New Age Islam
Thu Sep 16 2021, 12:21 PM

Urdu Section ( 10 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Is Elimination of Terrorism Possible? (Part 1) کیا دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے؟ قسط اول

 

مجاہد حسین، نیو ایج اسلام

11مارچ، نہایت شکستہ سڑک پر تارکول کی تہہ چڑھادینا ایک ایسا عمل ہے جو کچھ عرصے تک سڑک کی ہمواری کا تاثر دیتا رہتا ہے لیکن باریک تہہ دیرپا ہمواری کی ضمانت نہیں دے سکتی، ایسی ہی صورت حال اس وقت پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے معاملے میں موجود ہے۔منتخب حکومت اور اس کی قیادت اس معاملے میں لیپا پوتی کے تاثر سے آگے بڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، جس کی لاتعداد وجوہات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ مثال کے طور پرپاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ نواز شدید نوعیت کے تذبذب کا شکار ہے جو اس کے بنیادی اجزائے ترکیبی کی پیداوار ہے۔

پرانے مسلم لیگی جنہوں ضیاء دور میں سیاسی تربیت اور مدد حاصل کی وہ پاکستان کی روایتی فوج سے قریبی تعلقات کے خواہاں ہیں اور پاکستان کے تصور دفاع اور تصور حب الوطنی کے حوالے سے اِ ن میں اور اجتماعی فوجی سوچ میں کہیں فرق نظر نہیں آتا۔دوسری طرف ایک ایسی بڑی تعداد جو مشرف دور میں مسلم لیگ نواز میں شامل ہوئی، اس کے تصورات صرف رد مشرف تصورات ہی نہیں بلکہ فوج کے اجتماعی کردار کے بارے میں بھی تحفظات سے لیس ہیں۔اس کی بنیادی وجہ مشرف دور کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں قومی سطح پر مرتب کیا جانے والا قومی بیانیہ ہے، جس کے مطابق پاکستان کی فوج نے مشرف کی قیادت میں نہ صرف پاکستان کے حقیقی مفادات کا سودا کیا بلکہ اسلامی مجاہدین(پاک افغان سرحد کے آر پار اور کشمیر میں برسر پیکار)کو امریکہ و نیٹوافواج سمیت ملکی سیکورٹی اداروں کی مدد سے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔اس قومی بیانیے کے اجزائے ترکیبی پر بحث کو ابھی التواء میں رکھتے ہوئے ہم موجودہ صورت حال میں دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کا احاطہ کریں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ کی اپنی صفوں میں شدید ترین اختلافات موجود ہیں اور ایسے لوگوں کی آواز توانا ہورہی ہے جو قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کو نہ صرف سیاسی حکومت بلکہ ریاست کے لیے خطرناک تصور کرتے ہیں۔اس کی وجہ مسلم لیگ کے اپنے دامن میں موجود وہ درجنوں ارکان اسمبلی ہیں جو بلواسطہ یا بلا واسطہ پاکستان کی متشدد مذہبی و فرقہ وارانہ جماعتوں سے تمسک رکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر صرف پنجاب سے ایسے سات ارکان اسمبلی پوری قوت کے ساتھ اپنی آواز کو پیغامات کی صورت میں اعلیٰ لیگی قیادت تک پہنچا رہے ہیں جو آج سے چند برس پہلے ایک کالعدم قرار دی گئی فرقہ پرست جماعت کے ساتھ شامل تھے اور اُن کی انتخابی فتح اُن کی سابقہ عسکری وابستگی کا شاخسانہ ہے۔پنجاب میں کابینہ کے ایک انتہائی اہم رکن اور لیگی قیادت کے قریبی ساتھی کی پوری سیاسی قوت ہی فرقہ پرست تنظیموں سے مستعار شدہ ہے اوروہ پوری قوت کے ساتھ اِن تنظیموں کو اپنی سرکاری حیثیت کا فائدہ پہنچانے میں مصروف ہیں۔ایسی ہی صورت حال دوسرے صوبوں اور وفاق سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ مسلم لیگی افراد کی بھی ہے جو قبائلی علاقوں سمیت پورے پاکستان میں انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کے خلاف کی جانے والی کسی قسم کی تادیبی کارروائی کے مخالف ہیں اور اِن کی ہمدردیاں بالکل واضح ہیں۔المیہ یہ ہے کہ ایسے عناصر کو کئی دوسرے طاقت ور اور موثر گوشوں کی طرف سے بھی حمایت حاصل ہے ۔ایسی صورت حال میں یہ توقع رکھنا کہ اعلیٰ مسلم لیگی قیادت کسی بڑے اقدام کی طرف آسانی سے بڑھ جائے گی عبث ہے۔قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے مخالفین کی زیادہ تعداد خود مسلم لیگ نواز کے اندر ہے اوراسلام آباد میں ایسی چہ میگوئیاں عام ہیں کہ آپریشن مخالف وزیراطلاعات پرویز رشید اور وزیردفاع چوہدری نثار کے خلاف محاذ آرائی کرچکے ہیں۔

اسلام آباد میں عام تاثر یہ ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے لیکن مسلم لیگی قیادت بہت کم امکانات میں بھی ایسی کامیابی کا راستہ دیکھ رہی ہے جو اس کے اقتدار کو ہموار رکھنے کا موجب بنے۔سول حکومت فوج کے مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کو بھی ابھی تک نہیں سمجھ پائی اور ایسی کوششیں جاری ہیں کہ کسی طرح فوجی قیادت کو اس ضمن میں راضی کیاجائے۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ مسلم لیگی اعلیٰ عہدیدار جنوبی پنجاب اور دوسرے علاقوں سے منتخب ہوکر آنے والے اپنے اراکین پارلیمنٹ سے ضمانتیں طلب کررہے ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں انتہا پسندی کی حامل تنظیموں اور افرادپر اپنا اثرورسوخ بڑھائیں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس مقصد کے لیے خفیہ فنڈز کو استعمال کرنے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ انتہا پسندوں کو رشوت دے کر کچھ عرصے کے لیے رام کرلیا جائے۔ایسی تمام خبریں اور اطلاعات ایک ایسی حوصلہ شکن صورت حال کے خدوخال کو سامنے لارہے ہیں جن میں کسی قسم کے پائیدار امن اور سلامتی کی ضمانت موجود نہیں۔ کیوں کہ ادائیگی کے بعد امن کی ضمانت اگلی ادائیگی کی تکمیل تک محدود ہوتی ہے اور اس میں زرضمانت کی مقدار میں اضافے کے ساتھ ساتھ امیدواروں کی تعداد بڑھ جانے کے خدشات ہروقت موجود رہتے ہیں۔

صورت حال کی سنگینی اس وقت مزید نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے جب دوسری طرف سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ حکومت نامی فریق کی تمام تر کمزوریوں سے کماحقہ واقف ہیں ۔اس کی واضح ترین مثالیں ایف سی کے جوانوں کا بہیمانہ قتل اور لاشوں کی بے حرمتی سے لے کر پاکستان کے تقریباً تمام شہروں میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات ہیں۔اگرچہ اس صورت حال کی ایک بڑی وجہ عام طور پر معلومات کا شدید فقدان ہے اور حکومتیں ایسی تمام معلومات کو چھپا لیتی ہیں جن میں اِن کی کوتاہیاں نمایاں ہوں، لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پاتیں کہ اگر معلومات کو عام کردیا جائے تو عوامی ذہن زیادہ وسعت کے ساتھ رائے سازی جیسا اہم عمل سرانجام دے سکتا ہے، جو ہر صورت میں ریاست کے لیے سودمند ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ہماری ناقابل شکست خفیہ ایجنسیاں احرار الہند کا پتہ لگانے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں بلکہ ریاست کے خلاف برسرپیکار طالبان سے خود وزیردفاع نے دلی درخواست کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں ہماری مدد کریں۔گاہے بگاہے یہ خبر بھی پڑھنے کو ملتی ہے کہ طالبان احرار الہند نامی گروہ کے ماخذ کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں۔اس سے زیادہ بے عملی اور بیچارگی کا کوئی مظاہرہ دیکھنا مشکل ہے۔

موجودہ صورت حال اور اس کے تمام گوشوں کا ایک غیر جانبدارانہ تجزیہ اس دعوئے کے لیے بہت سا مواد فراہم کرتا ہے کہ پاکستان کو ایک طویل عرصے تک دہشت گردی اور فرقہ واریت کا مسلسل سامنا کرنا پڑے گا۔ریاست اور اس کے اداروں کو اس عفریت سے نمٹنے کے لیے درکار اہلیت اور یکسوئی کے حصول کے لیے پیچ در پیچ مشکلات کا سامنا ہے اور اس عمل کے لیے درکار امدادی وسائل بشمول عوامی رائے سازی جیسے عمل کا فقدان ہے۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ طالبان اور القاعدہ کا قبائلی علاقوں اور پاکستان کے تمام شہروں میں بکھرا ہوا ملغوبہ فوری طور پر تحلیل ہوجائے گا، وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہیں اورانتہا پسند قوتوں کے عزائم سے نابلد بھی۔(جاری ہے)

مجاہد حسین ، برسیلس میں نیو ایج اسلام کے بیرو چیف ہیں ۔ وہ حال ہی میں شائع شدہ کتاب ‘‘پنجابی طالبان’’  سمیت نو کتابوں کے مصنف ہیں۔  تقریبا دو دہائیوں سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود اوراسکے  اپنی تشکیل کے فوراً بعدسے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حسین، بڑے پیمانے پر طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا ایماندارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

URL:

https://www.newageislam.com/urdu-section/mujahid-hussain,-new-age-islam/is-elimination-of-terrorism-possible?-(part-1)-کیا-دہشت-گردی-کا-خاتمہ-ممکن-ہے؟-قسط-اول/d/56073

 

Loading..

Loading..