New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 03:54 PM

Urdu Section ( 16 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Sheikul Islam, Sit In, Sectarian Perception and Current Situation شیخ الاسلام، دھرنا، مسلکی مناقشت اور حالات کا جائزہ

 

مجاہد حسین،  نیو ایج اسلام

17جنوری، اسلام آباد میں موسمی شدت اوردھرنے میں تیزی کے ساتھ کم ہوتی ہوئی لوگوں کی تعداد کے باوجود شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری آخر کارپاکستان میں ایسی صورت حال پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جو پاکستان کی پارلیمانی و مذہبی سیاست کو اپنا اگلارُخ متعین کرنے میں مدد دے گی۔اگرچہ ابھی تک بہت سے اندازے ہیں اور کوئی واضح تصویر دکھائی نہیں دیتی لیکن ایک بات بہت حد تک طے شدہ ہے کہ علامہ طاہر القادری نے پاکستان کے مسلح دیوبندی اور اہل حدیث دھڑوں کو پریشان ضرور کردیا ہے۔ پاکستان کے مسلح دیوبندی اور اہل حدیث دھڑے ریاست کے طاقت ور ترین ایوانوں سے لے کرعام پاکستانیوں تک مالی و اخلاقی مدد کے حوالے سے رسائی رکھتے ہیں اور جہاں افغانستان سے لے کر کشمیر تک جہاد کا معاملہ چلتا رہتا ہے وہاں ساتھ ساتھ مقامی سطح پر فرقہ وارانہ جنگ بھی جاری رہتی ہے۔شیخ السلام کے ادارے منہاج القرآن کو ابھی تک مسلکی حوالے سے ملک کے کٹر اہل حدیث اور دیوبندی مسالک کی طرف سے ’’تحریری و تقریری‘‘ حملوں کا سامنا تھا لیکن معاملہ تشدد کی سطح پر نہیں پہنچا تھا، لیکن اب اس کے واضح امکانات موجود ہیں کہ پاکستان میں ایک قدرے نئے محاذ پر بھی مسلح جنگ شروع ہونے جارہی ہے۔شیخ السلام بھی مقابلے کی افرادی و مالی حیثیت کے حامل ہیں اور ایسے ممالک اور اداروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں جو پاکستان میں فروغ پذیر اہل حدیث اور دیوبندی طاقت سے پریشان ہیں۔

شیخ الاسلام کی طرف سے اسلام آباد میں طاقت کا مظاہرہ اور ملکی میڈیا پر دکھائی جانے والی اِن کی لگاتار انقلابی تقریریں چاہے رنگ لائیں یا نہ لائیں خدشہ ہے کہ شیخ الاسلام اب مزید آگے بڑھ کر مسلکی محاذ پر کشیدگی میں حصہ ضرور ڈالیں گے۔شیخ الاسلام پہلے دن سے جانتے ہیں کہ اِن کے مخالفین کی بڑی تعداد دوسرے مسالک کی صورت میں بہت زیادہ منظم ہے اور خطے میں جاری جہاد کے باعث عسکری حوالے سے اِن کی جماعت سے زیادہ طاقت ور ہے۔مقامی صحافی نواز کھرل کی مرتب کردہ کتاب’’پاکستان کی متنازعہ ترین شخصیت‘‘ اہل حدیث کی ایک منظم جماعت نے گود لے لی ہے اور اس کو اپنی ویب سائٹ پر نمایاں کردیا ہے۔اگرچہ یہ کتاب شیخ السلام کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے تناظر میں ہے لیکن اس میں پاکستان میں دائیں بازو کے ممتاز صحافیوں، دانش وروں، علمائے اکرام اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تحریریں شامل ہیں بلکہ طاہر القادری کے بعض منحرف ساتھیوں کے انکشافات بھی موجود ہیں۔کتاب کا لب لباب یہ ہے کہ منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری ایک موقع پرست مذہبی رہنما ہیں جو نہ صرف من گھڑت خوابوں کے ذریعے سادہ لوح لوگوں سے مال وصولتے ہیں بلکہ شہرت کے اس قدر رسیا ہیں کہ اکثر اوقات جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں، جیسا اُنہوں نے لاہور میں اپنے اوپر ہوئے ایک مبینہ قاتلانہ حملے میں لیا۔دوسری طرف شیخ السلام اور اُن کے معتقدین اس فیصلے کو اپنے خلاف سازش قرار دیتے ہیں ۔

اس میں شک نہیں کہ پاکستان کا مسئلہ سول حکمرانوں کی بُری حکومت کاری اور مسلسل فوجی مداخلتوں سے پیدا ہوجانے والی غیر یقینی کی صورت حال ہے جو بدعنوانی اور موقع پرستی کو فروغ دیتی ہے۔عام لوگ عدم تحفظ،بے یقینی ، اشیائے ضرورت کی گرانی اور عدم دستیابی کے باعث اُکتائے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جب کبھی کوئی ایسا موقع آتا ہے جب مذہبی تشدد کا ماحول پیدا ہوتا ہے تو یہی لوگ یکسو ہوجاتے ہیں اور معاشرہ تشنج کا شکار ہوجاتا ہے۔ہر سال اربوں روپیہ مذہبی تقاریب پر خرچ ہوجاتا ہے اور سب سے زیادہ اشتہارات ایسے ٹی وی چینلز کو ملتے ہیں جو لگاتار سماع اور نعتوں کے لایؤ پروگرام پیش کرتے ہیں۔ایسی خبریں بھی ملتی رہتی ہیں کہ ایک زبردست نعت خواں کو اس کے وزن کے برابر سونے میں تولا گیا ہے اور وہ ایک رات کی نعت خوانی کے پانچ لاکھ روپے طلب کرتا ہے ،جب کہ ایسے نعت خوانوں اور مرثیہ خوانوں کی تعداد کا کوئی شمار ہی نہیں جو روزانہ لاکھوں روپیہ کماتے ہیں اورفلمی اداکاروں کی طرح شہرت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔اگر پاکستانی معاشرے کا صحیح خطوط پر جائزہ لیا جائے تو ایسے شواہد سے سامنا ہوتا ہے کہ ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھے’’برقی دانشوروں‘‘کے تمام دعوئے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔لوگ مذہبی اساطیر سے حاصل شدہ بینائی کی مدد سے حالات کو دیکھتے ہیں اور اُنہیں نہ صرف مغرب بلکہ بھارت اور اسرائیل کے علاوہ کئی اسلامی ممالک بھی پاکستان اور اسلام دشمن نظر آتے ہیں۔اہل وطن کی غالب اکثریت کا ایقان ہے کہ جمہوریت اسلام دشمن نظام ہے اوراسلام کا ازلی دشمن مغرب ،جمہوریت کو پاکستان پر لاگو کرکے اجتماعی غیرت ایمانی کو تباہ وبرباد کرنا چاہتا ہے۔مثال کے طور پر اہل وطن سے مثالی محبت سمیٹنے والے حافظ محمد سعید درجنوں مرتبہ تحریری و تقریری طور پر جمہوریت کو کفر قرار دے چکے ہیں اور اس نظام کو اللہ کے دین کے خلاف بغاوت سے تعبیر کرتے ہیں۔دوسری طرف طاہر القادری پر تنقید کرنے والوں کے پاس سب سے مہلک ہتھیار یہ ہے کہ علامہ طاہر القادری کنیڈا کے شہری ہیں اور یہ ملک اسلام دشمن ہے۔حالاں کہ کنیڈا اور یورپ میں طاہر القادری کی پہچان اِن کی مذہبی تنظیم اور شخصیت ہے نہ کہ اِن کی جمہوریت پسندی۔               

شیخ الاسلام اس تیقن کے ساتھ نہ صرف اپنے مطالبات پیش کررہے ہیں بلکہ آنکھوں کے سامنے ہزاروں کے مجمع کو لاکھوں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر قرار دے رہے ہیں کہ اِن کے ماضی کے ساتھ چسپاں بے تحاشہ کہانیاں ، واقعات اور مقدس خواب ایک ایک کرکے آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ابھی کچھ عرصہ قبل شیخ السلام نے قرآن پر حلف لے کر پاکستان کی گندی سیاست کو باقاعدہ طلاق ثلاثہ دی تھی،کچھ ہی دنوں بعد شیخ السلام ملکی سیاست کے اہم کرداروں کے ساتھ احتجاجی ٹرک پر پائے گئے۔مشرف دور میں اِنہیں قومی اسمبلی میں ایک نشست ملی جس کو اُنہوں نے اُس وقت خیرآباد کہہ دیا جب اِنہیں مکمل یقین ہوگیا کہ مشرف کسی صورت اِنہیں وزیراعظم نہیں بنانا چاہتے۔اس کے فوری بعد شیخ السلام شیعہ سنی اتحاد کا ایک تاریخی طور پر ناکام ثابت ہوچکا نعرہ لے کر آگے بڑھے تاکہ اپنے معتقدین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکے، اس سلسلے میں اِنہیں کامیابی بھی حاصل ہوئی لیکن کچھ ہی عرصے بعداس کامیابی کا وہی حال ہوا جو ایک سابق وفاقی وزیر اور ٹیلی ویژن کے مشہور ترین عالم آن لائن کے ساتھ ہوا۔جو بعض تاریخی حوالوں کا سہارا لے کر اہل تشیع کے ہاں پذیرائی کے خواہش مند تھے لیکن جب ردعمل سامنے آیا توسنی اسلام کے ماننے والوں کی طاقت کے سامنے ڈھیر ہوگئے۔مسلکی طور ڈھیر ہونے کے بعد اب شیخ الاسلام سیاسی حوالے سے بھی ڈھیر ہونے کے بالکل قریب ہیں اب اُن کی چابکدستی کا امتحان ہے کہ وہ اس گرداب سے کسی مقدس خواب کے سہارے باہر آتے ہیں یا حکومت کے کسی آپریشن کے ذریعے اِنہیں نجات حاصل ہوتی ہے۔یا پھر مذاکرات کے ذریعے اِن کی ساکھ کو وقتی طور پر پاکستان میں بحرانوں کے روایتی’’ضامن‘‘ چوہدری شجاعت بچا لیتے ہیں۔

حال ہی میں شائع شدہ کتاب ‘‘پنجابی طالبان’’  سمیت نو کتابوں کے مصنف، مجاہد حسین اب نیو ایج اسلام کے لئے ایک باقاعدہ کالم لکھتے ہیں۔  تقریبا دو دہائیوں سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود اوراسکے  اپنی تشکیل کے فوراً بعدسے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حسین، بڑے پیمانے پر طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا ایماندارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

URL:

 http://www.newageislam.com/urdu-section/mujahid-hussain,-new-age-islam-مجاہد-حسین/sheikul-islam,-sit-in,-sectarian-perception-and-current-situation-شیخ-الاسلام،-دھرنا،-مسلکی-مناقشت-اور-حالات-کا-جائزہ/d/10051

 

Loading..

Loading..