New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 12:51 PM

Urdu Section ( 13 Aug 2015, NewAgeIslam.Com)

The Notion of Jizyah In The Light Of the Qur’an’s Holistic Message and Historical Context قرآن کے جامع پیغام اور تاریخی پس منظر کی روشنی میں جزیہ کا تصور

 

 

 محمد یونس، نیو ایج اسلام

 (مشترک مصنف، اشفاق اللہ سید، Essential Message of Islam، آمنہ پبلکیشنز USA، 2009۔)

12 اگست 2015

سب سے پہلے اس بات کا اعتراف کیا جانا ضروری ہے کہ واضح احکامات کا ایک جامع اور مدلل بیان ہونے کے لیے علاوہ قرآن میں دوسری چیزوں کے درمیان عصر حاضر کے ان مسائل کا بھی ذکر ہے جو کہ اگرچہ صرف اس زمانے کے لئے افادیت کے حامل تھے لیکن ان میں سے کچھ بالعموم اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں ۔

لہٰذا، قرآن نے ان تمام بے بنیاد اور بیہودہ الزامات کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا جو آپ کے مکہ کے دشمنوں نے آپ کے آبائی شہر مکہ میں قیام کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے پہلے بارہ سالوں (622-610) کے دوران آپ کے خلاف پھیلائے۔ اسی طرح ہجرت مدینہ (622) کے بعد جب ان مکہ کے دشمنوں کی دشمنی میں اور بھی زیادہ اضافہ ہوا اور تین مواقع (624، 625 اور 627) انہوں جب آپ سے باقاعدہ جنگ کیا تو قرآن مجید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حملہ آور فوج کے خلاف فوجی دفاع کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ قرآن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں پیش آنے والی صعوبتوں اور مشقتوں کا براہ راست ریکارڈ محفوظ کرنے کے لیے سیاسی مزاحمت اور مقامی یہودی قبائل اور منافقوں کی سازشوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ مسلمانوں کے معاندانہ تعلقات کو(58-5:51 مثال کے طور پر) بھی بیان کیا ہے۔ اسی طرح قرآن میں کھانے کے لئے شکار کرنے کے لیے پرندوں کا استعمال کرنے (5:4)، خم دار پہاڑیوں پر مکہ کا سفر کرنے (22:27)، میدان جنگ میں ایک مضبوط دیوار کی طرح یکجوٹ کھڑے ہو کر حملے کو روکنے جیسے فوجی تدبیر (61:4)، اور مسلح افواج میں گھڑ سوار وحدت رکھنے(8:60) جیسے مروجہ رسوم و رواج کا بھی ذکر ہے ، جو کہ اب غیر افایت بخش ہیں اس لیے کہ اب انسانوں نے خوراک پیدا کرنے، سفرکرنے اور جنگ کے نئے طریقوں کو تلاش کر لیا ہے۔ زندگی کی جدوجہد اور مثالوں سے متعلق یہ تمام آیات واضح طور پر وحی کے سیاق و سباق کے ساتھ مخصوص ہیں اور یہ آیتیں ان واضح اور ابدی پیغامات کا حصہ نہیں ہیں جن کی پیروی کرنے کا حکم مومنوں کو دیا گیا ہے۔

اس کے بعد اب ہم سورہ توبہ کا جائزہ لیتے ہیں جس کی آیت 9:29 میں جزیہ کا ذکر ہے۔

یہ سورت نزول وحی کے آخری دو سالوں کے دوران نازل کی گئی تھی۔ کسی بھی فوجی کاروائی کے بغیر (630ء) میں مکہ پہلے ہی فتح کیا جا چکا تھا لیکن بہت سے پرانے زخم اب بھی تازہ تھے۔ گزشتہ بیس سالوں تک مکہ کے رہنما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سب سے بڑا دشمن مانتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلاک کرنے کی ہر ممکن کوشش کر چکے تھے، اسی لیے ان سے راتوں رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مصالحت کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس کے علاوہ، اچانک فتح مکہ کا مطلب مروجہ اقدار و روایات میں اچانک تبدیلی اور سماجی نظام اور بین قبائلی سیاسی مساوات تھا۔ اس تاریخی واقعہ نے اسلام کی وسیع ترین سیاسی کی سیاسی سلطنت کے تحت لوگوں کے ایک انتہائی متفاوت معاشرے کو وجود بخشا، جن میں سے ہر ایک جماعت کے اپنے ماقبل اسلام قبائلی تعلقات و اثرات تھے لیکن وہ تمام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت ایک واحد امت کی حیثیت سے متحد تھے۔ داخلی اتار چڑھاؤ کے علاوہ اسلام مضبوط اور سخت دشمنوں سے گھرا ہوا تھا:

جن عرب بدوؤں نے دو دہائیوں سے زائد تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مزاحمت کی تھی اور جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی نبھائی تھی وہ اپنی تعداد کو گھٹتا ہوا، اپنی طاقت کو کم ہوتا ہوا اور تمام مشکلات کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن میں مسلسل آگے بڑھتا ہوا دیکھ رہے تھے۔

مدینہ کے وہ منافقین جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازش کی تھی، اور یہاں تک کہ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکاروں کو مدینہ سے نکال باہر کرنے کا منصوبہ بھی بنایا تھا۔

نئی عرب متحدہ طاقت سے ممکنہ طور پر خطرہ محسوس کرنے والے ہمسایہ عیسائی بازنطینی (مشرقی رومی سلطنت) نے بے خوف قبائلی جنگجوؤں کے اندر ہمت، عزم اور نئے مذہبی جوش و جذبے سے اپنی فوجی صلاحیتوں کو لیس کر دیا تھا۔

الہی منصوبہ بندی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اب صرف دو سال ہی بچے تھے اور اگر متحد دشمن مشرکین اور منافقین اور بازنطینی کی جانب سے درپیش خطرات کو ختم نہیں کیا جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے فوراً بعد اسلام کوختم ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ اور قرآن کو صرف دو سال میں تقریباً ناممکن ہدف حاصل کرنا تھا۔ لہٰذا، سورہ توبہ کا نزول اس کی تاریخی ترتیب کے خلاف ہوا اور اس کے سامنے اسلام کے مذکورہ مضبوط دشمنوں کو بے اثر کرنے کا تقریبا ایک ناممکن مشن تھا۔

جزیہ کے تعلق سے آیت 9:29:

"اے مسلمانو!) تم اہلِ کتاب میں سے ان لوگوں کے ساتھ (بھی) جنگ کرو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دینِ حق (یعنی اسلام) اختیار کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ (حکمِ اسلام کے سامنے) تابع و مغلوب ہو کر اپنے ہاتھ سے خراج ادا کریں"(9:29)۔

قرآن میں یہ ایک واحد ایسی آیت ہے جس میں اہل کتاب عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ جنگ کرنے کا مطلقاًحکم دیا گیا تھا۔ تاہم، اس آیت میں نازل ہونے والے حکم کو وحی کے تاریخی تناظر میں سمجھا جانا چاہیے: اس آیت کا نزول غزوہ تبوک کے تناظر میں ہوا تھا، جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی فوجی کاروائی کے بغیر عیسائی اور بازنطین کے جنوبی علاقوں میں یہودی بستیوں کے ساتھ امن معاہدوں کا قیام کرنے کے قابل ہو سکے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: کیا یہ قرآنی حکم تمام زمانوں کے لیے قابل انطباق ہے؟ قرآن کے پاس اس کا جواب ہے۔

اس آیت میں نبی کی شمولیت نے اسے ایک وجودی کردار میں ڈھال دیا ہے۔ اگر اس آیت سے دائمی جنگ کا ارادہ کیا گیا ہوتا تو قتال ہر زمانے کے تمام مسلمانوں کے لئے ایک دینی فریضہ ہوتا۔ لیکن نہ تو نبی نے اور نہ ہی آپ کے خلفائے راشدین نے امت مسلمہ پر ایسی کوئی شرط عائد کی ہے۔ لہٰذا، اسلام کی ابتدائی دہائیوں سے ہی مسلمان سپاہیوں کو ان کی خدمات کے لئے رقم ادا کی جاتی تھی۔ لہذا، اہل کتاب کے خلاف لڑنے کا مذکورہ قرآنی حکم ایک خاص سیاق و سباق کے ساتھ مخصوص ہوگا، اور اسی وجہ سے اسے و دائمی جنگ کا ایک قرآنی حکم شمار نہیں کیا جا سکتا۔

ناقدین اسلام پر جزیہ لازمی کر کے مغلوب قوم کے خلاف تعصب کرنے اور امتیاز برتنے کا الزام لگاتے ہیں۔ تاہم، وہ جزیہ کے کردار اور اس کی تاریخی اہمیت کا اندازہ لگانے میں ناکام ہیں۔ اسلام کی آمد سے قبل بھی چھوٹی ریاستوں، کمزور مملکتوں یا مغلوب لوگوں کو بیرونی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے لئے اپنے طاقتور پڑوسی ممالک کو رایلٹی یا ٹیکس ادا کرنا ضروری تھا۔ لہٰذا، رومن سلطنت کی سرحدوں سے باہر تمام چھوٹی عیسائی سلطنتیں رومی شہنشاہ کو خراج ادا کرتی تھیں۔ لہٰذا، جب ان سلطنتوں پر اسلام کا غلبہ ہوا تو انہوں نے جسمانی طور پر تندرست اور جنگی صلاحیت رکھنے والی بالغ آبادی کی بنیاد پر مسلمان خلیفہ کو دفاعی (جزیہ) ادا کیا۔ اسی طرح، خواتین کم عمر اور بوڑھے مرد، بیمار یا معذور مرد، اور راہب اور پادری اس ٹیکس سے مستثنی تھے۔ رضاکارانہ طور پر فوجی خدمات انجام دینے والے غیر مسلم بھی اس سے مستثنی تھے۔ اس کے علاوہ، ٹیکس کے طور پر جزیہ نے زکوة کے لئے ایک جزوی متبادل کے طور پر بھی اپنا کردار ادا کیا جس کی ادائیگی عوامی فنڈ کے لیے مسلمانوں پر ضروری تھی۔ لہٰذا، جزیہ فلاح و بہبود کے لیے خراج ، اور استثنائی ٹیکس کا ایک مجموعہ تھا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جزیہ کی تاریخی ضرورت افادیت

تاریخی تناظر میں جزیہ کا نظام ہو سکتا ہے کہ اسلام اور غیر مسلم دونوں کے لیے ایک نعمت ہو۔ لیکن جزیہ پر ایک واحد آیت (9:29) کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ فاتح مسلم فوج نے اپنی ابتدائی فتوحات میں شکست خوردہ لوگوں کو غلام بنایا ہوگا، ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا ہوگا اور لوٹا مار کیا ہوگا اور ایک طویل عرصہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے تیس سال کے اندر اندر اپنی بڑھتی ہوئی سلطنت پر اپنے قبضے کو برقرار رکھنا ناممکن معلوم ہوا ہو، جس میں مصر، شام، عراق اور فارس سمیت تمام بڑی مملکتیں شامل تھیں۔ جنگ جو کہ انسانی تاریخ کی ایک ناگزیر حقیقت ہے، اس کے ایک متبادل کے طور جزیہ کے نفاذ نے مغلوب لوگوں کی جان و مال اور ان کے مکمل شہری حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا۔ دیگر بے شمار اصلات کے رمیان اس نئے انقلابی دین اسلام کے اس مضبوط موقف نے دنیا کی تاریخ میں بادشاہ سے لیکر بھکاری تک سب کو قانون کی نظر میں یکساں طور پر جوابدہ بنا دیا ہے، غلامی کا مرحلہ وار خاتمہ کیا اور صنفی مساوات کو یکسر تبدیل کر دیا جس کی انسانی تاریخ میں کوئی جگہ نہیں تھی۔ ورنہ تاریخی عمل کے ایک حصہ کے طور پر خلافت (632-661 عیسوی) کے ذریعہ ایک سیاسی وجود کے طور پر خود کو قائم کیے بغیر وقت سے پہلے ہی اسلام کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔

سیکولر اور کثیر مذہبی ریاستوں کی تشکیل، مذہب اور سیاست کی علیحدگی اور دنیا کے بیشتر ممالک میں تمام مذہبی گروہوں کے لئے عام ٹیکس کے اس زمانے میں جزیہ کی تاریخی افادیت کھو چکی ہے۔ آج، ایک مسلم اکثریتی ملک میں مذہبی اقلیتوں کو (خواہ جبری یا رضاکارانہ طریقے سے) نیشنل ڈرافٹ (فوج میں بھرتی) پر عمل پیرا ہونا پڑتا ہے، اور اس طرح وہ جزیہ کے طور پر کسی بھی اضافی ٹیکس سے فطری طور پر مستثنی ہو جاتے ہیں ، اسی طرح مسلم اقلیتوں کو بھی غیر مسلم یا سیکولر ملک کوئی بھی اضافی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا۔

اس مضمون کو ختم کرنے کے لئے راقم الحروف قرآن سے مندرجہ ذیل آیات کا حوالہ پیش کرنا چاہتا ہے جو بین المذاہب تعلقات پر قرآن کے پیغام کا نچوڑ ہیں:

"اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے (49:13)" ۔

‘‘عجب نہیں کہ اللہ تمہارے اور اُن میں سے بعض لوگوں کے درمیان جن سے تمہاری دشمنی ہے (کسی وقت بعد میں) دوستی پیدا کر دے، اور اللہ بڑی قدرت والا ہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے (60:7)۔ اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے (یعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور اُن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بیشک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے (60:8)۔ اللہ تو محض تمہیں ایسے لوگوں سے دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں (یعنی وطن) سے نکالا اور تمہارے باہر نکالے جانے پر (تمہارے دشمنوں کی) مدد کی۔ اور جو شخص اُن سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں"(60:9)۔

URL for English article:  http://www.newageislam.com/islamic-ideology/muhammad-yunus,-new-age-islam/the-notion-of-jizyah-in-the-light-of-the-qur’an’s-holistic-message-and-historical-context/d/104236

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/muhammad-yunus,-new-age-islam/the-notion-of-jizyah-in-the-light-of-the-qur’an’s-holistic-message-and-historical-context--قرآن-کے-جامع-پیغام-اور-تاریخی-پس-منظر-کی-روشنی-میں-جزیہ-کا-تصور/d/104266

 

Loading..

Loading..