں رکھ کر اس کا ایک معنی اخذ نہیں کرتے ہیں۔ قرآن ایک آیت کی توضیح کسی دوسری آیت کی مدد سے پیش کرتاہے اور اسی لیے تمام آیات پر غور کرتے ہوئے اس کا معنیٰ اخذ کرنا ضروری ہے۔ سورہ البقرہ کی آیت 85 میں یہودیوں کو اسی طرح خبردار کیا گیا ہے۔ "لیکن پھر بھی تم نے آپس میں قتل کیا اورآپس کے ایک فرقے کو جلا وطن بھی کیا اور گناه اور زیادتی کے کاموں میں ان کے خلاف دوسرے کی طرفداری کی، ہاں جب وه قیدی ہو کر تمہارے پاس آئے تو تم نے ان کے فدیے دیئے، لیکن ان کا نکالنا جو تم پر حرام تھا (اس کا کچھ خیال نہ کیا) کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ تم میں سے جو بھی ایسا کرے، اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو کہ دنیا میں رسوائی اور قیامت کے دن سخت عذاب کی مار، اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بےخبر نہیں’’۔ یہ انتباہ مومنوں کو خبردار کرنے کے لئے ہے کہ انہیں ان یہودیوں کے عبرتناک انجام سے سبق حاصل کرنا چاہئے جو اللہ کے اس انتباہ کو نظرانداز کر کے اپنے غلط طریقوں پر قائم رہے، گویا کہ : ‘‘تم یہودیوں کے عبرتناک انجام کو دیکھ رہے ہو اور کیا تم اللہ کے انتباہ کو نظر انداز کر کے اسی انجام تک پہنچنا چاہتے ہو؟

اس کے علاوہ قرآن میں ایک اور مقام پر اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ چیزوں کی مکمل طور پر وضاحت کرتا ہے اور خارج سے کسی بھی انحصار کے بغیر یہ اپنے معنی کو خوب واضح کر کے بیان کرتا ہے:

(75:16) (اے نبی) آپ قرآن کو جلدی (یاد کرنے) کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔

(17) اس کا جمع کرنا اور (آپ کی زبان سے) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے؛

(18) پھر ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں؛

(19) پھر اس کا واضح کر دینا ہمارے ذمہ ہے؛

مندرجہ ذیل آیت یہ بتاتی ہے کہ قرآن اہل کتاب کا تصفیہ ان معاملات میں کر تا ہے جن میں انہیں اختلاف ہے۔ اگر ایسا ہے تو، پھر اس کے کسی بھی حصے کو مسلمانوں کو سمجھائے بغیر چھوڑنے کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟

(27:76) یقیناً یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان اکثر چیزوں کا بیان کر رہا ہے جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں۔

لوگ منطقی طور پر حاصل کردہ ایک معنی پر ایمان اس لئے بھی نہیں رکھتے کیوں کہ انہیں اس بات کو کوئی علم نہیں ہے کہ منطقی طور پر ایک واحد معنی اخذ کرنے کا مطلب کیا ہے۔ قرآن کے علاوہ ایسی کوئی دوسری کتاب نہیں ہے جس کے اندر یہ خصوصیت ہو کہ اس کی تمام آیات کا منطقی طور پر صرف ایک معنیٰ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں ریاضی یا طبیعیات میں عام مسائل کا استدلال کرنے کے بھی قابل نہیں ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ کب واحد یا منفرد حل تلاش کرنے کے لئے مواد کافی ہے۔ اگر وہ ایک حل کی تلاش میں سمندر کی غواصی کرتے ہیں تو اکثر وہ یہی کہتے ہیں کہ مواد ناکافی ہے یا جو کچھ سوال کیا جا رہا ہے وہ واضح نہیں ہے، جب کہ مسئلہ ان میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔ جواب تلاش کرنے کے لئے عقل و استدلال کا استعمال انتہائی غیر معمولی ہے۔ لوگ اپنے کامن سینس کا استعمال کرتے ہیں اور ان کا کامن سینس انہیں نیک نامی، اجماع اور روایت پر اعتماد کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ مولویوں اور مفتیوں کو ایسی گرفت حاصل ہے جو آئندہ بھی جاری رہے گی۔

لہذا اس وسیع خلیج کی وجہ یہی ہے اور اسے اس وقت تک پر نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ مسلمان پورے قرآن پر ایمان رکھنا شروع نہیں کر دیتے اور اس کتاب کی تعبیر و تشریح کے لئے ثانوی ذرائع کے استعمال کو ترک نہیں کر دیتے۔ "اور پختہ ومضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان چکے، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں"۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ "مومنوں" اور "کفار" کے درمیان عقلمند لوگ بہت کم ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مواقع تمام لوگوں کے لئے یکساں ہیں ، اور لوگوں کے درمیان بہت کم فرق ہے سوائے ان کے اعمال کے۔ باطل عقائد تمام لوگوں کے درمیان مشترک ہیں، اور "مومنین" بھی اپنے باطل عقائد کی بنیاد پر اپنے خدا، اپنے نبی اور اپنی کتاب قرآن کی یکساں طور پر توہین کرتے ہیں۔

URL: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/is-it-possible-to-logically-derive-a-single-meaning-of-every-verse-of-the-quran?-or,-does-allah-provide-a-level-playing-field-to-all-the-people?/d/113219

URL: http://newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/?is-it-possible-to-logically-derive-a-single-meaning-of-every-verse-of-the-quran--کیا-قرآن-مجید-کی-ایک-آیت-سے-صرف-ایک-معنی-اخذ-کرنا-ممکن-ہے؟/d/113234

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..