New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 06:29 PM

Urdu Section ( 9 Nov 2011, NewAgeIslam.Com)

In The Holy Quran, There Is No Basis of Blasphemy Law قرآن میں توہین رسالت، قانون کی کوئی بنیاد نہیں


By Muhammad Yunus, NewAgeIslam.com (Translated from Urdu by Samiur Rahman, NewAgeIslam.com)

The Meccan enemies of the Prophet called him impostor, a madman (30:58, 44:14, 68:51), and an insane poet (37:36) and ridiculed the Qur’anic revelation (18:56, 26:6, 37:14, 45:9),7 which they declared to be strange and unbelievable (38:5, 50:2), a jumble of dreams(21:5)9 and legends of the ancients (6:25, 23:83, 25:5, 27:68, 46:17, 68:15, 83:13). They accused him of forging lies and witchcraft (34:43, 38:4), forging lies against God, forgery and making up tales (11:13, 32:3, 38:7, 46:8), witchcraft (21:3, 43:30, 74:24), obvious witchcraft that was bewildering (10:2, 37:15, 46:7), and of being bewitched or possessed by a Jinn (17:47, 23:70, 34:8). By definition, all these accusations were blasphemous. Nowhere in its text does the Qur’an prescribe any punishment for those who uttered these blasphemies. The advocates of blasphemy law may raise the following points:

1. The verses date from the Meccan period (610-622), when the Prophet’s followers were grossly outnumbered by his enemies, came mostly from the lower echelon of the society and were weak and oppressed (8:25, 85:10) and that  the above verses were context specific.

2. The slanderer and maligner of the Prophet can upset peace and harmony like priests of Cordova (Spain, 851-859) [1].

3. Maligning any religion, religious leader, text etc. is virtually a moral attack on a community that purports to demonize and dehumanize it and can fuel hatred, religious bigotry and animosity, and in the present day context, feed Islamophobia and Islamofacism. The arguments appear convincing but there are more compelling points that cannot be ignored.

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/blasphemy-law-has-no-qur’anic-basis/d/5866


 

 

قرآن میں توہین رسالت، قانون کی کوئی بنیاد نہیں

محمد یونس ،نیو ایج اسلام ڈاٹ کام

باشتراک اشفاق اللہ سید ، اسلام کا اصل پیغام ،آمنہ پبلیکشن ،یو ایس اے، 2009

یہ انصاف  کے متعلق قرآن کے اہم  اصول کی توہین ہے، اسلام کو بے وقعت  اور بے اثر بناتا  ہے ، مسلمانوں میں انتشار پیدا کرتا ہے ،فوراً اسے منسوخ  کردینا چاہئے۔

کوئی  بھی ایسی سرگرمی ،تقریر، حرکت جو خدا اور  اس کے رسول ،کسی مذہب یا کسی ایسی چیزکو برا بھلا کہنا  جسے ایک طبقہ احترام کرتا ہے  ، توہین ہے۔ نفرت انگیز تقریر بھی تکنیکی طور پرتوہین ہے ،کیو نکہ یہ ایک انسان کی توہین ہے،اسلئے کہ  انسانی زندگی ( قرآن 38:72، 32:9، 15:29)بھی مقدس ہے۔ تو ہین کا تصور اسلامی قوانین میں،خدا ، قرآن اور پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک محدود ہے۔

قرآن کا یہ اعلان ‘اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برانہ کہنا (6:108) ، ان لوگوں کے لئے واضح نصیحت ہےجو  دوسروں کے ذریعہ مورتی ،دیوتا یا کسی نشانی  کو مقدس تصورکئے جا نے کے خلاف ہیں ۔ تاہم قرآن اس طرح کے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے کوئی سزا تجویز نہیں کرتا ہے۔

قرآن مزید اعلان کرتا ہے۔‘ اور اس طرح ہم نے شیطان (سیرت ) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنادیا تھا وہ دھوکہ دینے کےلئے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افترا کرتے ہیں اسےچھوڑ دو’ (6:112)

‘اور (وہ ایسے کام) اس لئے بھی (کرتے تھے ) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پرمائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتےتھے وہ ہی کرنے لگیں۔’ (6:113)

‘ اور اسی طرح ہم نے گنہگاروں میں سے ہر پیغمبر کا دشمن بنادیا ۔ اور تمہارا پروردگار (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ہدایت دینے او ر مدد دینے کوکافی ہے، (31:25)۔

 لہٰذا  قرآن نے تمام انسانیت کو تنبیہ کیا ہے کہ ہمیشہ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو تضحیک  کے لئے یا ان کی مخالفت میں  پیغمبر کے خلاف گمراہ کن  جملے کسےنگے  ( 6:113)یا وہ ایسا حرص و طمع میں  کرینگے ( 25:31)قرآن مومنوں کو  ایسے لوگو ں کو نظر انداز کرنےکا حکم دیتا ہے ۔ دوسرے جملوں  میں یہ کہہ سکتےہیں،  کہ  قرآن توہین رسالت کو صرف اخلاقی نقص مانتا ہے، اور اسے قابل سزا جرم نہیں گردانتا ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو  مکہ کےدشمن دھوکے باز اور دغا باز، دیوانہ (68:51، 44:14، 30:58) او رپاگل شاعر کہتے تھے (37:36) اور وہ وحی ٔقرآنی کا مزاق اڑاتے تھے ( 45:9، 37:14، 26:6، 18:56) اسے عجیب و غریب  اور ناقابل اعتماد بتاتے تھے ، ( 38:5،50:2) اسے خواب، (21:5) قدیم  زمانوں کی کہانیاں  کہتےتھے (68:15، 46:17، 27:68، 25:5، 23:83، 6:25،83:13) کفار  نے جھوٹ اور جادو کرنے کا الزام بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر لگایا ( 38:4، 34:43) خدا کے خلاف جھوٹ بولنے ،جعل سازی کرنے کہانیاں بنانے ( 46:8، 38:7، 32:3، 11:13) جادو گری کرنے کا بہتان لگایا ( 74:24، 43:30، 21:3) ایسا واضح جادو جو حیران کن  تھا ( 46:7، 37:15، 10:2) اور آپ ﷺکو  جنوں کے ذریعہ سحر کردہ یا ان کے قبضے میں کہا  ( 23:70، 17:47، 34:8)۔جیسا کہ توہین رسالت کی تعریف کی گئی اسکے مطابق  یہ تما م ااتہامات وا لزامات توہین رسالت تھے ۔ ایسی توہین کرنے والوں کے خلاف قرآن میں کہیں بھی  کسی  سزا کی تجویز نہیں  کی گئی ۔ توہین رسالت  قانون کی وکالت کرنے والے درج ذیل نکات  اٹھا سکتے  ہیں:

1۔ یہ آیات  اس مکی دور کی (612۔610)  ہیں جب دشمنوں کے  مقابلے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو کاروں کی تعدا د کم تھی  ، اور ا ن کا تعلق سماج کے پسماندہ  طبقے سے تھا، اور یہ کمزور او رظلم رسیدہ(85:10، 8:25) تھے ،اور ان آیات کا  نزول ایک مخصوص سیاق وسباق میں ہو اتھا ۔

2۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان  ترشیاں کرنے  والے اور آپ ﷺ کے بد خواہ  ، کارڈووا (اسپین ، 859۔851)کے پادریوں کی طرح امن او راہم آہنگی کومتأثر کر سکتے تھے۔(1)

3۔ کسی مذہب ،مذہبی رہنما یا اس کی  مقدس کتاب وغیرہ پر دشنام طرازیاں در اصل اس  طبقے پر اخلاقی حملہ ہے،جسکا مقصد،اس کی صورت مسخ کرنا اوراسے  غیر انسانی بنانا ، اور اس سے نفرت ،مذہبی تعصب اوردشمنی کو فروغ دینا ، اورموجودہ  دور کے تناظر میں اسلاموفوبیا اور اسلامو فاشزم کو تقویت دینا  ہے۔ یہ دلائل اطمینان  بخش ظاہر ہوتےہیں لیکن اس سے بھی زیادہ قابل توجہ نکات کا ذکر کیا جا رہا ہے جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

1۔ توہین رسالت کی اس انتہائی غیر محفوظ جرم سبب مسلم معاشرے میں انتشار پیدا ہوسکتا ہے کیو نکہ کوئی بھی کسی پر توہین رسالت کا الزام لگاسکتا ہے جیسا کہ پاکستان میں ہورہا ہے۔

2۔ اس کا استعمال ایک بدتہذیب شہری غیر مسلم یا کسی مسلم پڑوسی سے بدلہ لینے کے لئے کرسکتا ہے ،اور ان کا مالی استحصال کرنے کےلئے بھی توہین رسالت کے الزام کی دھمکی دے سکتا ہے۔

3۔ ایک اسلامی ریاست اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے کے لئے اس کا استعمال کرسکتا ہے۔

4۔ وسیع ترمعنوں میں، سختی  کے ساتھ توہین رسالت قانون کے نفاذسے ایک سنی شرعی عدالت پورے اہل تشیع طبقے کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے قریبی رشتہ داروں ،پہلے تین خلیفہ ، جو یا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خسر (ابوبکر ؓ اور عمرؓ) تھے یا پھر داماد (عثمان ؓ) کو لعن طعن کہنے پر توہین رسالت کا مجرم قرار دے سکتا ہے۔

5۔ اسلامی ممالک کے فقہاءاسلام کو برا بھلا کہنے والے اسکالروں ، مصنفوں اور ان کی تقاریر ،تصانیف کو توہین رسالت مان کر ان لوگوں کے خلاف فتویٰ جاری کرسکتے ہیں۔

6۔ توہین رسالت کے جرم میں  کسی شخص کو  قتل  کرنا قرآنی انصاف کےاس بنیادی اصول کے خلاف ہے جس کے مطابق  ایسی سزا ایک انسان کےذریعہ  دوسرے انسان کے خلاف کئے گئے جرم میں ہی ملتی ہے۔

ایسا تصور  ان وجوہات کی بنا پر ہے کہ اسکےبعد کے زمانے میں ایسی  کوئی قرآنی آیت نازل  نہیں ہوئی  جو امن پسندی  کے متعلق مندرجہ بالا آیات 25:31، 6:112/113کو منسوخ کر  سکے۔ علاوہ ازیں،اس معاملے میں   کسی سزا کی تجویز کے بجائے  قرآن مسلمانو ں کو ایسے لوگوں سے بات چیت سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے  جو حسد  یا ملامت کرتےہیں (4:140)،اور ایسے لوگوں سے دور رہو جو خدا کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ ( 7:180)

نتیحہ : کسی خاص  تناظر میں توہین رسالت کی تعریف کے سبب ذاتی، طبقاتی ، فرقہ اور بین الاقومی سطح پر ،انفرادی، مسلمان فرقےاور اسلام پر تنقید ی انداز میں لکھنے والوں اور اسکالروں کے خلاف توہین رسالت کےالزامات ایک لا متناہی سلسسلہ شروع ہو جائیگا ۔

چونکہ قرآن ان اعتراضات سے واقف تھا اس لئےاسنے  توہین رسالت کے لئےکوئی  سزا تجویز نہیں کیا ، تو ہین رسالت قانون کو منسوخ  کر دینا چاہئے ۔ توہین رسالت نفرت کا مظہر ہے اور یہ لا محالہ کسی قانون سےقطع نظر نفرت کا سبب بنے گا ۔ نتیجتًا انتہا پسندی ، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فسادات کو فروغ ملے گا ۔سیکورٹی کونسل کے رہنما اصول پر عمل کر کے،مسلمان ماہرین  قانون بہتر حالات پیدا کر سکتے  ہیں ،او ر توہین رسالت کے جرم کی کیفیت ، اسکے  ممکنہ اثرات او رمجرم کے رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکے  کے لئے سزا ئے موت یا کوئی  بڑا  قانون  یا گستاخی پر ایسی کوئی بھی سزا جو برتاؤ اور اخلاقی بد دیانتی کو بر قرار رکھتا ہو ، اس کے بجائے کو ئی چھوٹی سزا تجویزکر  سکتے ہیں ۔ یہ لوگ توہین رسالت کی خبر پھیلا نے سے قبل  اپنے صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کو اسے نظر انداز کرنے کے بارے میں  قرآن کی مندرجہ بالا آیات ( 25:31، 6:113)کا حوالہ دے سکتے ہیں۔

(1) 851اور 859کےدرمیان موجودہ جنوبی اسپین کے کارڈ ووا کے کچھ پادری  عمداًعوامی مقامات پر  سزائے  موت کی خواہش  میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان  میں توہین  آمیز جملے کسا  کرتے تھے۔ یہ عیسائی طبقے کے ساتھ ہی ان کے رہنماں  کے لئے بھی شرمندگی کی با ت تھی،  اور انہیں   شرعی قانون کے تحت سزا دی گئی کیو نکہ یہی وہ واحد راستہ  تھا جس کے ذریعہ  عوام کے درمیان ایسی اشتعال انگیز ی کا خاتمہ کیا جا  سکتا تھا۔

محمد  یونس نے آئی آئی ٹی دہلی سے کیمیکل انجینئر نگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہوچکے ہیں اور90کی دہائی سےقرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی  کوشش کررہے ہیں ۔ ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف ،قاہرہ کی منظوری حاصل ہوگئی تھی اور یوسی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکشن ،میری لینڈ ،امریکہ نے ،2009میں شائع کیا۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/in-the-holy-quran,-there-is-no-basis-of-blasphemy-law--قرآن-میں-توہین-رسالت،-قانون-کی-کوئی-بنیاد-نہیں/d/5880

 

Loading..

Loading..