New Age Islam
Wed Oct 27 2021, 05:18 AM

Urdu Section ( 18 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Religion as a Civilizing Influence تہذیبی اثر و رسوخ کی حیثیت سے مذہب

 

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

( انگریزی سے ترجمہ ۔ نیو ایج اسلام)

آئے ہم دیکھتے ہیں آج سے تقریباً 000،10 سال،تہذیب اور منظم مذہب پہلے، زندگی کیسی تھی ۔ لارنس کیلی نے اپنی کتاب ‘War Before Civilization: The Myth of the Peaceful Savage’ میں یہ کہا ہے کہ  محب امن عظیم وحشی کی کہانی  واضح طور پر نشان اور گمراہ کن دونوں ہے۔ Keeley کا مقالہ آثار قدیمہ اور تاریخی تحقیق پر مبنی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے کی تہذیب کی جنگ جدید جنگ سے زیادہ مہلک تھی۔ وحشی چھوٹے معاشرے میں  پورہی دنیا میں جدا دیگر معاشروں  سے الگ رہتے تھے، دوسروں کے بارے میں بڑی  بد اعتمادی تھی ، جس کی وجہ سے  اکثر لوٹ مار اور حملے ہوتے تھے  ، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر موت ہوتی تھی۔ اس کا اختتام، آثار شناسی کے ثبوت کے کی تفتیش پر مبنی ہے ، وہ یہ ہے کہ ما قبل تاریخ، الینس دیہاتیوں کے قتل کی شرح آج  کے جدید امریکہ سے کچھ 70 کنا زیادہ ہو ۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ  30 فی صد، بالغ مرد 10000 سال پہلے قتل و قتال کی وجہ سے مارے گئے ، اور ہر سال  تشدد کی وجہ سے موت کی شرح آبادی کا0.5 فیصد ہے  ، KF، Otterbein نے اپنی کتاب ‘How War Began’ میں ایسے حمایتی ثبوت فراہم کئے ہیں ،جو ہمیں اسی طرح کے نتائج تک لے جاتے ہیں ۔

اگر ہم تہذیب سے پہلے،جنگ یا قتل کی وجہ سے، ہر سال آبادی کے5 .0 فی صد کی شرح اموات کا جائزہ لیں گے ، تو ہمیں پتہ چلے گا کہ  20ویں صدی میں 100 ملین کی اصل تعداد کے خلاف، دو ارب اموات ہو چکی ہیں ۔ یہ دو عالمی  جنگوں، دو جوہری بم کے دھماکوں ، اور 20ویں صدی میں سپر پاور کے ذریعہ کی گئی  تباہی کے علاوہ ہے۔ آج 7 ارب آبادی کے دور میں ، ہمیں،اس تعداد کے خلاف، ہر سال جنگ یا قتل و قتال کی  وجہ سے،  جو دس لاکھ سے بھی کم ہو سکتی ہے، 35 ملین لوگوں کی  اموات کی توقع کرنی چاہئے۔ نتیجہ یہ نکلتا  ہے کہ، یہ بات اٹل ہے کہ ، ہم آج  10000 سال پہلے سے کہیں زیادہ مہذب ہیں۔

یہ بات ثابت کرنے کے بعد کہ انسان یقینا زیادہ مہذب اور کم متشدد ہو گیا ہے، ہم فوری اس بات کی تفتیش کرتے ہیں کہ ،جو  100 ملین لوگ ، 20ویں صدی میں غیر فطری  اسباب کی وجہ سے پر تشدد موت مرے، کتنے مذہبی جنگ / جھگڑوں کے نشانے پر  تھے؟ دو عظیم  جنگوں اور جوہری بم دھماکوں کوں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور نتیجے میں 76 لاکھ اموات ہوئیں  ۔ اسٹالن کے ذریعہ روس میں (1 کروڑ)نسل کشی ، اندازے کے مطابق "ثقافتی انقلاب" کے دوران چین میں 3 ملین لوگ ہلاک کئے گئے ، انڈوچائینا ، کوریا، اور کمبوڈیا میں امریکی جنگوں کا مذہب سے  علاقہ بہت کم تھا۔ سرد جنگ کےنتیجے میں سوویت یونین کی تحلیل اور وسطی امریکہ میں امریکہ کے بہت ساری مداخلتیں ہوئیں  اور اس کا  مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ۔ 20ویں صدی میں مذہبی تشدد کے بڑے واقعات  بوسنیا ہرزیگوینا میں ہوئے  کے نتیجے میں 000،200اموات ہوئیں ۔ 20ویں صدی میں، مذہبی جھگڑے 1 فیصد سے زیادہ، موت کی وجہ، ظاہر نہیں ہوئے ۔ اگر ہم زیادہ سے زیادہ بھی کہیں تو  10 فیصد کہ سکتے ہیں ، حیرت انگیز نتائج تو اس کے برعکس ہیں ، جو زیادہ تر لوگ  مذہب کو ایک متنازع قوت سمجھتے ہیں ،حقیقت یہی ہے کہ مذہب ہنگامہ آرائی اور قتل ایک بہت معمولی وجہ ہے ۔

اب تہذیب سے متأثر مذہب کا جائزہ لیتے ہیں  ۔ ہم سب اخلاقی اور فرضی ہدایات سے واقف ہیں ، جن کا تعلق مذہب سے ہے ، مثلاً،مشکلات کے سامنے جدوجہد ،صبر اور استقامت ، پرہیزگاری  اور تقوی، بدلہ لینے کی جگہ بخشنے ،برائی کا بدلہ اچھائی سے دینے ، سلوک کرنے میں حدود کا خیال رکھنے کے فضائل ، محنت ، ایمانداری، اشتراک، قربانی، شکریہ کے فضائل ، اور وفاداری ،شائستگی  اور رحم کے ساتھ انصاف کی فضیلت اخلاق، بزرگ ، یتیموں، خواتین اور کمزور کے حقوق ۔ یہ اقدار ماورآئے عقل ،مطلق اور نتائج کے حوالے کے بغیر ہیں۔ مذہب کے علاوہ ، اخلاقی، انسانی ہدایات اور اصولوں کے لئے کوئی اور بھی ایسے سر چشمے ہیں ؟ آیئے ہم  فوری طور پر اس بات کی تحقیق کرتے ہیں کہ فلسفیوں نے کیا پیشکش کیا ہے۔

فلسفہ سے آخلاقیت  کا تصور

Bentham اخلاق کے بارے میں ،اپنے اصول قانون سازی (1789) کے تعارف کی ابتداء ، انسانی تحریک کے بارے میں اس لذت پسند مفروضہ سے کرتا ہے ، جس میں انسانوں کو جانوروں کے برابر بتایا گیا ہے ۔

فطرت نے بنی آدم کو دو خود مختار حاکم  کے اقتدار کے تحت، جگہ دی ، اور وہ  درد اور خوشی ہے ۔

 انسان کا رویہ اس کے مطابق ، ذاتی مفاد کے ذریعہ منظم کیا جاتا ہے :

‘‘ہر عمل  کے موقع پر جسے وہ انجام دیتا ہے  ، ہر انسان طرز عمل کے اس معیار کو حاصل کرنے کرنے میں ہوتا ہے جو، حالات کے  اس کے خیال کے مطابق ، کسی وقت میں  اس کی طرف سے اٹھایا گیا ہے ،وہ اس کی اپنی سب سے بڑی خوشی کے لئے سب سے بڑا معاون ہوگا ’’۔

Bentham کا دعوی ہے کہ افادیت نہ صرف انسانی تحریک کی وضاحت کرتی ہے ،بلکہ صحیح اور غلط کے معیار کا تعین بھی کرتی ہے۔

"افادیت کے اصول سے مراد وہ اصول ہے جو ہر عمل  کو منظور یا مسترد کرتا ہے، جو بھی ہو ،رجحان کے مطابق، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس فریق کی خوشی کو بڑھانے یا کم کرنا ہے جس کی دلچسپی سوال میں ہے ۔۔۔

انسان کو نہ صرف ذاتی مفاد کے مطابق عمل کرنے کے لئے ، بلکہ اس کے مطابق  کہ معاشرے کے لیے کیا اچھا ہے ، قوانین بنانا ضروری ہے اور انسان  کو جوابدہ بنایا جانا چاہئے، تاکہ ان کے ذاتی مفاد اور معاشرے کے مفادات موافق رہیں ۔ لوکی، ہیوم اور جان سٹوارٹ مل کا  بھی یہی  کہنا ہے ۔

سینٹ تھامس اکوینس کا خیال ہے کہ تمام اخلاقی اصولوں اور معیار کا نتیجہ خلاصہ کے طور پر یا تو مضمر کے طور پر،یا ‘‘اس کی طرف  قابل رجوع ’’ کے طور پر پہلے مہذب ، خود کی طرح، پڑوسی سے محبت کے  اصول سے نکالا  جا سکتا ہے۔ لیکن اس نے کبھی  اس  مشابہ قیاس نتیجہ کی کوئی  مثال نہین  دی یا نہ ہی اس کا کوئی خاکہ پیش کیا ۔ اس کے جانشینوں نے یہ  تجویز پیش کی ،کہ اخلاقی اصولوں اور معیار، پہلی اصولوں کے عیاں باالذات ہیں ۔

Immanuel کانٹ نے  اخلاقیات کا خاکہ اس طرح کھینچا کہ جو فرض عین کے مطابق ہو ، جسے مندرجہ ذیل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے :

زیادہ سے زیادہ اتنی استطاعت کے مطابق عمل جو  ایک ہی وقت میں آپ کر سکتے ہیں ، اور ایسی مرضی کے مطابق جسے ایک عالمی قانون بننا چاہئے ۔

وہ بحث جو  کانٹ کی تجویز ‘اعلیٰ اخلاقیات کے اصول ’کے بعد چھڑ گئی  تھی، وہ یہ تھی کہ  کیوں عقلمندوں کو  اس دنیا میں افادیت کو بڑھانے سے اوپر اٹھنا ہوگا؟

مثال کے طور پر، اگر ایک جج ایک عام معاملہ میں  ایک عام فیصلہ صادر کرتا ہے جس کا  مقدمہ  لڑنے والا  ایک عام انسان ہو، اس کے با وجوجد کہ ،حکمران اور جج  اس معاملے میں اس عام آدمی کی حمایت میں ہوں  ، اس کے حق میں ایک فیصلہ حکمران کو  جج سے بدلہ لینے پر تحریک دے گا  ۔ حکمران کے حق میں ایک فیصلہ، عام آدمی کے لئے چھوٹے سے نقصان کا سبب بن جائے گا ، جس کا بدلہ، جج اپنی جیب سے آسانی کے ساتھ ، مالی صورت میں دے  سکتا ہے ۔ جج کو حکمران کو اس کے حق میں فیصلہ دے کراسے خوش کرنا چاہئے ، عام آدمی کو،اپنی جیب سے معاوضہ دے کر  مطمئن کر نا  اور حکمران کے خلاف فیصلہ دے کر اپنے آپ کو بچانا چاہئے ؟ افادیت کے بارے میں عقل اور غور فکر  اس بات کا تعین کرتی ہے کہ  اسے وہ  کرنا چاہئے جو  مناسب  لگتا ہے۔

خود معاشرے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ،اس معاملے میں صحیح کام کرنا، کوئی ایسی روشن مثال پیش کرتا ہے،  جس کی پیروی آنے والی نسلوں کے ذریعہ کی جانی چاہئے ؟ کیا صحیح کام کرنا مستقبل میں اسی نوعیت کی مفاہمت کے مزاحم ہو گا ، جہاں نتائج اتنے واضح نہیں ہیں؟ کیا آج سمجھوتہ کرنا،  بعد میں انتہائی عظیم  معاہدے کا باعث ہو گا، اور   بالآخر کمزور پر جبر کا ؟ فرض عین یہ مطالبات یہ ہیں کہ خاتمہ  انصاف ہے اور ایک منصفانہ فیصلہ نتائج سے قطع نظر دی گئی ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ ایسی توقع کس طرح مناسب ہے، اور کوئی  عقلمند انسان  صحیح کام کرنے کے لئے اس حد تک کیوں جائے گا ؟

کانٹ نے بالآخر اس نا خوش گوار صورت حال کے جواب میں واضح کیا ، ایک اصول کی تصدیق کرتے ہوئے ،‘‘ ایک عمل کے انتخاب کے حوالے سے ،ہماری عقل کا  اس طرح، عملی استعمال اس چیز کا مطالبہ  نہیں کر سکتا جو ناممکن ہے۔ اس حد تک کہ ہم، عقل کے  ان مطالبات کو زمانی اور مکانی توجیہ کے حساس تناظر سے دیکھتے ہیں ، ان کی تکمیل ناممکن لگے گی۔ تاہم، جب ہم انہیں معقول  نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں ،جس میں ہم آزادی کے قواعد کی ساخت تیار کرتےہیں  ، ان کی تکمیل  قانونی طور پر، روح اور خدا کے وجود کی ہمیشگی کے معنی میں،  ‘‘مسلمہ’’ ہے ۔ اس طرح، ان ضروریات کی خاطر جن کی ہم تکمیل کرتے ہیں، وہ مکمل طور پر، مقدس خواہش ، اخلاقی کمال ہے، کانٹ کا نظریہ ہےکہ، ہمیں اس بات کی  تصدیق کرنا  جائز ہے کہ موت کے بعد ہمارے پاس  ایک ختم نہ ہونے والی اور پائیدار زندگی ہے ، جو زمانی اور مکانی فریم ورک کی توجیہ سے باہر ہے، جس میں اخلاقی کمال حاصل کرنا مستقل ہے۔ اس حاجت کے لحاظ سے ، اس کے پاس اس سے ملتا جلتا نقطہ نظر ہے ،کہ انتہائی اچھا  ہماری خواہش کا  مقصد ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ہمارے اخلاقی اعمال، نہیں لگتاہے کہ ، زمانی اور مکانی  فریم ورک میں اتنے  اثر انداز ہیں جتنا کہ،  خوشی حاصل کرنے کے لئے، مطلوب ہے ، اس فضیلت کے تناسب سے  جو انتہائی اچھے کا ایک ضروری حصہ ہے، ہمیں اس بات  کی تصدیق کرنا جائز ہے کہ فطرت کا  ایک سپریم بانی ہے - یعنی خدا - جو اس کا باعث ہو گا  ، جو صرف ہمارے لئے نہیں  بلکہ تمام اخلاقی نمائندوں  کے لئے ہے ۔’’

امانیویل کانٹ نے اپنے اعلیٰ شرافت کے اصول میں اس بات کا بھی اضافہ کیا ہے  کہ،آخرت میں ایک دائمی ،روح اور زندگی کے تصور کے بغیر ، ایسے اخلاقیات، جو فرض عین پر مبنی ہو  (افادیت یا نتائج یا پسند اور ناپسند پر غور یا فطری طور پر  جواب دینے سے اوپر اٹھ کر ) ہو سکتا ہے ایک امر ناممکن ہو  ۔ اخلاقیات کے بارے میں ہر دوسرے فلسفی کا تصور غیر حقیقی مفروضہ تک  محدود ہے، جسے کانٹ ‘اخلاقی افادیت ’کے بغیر قرار دیتا ہے  ۔جو اخلاقیات  منطقی سوچ پر مبنی ہوں ، وہ اس دنیا میں افا دیت پسندی،نتیجہ پسندی  سے پرے نہیں ہو سکتے اور  اپنے مفادات کو بڑھائے بغیر نہیں ہو سکتے ۔ جبکہ فلسفیوں نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ  اخلاقیات کیا ہے، وہ  ان کی تعریفات سے  اخلاقی ہدایات اخذ کرنے میں عجیب طریقے سے ناکام ہیں ،اور Aquinas جیسے فلسفی اظہر من الشمش پہلے اصولوں میں ناکام رہے ہیں،جو مذہب سے اخذ کردہ ہیں ۔

ہم نے پتہ کیا کہ کانٹ کے علاوہ، فلسفی ایسے اخلاقیات کی تعریف کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں جو  اس چیز سے پرے ہو جو ذاتی مفاد کو بڑھاتا ہے ۔ کانٹ نے اخلاقیات کی تعریف ، دوسروں سے اوپر اٹھ کر، مطلق اور ماورئے عقل کے انداز میں  کی ہے ، لیکن وہ مذہب میں اس بات کو  تسلیم کرنے میں نا کام ہو گیا ہے کہ اس طرح کےاخلاقیات خدا اور آخرت میں ایک یقین کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

منطقی سوچ پر مبنی اخلاقیت  کی ایک مثال

جوناتھن ہائدت کی  کتاب ‘The Happiness Hypothesis’ سے مندرجہ ذیل کہانی پر غور کریں

"جولی اور مارک بہن اور بھائی ہیں " ۔ وہ کالج سے، فرانس میں ایک ساتھ موسم گرما کی چھٹی پرسفر کر رہے ہیں۔ ایک رات وہ ساحل سمندر کے قریب ایک کمرے میں اکیلے رہ رہے ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگر انہوں نے  محبت کرنے کی کوشش کی تو وہ دلچسپ اور مزیدار  ہو گا ۔ کم از کم، یہ ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک نیا تجربہ ہو گا۔ جولی نے پہلے ہی ضبط تولید کی  گولیاں لے رکھی تھی، لیکن مارک  محفوظ رہنے کے لئے کنڈوم کا استعمال بھی کرتا تھا ۔ وہ دونوں محبت کے مزے لوٹ رہے تھے ، لیکن دوبارہ ایسا نہ  کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ انہوں نےاس رات کو ایک خاص راز رکھا ، جس نے ان دونوں کو ایک دوسرے کے قریب ہونے کا احساس دلایا ۔ "

کیا آپ کو  لگتا ہے کہ، دو ایسے بالغ کا، جو بہن بھائی ہیں ، مباشرت کرنے پر راضی ہونا ، قابل قبول ہے؟ ہائدت  کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف کوئی درست عقلی دلیل نہیں ہے،کیونکہ جولی کےحاملہ ہونے کا امکان نہیں ہے، ان کےتعلق میں قربت  پیدا   ہونے کا امکان ہے، کارنامہ خفیہ رکھا گیا، اور یہ کہ ایسا پھر  دوبارہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔

کیا ایسا نہی ہے کہ چیزیں چھوٹے اور محفوظ پیمانے  شروع ہوتی ہیں اور آخر کار عالم گیر بن جاتی ہیں ؟ لہذا اخلاقیات یا فرض عین کےمطلق قانون کی اہمیت ہے۔ منطقی سوچ پر مبنی اخلاقیات ، ہمیں مفروضہ حکم  سے عمل سے باہر نہیں  لے جا سکتا ۔

اخلاقی نسبتیت کے خطرات کا اصل سے کم اندازہ لگایا  گیا ہے ۔ بچے ان کی حرام کاری  اور ہم جنس پرست محرکات میں سبقت لے جا رہے ہیں ، اور معاشرے کے جنسی رسوم اور مذہب پر ،مبنی ان ممانعتوں کے ذریعہ ،ان کی چھوٹے طریقے سے بھی مدد نہیں کی جا رہی ہے ،جو کہ حرام کاری اور ہم جنس پرستی کے ارد گرد ہیں ۔ ان کو ہٹا دیں اور ہم پہلے سے ہی، ہم جنس پرستی بہت عام ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں ۔ یہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ  جو پہلے پوشیدہ تھا اب کھلے کر سامنے آ رہا ہے، بلکہ ایسے کئی لوگوں کے معاملہ کی وجہ سے ، جو بصورت دیگر ، بچپن کے جذبات کا سامنا سامنا کرنے  کے بعد نئی راہ اختیار  کر سکتے تھے ،  اب وہ اس میں ملوث ہیں، کیونکہ اسے اب غیر اخلاقی نہیں سمجھا جاتا ۔ یہ وقت وقت کی بات ہے اس سے پہلے کہ حرام کاری  عام اور قابل قبول دونوں ہوجائے ۔ ‘ترقی یافتہ دنیا’ کی آبادی میں اضافہ کی شرح تحفظ کی سطح سے نیچے ہے۔ ہم جنس پرستی اور حرام کے عام ہو نے کے ساتھ ، یہ خطرناک سطح تک نیچے جا سکتا ہے ،اور معاشرے خود تباہ ہو سکتے ہیں ۔

فلسفی Fredrick Nietzche نےیہ اعلان کر دیا کہ خدا مر گیا ہے۔ اگر خدا مر گیا ہے، تو اخلاقیات ذاتی اختیار کا معاملہ ہے۔ ایک شخص کےذریعہ  خدا کے انکار کی جڑ انسان کے اخلاقی نقص  کی بھی جڑ ہے۔ اخلاقی طور پر ایک خراب شخص کے لئے ،خدا پر ایمان رکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔

نفسیات انسانی فطرت کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

کینساس یونیورسٹی میں ڈین بیسٹن نے، لوگوں کے لئے اخلاقی انتخاب کو غیر مشاہداتی بنانے کے لئے ایک با کمال  مطالعہ ایجاد کیا ہے ، اور اس کے نتائج یہ ہیں کہ 90 فیصد لوگوں کی اخلاقی طور پر منافق ہیں اور اس سے لاعلم ہیں۔ وہ دھوکہ دے سکتے ہیں ، اگر ان کا یہ خیال ہو کہ وہ اس سے دور جا سکتے ہیں ۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ اس زمرے میں 90 فیصد سے زائد گرفتار ہیں  اور کچھ صرف کم منچلے  ہیں،اور انہیں ، ایک نئے ماحول میں ، کافی پرسکون محسوس کرنے کے لئے ، دھوکہ دہی شروع کرنے کے لئے، اور زیادہ وقت کی ضرورت ہے (جیسا کہ تحقیق کے ذریعہ فراہم کیا گیا ہے) ۔

مذہب پر مبنی اخلاقیات

مذہب مطلق ماورائے عقل  اقدار کو فروغ دیتاہے۔ اقدار کی اضافت نا شائستگی اور بے حیائی کی طرف کی گئی ہے ، وسیع پیمانے شراب کے استعمال اور منشیات کی عادت  ڈالنے  کے لئے ،اور ہم جنس پرست تعلقات کو عام بنانے کے لئے، اور حرام کاری کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ۔ "انسانی وقار اور کردار کی شرافت اخلاقی اسلوب میں استحکام اور استقلال پر مبنی ہے۔"

ملحدوں نے  اخلاقی اثر و رسوخ کا تخمینہ یہ لگایا کہ مذہب ان کےاخلاقیات کے نظریات میں ہے،جو اسی معاشرے سے لایا گیا ہے جس میں وہ رہتے ہیں ۔ اگرچہ دین میں زوال کی خارجی  نشانیاں ہیں، اخلاقیات کے تصورات مذہب سے حاصل کردہ ہیں ، جو اب بھی لوگوں کی زندگیوں پر حکومت کرتے ہیں ۔ اخلاقی ہدایات اور تمام عظیم خیالات اس کے پس منظر میں منطقی ہیں۔ اسی لئے ان نظریات کو ہر کسی کے ذریعہ  قبول کیا جاتا ہے۔ ایک ملحد ہو سکتا ہے کہ  مذہب کو رد کردے لیکن وہ اچھے اخلاقی ہدایات کو ان کے مذہب سے قطع نظر ،مسترد نہیں کرکے گا ۔ کیونکہ یہ نظریات ،اس کے پس منظر میں اظہر من الشمش  ہیں، لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ نظریات  ہمیشہ سے ہیں یا انسانی سوچ کا نتیجہ ہیں۔ ہم نے ابھی دیکھا کہ اخلاقی ہدایات، فلسفہ یا ادب کی مرہون منت نہیں  ہیں، اور ان کا تعلق  صرف دین سےہے ۔ مذہب  نےہمیں ماورائے عقل  اخلاقی اقدار دینے کے علاوہ عظیم فن، ادب، موسیقی، اور فن تعمیر کو متاثر کیا ہے، اور بلاشبہ ایک عظیم تہذیبی اثر و رسوخ رہا ہے۔

میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں  ، کہ مذہب کا ،بلاانکار  معاشرے پر ایک تہذیبی اثر رہا  ہے اور اس کے بغیر ، ہم وحشی ہی رہتے۔ مذہب کے اثر اور مطلق اخلاقی اقدار کی کمزوری ، جو اس کے ساتھ ہوتی ہے، اور اخلاقی اضافیت کا  بڑھتا  ہوا رجحان ، ہمیں وحشیت سے  روشن خیالی کی طرف لے جائے گا  لیکن اس کے باوجود وحشیت  ۔ ہو سکتا ہے کہ ٹکنالوجی انسان کے ذریعہ تشکیل شدہ  قوانین پر نظر رکھنے اور اور اس پر تعمیل  کو یقینی بنانے میں ہماری مدد کرے ، لیکن کیا وہ مکمل اخلاقی اور معنوی  اقدار پر رضاکارانہ طور پر عمل پیرا ہونے کا متبادل ہو سکتا ہے ، اندرونی امن اور سکون کے لئے  جو اس کے ساتھ ہوتا ہے، اور اس عظیم معنیٰ کے لئے جو وہی زندگی کو دیتا ہے ؟

URL for English article:

http://newageislam.com/islam-and-tolerance/naseer-ahmed,-new-age-islam/religion-as-a-civilizing-influence/d/10685

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam-نصیر-احمد/religion-as-a-civilizing-influence-تہذیبی-اثر-و-رسوخ-کی-حیثیت-سے-مذہب/d/13095

 

Loading..

Loading..