New Age Islam
Tue Aug 16 2022, 01:26 PM

Urdu Section ( 13 March 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Muslims Have Not Learnt To Live Peacefully As Most Islamic Countries Are Going Through Social And Political Crisis مسلمانوں نے امن سے رہنا نہیں سیکھا کیونکہ بیشتر اسلامی ممالک سماجی اور سیاسی بحران سے گزر رہے ہیں

 دہشت گردانہ حملے اور سماجی اور سیاسی بدامنی نے معاشی اور سماجی ترقی کا راستہ روک دیا ہے

اہم نکات:

قازقستان 2 جنوری سے سماجی اور سیاسی اتھل پتھل سے گزر رہا ہے۔

سوڈان آمریت کے خلاف سیاسی انتشار سے گزر رہا ہے۔

پاکستان دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کی لپیٹ میں ہے۔

شام ایک بار پھر داعش کے حملے کی زد میں ہے۔

یمن میں حوثی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں۔

 ----

 نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

27 جنوری 2022

 جہاں سائنسی ترقی اور سماجی بیداری نے مغربی عیسائیوں اور دیگر غیر مسلموں کو معاشی طور پر ترقی یافتہ بنا دیا ہے اور ان ممالک کے لوگ سیاسی استحکام اور تعلیمی و اقتصادی ترقی کی وجہ سے نسبتاً بہتر زندگی گزار رہے ہیں، وہیں بیشتر اسلامی ممالک اب بھی سماجی، مذہبی اور سیاسی اختلاف و انتشار کی گرفت میں ہیں۔ کچھ اسلامی ممالک کئی دہائیوں سے سیاسی اور سماجی بدامنی کی لپیٹ میں ہیں مثلا سوڈان، نائیجیریا اور مشرق وسطیٰ اور پاکستان۔

نئے سال کے پہلے مہینے کے دوران کچھ اور ممالک سماجی اور سیاسی بدامنی کا شکار ہو گئے۔ 2 جنوری سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سیاسی مسائل کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے اور اس نے اس وقت پرتشدد رخ اختیار کر لیا جب روسی فوجیوں کی مدد سے حکومتی فورسز نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار کر لیے گئے۔ قازق حکومت نے مظاہرین کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے فورسز کو ان کے خلاف مہلک طاقت استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔

Sudan Protest/Phot: DW Made for Minds

------

 سوڈان میں، لوگ گزشتہ سال اکتوبر میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کو ہٹانے والی آمریت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ جمہوریت کے حامی احتجاجات جاری ہیں اور کم از کم 77 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یمن کی صورتحال بہتر نہیں ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی اتحادی افواج کے درمیان اس سال جنوری سے محاذ آرائی میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں فریقوں نے گزشتہ ہفتے اپنے اپنے اہداف پر حملے کیے ہیں۔ حوثیوں نے ابوظہبی کے ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا ہے اور یمن جانے والے ابوظہبی کے ایک مال بردار جہاز کو ہائی جیک کر لیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ جہاز میں اسلحہ اور گولہ بارود تھا نہ کہ طبی سامان اور ادویات۔ جوابی کارروائی میں، سعودی عرب نے مبینہ طور پر حوثیوں کے زیر تسلط علاقے میں ایک جیل پر حملہ کیا ہے جس میں کم از کم 70 قیدی ہلاک ہوئےہیں، حالانکہ سعودی عرب نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ 2015 سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کا یمن کے دارالحکومت صنعا اور شمالی اور مغربی یمن پر کنٹرول ہے۔

چھ سال گزرنے کے بعد بھی عالمی مسلم برادری اس بحران کا کوئی حل تلاش نہیں کر سکی ہے۔ اس بحران کی وجہ سے یمن کو معاشی اور تعلیمی لحاظ سے نقصان پہنچا ہے۔ ہزاروں بچے بھوک اور افلاس کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بڑی آبادی کو بنیادی سہولیات زندگی بھی میسر نہیں ہے۔ لوگوں کو اور بالخصوص خواتین اور بچوں کو روزانہ پینے کے پانی کی تلاش کے لیے میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔

اسلامی ریاستوں نے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے یمن میں جنگ کو ہوا دی ہے جس میں امریکہ سمیت زیادہ سے زیادہ ممالک ملوث ہو رہے ہیں۔ اس سے بحران مزید شدت اختیار کرے گا اور عرب دنیا ایک بار پھر ایک اور سیاسی بحران میں ڈوب جائے گی۔

U.S. and Syrian-Kurdish forces in the city of Hasaka on Monday.Credit...Ahmed Mardnli/EPA, via Shutterstock

----

شام بھی 2014 سے بحران سے گزر رہا ہے جب داعش نے شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور اس نے اپنی خلافت کے قیام کا اعلان کر دیا تھا اور شامی اور امریکی افواج کے ساتھ پانچ سال تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد داعش نے پسپائی اختیار کر لی تھی خطے سے اپنا کنٹرول گنوا دیا تھا۔ امریکہ مارچ 2020 میں اس خطے سے نکل گیا۔ انہوں نے ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر کئی مسلم اکثریتی ممالک میں اپنے پاؤں پھیلانا شروع کر دیے اور دہشت گرد تنظیموں کا حربہ اپنا لیا۔ انہوں نے سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان اور فلپین میں دہشت گردانہ حملے کئے۔

بعد میں انہوں نے شام میں اپنے اڈے کو دوبارہ مضبوط کر لیا ہے۔ 22 جنوری 2022 کو داعش نے شام میں ایک جیل پر حملہ کیا جہاں ہزاروں مشتبہ داعش کے جنگجو تھے۔ ان جنگجوؤں کا تعلق فرانس، تیونس اور دیگر ممالک سے ہے۔ آئی ایس آئی ایس نے انہیں آزاد کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ شام اور عراق میں دوبارہ اپنے ٹھکانے مضبوط کر سکیں۔ اس سے قبل انہوں نے عراق میں فوجی دستوں پر حملہ کیا تھا اور ایک پولیس افسر کا سر قلم کرنے کا ویڈیو جاری کیا تھا۔ اس حقیقت سے کہ آئی ایس آئی ایس جدید ترین حملے کرنے میں کامیاب رہی ہے، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد تنظیم شام اور عراق میں دوبارہ ابھر رہی ہے اور پہلے سے تباہ حال علاقے کے لیے ایک اور خطرہ پیدا کر رہی ہے۔

گزشتہ سال اگست میں اس کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے افغانستان میں سیاسی صورتحال مستحکم نہیں ہے۔ دوسری طرف طالبان نے اپنی عوام اور عورت دشمن پالیسی سے ملک کے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے اور دوسری طرف ان کے حریف داعش طالبان اور عام لوگوں دونوں پر دہشت گردانہ حملے کر رہے ہیں۔

طالبان نے خواتین کے حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ سماجی اور سیاسی پابندیوں کی وجہ سے بہت سے تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد افغانستان چھوڑ چکے ہیں۔ بہت سے لوگ بہتر زندگی اور ذاتی آزادی کی تلاش میں جرمنی ہجرت کر چکے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے ایک گروپ کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، طالبان افغانستان میں صنفی بنیاد پر تشدد اور خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو منظم کرنے رہا ہے۔ وہ خواتین اور لڑکیوں کو الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور خواتین کو ملک کے سماجی، تعلیمی، سیاسی اور اقتصادی شعبوں سے الگ کر رہے ہیں۔

حال ہی میں ملک کے صدر کی جانب سے وزیراعظم محمد حسین کو بدعنوانی کے الزام میں معطل کیے جانے کے بعد سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا تھا۔ وزیر اعظم نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے صدر پر پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے بعد بغاوت کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یہ بحران القاعدہ سے منسلک دہشت گرد تنظیم الشباب کے خلاف ملک کی لڑائی میں رکاوٹ ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں القاعدہ کا مضبوط گڑھ ہے لیکن اس سے اجتماعی طور پر لڑنے کے بجائے ملک کے سیاستدان معمولی سیاسی فائدے کے لیے ایک دوسرے سے لڑتے رہے ہیں۔

پاکستان بھی مسلسل فرقہ واریت اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ چند روز قبل لاہور کے مصروف بازار انارکلی بازار میں بم دھماکہ ہوا تھا۔ دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ میڈیا بھی کسی ادارے کا نام لینے سے ڈرتا ہے۔ مذہبی تنظیمیں جیسے ٹی ٹی پی اور دیگر فرقہ وارانہ تنظیمیں بھی فرقہ وارانہ اور مذہبی مطالبات پر حکومت کے خلاف ہمیشہ احتجاج کرتی رہی ہیں۔ اس عدم استحکام کی وجہ سے ملک معاشی اور سائنسی محاذ پر کوئی ترقی نہیں کر سکا۔ اس کی تمام توانائیاں اور وسائل فرقہ وارانہ اور دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے میں صرف ہو چکی ہیں۔ بدعنوانی اس ملک کا ایک سنگین مسئلہ ہے جو خود کو فخر کے ساتھ اسلامی ملک کہتا ہے۔

اسلامی ممالک میں ہونے والی یہ تمام پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مسلمان پرامن طریقے سے زندگی گزارنے اور مسلمانوں کی مشترکہ بھلائی کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنے اور سائنسی اور اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے قابل نہیں ہو سکے ہیں۔ اسلام کے بدعنوانی سے منع کرنے کے باوجود اسلامی ممالک میں بدعنوانی عروج پر ہے۔ اس سے کرپشن مہنگائی اور سماجی ناانصافی کو فروغ ملتا ہے۔ اسلامی ممالک میں بدامنی کی ایک اور وجہ حکومت کی نوعیت کے معاملے پر ان کا ابہام ہے۔ مسلمانوں کو حکمرانی کے معیار سے زیادہ حکومت کی نوعیت کا جنون ہے۔ یہ بہت سے اسلامی معاشروں میں نظریاتی اور سیاسی دونوں طرح سے بدامنی کا باعث بنتا ہے۔

قرونِ وسطیٰ سے لے کر جدید دور تک کے بہت سے اسلامی علماء کا خیال ہے کہ اگر چاروں ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی خلافت کے طرز پر خلافت قائم ہو جائے تو مسلمانوں کے تمام مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ اور اس عقیدے کی وجہ سے علماء نے کھلے عام اور ڈھکے چھپے انداز میں دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کی ہے کیونکہ وہ خلافت کے قیام کے لیے لڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی یہ نظریاتی اور سیاسی الجھنیں اور اس کے لیڈروں میں بدعنوانی، اسلامی ممالک میں تشدد اور بحران کا سبب ہے۔

English Article: Muslims Have Not Learnt To Live Peacefully As Most Islamic Countries Are Going Through Social And Political Crisis

Malayalam Article: Muslims Have Not Learnt To Live Peacefully As Most Islamic Countries Are Going Through Crisis മിക്ക ഇസ്ലാമിക രാജ്യങ്ങളും സാമൂഹികവും രാഷ്ട്രീയവുമായ പ്രതിസന്ധികളിലൂടെ കടന്നുപോകുന്നതിനാൽ മുസ്ലീങ്ങൾ സമാധാനപരമായി ജീവിക്കാൻ പഠിച്ചിട്ടില്ല

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/muslims-islamic-countries-social-political-crisis/d/126566

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..