New Age Islam
Sat May 15 2021, 08:45 PM

Urdu Section ( 23 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

NEWAGEISLAM TV:Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani Society پاکستانی سماج میں پیٹرو ڈالر اسلام، سلفی اسلام اور وہابی اسلام

 

مجاہد حسین،  بیورو چیف،  نیو ایج اسلام، برسلز کے ساتھ ایک انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ  (Transcript):

 24مئی، 2013


جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو اس میں اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا کے ساری دنیا کے مسلمانوں میں جو ایک  طبقہ تیزی کے ساتھ ابھرا ہے ، جس نے اپنے اثرات کو آگے بڑھایا ہے،  انتہائی کامیابی کے ساتھ ، ان کا براہ راست ایک تعلق ہے  سعودی عرب کے تصور اسلام کے ساتھ اور اس کے پیچھے جو سلفیت ہے ، اس کا ایک اہم کردار ہے۔  جب ہم القاعدہ کو دیکھتے ہیں یا القاعدہ سے جڑی تنظیموں کے بارے میں تحقیقات کرتے ہیں تو  یہ بات واضح ہوکر ہمارے سامنے آتی ہے کے  ان ممالک میں، ان معاشروں میں  ایک روایتی پر امن نقطہ نظر تھا ، اسلامی تنظیموں میں، اسلامی جماعتوں میں،  وہ اب قائم نہیں رہا، باقی نہیں رہا  اور تیزی کے ساتھ اس میں تبدیلی آگئی ہے۔  اور اس  کا سب سے بڑا شکار بر صغیر ہوا ہے۔یہاں پر پاکستان میں ایک خاص طرز کے ساتھ  وہابیت کو فروغ دیا گیا اور نقطہ نظر میں سختی لائی گئی ہے۔ اقلیتوں کے بارے میں، دیگر  مسلم مکاتب فکر کے بارے میں ، میں آپ کو باقاعدہ ثبوت کے ساتھ یہ بتا سکتا ہوں کے پاکستان میں ہر سال ایسی سینکڑوں کتب چھپتی ہیں جن کا مطمع نظر یہ ہوتا ہے کے جو سلفیت سے ہٹ کر عقائد ہیں، یا تو وہ ہندوانہ ہیں یا مشرکانہ ہیں اور کافرانہ ہیں۔ اور یہ سب سے خطرناک ہیں بنسبت ایک پیدائشی کافر کے، وہ مسلمان دین اسلام کے سب سے زیادہ  مخالف ہیں جو  اصل وہابیت پر یقین نہیں رکھتا ، اصل وہابی نقطہ نظر اور جو اسلاف  کی پیروی نہیں کرتا ۔ یہ ایک نئی چیز سامنے آئی ہے۔

بد قسمتی یہ ہے کے اس کا سب سے زیادہ شکار  وہ طبقات ہیں جو مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے یا جن کا تعلیم کے حصول میں نمایاں کردار رہا ہے، جن کی اولادیں جدید تعلیمی ادروں میں پڑھ رہے ہیں۔  اور یہ صرف وہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم جب یوروپ میں دیکھتے ہیں تو ہر اس ملک میں جہاں تارکین وطن موجود ہیں  ، ان کا تعلق ایشیاء یا خلیجی  ملکوں سے ہے، تو ان کے یہاں ایک عجیب سختی آئی ہے۔  ایک حجاب کی شکل میں سختی آئی ہے۔  وہی لوگ جو  پہلے حجاب نہیں  کرتے تھے اب ان لوگوں نے حجاب  کو ایک علامت بنا لیا ہے ، جس سے واضح ہوتا ہے کے وہ نہ صرف مقامی سوچ کے  خلاف ہیں، مقامی نقطہ نظر کے خلاف ہیں ، مقامی تہذیب کو ردّ کرتے ہیں،  رہنا یہ وہیں چاہتے ہیں لیکن  ان کو ردّ کر کے رہنا چاہتے ہیں۔

 یہی جب ہم دیکھتے ہیں  9/11  کے بعد کی صورتحال ہے اور خاص کر لندن بمبنگ کے بعد ، جب ہم برطانیہ، جرمنی ، ہالینڈ ، فرانس، اسپین ان ممالک میں  مسلم طبقے کو دیکھتے ہیں اور خاص کر نوجوان  نسل کو دیکھتے ہیں تو ان کے یہاں ایک عجیب سختی پائی جاتی ہے۔  وہ حلال اور حرام کی مبادیات میں الجھے ہوئے ہیں ۔ وہ لوگوں کو جہاد کی تبلیغ کرتے ہیں۔  وہ  ہر اس چیز کو ردّ کرتے ہیں جس کو نہ  پہلے مسلم فقہہ نے ردّ کیا اور نہ ہی  مسلم علماء نے ردّ کیا اور نہ ہی مسلم سماج کے دیگر لوگوں نے اس کو کبھی  ردّ کیا تھا۔ آج وہ اس کو ردّ کر رہے ہیں۔  ٹیلی ویژن کو ردّ کر دیا۔ فوٹو بنانے کو ردّ کر دیا ہے۔  اور اسی طرح جو موسیقی کے ساتھ ہوا ہے  اور جو دیگر تہذیبی روایات تھیں  ان کو جس سختی کے ساتھ ردّ کیا ہے تو اس سے ایک بات بالکل واضح ہے کہ اس سے ایک نئی طرح کا  متشدد اور نہ ماننے والا  اور ہر چیز کے ارتداد پر قائل بلکہ کمر بستہ، وہ ایک ایسا نوجوان اور ایک ایسا  مسلمان نظر آتا ہے  جو ہر ایک چیز کو اپنے نقطہ نظر کے مطابق رنگ دینا چایتا ہے۔  اگر اس کو رنگ نہیں سکتا ، اس کو بدل نہیں سکتا تو اس کو تباہ کرنے پر مائل ہے۔  اور جب ان کی تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے پیٹرو ڈالر ہے۔  ان کے پیچھے جو فروغ وہابیت ہوا ہے،  فروغ سلفیت ہوا ہے، اس کے پیچھے تو وہ قوت ہے۔

 اسلامی مراکز بنا دئے گئے۔ مسجد بنانا ظاہر ہے کے  ایک بنیادی حق ہے، اگر ایک مسجد بنتی ہے تو اس کا مقصد عبادات کو   آرگنائز کرنا ہے، اس کا مقصد یہ نہیں ہے کے آپ لوگوں کی اس طرح ذہن سازی کریں  کے جہاں جس ملک میں مسجد بنانے کی اجازت دی گئی ہے ، اس سماج کو تباہ و برباد کر دیں۔  کیا جن ممالک میں یہ لوگ رہ رہے ہیں، جن ممالک میں ان کا اثر و رثوخ قائم ہے یا آثودہ حال زندگی گزار رہے ہیں ، کیا ان کے اپنے ممالک میں اقلیتوں کو وہی آزادیاں حاصل ہیں؟ اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرے گا۔  اس کا کوئی  حوالہ نہیں دینا چاہے گا، کیونکہ  اس معاملہ میں ہمیں جو اطلاعات ملتی ہیں ، ہمارے پاس جو کوائف ہیں، جو معلومات ہے  وہ اس کی نفی کرتی ہے۔  میں نہیں سمجھتا کہ کسی مسلم ملک میں نئے سرے سے گرجا بناناآسان کام ہے۔  ہاں، البتہ ایک غیر مسلم ملک میں ، یوروپ میں، مغربی ممالک میں  مسجد بنانا ایک آسان کام ہے۔ یہ آ پ کا  حق ہے، آپ بنائیں، لیکن  جب آپ اس کا استعمال یہاں کے سماج کی سرکوبی کے لئے کریں گے، یہاں کی حکومتوں، یہاں کے معاشروں کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہیں گے تو  یہ ایک مداخلت ہے اور اس  کی اجازت کہیں بھی نہیں ہے۔

یہی کچھ ہمارے یہاں پاکستان میں ہوا ہے، یہی ہمارے  یوروپ میں ہو رہا، تمام مغربی ممالک میں ہو رہا ہے، اور اس کے پیچھے جو قوتیں ہیں ، وہ کسی طور پر خفیہ نہیں ہیں۔ آج جب ہم دیکھتے ہیں کے ایک آدمی جو بنگلہ دیش کا ہے، اس نے آکر انگلینڈ میں رہنا شروع کیا ، اس نے وہاں پر اپنا گروپ تیار کیا، اس نے  ساری مقامی سہولیات کو استعمال کیا اور اب  اس نے ایک تنظیم بنا لی ہے شریعت فار یو کے، وہ شریعت کا نفاز چاہتا ہے یو کے میں ،  اور جو اس کی بات کو نہیں  مانے گا ، وہ اس کے لئے قابل گردن زدنی ہے ۔ یہی صورتحال پاکستان میں ہے۔  اس سے ملتی جلتی صورتحال ہندوستان میں ہے۔  اب ہندوستان کے لئے جہاں ہمیں یہ تاثر ملتا ہے کے  جو سماج ہے وہ ایک سیکولر سماج ہے اور وہاں پر  جو مسلمان ہے وہ اس سماج کا حصہ ہے۔ اور اس کی سوچ سماج کے برابر چل رہی ہے۔  لیکن میں  بڑے احترام کے ساتھ یہ اختلاف کروں گا کے  ہندوستان میں ایسی صورتحال نہیں ہے، ہندوستان کی جو مذہبی تنظیمیں ہیں اور  وہاں  پر جو ایک کھیپ تیار ہو رہی ہے، وہ کھیپ بالکل مہلک ہے ذہنی طور پر  سلفیت کے ساتھ اور وہابیت کے ساتھ ، ان کے یہاں بھی اسی طرح کی فتویٰ سازی سامنے آ رہی ہے۔

 وہاں پر ابھی اگر اس وقت  جمہوریت کی مضبوطی یا نظام کی  بظاہر نظر انداز کر دینے کے عنصر  کے تحت اگر وہاں پر ہمیں  سو سائیڈ بمبنگ نظر نہیں آتی لیکن  یہ دور کی بات نہیں رہی ا ب ۔ میں آ پ کو بتاتا ہوں پاکستان میں جب دیو بندی حضرات ، جو فرقہ پرست تنظیمیں ہیں ، وہ شیعہ کو قتل کرنے  کے لئے سب سے پہلا فتویٰ لکھنئو سے ملتا ہے، ان کو دارالعلوم  دیو بند سے رہنمائی ملتی ہے، وہیں سے  پھر وہ مولانا منظور احمد نعمانی کی کتاب پڑھتے  ہیں اور  یہ طے کر لیتے ہیں شیعہ  کا فر ہیں ، وہ واجب القتل ہیں، ان کا سماجی بائیکاٹ کرنا واجب ہے، تو میں یہ  عاجزانہ طور پر کہنا چاہتا ہوں  یہ اگر اس طرح ہندوستان میں، یا اگر  خلیجی ممالک میں،  بنگلہ دیش میں،  اگر اس بات کو ہم فوری طور پر نظر انداز کر رہے ہیں  کے وہاں پر سماج اور نظام اس طرح کا ہے  کہ نہ تو وہاں اس طرح کا تشدد سر اٹھا سکتا ہے ، تو ایک غلط فہمی اور اس کو اڈریس کیا جانا چاہئے۔   میں سمجھتا ہوں کے ریاستوں کو  ان معاملوں کو اٹھانا چاہئے کے وہ عرب ممالک، وہ خلیجی ریاستیں  جو اپنے سخت اور متشددانہ نقطہ نظر کو پروان چڑھانے کے لئے  مسلم تنظیموں کی مدد رک رہی ہیں۔  اور ایسی تنظیموں کے لئے انہوں نے اپنے پیسوں کے انبار لگا دئے ہیں ، تو یہ کوئی سادہ بات نہیں ہے۔ یہ  ایک مداخلت ہے، کیونکہ یہ جو مسلمان ہیں یہ بر صغیر  میں  صدیوں سے رہتے آ رہے ہیں ۔ اور یہ اقلیتوں کے ساتھ رہے ہیں، رہتے ہیں اور  ان کے یہاں اس طرح کی بیزاری نہیں تھی جیسی بیزاری  آج ہم دیکھ رہے ہیں۔  

اور یہی صورتحال یوروپ میں بھی ہے۔ یوروپ میں بھی  میں  تفصیل سے بیان کر چکا ہوں کے جب یوروپ میں پیدا ہونے والا مسلمان  ، چاہے   اس کے والدین ہندوستان سے آئے ہیں یا پاکستان سے وہ یہاں جب کسی میٹرو  ٹرین کے نیچے بم باندھ کر گھس جاتا ہے  اور اس سے پہلے وہ  اپنا ویڈیو ریکارڈ کرواتا ہے  اور بتاتا ہے کہ اس نے جو سابقہ زندگی گزاری ہے وہ تو بہت بری زندگی تھی۔  اصل راستے پر تو وہ اب آیا ہے۔  تو اس کا مطلب یہ ہے کے اصل راستہ وہ  ہے جس میں خود کو مار دیں، دوسروں کو بھی مار دیں اور  ملک و سماج کو تباہ و برباد کر دیں۔ کیسے اسلام کی ترویج کریں جو اسلام کہیں بھی رائج نہیں ہے۔ یہ ایک  نئی مبادیات کو لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ نیا اسلام لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایسے ممالک کے لئے جو اب تک یہ سوچتے ہیں کے ہمارے یہاں کسی خاص وجہ کی بنیاد پر کسی طرح سے سختی نظر نہیں آتی ہے ، یہ ان کے لئے ایک موقع ہے سوچنے کا ، جن ممالک میں، جن معاشروں میں، جن سماجوں میں دس سال پہلے ایسی سختی نظر نہیں آتی تھی، بلکہ اس کے نتائج وہ اقوام بھگت رہی ہیں۔

 میں سمجھتا ہوں کے یہ ایک موقع ہے اور مسلم  امہ میں بہت پوٹینشیئل ہے ، مسلمانوں کی جو اکثریت ہے وہ یقیی طور پر  نہ ایسا سوچتی ہے اور نہ ایسا چاہتی ہے، ان کو نہ صرف آگے آنا چاہئے  بلکہ ان کو ایسے عناصر کو روکنا چاہئے ۔ علمی سطح پر ان کو روکنا چاہئے اور ان کو بتانا چاہئے  کے جس قسم کا متشدد اسلام ، جس قسم کی گردن کاٹنے کی نفسیات کو آپ ہمارے یہاں لاگو کرنا چاہتے ہیں، جس قسم کی نفرت اور بیزاری کا آپ درس دے رہے ہیں ، نہ ایسی بیزاری اور نفرت اسلام میں کہیں نظر آتی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی وجود تھا۔ یہ ایک نیا عنصر ہے جو پیدا ہو گیا ہے، جس کو روک دینا  نہ صرف مختلف ممالک کے لئے بلکہ اقوام عالم کے لئے بھی یہ ایک بہت ہی ناگزیر چیز ہے تاکہ امن کو،  بھائی چارہ کو اور جو  بین المذاہب ہم آہنگی ہے اس کو قائم رکھا جا سکے۔

URL for English transcript:

http://www.newageislam.com/multimedia/mujahid-hussain,-new-age-islam/newageislam-tv-petrodollar-islam,-salafi-islam,-wahhabi-islam-in-pakistani-society/d/11714

URL for this transcript:

http://www.newageislam.com/urdu-section/mujahid-hussain,-new-age-islam-مجاہد-حسین/newageislam-tv-petrodollar-islam,-salafi-islam,-wahhabi-islam-in-pakistani-society-پاکستانی-سماج-میں-پیٹرو-ڈالر-اسلام،-سلفی-اسلام-اور-وہابی-اسلام/d/11716

 

 

Loading..

Loading..