New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 04:34 AM

Urdu Section ( 8 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Pakistan: Growing Frustration about the State ریاست کے بارے میں بڑھتی ہوئی مایوسی

 

مجاہد حسین، نیو ایج اسلام

9 اگست، 2013

پاکستان میں دہشت گردی کے موضوع پر کچھ لکھنا بہت زیادہ اور بار باردُہرائے جانے کے مترادف قرار دیا جانے لگا ہے کیوں کہ پاکستان میں قتل وغارت کو دہشت گردی قرار دینا بھی مشکل ہورہا ہے۔ملک کی تمام مذہبی جماعتیں سوائے نحیف و نزار شیعہ اور احمدی جماعتوں کے،اس نکتے پر متفق ہیں کہ اس بے تحاشہ قتل و غارت پر لب کشائی سے پہلے اپنے سیاسی و مسلکی مفادات کا تحفظ ضروری ہے کیوں کہ اگر وہ موجودہ صورت حال میں طاقت ور دہشت گردوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں تو یہ اُن کے لیے یا اُن کی جماعت کے لیے مہلک بھی ہوسکتا ہے۔دوسری طرف مرکز اور صوبوں میں حکمران سیاسی جماعتیں دُم دبا کر بیٹھی ہوئی ہیں اور ابھی عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کو دہشت گردوں کی طرف سے پہنچنے والے نقصانات کو بھلا نہیں پائیں۔شرمندگی ہے کہ سب کو دامن گیر ہے لیکن پھر بھی مذہب کے نام پر بے گناہ انسانوں کے قتل عام میں مشغول دہشت گردوں کے بارے میں اِن کے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔اس خاموشی کی وجوہات محض ذاتی خدشات نہیں بلکہ وہ خوفناک صورت حال ہے جو ریاست کے تمام شعبوں کی رگ و پے میں سمائی نظر آتی ہے۔

نواز شریف اور اُن کی جماعت جانتی ہے کہ اُس کی صفوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک متحرک دہشت گرد اور فرقہ پرست تھے اور اب قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہیں۔اُنہیں اپنی موجودہ سیاسی پارٹی سے زیادہ اپنے ہم عقیدہ لوگ اور تنظیمیں عزیز ہے جن کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے وہ قانون ساز اداروں میں آئے۔یہی صورت حال فوجی عہدیداروں کو بھی لاحق ہے جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کے لاتعداد جانثار ساتھی موجود ہیں، جو اپنے ہم مسلک اور ہم عقیدہ لوگوں کے مکمل معاون ہیں۔فوجی تنصیبات پر حملے ہوں یا اعلی ترین عہدیداروں کا قتل حاضر سروس افراد نے دہشت گردوں کی مکمل معاونت کی ہے۔اب صورت حال یہ ہے کہ ریاست اپنے انہدام کے کنارے پر کھڑی ہے اور کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ایسے لگتا ہے کہ اب پاکستان پر صرف حکمرانی ہوسکتی ہے اس کو بچایا نہیں جاسکتا، اس لیے تمام ذمہ دار خاموشی سے اپنا اپنا ’’فرض حکمرانی‘‘ نبھا رہے ہیں اور خوش ہیں۔

حیرت اس بات کی ہے کہ ابھی تک نہ تو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے جنہیں بظاہر دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کا دشمن سمجھا جاتا ہے یہ سمجھ پائے ہیں کہ دہشت گردوں کو حاصل طاقت کا منبع اندرونی ہے اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کے دانش وران کرام اس حقیقت سے آگاہ ہوسکے ہیں کہ دہشت گردی سے منسلک لاتعداد روابط اور ذرائع اندرونی ہیں جو ریاست کو سرنگوں دیکھنا چاہتے ہیں اور اب اِن کی اُمیدیں بھر آنے کو ہیں کیوں کہ کسی سطح پر بھی دہشت گردوں کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں۔قومی بیانیہ یہ ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل نہیں کرسکتا اس لیے غیر مسلم قوتیں بشمول ہندو، یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔موجودہ صدی کی سب سے موثر ایجاد لفظ ’’سازش‘‘ ہے اور اس کا استعمال کرنے والا کبھی گھاٹے میں نہیں رہتا چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا ملک سے ہو۔ہم دیکھتے ہیں کہ بیرونی سازشوں کا شور ڈالنے والے اکثر خائن اور جرائم پیشہ ثابت ہوئے ہیں جو اپنے جرائم کی پردہ پوشی کے لیے توجہ کو بیرونی عناصر کی طرف مبذول کردیتے ہیں۔ جو اِن کے ساتھ متفق نہ ہو اس کو بھی دشمنوں کی صف میں شامل کرلیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی پاکستانی یہ کہے کہ ایک خودمختار ریاست میں ریاستی افواج کے علاوہ نجی لشکروں کی ضرورت نہیں ہوتی، تو اس کو سب سے پہلے ریاست کا غدار اور بیرونی دشمن طاقتوں کا کارندہ قرار دیا جائے گا۔حالانکہ وہ اُصولی طور پر ریاست دشمن قوتوں کی نشاندہی کا کام کررہا ہوتا ہے لیکن اُس کو ہی گناہگار قرار دیا جاتا ہے۔میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کے پچاس کے لگ بھگ ٹیلی ویژن چینلوں میں سے کسی ایک پر بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان میں سرگرم بیس سے زائد نجی لشکروں کی پاکستان میں کوئی ضرورت نہیں۔اور اگر کوئی ایسا کہہ دے تو پھر اس کی خیر نہیں۔ایسے شخص کو طاقت ور لشکروں اور ریاستی مشینری میں موجود اُن کے ہمدردوں اور ساتھیوں کے عتاب کا نشانہ بننا پڑے گا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کو بچا نہیں پائیں گے۔قانون فافذ کرنے والے ادارے اُن لشکروں کا ساتھ دیں گے جن کا وجود ہی ایک خودمختار ریاست میں غیر قانونی ہے۔دوسری طرف پاکستان میں سب جانتے ہیں کہ آج یہ لشکر کس قدر طاقت ور ہیں اور پہلے سے زیادہ موثر تعلقات اور ذرائع کے حامل ہیں۔اِن کے ارکان قانون ساز اداروں اور حکومتوں کا حصہ ہیں اور عوامی سطح پر اِن کے ساتھ خصوصی ہمدردی پائی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دہشت قرار دئیے گئے افراد کے خلاف ڈرون حملے میں اگر دو تین لوگ مارے جائیں تو پورے ملک میں افسردگی کی چادر تن جاتی ہے اور اگر خوشی کے تہوار عید پر یہ دہشت گرد لشکر ریاستی پولیس کے درجنوں افراد کو قتل کردیں تو کسی کے کان پر جون نہیں رینگتی۔ٹی وی جشن دکھاتے رہتے ہیں اور مذہبی پروگراموں کے میزبان رحمتوں کے مسلسل نزول کی نوید سناتے ملتے ہیں۔

پورے ملک میں دہشت گردوں کی ابلاغیاتی رسائی کا تسلسل برقرار ہے اور ابھی چند روز پہلے بی بی سی کے پروگرام سیر بین میں کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے رسائل و جرائد پر ایک خصوصی ڈاکومنٹری دکھائی گئی ہے جس میں ملک کے بڑے شہروں میں دہشت گردوں کے اخبارات و رسائل کی کھلے عام فروخت نظر آتی ہے۔اِن رسائل میں شامل ماہنامہ شریعت، نوائے افغان جہاد،حطین، مرابطون،القلم،ضرب مومن،الہلال،صدائے مجاہد،جیش محمداورراہ وفاء وغیرہ میں ایسی تحریریں شائع ہوتی ہیں جن میں ثابت کیا جاتا ہے کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز پر حملے کرنا عین جہاد ہے کیوں کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کفار کے ساتھ مل کر راسخ العقیدہ مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں بیٹھا کوئی دانش ور اِن اخبارات و جرائد کے مندرجات پر ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا۔لیکن وہ فرفر یہود،ہنود اور نصاری کی سازشوں کا احوال سناتا رہتا ہے اور ملک میں رہنے والے چند سیکولرافراد کی نشاندہی میں مصروف رہتا ہے تاکہ جہادی اُن بے ضرر لوگوں کا صفایا کرسکیں۔ایسا لگتا ہے کہ سب متفق ہیں کہ ملک میں اقلیتوں اور غیر جہادی و فرقہ وارانہ وابستگیوں کے حامل افراد کی نسلی تطہیر کردی جائے تاکہ مقابل میں کوئی آواز یا اس کا خدشہ موجود نہ رہے۔

کوئٹہ تقریباً فتح کیا جاچکا ہے اور کراچی فتح ہونے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔پشاور کے حالات کا اندازہ لگانے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل کا واقعہ کافی ہے، لاہور میں قدرے خطرات کم ہیں اگرچہ امریکن قونصل خانے میں ایمرجنسی نافذ ہے اور غیر ضروری عملے کو وہاں سے رخصت کردیا گیا ہے۔اسلام آباد میں پچھلے ایک ہفتے سے سیکورٹی فورسز کی چالیس ٹیمیں دامن کوہ اور دیگر نواحی علاقوں میں سرچ آپریشن کررہی ہیں کیوں کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق دہشت گرد بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرسکتے ہیں۔وزیراعظم اپنے خاندانی محل میں عید کے پکوان کھا رہے ہیں اور صدر مملکت کراچی میں اپنے اقتدار کی آخری ’’سودمند‘‘ ملاقاتیں فرما رہے ہیں۔جبکہ خیبر پختونخواہ کی مقتدر جماعت صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے سے دستکش ہوکر دعائیں مانگ رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ملک میں ایسا ہونے والا ہے جیسا نوے کے وسط میں افغانستان میں ہوا جب تمام علاقوں کے جنگی سردار طالبان کے ساتھ ملتے جارہے تھے، طالبان جہاں کا رخ کرتے وہیں سے خوش آمدید کی صدائیں بلند ہونا شروع ہوجاتیں۔پاکستانی ابھی تک نہیں جان سکے کہ ڈیرہ اسماعیل خان جیل کو اتنی آسانی کے ساتھ مسلح جنگووں نے کیسے فتح کرلیا ۔اس کے بعد صوبے بھر میں اِنہیں کوئی راستے میں روکنے والا نہیں تھا جب کہ قانون نافذ کرنے والے حساس اداروں کی ہزاروں کی نفری چند میل کے فاصلے پر کیل کانٹے سے لیس موجود تھی۔

مجاہد حسین ، برسیلس میں نیو ایج اسلام کے بیرو چیف ہیں ۔ وہ حال ہی میں شائع شدہ کتاب ‘‘پنجابی طالبان’’  سمیت نو کتابوں کے مصنف ہیں۔  تقریبا دو دہائیوں سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود اوراسکے  اپنی تشکیل کے فوراً بعدسے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حسین، بڑے پیمانے پر طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا ایماندارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/mujahid-hussain,-new-age-islam-مجاہد-حسین/pakistan--growing-frustration-about-the-state-ریاست-کے-بارے-میں-بڑھتی-ہوئی-مایوسی/d/12961

 

Loading..

Loading..