New Age Islam
Sat Nov 27 2021, 10:38 AM

Urdu Section ( 15 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Imam Hassan Askari (As) And The Revealed Religion امام حسن عسکری علیہ السلام اور دین مبین

مولانا کوثر مجتبیٰ نقوی

15 اکتوبر ،2021

دیگر ائمہ معصو مینؑ کی طرح گیارہویں امام یعنی امام حسن عسکریؑ نے بھی دین مبین کی ویسے ہی خدمت کی کہ جیسے ان پر حق تھا اوراسی طرح ان کے بھی بے پناہ ہدایات و ارشاد ہیں جن کو مختلف کتب میں نقل کیا گیا ہے آپ نے بھی اپنے آبا و اجداد کی طرح اپنے فریضۂ ہدایت کو بخوبی انجام دیا ہے کیونکہ ہر معصوم کی اہم ذمہ داریوں میں ایک ذمہ داری ہدایت بشریت بھی ہے ہم آپ کے ہدایت نقل کرنے سے پہلے آپ کا مختصر تعارف کرا دینا مناسب سمجھتے ہیں تاکہ قارئین ان کی عظمت و منزلت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کے ہدایات سے کسب فیض کریں۔ فریقین کا اتفاق ہے کہ آپ بتاریخ 10 ربیع الثانی 232ھ بروز جمعہ بوقت صبح بمقام مدینہ منورہ متولد ہوئے۔ بعد ولادت آپ کے والد بزرگوار نے حضرت محمد مصطفی کے انتخاب کردہ نام ’ حسن عسکری‘ سے آپ کو موسوم کیا ۔

امام حسن ابن علی علیہ السلام جو امام حسن عسکریؑ کے نام سے مشہور ہیں وہ گیارھویں امام اور تیرھویں معصوم ہیں جو کائنات انسانی کی ہدایت کے لئے منجانب اللہ بھیجے گئے تھے آپ رسول خدا کے گیارہویں فرزند او رنائب و جانشین تھے جس طرح رسول خدا نے کافروں کو اپنے اخلاق کردار سے مسلمان بنایا اسی طرح سے ان کے جانشین او رنائب بھی اپنے اخلاق کردار سے اسلام کی تبلیغ کرتے رہے۔ امام حسن عسکری ؑ کے والد امام علی ابن محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو علی نقی ؑ کے نام سے مشہور ہوئے او رآپ کی والدہ ماجدہ جناب حدیثہ خاتون تھیں۔ امام حسن عسکری ؑ کی حکمت عملی۔ اگر آپ کی حکمت عملی پر غائرانہ و طائانہ بھی نظر ڈالی جائے تو بے پناہ لطائف سامنے آتے ہیں جیسے آپ نے ہر قسم کے دباؤ او رظالم حکومت کی سخت نگرانی کے باوجود اسلام کی حفاظت او راسلام مخالف افکار کامقابلہ کرنے کے لئے متعدد سیاسی، اجتماعی او رعلمی اقدامات سر انجام دئے اور اسلام کی نابودی کے لئے جو عباسی حکومت کے اقدامات تھے ان کو بے اثر کردیا اس اعتبار سے آپ کی حکمت عملی کے نکات اس طرح ہیں دین اسلام کی حفاظت کیلئے علمی جدوجہد ، مخالفوں کے شکوک و شبہات کامعقول جواب ، حقیقی اسلامی افکار و نظریات کی تبلیغ ، خفیہ سیاسی اقدامات ،اپنے چاہتے والوں کی امداد ، اپنے فرزند، بارہویں امام کی غیبت کے لئے لوگوں کو ذہنی طور پر تیار کرنا وغیرہ۔

 اگرچہ آپ کے دور میں حالات ناساز گار ی او رعباسی حکومت کی جانب سے پابندیوں کے باوجود ایسے شاگردوں کی تربیت کی جن میں سے ہر ایک، مکمل طور پر معارف اسلام کی اشاعت او رفروغ میںاہم کردار ادا کرتا رہا شیخ طوسی نے آپ کے شاگردوں کی تعداد سو سے زائد نقل کی ہے جن میں احمد ابن اسحٰق ابن عثمان ابن سعید ابن او رعلی ابن جعفر جیسے لوگ شامل ہیں۔ کبھی کبھی مسلمانوں او رمومنوں کے لئے ایسے مشکل مسائل سامنے آجاتے تھے کہ انہیں امام عسکری ؑ کے سوا کوئی ایک بھی حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا ایسے موقع پر امام اپنی امامت اور حیرت انگیز تدبیر کے ذریعہ سخت ترین مشکل کو حل فرمایا کرتے تھے۔ آپ کے حکیمانہ اقوال جو آپ کی رہبری و ہدایت کا نمونہ ہیں وہ  لاتعداد ہیں لیکن یہاں پر ہم بہت ہی اختصار کے ساتھ نقل کررہے ہیں جن کو پڑھ کر او ران پر عمل پیرا ہوکر ہر خاص و عام مستفیض ہوسکتاہے اوروہ حسب ذیل ہیں۔

 (1)۔چہرے کی خوبصورتی ایک ظاہری خوبصوتی ہے لیکن عقل کی خوبصورتی باطن کی خوبصورتی ہے۔ (یقینا خوبصورت اگر بے عقل ہوتا ہے تو اس کی خوبصورتی اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی) ۔(2) جو خدا سے بے پناہ انسیت رکھتا ہے اسے انسانوں سے وحشت محسوس ہونے لگتی ہے۔ (خدا کی معرفت کے بعد انسانی زندگی کی حیثیت او رحقارت واضح ہوجاتی ہے)۔(3) دو بہترین عادتیں یہ ہیں کہ خدا پر ایمان رکھے او رلوگوں کو فائدہ پہنچائے (جبکہ ہمارا دستور یہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا نے کے لئے تو کمربستہ رہتے ہیں مگر فائدہ پہنچانے کے لئے نہیں )۔(4) اچھوں کو دوست رکھیں (جب کہ آج بدوں سے بھی دوستی اچھی سمجھی جارہی ہے)۔(5) تمام برائیاں اگر کسی گھر میں بند کردی جائیں تو اس کی کنجی جھوٹ ہے ۔( اگر جھوٹ سے ہی اجتناب کرلیا جائے تو گویا ساری برائیوں سے اجتناب ہوجائے مگر یہ تو فطرت انسانی کا جزء بن چکا ہے)۔ (6)تواضع وفروتنی یہ ہے کہ جب کسی کے پاس سے گزریں تو سلام کریں اور مجلس میں معمولی جگہ بیٹھیں (تواضع و فروتنی تو چاپلوسی میں تبدیل ہوگئی اور صدر مجلس میں بیٹھنا خود پسندی کے سبب عام ہوگیا)۔(7)بے وجہ ہنسنا جہالت کی دلیل ہے (افسوس کہ اس دور میں بے وجہ ہنسنے کو صحت مندی کا سبب بتایا جارہا ہے) ۔(8) پڑوسیوں کی نیکیوں کو چھپانا او ربرائیوں کو اچھا لنا ہر شخص کے لئے کمر تور دینے والی مصیبت او ربیچارگی ہے (جب کمر ٹوٹتی ہے تو کہاجاتا ہے کہ آخر ا سکی وجہ ہے کیا؟)۔(9) یہی عبادت نہیں ہے کہ نماز روزے ادا کرتارہے بلکہ اہم عبادت یہ بھی ہے کہ خدا کے بارے میں غور فکر بھی کرے ( جب کہ نماز و روزہ کی حد تک ہی عبادت محدود کردیا گیا ہے )۔(10) وہ شخص بدترین ہے جو دومونہا اور دو زبانا ہو کہ جب دوست سامنے آئے تو اپنی زبان سے اسے خوش کردے مگر جب وہ چلا جائے تواسے کھاجانے کی تدبیر کرنے لگے( آج کل یہ مرض بھی بام عروج پر ہے او راسے بہتر ین سیاست سے تعبیر کیا جارہاہے )۔(11) وہ بھی بدترین ہی ہے کہ جو اپنے دوست کے نعمت پانے پر تو اس سے حسدکرے او رجب اس پر کوئی مصیبت نازل ہو تو خوش ہو اور قریب نہ پھٹکے ۔( یہ روحانی بیماری بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے )۔(12)غصہ ہر برائی کی کنجی ہے (غصہ سے بچنا گویا ہر برائی سے امان حاصل کرنا ہے)۔(13)حسد کرنے والے او رکینہ رکھنے والے کو کبھی بھی سکون قلبی نصیب نہیں ہوسکتا (تعجب ہے کہ اس کے بعد بھی حسد کرنے او رکینہ رکھنے والوں کی خاصی تعداد موجود ہے)۔(14)جھوٹ کی پشت پر سواری کرنے والا شرمندگی کے گڑھے میں گرے گا ۔(کیونکہ جھوٹ ظاہر ہوجاتاہے او راسکے ظاہر ہونے پر سوائے ندامت کے او رکوئی چارہ نہیںہوتا)۔(15)پرہیزگار وہ ہے جو شب کے وقت توقف وتدبر سے کام لے او رہر امر میں محتاط رہے۔( پس جو توقف و تدبر سے کام نہیں لیتے وہ کبھی بھی پرہیزگار نہیں کہلاسکتے)۔(16)بہترین عبادت گزار وہ ہے جو فرائض کو انجام دیتا رہے۔( اسی لئے مولاعلی ؑ نے فرمایا ہے کہ جب نوافل فرائض سے ٹکرائیں تو نوافل کو چھوڑ دو ، کیونکہ فرائض کی ادائیگی ہی اصل عبادت ہے)۔(17)بہترین متقی و زاہد وہ ہے جو گناہ کو مطلقاً چھوڑ دے۔( ورنہ گناہ کے بعد تقویٰ و زہد کا سوال ہی نہیں )۔(18) تم نے جو کچھ دنیا میں بویا ہے اسی کو آخرت میں کاٹوگے ۔( اس کے برعکس خیال کرناخلاف عقل بھی ہے اور خلاف شریعت بھی)۔(19)موت تمہارے پیچھے لگی ہوئی ہے، اچھا بوؤ گے تو اچھا کاٹوگے او ربرا بوؤگے تو ندامت ہوگی۔ (کاش ہم موت کے خوف سے ہی اچھا بونے لگیں تو آخرت بخیر ہوجائے گی)۔( 20) حرص و لالچ سے کوئی فائدہ نہیں جو ملنا ہے وہی ملے گا۔( حرص و لالچ سے نقصان تو ہے پر کوئی فائدہ نہیں ) ۔(21)ایک مومن دوسرے مومن کے لئے برکت ہے۔( قرآن نے اسے بھائی سے تعبیر کیا ہے لیکن ہم نے نہ قرآن کی مانی نہ امام کی)۔( 22)سخاوت کی ایک حد ہے ، اگر اس سے بڑھ جائے تو فضول خرچی ہے۔ اسی طرح صبر کی بھی ایک حد ہے، اگر اس سے بڑھ جائے تو بزدلی ہے، اخراجات کے معاملہ میں میانہ روی کی ایک حد ہے ، اس سے کم ہو جائے تو کنجوسی ہے ،شجاعت کی بھی ایک حد ہے ، اس سے بڑھ جائے تو ظلم ہے ، اپنی ذات کے ادب کے لئے یہی کافی ہے کہ تم اسے ان باتوں سے محفوظ رکھو جو دوسروں کی جانب سے ہونے پر تم ناپسند کرتے ہو۔( 23) بیوقوف کا دل اس کے منہ میں ہوتاہے او رعقلمند کا منہ اس کے دل میں ہوتاہے ۔(یعنی بیوقوف جو چاہتا ہے بول دیتاہے مگر عقلمندسوچ سمجھ کر بولتا ہے )۔(24) دنیا کی تلاش میں کوئی فریضہ نہ گنوا دینا۔( 25) طہارت میں شک کی وجہ سے زیادتی کرنا غیر ممدوح ہے۔(شک یک نوع روحانی بیماری ہے اگر شریعت کے بتائے ہوئے مسائل پر عمل کیا جائے تو اس کی مشکل سے نجات مل سکتی ہے)۔(26)کوئی کتناہی بڑا آدمی کیوں نہ ہو جب وہ حق کو چھوڑ دے گا ذلیل تر ہوجائے گا ۔(دنیا حق والے کو ذلیل سمجھے تو ان کے سمجھنے سے وہ ذلیل نہیں ہوتا او رباطل پرست کو عزیز سمجھنے سے وہ عزیز نہیں ہوسکتا )۔ (27) معمولی آدمی کے پاس بھی اگر حق ہوتو وہی بڑا ہے۔ (بزرگی وبڑائی حق و تقویٰ سے ہے نہ کہ دولت و ثروت سے)۔(28)جاہل سے دوستی مصیبت ہے۔( کیونکہ جہل خود اک بڑی مصیبت ہے)۔(29) غمگین کے سامنے ہنسنا بے ادبی او ربدعملی ہے۔(پھر مراسم عزاء کے دوران غمزدہ ماں (فاطمہ زہراؑ) و دیگر ائمہ کے حضور یہ نازیبا حرکت کس قدر بے ادبی و بدعملی ہوگی) ۔(30) ہر وہ چیز موت سے بدتر ہے جو تمہیں موت سے بہتر نظر آئے۔(موت اک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ناممکن ہے دنیا اس سے بہتر معلوم تو ہوتی ہے مگر ہے نہیں)۔(31) اسی طرح وہ چیز زندگی سے بہتر ہے جس کی وجہ سے تم زندگی کو برا سمجھو۔( زندگی کبھی بری نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے طریقے کو غلط بنادیا جاتاہے) ۔(32) کسی کی عادت کو چھڑانا اعجاز کی حیثیت رکھتا ہے۔( کیونکہ عادت چھوٹتی ہی نہیں ہے اگر چھوٹ جائے تو اعجازی حیثیت کی ہی حامل ہونی چاہئے) ۔ (33) تواضع ایسی نعمت ہے جس پر حسد نہیں کیا جاسکتا ۔( بشرطیکہ وہ تواضع ہی ہو تملق و چاپلوسی نہ ہو)۔( 34) اس طرح کسی کی تعظیم نہ کرو کہ جسے وہ برا سمجھے۔( ورنہ وہ تعظیم نہیں بلکہ توہین و تمسخر ہے)۔( 35) اپنے بھائی کی پوشیدہ نصیحت کرنا اس کی زینت کا سبب ہوتا ہے۔( اس سے ہمدردی کا بھی اظہار ہوتاہے اور حسن سلوک کا بھی)۔(36) کسی کی اعلانیہ نصیحت برائی کا پیش خیمہ ہے۔( ظاہر ہے کہ سب کے سامنے اسے ٹوکنا یا نصیحت کرنا بد اخلاقی بھی ہے اور خود نمائی بھی)۔(37) ہر بلا اور مصیبت کے پس منظر میں رحمت او رنعمت ہوتی ہے۔(یہ حدیث بھی آیت قرآنی کی تفسیر ہے (اِنّ معسریسراً) کا یہی مطلب ہے)۔( 38) میں اپنے ماننے والوں کو نصیحت کرتاہوں کہ خدا سے ڈریں ، دین کے بارے میں پرہیزگاری کو شعار بنالیں، سچ بولیں او رموت و خدا کے ذکر سے کبھی غافل نہ رہیں۔( اسی کا نام اطاعت و عبادت ہے جس کے لئے خدا نے جن و انس کو خلق فرمایا ہے)۔ (39) جو شخص دنیا سے اندھا اٹھے گا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔( یہ بھی آیت قرآنی ہے جس میں مراد یہ ہے کہ جو جان بوجھ کر دنیا میں اندھا بنارہے او رحقائق سے چشم پوشی کرتا رہے وہ آخرت میں اندھا محشور ہوگا نہ کہ مادر زاد اندھا) ۔(40) جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام باب معروف ہے اس میں صرف اہل معروف ہی داخل ہونگے۔( لہٰذا اہمیں دنیا میں ہی معروف یعنی نیکیوں سے ہمکنار ہوجانا چاہئے تاکہ باب معروف میں داخل ہونے کے مستحق بن سکیں ) ۔(41) مجلس میں عزت پائے بغیر جو شریک مجلس ہوتاہے تو اللہ اور فرشتے وہاں سے اٹھنے تک اس پر رحمت بھیجتے ہیں ۔( سبحان اللہ مستحق رحمت بننا کتنا آسان ہے) ۔(42) نماز روزہ کی کثرت کا نام عبادت نہیں ہے بلکہ امرالہٰی میں بکثرت تفکر کرنے کا نام عبادت ہے۔( اسی لئے قرآن نے متعدد مرتبہ مختلف انداز سے فرمایا ’’ افلا تفکّرون ، افلا تدبرون، افلا تعقلون‘‘ وغیرہ) ۔( 43) مومن کے لئے سب سے بدترین چیز وہ ہے جس کی اسے رغبت ہو لیکن وہ اسے ذلیل کرنے والی ہو۔( اس سے گریز کرنا ہی مومن کے لئے بہتر ہے)۔(44) بچپن میں کسی بیٹے کا اپنے باپ پرجرأت کا مظاہرہ کرنا،اسے بڑے ہونے پر باپ کی نافرمانی پر آمادہ کرتاہے۔( اسی لئے بچپن ہی سے بچوں کے ساتھ وہ رویہ اپنایا جائے جو اعتدال کے مطابق ہو)۔(45) جنگ و جدال نہ کرو اس سے چہرے کاحسن ختم ہوجاتاہے او رمذاق نہ کرو کہ اس سے لوگوں کو کچھ کہنے کی جرأت ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ آپ کے اور بھی دیگر اقوال زرّین ہیں جن کو طول کے خوف سے نقل نہیں کیا جارہا ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی خدمتِ دین میں بسر کی اوراپنے اجداد کے طرز پر تبلیغ دین فرماتے رہے۔

15 اکتوبر ، 2021، بشکریہ : روزنامہ صحافت ، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/imam-hassan-askari-religion/d/125581

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..