New Age Islam
Sun Nov 28 2021, 09:43 PM

Urdu Section ( 11 Aug 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Reflections on Social Responsibilities in Islam (Part 3) اسلام میں سماجی ذمہ داریوں پر غور و فکر

 محمد یونس، نیو ایج اسلام

1 اگست 2017

(مشترکہ مصنف (اشفاق اللہ سید)، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلکشنز، امریکہ، 2009)

اس سلسلہ وار تحریر کے حصہ -1 اور 2 میں مکی دور (622-610) میں نازل ہونے والی آیتیں پیش کی گئیں۔ اس حصے میں مدینہ دور (632-622) کی آیتیں پیش کی جار ہی ہیں، جب پیغمبر ﷺ مدینہ میں قیام پذیر ہو چکے تھے۔

"آپ سے پوچھتے ہیں کہ (اﷲ کی راہ میں) کیا خرچ کریں، فرما دیں: جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست ہے)، مگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتہ دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں، اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو بیشک اﷲ اسے خوب جاننے والا ہے"(2:215)۔

"(خدا ان سے محبت نہیں کرتا) جو لوگ (خود بھی) بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو (بھی) بخل کا حکم دیتے ہیں اور اس (نعمت) کو چھپاتے ہیں جواللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ہے، اور ہم نے کافروں کے لئے ذلت انگیز عذاب تیار کر رکھا ہے، (4:37)؛ اور جو لوگ اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یومِ آخرت پر، اور شیطان جس کا بھی ساتھی ہوگیا تو وہ برا ساتھی ہے"(4:38)۔

اس آیت میں اقربین (قربا کا مترادف) لفظ ہے اور اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جس کا ہمارے ساتھ کسی بھی طرح کا کوئی قریبی تعلق ہے اور اس میں گھریلو امدادی ملازمین، دوست اور ساتھی بھی شامل ہوں گے۔ لفظ ابن سبیل میں بے شمار بے گھر افراد اور ایسے بے گھر بار پناہ گزینوں کو شامل کیا جاسکتا ہے جن کے پاس رہنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور جو سڑکوں کے کنارے اور مختلف عوامی مقامات پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

محولہ بالا آیات پر معمولی غور و فکر تمام قارئین کے لئے فائدہ مند ہو سکتی ہے - اور خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو قرآن کی تقدیس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے احکامات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

آج ہر انسان اپنی آمدنی کی سطح سے قطع نظر اپنی معیار زندگی کو بلند کرنے کی خواہش میں بے انتہا ڈوبا ہوا ہے۔ وہ سب سے زیادہ خوش طراز مکان کرایہ پر لینا چاہتا ہے، سب سے بڑا گھر تعمیر کرنا یا خریدنا چاہتا ہے، سب سے زیادہ مہنگے فرنیچر، سبھی بنیادی ضروریات اور اضافی ضروریات کی چیزوں مثلاً، کار، اےسی، ٹی وی، موبائل، آئی فون، آئی پیڈ میں بھی تازہ ترین ماڈل اور تمام گھریلو سجاوٹی اشیاء، پینٹنگ، برتن اور مطبخ کے تمام آلات و اسباب بھی خریدنا چاہتا ہے۔ لیکن اس کے خواہشات کی انتہا یہی نہیں ہے۔ بلکہ وہ چھٹی منانے کے لئے ممکنہ حد تک دور کا سفر کرنا ، 5-7 اسٹار ہوٹلوں میں رہنا، سب سے زیادہ خاص ریستورانوں میں کھانا اور بزنس یا فرسٹ کلاس میں سفر کرنا پسند کرتا ہے۔ اور جب وہ ان تمام چیزوں کو حاصل کر لیتا ہے جو اپنے ملک میں دولت کی بنیاد پر خریدے جا سکتے ہیں، تو اس کے بعد وہ دنیا کے بڑے بڑے دارالحکومتوں میں متوازی گھر خریدنا چاہتا ہے، مثلاً، کراچی میں ایک گھر، سنگاپور میں ایک کانڈو، دبئی میں ایک بنگلہ، لندن میں ایک مینشن اور پیرس میں ایک شاطو، وغیر وغیرہ۔ اور جب وہ یہ تمام چیزیں حاصل کر لیتا ہے تو وہ طیاروں اور بحری جہازوں کو حاصل کرنا چاہتا ہے جو دولت اور عیش و عشرت میں دوسروں کو شکست دے سکے۔ قرآن ایسے لوگوں کو خبردار کرتا ہے کہ ایسے لوگوں نے شیطان کو اپنا دوست بنا لیا ہے اور وہ عذاب الہی کا شکار ہوں گے۔

اس دور میں اخراجات کے رجحان کو دیکھنے کا ایک اور طریقہ ہے۔ جو لوگ بھاری ٹیکس ادا کرتے ہیں وہ ایسے تناؤ بھرے روزگار سے وابستہ ہیں جو ان سے وقت کا مطالبہ کرتا ہے، انہیں اپنی زندگی کی توانائی اور بشاشت دوبارہ حاصل کرنے کے لئے اپنا معمول تبدیل کرنا چاہیے – اور وہ تفریح طبع اور سفر کے ذریعہ اپنی کھوئی ہوئی توانائی حاصل کر سکتے ہیں- اسلام میں ان میں سے کچھ بھی حرام نہیں ہے۔ قرآن صرف اپنی سماجی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے دولت خرچ کرنے کی مجنونانہ خواہشات سے روکتا ہے۔

 اس طرح کے لوگوں کے بارے میں قرآن کا فرمان ہے کہ یہ لوگ خدا یا آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان پر شیطان کا غلبہ ہے۔

 مسلمانوں کے لئے نصیحت: تمام دولت مند مسلمانوں کو اپنے اخراجات کا بجٹ تیار کرنا چاہئے اور پاگلوں کی طرح خرچ کر کے انہیں شیطان کے مکر کا شکار نہیں ہونا چاہیے، اور انہیں اپنی آمدنی میں اپنے معاشرے کے ان لوگوں کو بھی شامل کرنا چاہیے جو ضرورت مند ہیں، اور اس میں بزرگ والدین، قریبی رشتہ دار، یتیم، بیوہ، پرانے ملازمین اور دیگر متعلقین بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔

متعلقہ مضامین:

Reflections on Social Justice in Islam (Part-1)

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/muhammad-yunus,-new-age-islam/reflections-on-social-justice-in-islam-(part-1)/d/111869

Reflections on Social Justice in Islam (Part 2)

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/muhammad-yunus,-new-age-islam/reflections-on-social-justice-in-islam-(part-2)/d/111911

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/muhammad-yunus,-new-age-islam/reflections-on-social-responsibilities-in-islam-–-part-3/d/112046

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/reflections-social-responsibilities-islam-part-3/d/112178

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..