New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 01:44 AM

Urdu Section ( 6 Dec 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Fatwa-issuing centres run by untrained Deoband clerics and self-appointed Muftis دیوبند میں نام نہاد "دارالافتاء" فتوی باز ی یا جال سازی کی بھرمار


محمد اللہ قیصر قاسمی

2دسمبر 2020

دارالعلوم اور دارالعلوم وقف کے علاؤہ دیوبند میں ہر اینٹ کے نیچے ایک "دارالافتاء" کھل گیا ہے، جہاں افتاء کے نام پر گورکھ دھندہ چلارہے ہیں، اس سے اندازہ لگائیں کہ دارالعلوم میں افتاء میں داخلہ کیلئے کم از کم 90 اوسط مطلوب ہے، پھر اس میں مقابلہ ہوتا ہے، یعنی عمومی طور پر 95-97 کٹ آف ہوتا ہے،

60-70 والوں کا کسی شعبہ میں داخلہ نہیں ہوتا لیکن یہ دھندے باز افتاء والے ان لوگوں کا داخلہ لیکر، انہیں " سرٹیفیکیٹ" دیتے ہیں،

ان سے بھی ملاقات ہوئی جو کبھی دارالافتاء کے گیٹ تک بھی نہیں گئے پھر بھی وہ افتاء کی سرٹیفکیٹ لئے دندناتے پھر رہے ہیں، ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہے کہ طالب علم ابھی دورہ حدیث شریف (دارالعلوم میں فضیلت کے آخری سال) میں ہے، اور وہ 1000 روپیہ مہینہ دیکر ایک نام نہاد "دارالافتاء" میں داخلہ لیکر "افتاء" کا کورس بھی کر رہا ہے، یہ کورس نہیں، واللہ ایک مذاق ہے، یہ ہمارے تعلیمی نظام کا مذاق ہے، بڑے مدارس کے علاؤہ کسی کو اجازت ہی نہیں ہونی چاہئے، ان کے یہاں خود اساتذہ طلبہ سے زیادہ با صلاحیت نہیں ہوتے، یہ اس دور کا ایک بہت بڑا المیہ ہے، رابطہ مدارس اور دیگر تمام بڑے اداروں کو اس پر توجہ دینی چاہئے، ان "دکانوں" سے ایسے مفتی بھی نکلتے ہیں جو ایک سطر عربی عبارت ڈھنگ سے نہیں پڑھ سکتے، سماج میں ایسے لوگوں کو بھی بے دھڑک "مفتی صاحب" کہلاتے دیکھا ہے جس نے شاید کبھی کسی دارالافتاء کا منہ بھی نہ دیکھا ہو۔

یہ بد نظمی اسلئے ہے کہ ہمارا کوئی منظم ادارہ نہیں جو دینی تعلیم کے نظام پر نظر رکھے، جس کی ہدایات کے مطابق ہمارے ادرے چلیں،

ندوۃ العلماء اور اس سے ملحق ادارے اس شر سے بڑی حد تک محفوظ ہیں، ان کے تمام ملحق ادارے داخلہ امور میں اپنے مخصوص نظام پر عمل کرتے ہیں لیکن نصاب اور تعلیمی منہج میں صرف ندوہ کا اتباع کرتے ہیں،

دیوبند میں رابطہ مدارس ہے، لیکن حقیقت ہے کہ اس سے منسلک مدارس مکمل بے لگام، وہ نصاب، نظام کسی چیز میں رابطہ کے ریزولوشن پر عمل نہیں کرتے ہیں، اس بگاڑ کو تسلیم کرنا ہوگا،

اسی وجہ سے ہر "نکڑ" پہ ایک مفتی ہے جو بے لگام ہوکر، فتوی دیتا ہے، یہ سارا انتشار اسی " بد نظمی" کا نتیجہ ہے،

اسلئے خدارا فتاوی سے متعلق کسی مسئلہ میں صرف مرکزی اداروں کو ہی ترجیح دیں، اور فتوی انہیں سے پوچھیں جو کسی مرکزی ادرہ کے تربیت یافتہ ہوں، دکانداروں سے بچیں۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/muhammadullah-qaiser-qasmi/fatwa-issuing-centres-run-by-untrained-deoband-clerics-and-self-appointed-muftis-دیوبند-میں-نام-نہاد-دارالافتاء-فتوی-باز-ی-یا-جال-سازی-کی-بھرمار/d/123679


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..