New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 05:17 AM

Urdu Section ( 8 Nov 2017, NewAgeIslam.Com)

Can We Trust Our Common Sense? کیا ہم اپنے کامن سینس پر اعتماد کر سکتے ہیں؟

 

 

 

 

 

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

24 اگست 2017

کامن سینس ہماری اس حسی صلاحیت کا نام ہے جس کی بنیاد پر ہم اپنے معاشرے میں تقریبا تمام لوگوں کے درمیان مشترکہ معاملات پر غور کرتے ہیں انہیں سمجھتے ہیں اور ان کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں اور بغیر کسی بحث و مباحثہ کے معاشرے کے تقریبا تمام افراد سے بجا طور پوراس کی توقع بھی کی جا سکتی ہے۔ (جزوی طور پر یہ تعریف ویکی پیڈیا سے لی گئی ہے)

عملی طور پر ہم ایک ہم جنس جماعت کے درمیان کسی مشترکہ امر کے بارے میں گفتگو کرسکتے ہیں جو کوئی قوم، نسلی گروہ یا کوئی مذہبی برادری پر بھی مشتمل ہوسکتی ہے۔ دنیا کے تمام لوگوں کے درمیان جو امر مشترک ہے اس کے بارے میں بات کرنے سے ہماری جہالت اور اس خاص کی بنیاد پر جو ہمارے لئے عام ہے عمومیت پیدا کرنے کی ہماری مشترکہ کمزوری ختم ہوتی ہے۔ چوری اور قتل اکثر تہذیب و ثقافت میں کامن سینس کے اعتبار سے ایک مجرمانہ عمل ہے، لیکن یہ دھوکہ دینے والوں اور ان دیگر مجرم قبیلوں کے لئے کوئی جرم نہیں جو اسے اپنے دیوتاؤں کی ایک مقدس خدمت مانتے ہیں۔ اور دوسروں کے لئے بھی یہ کوئی کامن سینس نہیں تھا جب تک کہ مذہب نے صحیح اور غلط کا معیار نہیں دیا تھا۔

خیال، تفہیم اور فیصلے عام طور پر معاشرے کے اقدار، خیالات، اصول اور تصورات پر منحصر ہوتے ہیں جو کہ ہر معاشرے میں جدا جدا ہیں۔ ہم عام طور پر جسے کامن سینس سمجھتے ہیں وہ بالعموم ہمارے نقطہ نظر اور نظریات کا عکس ہوتا ہے۔

اگر آپ لوگوں کے اقدار، اصول اور تصورات کو متاثر کر سکتے ہیں تو آپ ان کے رویے کو بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہ ان کا استعمال کر کے ہوتا ہے اور اس کے ذریعے ان کا "کامن سینس" بدلتا ہے، اور اس طرح طاقتور مفاد پرست جماعتیں لوگوں کے ردعمل اور عمل کو بدل دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ہر سازشی نظریہ کو غلط تصور سے کچھ زیادہ نہ سمجھنا ایک "کامن سینس" بن چکا ہے۔ لہذا ہم سرکاری موقف کا اعتبار کرتے ہیں اور باقی سب مسترد کر دیتے ہیں۔ حکومت اور دیگر طاقتور مفادپرست جماعتیں وہ سب کچھ کرسکتی ہیں جن سے ان کو خوشی ملے اور وہ سچائی کے نام پر ہم سے اپنی "سرکاری کہانیاں" فروخت کرتے ہیں۔ لوگ سرکاری جھوٹ کو تسلیم کر لیں گے، کیونکہ ان کا کامن سینس انہیں یہ بتاتا ہے کہ سازشی نظریات صرف نظریات ہیں ، حقیقت نہیں۔صرف ایک عقل مند چال کی بنیاد پر حکومت خود کو کسی بھی غلط کام یا سازش کے شک و شبہ کےدائرے سے باہر کر دیتی ہیں ! یہ کیسے ممکن ہے؟ ان کو اس حقیقت سے مدد ملتی ہے کہ بہت سارے سازشی نظریات حقیقت میں غلط تخیل ہیں اور ان میں سے بہت کم ہی کا تعلق سچائی کے ساتھ ہے۔ ایک اچھی سازش کی کہانی صرف ایک ہی ہوگی جو حقیقت سے قریب ہوگی جبکہ اسی واقعہ کے بارے 99 دیگر غلط کہانیاں بھی ہوں گی۔ حکومت اس ایک اچھی کہانی کا ذکر نہیں کرے گی لیکن 99 دیگر کہانیوں کو مؤثر طریقے سے مسترد کرے گی اور لوگوں کو اس بات پر قائل کرے گی کہ تمام سازشی نظریات غلط ہیں۔ غلط کے خلاف بہترین ثبوت کے سامنے ایک حقیقی کہانی آسانی کے ساتھ گم ہو جاتی ہے۔

دشمن کو نیست و نابود کرنے اور اس کی تذلیل و توہین کرنے کے لئے جنگ کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ جاپانی لوگوں کو حیوان سمجھا گیا اسی لئے ان پر نیوکلیائی حملے کو تسلیم کیا گیا اگر چہ اس کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔ بلکہ اس کا مقصد صرف ایٹمی بم کی تباہ کن طاقت کو آزمانہ اور سوویت نونین کو خبردار کرنا تھا۔ اس سے دوسری عالمی جنگ کا اختتام ہوا اور سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ ہمیں معلوم ہے کہ افغانستان اور عراق کے خلاف جنگ اور شام اور لیبیا میں مداخلت پر حکومت نے کس طرح امریکی عوام کو رضامند کیا۔

ہو سکتا ہے کہ ماضی میں ہم جنس پرستوں کی شادی کے خلاف دلیل میں کامن سینس کا بھی سہارا لیا گیا ہو لیکن آج یہ مغربی معاشرے میں ممکن نہیں ہوسکتا کیونکہ ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے بارے میں ان کا کامن سینس اب تبدیل چکا ہے۔

ہم اپنے کامن سینس پر بھروسہ کرتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارے روز مرہ کے بہت سے مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ سست فکر مند ہیں جو اپنے کامن سینس پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں جس کا عیاروں اور ناجائز فائدہ اٹھانے والوں نے اپنے فائدے کے لئے غلط استعمال کیا ہے۔

مسلم معاشرے کو ہی دیکھ لیں۔ اس معاشرے کے اندر دلیل سے اوپر اٹھ کر جن چیزوں کو "کامن سینس" مذہبی نظریات سمجھا جاتا ہے وہ ایک غلطی کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور کبھی کبھی یہ غلط اور خود ان کے لئے انتہائی نقصان دونوں ہوتے ہیں:

کافر = غیر مسلم (قرآن کی ایک بھی آیت میں کافر کا مطلب غیر مسلم نہیں ہے۔ قرآن کافر کے لئے ہمیشہ لفظ لا یؤمنون کا استعمال کرتا ہے)

ایک مسلمان وہ ہے جو کلمہ پڑھتا ہو۔ (یہ اسلامی نظریہ ہے قرآن کا نہیں۔ قرآن کے مطابق، اسلام اللہ تعالی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا نام ہے، خواہ ہم اللہ تعالی کو جس نام سے بھی پکاریں اور جو اللہ کی بارگاہ میں سر تسلیم خم کرتا ہے وہ مسلمان ہے)

شہید = شہید (قرآن میں اس لفظ کا استعمال صرف گواہ کے لئے ہے ، اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کے لئے قرآن میں کبھی اس لفظ کا استعمال نہیں کیا گیا ہے)

لافانی روح موجود ہے (قرآن میں کوئی بھی ایسا لفظ یا کوئی ایسی اصطلاح موجود نہیں ہے جس کا مطلب ایک لافانی روح ہو)

گنہگاروں کے لئے قبر میں عذاب (ایک مردہ انسان قیامت کے دن ہی زندہ کیا جائے گا لہٰذا قبر میں کسی کو سزا نہیں ہوسکتی ہے اور لوگ جس لافانی روح کی بات کرتے ہیں جو موت کے بعد بھی زندہ رہتی ہے اس کا کوئی وجود نہیں ہے)

دین = قرآن بشمول سنت جس کا مطلب احادیث کی پیروی کرنا ہے (نبی ﷺ کی سنت سمیت پورا دین قرآن میں دین کی پیروی سے متعلق ہے)

دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے۔ (دو عورتیں مشترکہ طور پر ایک دستاویز کی گواہ بن سکتی ہیں اور جب ضروری ہو تو وہ مشترکہ طور پر گواہی دے بھی سکتی ہیں۔ انہیں الگ الگ گواہی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لہذا یہ ایک مشترکہ طور پر دی گئی دونوں گواہیاں ایک دوسرے کی مشاورت میں ایک گواہی مانی جائے گی۔ یہ ایک رعایت ہے کوئی قانونی ضرورت نہیں۔)

قرآن میں تین طلاق کا تصور موجود ہے۔ (جبکہ ایسا نہیں ہے)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ "کافروں" اور "کفر" کے ساتھ خلاف تھی مذہبی ظلم و ستم کے خلاف نہیں۔ (یہ غلط تصور لفظ کفر / کافر کے غلط ترجمہ اور ان آیات کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہےجن سے اس تصور کی تردید ہوتی ہے)

یہاں تک کہ وہ پرامن مشرکین بھی جنہوں نے مسلمانوں سے نہ جنگ کی اور نہ ہی انہیں ستایا ، انہیں بھی اپنے عقیدے کو برقرار رکھنے کا اختیار نہیں ہے اور ان پر جزیہ کی ادائیگی لازم ہے۔ (یہ ایک بے بنیاد اور باطل تصور ہے)

کامن سینس پر غلط دلائل

جو عام طور پر سچ ہے یہ ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ سچ ہی ہو۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل دلائل پر غور کریں:

مندرجہ بالا کامن سینس کے بارے میں عام مسلمانوں اور ان کے علماء کے درمیان مشترکہ تصور یہی ہے کہ یہ تصورات غلط ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب نہیں ہے جو چیزوں کو واضح کر کے بیان کرتی ہے۔

حالانکہ کہ ہوسکتا ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہو جو چیزوں کو واضح کرتی ہے، لیکن مسلمان حقیر سیاسی مفادات ، تعصب اور علاقائی تنگ نظری کے پیش نظر اب بھی قرآن سے منحرف ہی ہیں جو کہ ہر مذہب کے مذہبی گروہ میں عام ہے۔ مسلمانوں کے درمیان بہت سے غلط تصورات کی وجہ ان کی فقہ ہے جو قرآن پر نہیں بلکہ احادیث پر مبنی ہے۔ احادیث ہر موضوع پر قرآن سے مختلف ہیں۔ احادیث کی تدوین نبی ﷺ کی وفات کے دو صدیوں بعد عمل میں آئی اور اس کا واحد مقصد بظاہر اسلام کو طاقتور مفاد پرست جماعتوں کی ضروریات تک ہی محدود رکھنا ہے۔ جس شخص کو پہلے حدیث کی تعلیم دی گئی ہو وہ سچائی کو مسخ کرنے والی عینک سے دیکھے گا اور سچائی تک رسائی حاصل نہیں کر پائے گا۔ ایک عام مسلمان اپنے فرقے کی فقہ کے آئینے میں ہی اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کرتا ہے۔ جب وہ قرآن کا مطالعہ کرتا ہے اور اپنے عقائد اور قرآن کے درمیان ایک خلا پاتا ہے تو وہ یہ سوچ کر قرآن کا مطالعہ ترک کر دیتا ہے کہ قرآن اس کی سمجھ سے باہر ہے۔ ان تمام غلط فہمیوں میں سے ہر ایک پر میرے مضامین اس بات کا ثبوت ہیں کہ آسانی کے ساتھ حقیقت کی تحقیق کی جا سکتی ہے جو کہ عام نقطہ نظر کے برعکس ہے ۔

قرآن کی بہت سی آیتیں ایک دوسرے سے متضاد ہیں اسی لئے علماء کئی آیتوں کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔

تضادات قرآن کی تعلیم اور حدیث کی تعلیم کے درمیان ہیں۔ جو احادیث کو درست سمجھتے ہیں انہیں بہت سے تضادات مل جائیں گے۔ قرآن بااصول اور کسی بھی تضاد سے مکمل طور پر پاک ہے۔

مکی قرآن اور مدنی قرآن کے درمیان ایک فرق ہے۔ مکی قرآن کہتا ہے "تمہارے لئے (اسلام کے پرامن انکاری) تمہارا دین اور ہمارے لئے ہمارا دین"۔ مدنی دور اس اصول کی تنسیخ اور کافروں کے خلاف اس وقت تک جنگ کا دور ہے جب تک وہ کفر ترک نہ کر دیں ۔

"تمہارے لئے (اسلام کے پرامن انکاری) تمہارا دین اور ہمارے لئے ہمارا دین"کے اصول کی خلاف ورزی کبھی نہیں کی گئی تھی۔ جو لوگ امن پسند تھے انہیں اپنی زندگی کے تحفظ اور اپنے عقیدے کو برقرار رکھنے کا حق حاصل تھا۔ جنگ اسلام کے پرامن انکاریوں کے خلاف کبھی نہیں تھی۔ آیات 9:12 اور 9:5 میں ان مشرکین کے فیصلے ان کے جرائم کا ذکر ہے جو ظالم و جابر تھے اور جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگیں کی ہیں، اور جہاں تک پرامن مشرکوں کی بات ہے تو ان کا فیصلہ آیت 9:29 میں مذکور ہے۔

جسے ہم اپنا کامن سینس قرار دیتے ہیں اس کا جھوٹ، آدھی سچائی اور تحریف کے ذریعہ غلط استعمال کیا جا سکتا ہے اور وہ ان سے متاثر بھی ہو سکتا ہے اور اس طرح کی سازشوں کے ذریعہ طاقتور جماعتیں ہمارے اوپر اور ہمارے رویے پر اپنا تسلط قائم کر لیتی ہیں۔ جو بات ہمارے کامن سینس کے موافق نہیں ہوتی ہے ہم اسے خلاف بدیہی قرار دیتے ہیں ہے۔ خلاف بدیہی اس قدر عام ہے کہ ہمیں ہمیشہ کامن سینس کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ سائنس ایک مدت کے بعد کامن سینس بن جائے لیکن ہمارے کامن سینس کے نتیجے میں کوئی نئی دریافت بہت کم ہی تھی۔ اس وجہ سے سیاہ دور میں اس کی سخت مخالفت کی گئی تھی۔ صحیح اور غلط کا معیار جو کہ ہمارے کامن سینس کا حصہ بن چکا ہے وہ اس وقت ایسا نہیں تھا جب ہم نے اسے سب سے پہلے مذہب سے حاصل کیا تھا۔ ہر قیمتی خیال کامن سینس نہیں بلکہ الہامی یا الہامی سوچ کی پیداوار ہے۔

مذاہب نے ہمیں صحیح اور غلط کا انتہائی اہم پیمانہ عطا کیا ہے لیکن انسانوں کی بنائی ہوئی فقہ کی وجہ سے اس کا اکثر حصہ خراب ہو گیا جس کی بدولت اس کے پیروکاروں کے کامن سینس کو بڑھتے ہوئے تعصب، تنگ نظری اور علیحدگی پسندی کی سمت میں پھیر دیا گیا۔ ہمیں اپنی فقہ کو اپنے آسمانی صحیفہ قرآن کی روشنی میں از سر نو تشکیل دینے اور ان تمام غلط نظریات و خیالات کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے جو ہماری فقہ نے ہمیں دیا ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/naseer-ahmed,-new-age-islam/can-we-trust-our-common-sense?/d/112316

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/can-we-trust-our-common-sense?--کیا-ہم-اپنے-کامن-سینس-پر-اعتماد-کر-سکتے-ہیں؟/d/113156

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..