محمد یونس، نیو ایج اسلام
19 جون 2017
(مشترکہ مصنف (اشفاق اللہ سید کے ساتھ)، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشنز، امریکہ، 2009)
اس مختصر سی تحریر کا محرک امریکہ بھر میں جاری شرعی قانون مخالف حالیہ ریلیاں ہیں۔ اس کا مقصد 'اسلام کے شرعی قانون' کہ جس سے بے شمار امریکی اور غیر مسلم واقعی ڈرے ہوئے ہیں اور 'اسلامی شریعت' کہ درمیان ایک واضح فرق کو اجاگر کرنا ہے کہ جسے بدقسمتی سے بہت سے مسلمان ‘‘اسلامی شرعی قانون’’ کے ساتھ مخلوط کرتے ہیں۔
‘‘اسلامی شرعی قانون’’ ابتدائی اسلامی صدیوں کےاکثر مسلمان فقہاء کے منتخب نظریات کی نمائندگی کرتا ہے؛ اس کی کوئی الہامی حیثیت نہیں ہے، یہ اسلامی عقیدے کا کوئی حصہ یا کوئی شق نہیں ہے؛ مسلمان ہر زمانے میں اس کے پابند نہیں ہیں، اور اس کے احکامات خود متضاد ہیں جس میں بہترین سے لیکر بدترین احکام تک شامل ہو سکتے ہیں، اور اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ایک اسلامی فقیہ یا ایک مسلم دہشت گردی نظریہ ساز ثابت کیا کرنا چاہتا ہے۔ اگر یہ غیر انسانی اور علیحدگی پسند ہوتا جیسا کہ [ آئی ایس آئی، بوکو حرم اور تکفیری جماعتوں] جیسی دہشت گرد تنظیمیں دعویٰ کرتی ہیں تو اس زمین سے بہت پہلے ہی عیسائی، یہودی اور تمام غیر مسلم نیست و نابود کر دئے گئے ہوتے جن پر مسلمانوں نے تقریباً نصف صدی حکومت کی ہے، اور مسلم اسپین میں تقریباً 700 سال تک مسلمان، عیسائی اور یہودی ایک ساتھ امن اور ہم آہنگی کے ساتھ نہیں رہتے۔ موجودہ دور میں شرعی قانون کے انتہا پسند حمایتی مغربی دنیا کو ان کے اندر پائے جانے والے اسلام کے خوف کو تقویت پہنچا کر مغرب کو خوفزدہ کر رہے ہیں –پر شکوہ اسلامو فوبی صنعت کی بدولت۔
جبکہ دوسری طرف 'اسلامی شریعت' کی نمائندگی قرآن کرتا ہے۔ مسلمانوں کے لئےیہ الہامی، غیر تغیر پذیر اور ہدایت و رہنمائی کا ایک ابدی سرچشمہ ہے۔ یہ انصاف، آزادی، مساوات، نیک اعمال، صدقہ، سخاوت اور تمام انسانیت کے لئے رحمت و محبت جیسےوسیع مثبت احکام اور ساتھ ہی ساتھ رحمت، شفقت، معافی، رواداری، اعتدال پسندی اور تمام قسم کی برائیوں اور قابل ملامت امور کی ممانعت جیسی عظیم نیکیوں کے احکام پر مشتمل ہے۔ اس کے اصول عالمی سیکولر / عیسائی اقدار سے وسیع پیمانے پر ہم آہنگ ہیں۔ نیز یہ اپنے دورِ نزول (ساتویں صدی کے عرب) کے چند وجودی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالتا ہے جو اس کے پیغام کا کوئی واضح حصہ نہیں پیش کرتا ہے، اس لیے کہ یہ واضح طور پر انسانیت کو اس کے واضح اور غیر مبہم احکامات پر توجہ مرکوز کرنے (3:7) اور ان کے بہترین معانی تلاش کرنے کا حکم دیتا ہے (39:18، 39:55)۔
چونکہ ان دونوں نظریات کی حیثیت اجتماعی طور پر مسلمانوں کے ذہنوں میں تکمیلی یا تائیدی ہے، لہٰذا، اس سے ملتی جلتی مندرجہ ذیل تفصیل کے ساتھ اس فرق کی توضیح مفید ثابت ہوسکتی ہے:
'اسلامی شرعی قانون' کا معاملے یہ ہے کہ اس سے لفظ ‘‘اسلام’’علامتی طور پر منسلک ہے جیسا کہ مقبول کھانے ‘‘عربی حلیم’’ میں لفظ ‘‘عربی’’ پہلے سے علامتی طور پر منسلک ہے۔عربی حلیم کے بنانے کا طریقہ دکان اور زمانے کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہےاور اگر وہ خراب ہو جائے تو لوگ اسے پھینک بھی سکتے ہیں۔
'اسلامی شریعت' میں لفظ 'اسلام'، 'اسلام' کی نمائندگی کرتا ہے جس کی نمائندگی قرآن کرتا ہے (5:48)۔ اس کی عبارتیں جگہ اور وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی ہیں۔ نہ تو یہ قدیم اور فرسودہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی اسے ضائع کرسکتا ہے۔
لہذا، 'اسلامی شرعی قانون' اور 'اسلامی شریعت' کے درمیان ایک واضح اور مبین فرق ہے۔
اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کہ ‘اسلامی شرعی قانون’کے بہت سے فیصلے 'اسلامی شریعت(قرآنی پیغام)' سے متصادم ہیں۔ مثلاً اسلامی شریعت سے متصادم ان احکام میں زنا کے لئے سنگساری، ارتداد اور توہین کے لئے سزائے موت، منظم غلامی، عارضی شادی، بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف والدین کی عدم جوابدہی، ایک نشست میں تین طلاق، عصمت دری کاقانون، عورتوں کو گھر سے باہر نکلنے پر پابندی، مکمل پردہ اور صنفی بنیاد پر خواتین کو علیحدہ رکھنا، غیر مسلموں کے خلاف دشمنی اور نفرت، مسلم اور غیر مسلم کے درمیان دنیا کی تقسیم، غیر مسلموں کے خلاف مسلسل جہاد، قیدی غیر مسلم خواتین کا جبراً مذہب تبدیل کرنا اور رقص اور موسیقی جیسے تمام فنون لطیفہ پر پابندی لگانا بھی شامل ہیں۔ تاریخی تناظر میں یہ دنیا کی دیگر تہذيبوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوسکتے ہیں، لیکن کلاسیکی اسلامی دور کے بعد تہذیبوں میں بڑی تبدیلی پر وہ جدید دور کی حقیقتوں کے ساتھ یکسر متصادم ہیں اور یہ مغربی دنیا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ غیر مسلموں کے لیے واقعی خوف اور تشویش کا سبب ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ سمیت مسلم اقلیتی ممالک میں آباد ہونے والی مسلمانوں کی اکثریت اپنے ممالک میں نظم و ضبط یا اخلاقی اصول کے مساوی 'اسلامی شرعی قانون' کا نفاذ نہیں چاہتے۔ وہ صرف اچھے، پرامن اور فعال شہری بننا چاہتے ہیں اور دوسروں کی طرح مناسب آمدنی، عمومی خواہشات اور تفریحِ طبع کی تکمیل چاہتے ہیں۔ علاوہ ازیں اجتماعی طور پر ان کا رجحان مذہبی مراسم و معمولات کی طرف زیادہ ہو سکتا ہے۔ وہ صرف اسلام کے ان مذہبی یا فقہی مسائل کے داؤ پیچ میں الجھے بغیر کہ جنہوں نے اس مذہب کو ایک ہزار سال سے زائد سے اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے –اپنے مذہب پر آزادی کے ساتھ عمل کرنا، دوسروں کے ساتھ امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنا اور زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
لہذا، امریکی عوام اور مسلم اقلیتی ممالک میں رہنے والے مرکزی دھارے میں شامل معاشرے کو اپنی اقلیتی مسلم آبادی کی جانب سے ‘‘اسلامی شرعی قانون’’ کے نفاذ کے کسی بھی مطالبہ سے خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ قدامت پسند مسلمانوں اور مغربی ممالک میں ہجرت کرنے والی ابتدائی نسلوں کا ایک طبقہ کسی بھی سروے میں اسلامی شرعی قانون کے لئے اپنی ترجیح ظاہر کرسکتا ہے۔ لیکن جو 'شرعی قانون ' ان کے ذہن میں ہے وہ اسلامی تہذیب کے کلاسیکی دور کی ایک یادگار ہے، جو اپنے دائرہ کار میں ایک انتہائی منظم و منضبط، منصف اور تکثیریت پسند نظام ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ اس بوڑھے انسان کی طرح ہے جو اپنی نوجوانی کے دور میں لوٹ جانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اسلام کی فقہی اسکالرشپ میں زبردست زوال اور تاریخ کی جانب انسانی تہذيب کے بڑھتے ہوئے قدم کے پیش نظر اسے کبھی بھی عملی شکل میں نہیں پیش کیا جا سکتا اور اسی وجہ سے نہ تو اس سے خوفزدہ ہونا چاہئے اور نہ ہی اس کی خواہش کی جانی چاہئے۔
پوری دنیا کے مسلمانوں اور خاص طور پر عرب دنیا کو ‘اسلامی شریعت’ اور 'اسلامی شرعی قانون' کے درمیان اس مبین و مبرہن فرق کو سمجھنا چاہیے، ورنہ وہ پھر آئندہ ایک ہزار سال تک ایک ہم آہنگ معاشرے کی تشکیل نہیں کرسکیں گے۔ مصر میں 2012 کے انتخابات میں اخوان المسلمین کے امیدوار محمد مرسی کی فتح اس مصیبت میں ایک مہلک خطرے کا ثبوت ہے۔ مصری عوام نے اس اسلامی قانون کو جس کا وعدہ مرسی کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے کیا تھا ایک ایسے ترقی پسند، روشن خیال اور آزادانہ نظام حکومت کے ساتھ ملا دیا جو مغربی جمہوریت کے متوازی ہو سکے لیکن کسی بھی غیر متوقع خطرے سے خالی ہو۔ یہ ان کی اسلامی شریعت کا تصور تھا۔ لیکن مرسی نے ان کے سامنے کلاسیکی شریعت پیش کیاجو کہ اس شریعت سے بہت دور تھی جس کے لئے عوام نے انہیں منتخب کیا تھا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
لہذا، مسلمانان عالم اور خاص طور پر اس کے رہنماؤں اور تعلیم یافتہ طبقے کو 'اسلامی شریعت' اور 'اسلامی شرعی قانون' کے درمیان اس مبین و مبرہن فرق کو واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے جیسا کہ اس مسئلے کو اس مضمون میں آسان اور اطمینان بخش انداز میں پیش کر دیا گیا ہے۔ ورنہ وہ دائمی الجھن اور افراتفری کا شکار رہیں گے اور شرعی قانون کے حامیوں کے لئے چھوٹی خلافت قائم کرنے، پوری دنیا کو دہشت زدہ کرنے اور خود اپنے ممالک کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے کا راستہ کھول دینگے۔
آخر میں راقم الحروف اسلام پسندوں اور اسلامی شرعی قانون کے ان حامیوں کو جو اسے اسلامی شریعت کے طور پر پیش کرتے ہیں –یہ مسلمہ یاد دلانا چاہتا ہے کہ "کوئی بھی ہر زمانے میں ہر انسان کو بیوقوف نہیں بنا سکتا"۔ لہٰذا، ایسا کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ سخت ناگوار اور قابل اعتراض ‘‘اسلامی شرعی قانون’’ کو اللہ اور اس کے رسول سے منسوب کر کے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ مکر کر سکیں۔ لہذا، انہیں عقل کا استعمال کرنا چاہئے، تاوقتیکہ وہ قرآن کے اس مندرجہ ذیل اعلان کو خود پر صادق کرنا چاہیں:
‘‘بیشک اللہ کے نزدیک جانداروں میں سب سے بدتر وہی بہرے، گونگے ہیں عقل کا استعمال نہیں کرتے ہیں (8:22)۔’’
یہ مضمون ذیل میں محولہ عنوان پر راقم الحروف کے ان جامع تکنیکی مضامین کا ہی ایک حصہ ہے جو پانچ سالوں سے بھی زیادہ سے نیو ایج اسلام پر شائع کئے جا رہے ہیں۔
The Classical Islamic Law (Islamic Sharia Law) is NOT a Word of God!
The Classical Islamic Sharia Law is NOT a Word of God! (Part II: The Way Forward)
----
محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔
URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-dichotomy-between-sharia-law/d/111628
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism