New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 11:58 AM

Urdu Section ( 12 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

The Quran Invites All Human Beings to Positive and Constructive Thoughts قرآن مجید تمام انسانوں کو تعمیر اور مثبت افکار کی دعوت دیتا ہے


محب اللہ قاسمی

13  جولائی ،2012

نزول قرآن کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں  کہ انسان اپنے رب کو پہچانے ،اس کے بنا ئے ہوئے اصول و قوانین کے مطابق زندگی بسر کرے ، اس کی ہدایت کے مطابق اپنے افکار و خیالات او راعمال و کردار کو صحیح رخ پر لگائے اور ایک اچھا انسان بن کر قوم و معاشرے کے لئے مفید ثابت ہو۔ اس لئے اس کے علاوہ او رکوئی وہ اصول و قوانین مرتب کر نہیں سکتا ۔  اس کے لئے جس نے دنیا اور اس  کی چیزوں کو پیدا کیا ہے، وہی جانتا ہے کہ اس میں کون سی چیز بری ہے اورکون سی چیز اچھی ہے۔ کس طرح اس کی اصلاح ہوگی او رکن وجوہ سے اس میں فساد و بگاڑ واقع ہوسکتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ہی دنیا کا نظام مرتب کرسکتا ہے کوئی اور نہیں ۔ صرف اسی کی اطاعت سے انسان دونوں جہاں میں فلاح ونجات پاسکتا ہے۔

قرآن مجید تمام انسانوں کو انہی تعمیری اور مثبت افکار کی دعوت دیتا ہے ۔ اس کائنات کی تمام مخلوقات میں سب سے افضل انسان ہے۔ وہی اس کا حقدار ہے کہ وہ نظم مملکت کو سمجھے اور قرآن میں غور و تدبر سے کام لے۔  اس لئے قرآن کے  مخاطب تمام انسان ہے۔ اس کا مخاطب صرف مسلمانوں کو قرار دینا  صحیح نہیں ۔ یہ قرآن کی آیت (بدی اللناس ‘تمام لوگوں کے لئے ہدایت ہے’) کے سراسر خلاف ہے۔ قرآن عام لوگوں کو دنیا کی تخلیق اور اس نظام میں غور وفکر کی دعوت دیتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

‘‘ان لوگوں سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے او رچاند اور سورج کس نے مسخر کیا ہے تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ،پھر یہ کدھر سے دھوکا کھارہے ہیں ؟ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے او رجس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے۔یقیناً اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔ اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ سے مردہ پڑی ہوئی زمین کو جلا اٹھا یا تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے ۔ کہو الحمداللہ ،مگر ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں ۔’’ (عنکبوۃ :61/تا 63)

اس میں شک نہیں کہ کلام پاک کی تلاوت اللہ کو بے حد محبوب ہے ، اس کی ایک ایک آیت پر اجر وثواب کا وعدہ ہے ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کا فہم ، اس میں غور و تدبر اور اس پر عمل پیر ا ہونا نہایت ضروری ہے ۔ یہی نزول قرآن کا منشا ہے:

‘‘یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے نبی) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اسکی آیات پر غور کر یں اور عقل وفکر رکھنے والے اس سے سبق لیں۔’’ (ص:29)

اللہ نے انسان کو دل ودماغ کی شکل میں ایک خاص قسم کی دولت عطا کی ہے ۔ قرآن کریم انسان کو اسی عقل و شعور کے استعمال کے لئے جھنجھوڑ تا ہے:

‘‘کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ۔’’( محمد :24)

ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اللہ اپنے بندوں کو تدبر قرآن کا حکم دیتا ہے جو لوگ اس کے محکم معانی میں غور وفکر سے عرض کرتے ہیں ان کی سرزنش کرتا ہے۔

حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : قرآن ا س لئے نازل ہوا ہے کہ اس میں تدبر کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے ۔ لیکن لوگوں نے اس کی تلاوت کو کام سمجھ لیا ،بعض لوگوں کا کام بس یہ ہوگیا ہے کہ بلاغور وفکر اس کی تلاوت کرلیا اس کی عمل کی طرف تو ان کی بالکل توجہ نہیں ہوتی۔(مدارج السا لکین :1/485)

تدبر قرآن او را سکی آیات پر توجہ مرکوز کرنے سے زیادہ نفع بخش او رکوئی چیز نہیں ہے۔ ( نضرۃ النعیم ص :909)

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 ‘‘ان سے کہو ،بتاؤ اگر تم جانتے ہو کہ یہ زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے؟ یہ ضرور کہیں گے اللہ کی ۔ کہو ،پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے؟ ان سے پوچھو ،ساتوں آسمانوں اور عرشِ عظیم کا مالک کون ہے؟ یہ ضرور کہیں گےاللہ ۔ کہو، پھر ڈرتے کیوں نہیں ؟ ان سے کہو ،بتاؤ اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے؟ او رکون ہے جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا ؟ یہ ضرور کہیں گے کہ یہ بات تو اللہ ہی کے لئے ہے کہو، پھر کہا سے تم کو دھوکہ لگتا ہے؟’’ (مومنون : 84/تا 89)

خالی گھر شیطان کا ہوتا ہے ، اسی طرح خالی ذہن شیطان کی آماجگاہ ہوتی ہے۔  یا یوں کہئے کہ جس چیز میں خیر نہ ہو اس میں شرکا ہونا یقینی  ہے۔ کیو نکہ دنیا کی کوئی شئے خالی نہیں ہوتی حتیٰ کہ خالی گلاس بھی خالی نہیں اس لئے کہ اگر میں پانی نہ ہو تو ہوا اس میں اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح اگر انسان نے اپنے افکار و خیالات کو مثبت رخ نہیں دیایا یونہی بنا سوچے سمجھے زندگی بسر کی تو اس میں ایک مویشی میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ دونوں کا زندگی گزارنا بے مقصد ہے ۔ جب کہ اللہ نے اس دنیا اور اس کی چیزوں کو بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ اس لئے قرآن لوگوں کو غور و تدبر کی دعوت دیتا ہے:

‘‘ زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات ودن کے باری باری سے آنے میں ان ہوش مند لوگوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں جو اٹھتے اور بیٹھتے ،ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین اور آسمانوں کی ساخت میں غور وفکر کرتے ہیں ( وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں )پروردگار یہ سب کچھ تونے فضول او ربے مقصد نہیں بنایا ہے ۔’’ (آل عمران : 190۔191)

آج لوگ ایک نصابی کتاب کو کتنی  اہمیت دیتے ہیں اور ان کے بچے ٹھیک سے سمجھ لیں اس کےلئے ہرممکن کوشش کرتے ہیں حتیٰ کہ اسکول او رکالج کے بعد الگ سے کوچنگ سینٹر کا نظم کرتےہیں تاکہ مزیدان میں گہرائی او رگیرائی پیدا ہوا ور وہ اسکول کے امتحان میں کامیاب ہوجائیں ۔ مگر وہ اس بات پر کبھی غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ او رہمیشہ کام آنے والی مقدس کتاب جس میں نظام زندگی کا راز مضمر ہے اور جودنیا کے تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے ۔ وہ کن تعلیمات پر مشتمل ہے وہ کبھی اس کی زبان کو سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے او رنہ اس میں گہرائی یا گیرائی سے کام لینا  چاہتے ہیں ، اسی طرح وہ لوگ جو اس زبان کو جانتے تو ہیں مگر وہ قرآن کو سمجھ  کرنہیں پڑھتے اور نہ اس میں غور وفکر کرتے ہیں، تو بھلا وہ کیسے فلاح و کامرانی پاسکتے ہیں ، کیو ں کر انہیں دنیا میں چین وسکون اور آخرت میں نجات مل سکتی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :‘‘ ہلاکت ہے اس کے لئے جو قرآن کی آیات کی تلاوت تو کرتا ہے مگر اس میں غور وفکر نہیں کرتا’’

لوگ شکایت کرتے ہیں کہ قرآن ہماری زبان میں نہیں ہے، اس لئے ہم اسے سمجھ نہیں سکتے۔ یہ عجب بات ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس کسی بڑے لیڈر یا اہم شخصیت کا کوئی خط آجائے تو اگرچہ وہ اس کی زبان میں نہ تو تب بھی وہ اس کو سمجھنے کے لئے کوشش کرتا ہے اور جب تک اس کا مطلب سمجھ نہ اسے سکون نہیں ملتا بلکہ ہر اس شخص کا دروازہ کھٹکھٹا تاہے جو اس زبان کا جاننے والا ہو ، تاکہ وہ اس کامطلب سمجھادے ۔ مگر قرآن جس میں خالق کائنات نے ایک پیغام دیا ہے ، جس میں دین و دنیا دونوں کے فائدے ہیں، اس کے سمجھنے کے لئے کوشش نہیں کرتے بلکہ زبان کے نامانوس ہونے کا عذر کرتے ہوئے اسے یونہی  بالائے طاق رکھ دیتے ہیں جو کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

‘‘اور رسول کہیں گے کہ اے میرے رب میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنالیا تھا ’’۔(الفرقان :30)

اس کی وضاحت کرتے ہوئے ابن کثیر فرماتے ہیں: قرآن میں تفکر وتدبرنہ کرنا قرآن کو چھوڑنے کی مترادف ہے۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہجر قرآن کی چند قسمیں ہیں: ان میں سے ایک قرآن میں تدبر وتفہیم سے کام نہ لینا ہے اور اس بات کی عدم معرفت ہے کہ اللہ اس آیت کے ذریعہ اپنے بندوں سے کیا کہہ رہا ہے۔ (بدائع التفسیر :2/292)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن پر قرآن مجید کا  نزول ہوا تھا ، ان کا معاملہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بہت ٹھہر ٹھہر کر اور غور وتدبر کے ساتھ پڑھتے تھے۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہوئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن ترسیلاً تلاوت فرماتے ۔ جب کسی تسبیح کی آیت سے گزر ہوتا تو تسبیح کرتے، اسی طرح کسی ایسی آیت سے گزر ہوتا جس میں سوال ہے تو آپ سوال کرتے یا کسی  تعوذ کی جگہ سے گزرتے تو اللہ کی پناہ مانگتے ۔ (مسلم)

آپ صلی اللہ علیہ  وسلم قرآن میں غور و تدبر میں اس قدر محو ہوجاتےکہ پوری پوری رات ایک ہی آیت کی تلاوت میں گزار دیتے تھے ۔ مسند احمد کی روایت ہے ، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی ا للہ علیہ وسلم نے ایک ہی آیت پڑھتے پڑھتے صبح کردی۔ وہ آیت تھی: اگر آپ انہیں سزادیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگرمعاف کردیں تو آپ غالب اور دانا ہیں’’۔(سورۃ مائدہ :118)

فہم قرآن کے سلسلے میں صحابہ کرام کا بھی یہی  معمول تھا۔واضح او رپختہ نظر یہ تھا جس پر وہ عمل پیرا تھے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی  فرماتے ہیں: ‘‘ ہم سے جو کوئی دس آیات پڑھ لیتا  تو وہ اس وقت تک آگے نہیں بڑھتا جب تک کہ وہ ان کے معنی  او ر مفہوم  کو سمجھ نہ لے اور ان پر عمل پیرا نہ ہو’’۔ (رواہ الطبری فی تفسیر ہ :1/80)

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب کسی جگہ قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے تو اس کے سامع تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو قرآن کی آیات کو غور سے سنتے ہیں اور ان کا دل ودماغ انہیں  سمجھنے میں لگ جاتا ہے ۔ ایسے لوگ زندہ دل اور صاحب بصیرت ہیں ،ان کے لئے قرآن نصیحت ہے جسے وہ اپنی عملی زندگی میں ڈھال کر خدا کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں دوسرے وہ لوگ جو قرآن سمجھ تو سکتے ہیں  مگر ان کا دل ودماغ حاضر نہیں ہوتا۔تیسرے وہ جو نہ قرآن کو غور سے سنتے ہیں اور ان اس میں غور  وتدبر سے کام لتیے ہیں ۔ وہ اندھے اور بہرے لوگ ہیں۔

عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ  خیال پیدا کردیا گیا ہے کہ فہم قرآن صرف علماء کا کام ہے، عام لوگوں کا نہیں ۔ مگر یہ خیال بالکل غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو ایسی کوئی تخصیص نہیں کی۔ بلکہ صراحت کی ہے کہ قرآن کا نزول تمام لوگوں کے لئے ہے۔

مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ قرآن کو سمجھنے اور اسے اپنی زندگی میں ڈھالنے کے لئے ایک عام فہم مثال بیان کرتے ہیں:

‘‘بتائیے اگر کوئی شخص بیمار ہو اور علم طب کی کوئی کتاب لے کر پڑھنے بیٹھ جائے اور یہ خیال کرے کہ محض  اس کتاب کو پڑھ لینے سے بیمار ی دور ہوجائے گی تو آپ اسے کیا کہیں گے؟ کیا آپ نہ کہیں گے کہ بھیجوا سے پاگل خانے میں ، اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے؟ مگر شافیٔ مطلق نے جو کتاب آپ کے امراض کا علاج کرنے کےلئے بھیجی ہے، اس  کے ساتھ آپ کا یہی برتاؤ ہے۔ آپ اس کو پڑھتے ہیں اور یہ خیال کہ بس اس کے پڑھ لینے ہی سے تمام امراض دور ہوجائیں گے، اس کی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ، نہ ان چیزوں سے پرہیز کی ضرورت ہے جن کو یہ مضر بتارہی ہے ۔ پھر آپ خود اپنے اوپر بھی وہی حکم کیوں نہیں  لگاتے جو اس شخص پرلگاتے ہیں جو بیماری  دور کرنے کے لئے صرف علم طب کی کتاب پڑھ لینے کا کافی  سمجھتا ہے؟’’(خطبات حصہ اول :20)

ابن مسعود رحمۃ اللہ علیہ نے تدبر قرآن اور اس پرعمل کے سلسلے میں غفلت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے فرمایا :

‘‘ہم لوگوں پر قرآن کا حفظ کرنا مشکل ،جب کہ اس پرعمل کرنا آسان ہے اورہمارے بعد لوگوں پر قرآن کا حفظ کرنا آسان ہوگا اور اس پر عمل کرنا مشکل ہوگا۔’’ (الجامع لا حکام القرآن )

قرآن جو کہ تمام لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے اگر اسے سمجھ کر نہیں پڑھا گیا اور غور وفکر نہیں کی گئی  تو اس پرعمل مشکل ہوجائے گا پھر یہ ہمارے لئے شرم کی بات ہوگی کہ ہمارے پاس دین ودنیا کے تمام مسائل کا حل موجود ہے ،پھر بھی اس پرعمل نہیں کرتے۔

13  جولائی ،2012    بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/the-quran-invites-all-human-beings-to-positive-and-constructive-thoughts--قرآن-مجید-تمام-انسانوں-کو-تعمیر-اور-مثبت-افکار-کی-دعوت-دیتا-ہے/d/7907

 

Loading..

Loading..