New Age Islam
Thu Apr 22 2021, 03:45 PM

Urdu Section ( 25 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Al-Qaeda’s Notion of ‘Freedom’ آزادی کے بارے میں القاعدہ کا تصور

 

 

مصطفیٰ ایکیول

30 نومبر 2013

آج کل اس بات کے علاوہ کہ شمالی شام میں نام نہاد ‘‘عراق اور الشام کی اسلامی ریاست ’’ کا تسلط ہے ،دوسری اصطلاح کا معنیٰ گریٹر سیریا ہے ۔‘‘آئی ایس آئی ایس’’ کے نام سے مشہور اس تشدد پسند جماعت نے نہ صرف شام کے تاناشاہ کے حامیوں کی گردن زنی سمیت ظالمانہ قتل و غارت گری کے ذریعہ پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ انہوں نے زیادہ معتدل حزب مخالف کو بھی ظلم و بربریت کا نشانہ بنا یا ہے ۔ واضح طور پر یہ القاعدہ کی ایک شاخ ہے جو کہ فخر کے ساتھ ایسی ظالمانہ سرگرمیوں کا مظاہرہ کرتی ہے جسے لوگ دہشت گردی کا نام دیتے ہیں۔

راکا کا شمالی صوبہ ‘‘آئی ایس آئی ایس’’ کا ایک مضبوط قلعہ ہے جہاں بڑی بڑی شاہراہوں پر پورے طور پر برقع میں ملبوس عورتوں کے پوسٹر لگائے گئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس میں یہ بھی واضح طوفر پر لکھا گیا ہے :

‘‘معاف کیجئے گا یہ قرآن و سنت کے مطابق یہ ایسی آزادی ہے جو ہم چاہتے ہیں ۔’’

بالفاظ دیگر ‘‘آئی ایس آئی ایس’’ نے واضح طور پر یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ جس آزادی پر ایمان رکھتے ہیں وہ عورتوں کو ایک مخصوص ڈریس کوڈ اختیار کرنے پر مجبور کرنے کا نام ہے ۔(قابل ذکر امر یہ ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ اس ڈریس کوڈ کی وکالت و حمایت کرتے ہیں بلکہ و بندوق کی نوک پر عورتوں کو یہ ڈریس کوڈ اختیار کرنے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔)

مغربی قارئین کے لئے اس کا نامعقول اور واہیات ہونا ناگزیر ہے، لیکن پھر بھی میں یہاں اس کی تھوڑی تشریح و تنقیح کروں گا ۔ اس لئے کہ القاعدہ جیسے تشدد پسندوں کی تو بات ہی چھوڑ دیں یہ نظریہ کہ ‘‘حقیقی آزای’’ ‘‘اسلام قبول کرنے ’’ کے مساوی ہے ان قدامت پسندمسلمانوں کے درمیان بھی مقبول عام ہے جو اتنے متشدد اور متعصب نہیں ہیں ۔

میرے پاس آزادی کی ایک اس سے بھی زیادہ عام فہم تعریف موجود ہے جو کہ اس طرح ہے :اپنی مرضی کے خلاف کچھ بھی کرنے پر مجبور نہ ہونے کی صورت حال کو ہی آزادی کہتے ہیں ۔ اس معنیٰ میں فی الحقیقت یا موہوم طور پر برقع ، اسکارف یا کسی ‘‘اسلامی ’’ لباس پہننے پر مجبور ہونا قطعی طور پر آزادی کی خلا ف ورزی ہے ۔ بالکل اسی طرح ایسے لباس نہ پہننے پر مجبور ہونا بھی آزادی کی خلا ورزی ہے جیسا کہ ترکی اور دوسری جگہوں پر آمرایت پسند جمہوریت کے حامیوں کا رویہ ہے ۔

دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواہ برقع ہو خواہ بکنی کسی بھی ڈریس کوڈ پر مجبور ہونے میں کو ئی آزادی مضمر نہیں ہے ، بلکہ حقیقی آزادی اس امر میں پنہاں ہے کہ لوگوں کو ان کی پسند کے مطابق لباس پہننے کا اختیار حاصل ہو ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کچھ قدامت پسند مسلم عورتیں پردہ اختیار کریں گیں (اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اس لئے کہ) یہ ان کا انتخاب ہے اور اس میں ان کی آزادی ہے اور اس کے بر عکس کچھ عورتیں بکنی اور مینی اسکرٹ پہننا پسند کریں گی (اس میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے اس لئے کہ) یہ بھی ان کا انتخاب ہے اور اس میں ان کی آزادی بھی ہے۔

اسی طرح اسلام میں یا دوسرے مذاہب عالم میں کوئی آزادی یا اس کا فقدان نہیں ہے ۔ اگر لوگ مذہب قبول کرتے ہیں اور پرخلوص طمانیت قلبی کے ساتھ بہ رضا و رغبت اس کے اصول و معتقدات پر عمل کرتے ہیں تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کا لطف اٹھا رہے ہیں ۔مثال کے طور پر اگر اپنے مذہب پر سختی کے ساتھ کار بند مسلمان رمضان کے پورے تیس دنوں میں کھانا اور پانی سے پرہیز کرتے ہیں اوراسے اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں تو وہ بہ رضا و رغبت ایسا کر رہے ہیں لہٰذا وہ اپنی آزادی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔لیکن اگر کوئی انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرے تو یہ ان کی آزادی پر حملہ ہوگا ۔

آج پوری دنیا میں امت مسلمہ کو درپیش سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اسلام کو یا تو ایک ایسا مذہب گرداناجائے گا جو آزادی کا احترام کرتا ہے اور اس کا نظم و ضبط اسی تحت چلتا ہے یا یہ ظلم و استبداد پر مبنی ایک ایسا نظام ہےجو آزادی کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اس سے آزادی کو خطرہ لاحق ہے ۔اور اسلام کے تعلق سے متأخرالذکر تصور کی جیتی جاگتی مثال القاعدہ جیسی انتہاء پسند جماعتیں ہیں ۔لیکن پھر بھی اب تک معتدل اور آزاد خیال مسلمانوں کو اپنے ان رویوں کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے جن کا تعلق صرف اسلام کی تجویز پیش کرنے کے بجائے اسے دوسروں پر تھوپنے سے ہے۔

شاید ہمیں ان باتوں پر مزید گہرائی و گیرائی کے ساتھ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ قرآن نے اس بات کا اعلان کیوں کیا کہ ‘‘ مذہب میں جبرو اکراہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ’’۔ اس لئے کہ انسان کو جب قوت و اقتدار حاصل ہو جاتا ہے تو وہ اس بات کے اصرار پر جبر و تشدد کا سہارا لیتا ہے کہ جس چیز پر اس کا ایمان و عقیدہ ہے بس وہی حق و صداقت پر مبنی ہے ۔ تاہم جب وہ ایسا مذہب کے نام پر کرتے ہیں تو اس سے حقیقی مذہبیت کی نمائش نہیں ہوتی ۔ان کے اس رویہ سے آزادی کی خلاف ورزی کے علاوہ صرف نفاق کا ظہور ہوتا ہے ۔

(انگریسے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

ماخذ:

http://www.hurriyetdailynews.com/al-qaedas-notion-of-freedom.aspx?pageID=449&nID=58763&NewsCatID=411

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-politics/mustafa-akyol/al-qaeda’s-notion-of-‘freedom’/d/34684

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/mustafa-akyol/al-qaeda’s-notion-of-‘freedom’--آزادی-کے-بارے-میں-القاعدہ-کا-تصور/d/97747

 

Loading..

Loading..