New Age Islam
Sat Oct 24 2020, 01:41 PM

Urdu Section ( 2 Apr 2012, NewAgeIslam.Com)

Quranic view on Jihad and Greater Jihad جہاد اور عظیم جہاد پر قرآنی نقطہ نظر: عالمی مسلم کمیونٹی کے لئے مصیبت کا اشارہ

 

محمد یونس، نیو ایج اسلام  

محمد یونس، مشترکہ مصنف (اشفاق اللہ سید کے ساتھ)، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے 2009

(انگریزی سے ترجمہ‑ مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ایسے دور میں جب کہ  علاما ت اور رسوم پرستی جمود و تعطل کا شکار ہے مسلمان بڑی حسرت  کے ساتھ عسکری جہاد کے ذریعے دنیا پر غلبہ حاصل  کرنےکے پر فریب  اور عجیب خواب دیکھ رہے ہیں ،  جسکی وجہ سے ان کا وجود  دنیا کی  تہذیب و تمدن کے کیلئے نامناسب ہو گیا ہے ،لہٰذا جہاد عظیم کی روح رواں  کی دوبارہ احیا کے لئے   فوراً ان کے مذہبی افکارو نظریا ت میں  ایک عظیم ،مثالی تبدیلی وقت  کی اہم ضرورت ہے۔

جیسا کہ مشہور ہے  ، کہ کسی بھی زبان میں لفظ کی دلالت اس با ت کی ذمہ دار ہے کہ  لوگونے  اور علماءکرام نے اسی لفظ کا استعمال مختلف حالات میں مختلف  طریقےسے کیا ہے۔ اسی طرح انگریزی کا لفظ 'پرزینٹ'ہے  جس  طرح  اسکا مطلب کسی مقررہ  وقت پر جسمانی  طور پر موجودہونا ہے ، اسکا معنیٰ  تحفہ پیش کرنا ، یا  کسی چیز اظہار کرنا بھی ہو سکتا ہے ،اسی طرح  کسی کو متعارف کرانا یاسند  پیش کرنا بھی ہو سکتا ہے،لہٰذا جہاد کا مطلب بھی مصیبت میں ، مسلح  جنگ کے خلاف یا  ایک قبضہ کرنے والی  قوت کے خلاف  اپنے وجود کی بقاء اورآزادی وغیرہ کے لئے جدوجہد ہو سکتا ہے  ۔ اسی طرح یہ تشریح جہاد سمیت قرآن کے متعدد الفاظ کے لئے بھی  سہی ہو سکتی ہے۔

 اگرچہ مختلف زبانوںمیں قرآنی الفاظ کا  ترجمہ ،ترجمہ  نگاروں  یا ترجمانوں کے الفاظ ،ان کے علم وآگہی اور  رجحان  کےزیر اثر ہوتاہے، لہٰذا قرآن سمجھنے  کاسب سے قابل اعتماد طریقہ قرآن میں دیئے گئے الفاظ کے ذخیرے سے سمجھنا ہے‑ یعنی  آیت میں دیئے گئے لفظ سے در حقیقت قرآن کی مراد کیا ہے ،اس کے لئے پورے قرآن کا بغور مطالعہ کرنا ہوگا اوراس بات پر غور کرنا ہو گا  متن  قرآن میں اس لفظ کا کہاں کہاں یکساں سیاق و سباق میں استعمال کیا گیا ہے تب  ہماری رسائی  اس معنی تک  ہو گی جو موضوع  کے مناسب اور منطقی اعتبار  سے  درست ہے ۔ درج ذیل میں اسی ہی ایک کوشش کی گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتاہےکہ  قرآن  میں لفظ جہاداور اس جیسے دوسرے مادّوں کا استعمال اس کے ایسے دوسرے معانی  کے لئے  کیا گیا ہے  جس کا مفہوم جائز  مقاصد کے حصول کے لئے جہد مسلسل ہے ، جیسا کہ علامہ اقبال نے لکھا ہےکہ "جہاد زندگی میں صورت فولاد پیدا کر ":یعنی زندگی کی جد و جہد میں فولاد کی طرح استقلال پیدا کر :  اس طرح ذاتی سطح پر  جہاد کا مطلب، صبر و تحمل اور عزم  محکم کے ساتھ زندگی کی مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کرنا یا جائز  مقاصد کے حصول میں جہد مسلسل ہے۔ جہاد کا مطلب طبقاتی سطح پر وہ جد وجہد ہے  جو وقت کی سماجی، اخلاقی، مادّی، عقلی اور روحانی محرومیوں پر قابو پانےکے لئے کی جائے ، اور اس جدو جہد میں حملہ کرنے یا قبضہ کرنے والی فوج کے خلاف مسلح جدوجہد بھی شامل ہو سکتی ہے۔ ساتھ ساتھ ہم جہاد کےوسیع تصور کا  جائزہ نزول وحی اور مکہ اور مدینہ کے ادوار  میں سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں لیں گے۔

 1.1 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں کا مکہ مکرمہ میں جہاد

مکّی ادوار  میں جب مسلمانوں کی  تعداد مختصر تھی  اور وہ اپنے دفاع کی  حالت میں نہیں تھے، اس وقت قرآن جہادکا  مفہوم 'غیر متشدد جدوجہد' کو  بتاتا ہے (25:52، 29:6 29:69) اور اس کے ساتھ ہی  ان پر اخلاقی دبائو ڈالنے کو بتاتا ہے ، مثلاً، والدین کا  بچوں پراخلاقی  'دباؤ' (29:8، 31:15) ڈالنا ۔

تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس قرآن کے حکم کے مطابق بڑے شدومد سے لڑو (25:52)۔

"اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے۔ اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے"(29:6)۔

"اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ ( اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت کی تجھے واقفیت نہیں۔ تو ان کا کہنا نہ مانیو۔ تم( سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو جتا دوں گا"(29:8) ۔

"اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم اُن کو ضرور اپنے رستے دکھا دیں گے۔ اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے"(29:69)

اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا..." (31:15)

 1.2 مدینے کے  مسلمانوں کا جہاد

مدنی دور میں بڑھتے ہوے مسلم طبقے کوجب مکّہ کے طاقتور  ملحد  دشمنوں نے بار بار اپنے حملوں کی زد میں لیا،  اور مسلمانوں کے پاس اپنے دفاع کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا،اس وقت قرآن  نے ان کو اپنے مال اور جان کے ذریعہ  جدو جہد کرنے کا حکم دیا (8:72، 49:15، 61:11)‑ ہتھیار اٹھانے کا حکم  دینے والی عام آیتیں ۔ اور یہ بات ظاہر ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی  امت کے   امیر افراد  کوفوج   کے پیچھے رہنے کو ترجیح دی (9:86)۔

"جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں...” (8:72)

"اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ ہو کر لڑائی کرو تو جو ان میں دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجیئے کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی ان کے ساتھ رہیں"(9:86) ۔

"مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے۔ یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں" (49:15)۔

"اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت بتا دوں جو تم کو دردناک عذاب سے بچا لے؟(61:10)

(وہ یہ کہ) خدا پر اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے"(61:11)

مکّی آیتوں  کی طرح یہ آیتیں  بھی  کسی طرح کے تشدد کی وضاحت نہیں کر تیں ۔ اگر  کسی طرح کے  اقدام کا مطلب صرف مسلح جنگ ہوتا تو قرآن نے حرب (جنگ)، صراع (جنگ)،  معرکہ (جنگ) یاقتال (قتل) جیسے الفاظ کا استعمال کیا ہوتا لیکن قرآن نے اسکی  جگہ سب سےزیادہ  نرم اوراتنےوسیع اصطلاح کا انتخاب کیا جس کا  مفہوم عالمگیر  ہے  یہاں تک کہ اس  میں وہ کم تر اور نا زیبا ،جسمانی مشقت  کا مفہوم بھی شامل ہے  جسے ذریعہ  معاش بنایا جا ئے  (9:79) نیز سماجی اور اخلاقی اصلاحات کے لئے جہد مسلسل (22:78) اور   طبقے کی ترقی  کا مفہوم بھی شامل ہے  ،  اورجہاد خدا کی راہ میں شروع کیا گیا (2:218، 5:35)۔

جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی خدا کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور خدا بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے" (2:218 )

اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ" (5:35)

"جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور جو (بےچارے غریب صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے (اور تھوڑی سی کمائی میں سے خرچ بھی کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ خدا ان پر ہنستا ہے اور ان کے لیے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے"(9:79) ۔

 "اور خدا (کی راہ) میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور تم پر دین کی (کسی بات) میں تنگی نہیں کی۔ (اور تمہارے لئے) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (پسند کیا) اُسی نے پہلے (یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی (وہی نام رکھا ہے تو جہاد کرو) تاکہ پیغمبر تمہارے بارے میں شاہد ہوں۔ اور تم لوگوں کے مقابلے میں شاہد …..  "(22:78)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے  امتیوں سے ایک فوجی مہم سے واپس لوٹنے کے بعد جہاد کے وسیع تصور کو واضح کرتے ہوئے  فرمایا، "آج ہم معمولی جہاد سے  بڑے جہاد کے لئے واپس آ گئے ہیں۔" اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ، "اس کا مطلب  مسلح جنگ سےپر امن جنگ کی طرف خود پر قابو پانے اور بہتری کے لئے پر واپس جانا ہے" یعنی اس سے مراد  دانشمندی اور روحانیت کا احیا ئے  نو اور سماجی اور اخلاقی برائیوں کا  خاتمہ ہے۔

خالص جنگی  سرگرمیاں  جہاد کا مسخ شدہ تصور

درج بالا میں مذکور جہاد کے متعلق  مدنی آیات کا  جائزہ  لینے پر  جہاد کے مسلح جدو جہد کے تصور کو قبول کیا جا سکتا  ہے (9:86)، تاریخی اعتبار  سے کسی حملہ آ ور یا قابض فوج کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے جواز کو جہاد کے وسیع تر دائرے کے طور پر  پیش کیا گیا ہے ،اور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، مکّی مدت میں قرآن کے عدم تشدد اور عظیم تر جہاد (جہاد کبیرہ) سے مدنی زمانے کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں ایک دفاعی اور منظم  جہاد میں تبدیل  جنگی جہاد کا اعلان مسلم  طبقے کے قانونی رہنما کے ذریعہ کیا جانا چاہئے ، موجودہ دور  میں اس کا اعلان  کسی  ملک کا سربراہ یا طبقے کا منتخب رہنما ں ہی کر سکتا ہے  نہ  کہ کسی بھی دہشت گرد گروپ کا نام نہاد لیڈریا کسی بڑی جماعت سے منقطع  ہو کر بنے چھوٹے گروپ کے لیڈر ۔ اس طرح قرآنی نقطہ نظر سے دہشت گردی اور  خود کش حملے کو'جہاد'جیساعظیم لقب دینا غلط ہوگا‑ اور اس طرح کا  حملہ کسی گروپ کے ذریعہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ہویا قانونی ہو۔

1.3 جہاد کبیرہ کا رول اور اسکی پژمردگی

قرآن ایسے زمانے میں نازل ہوا جب  آزادی، انصاف اور حقوق کے آفاقی تصور کی تدوین اور ترتیب ابھی باقی تھی۔  اس زمانے میں عوام  الناس پر حکمران، جاگیردار، قبیلے کے  سردار، اور پجاری بے تحاشہ طاقت کا استعمال کرتے تھے، خواتین کے ساتھ ان کا  برتاؤ صرف جنسی اشیاء اور مردوں (والد، بھائی یا شوہر)کی ملکیت کی طرح تھا۔ اور انہیں کسی بھی طرح کےقانونی حقوق حاصل نہیں تھے[1]، بیمار اور بھکاریوں کو خدا کی ملعون  مخلوق سمجھ کر  معاشرے سے باہر کر دیا  جاتا تھا، دولت کا اشتراک یا تقسیم کے  کسی تصور کے بغیر غریبوں کو بیچ کر امیر دولت جمع کر رہے تھے، غلاموں پر ان کے مالکان کے ذریعہ مظالم ڈھائے جارہے تھے، اور وہ تا حیات  غلام ہی  رہتے تھے۔ یہ اس زمانے کی کچھ سماجی برائیاں تھیں۔ اسلام نے حکمراں طبقے کی طاقت کو سلب کر  لیا، مظلوم طبقے کو اختیارات  عطا کیا  ، اور معاشرے کی اہم برائیوں پر قدو غن لگایا ، یہ تمام  اقدامات  جہاد کبیرہ کے تحت اٹھائے  گئے تھے ۔ اس طرح اسلام کا ابتدائی معاشرہ انصاف، مساوات، رحم دلی، رواداری، اور روشن خیالی کا آئینہ دار ہے ،  جس  نے مختلف مذاہب  کے ماننے والوں کو اپنی طرف  مرعوب  کیا ، اس طرح اسلام کی ترویج و اشاعت   ہوئی اور اسلامی تہذیب  خوب پھلی پھولی۔ حالآنکہ  قرآنی احکامات اس  زمانے کے معیار کے بالکل  مخالف تھے۔ جوکہ  دور حاضر کے اعتبار انتہائی متشدد تھے۔  لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (632) کے بعد جلد ہی  ارتدادی عناصر حرکت  میں آ گئے ، جیسا کہ ایسی تحریکوں کے ساتھ اکثر  ہوتا ہے۔ آئندہ  تیس سالوں میں ہی منتخب خلافت خاندانی حکمرانی (662) میں بدل  گئی۔ خاندانی حکمرانوں (بنو امیہ 663-750) ، (عباسی 750-1258) نے  قدیم پدرانہ اقداروروایت  کو متعارف کرایا اور اصلاح معاشرہ  کے متعلق قرآنی احکامات کو بالائے طاق  رکھ دیا  جس کے نتیجے میں معاشرتی  اور اخلاقی برائیاں پیدا ہوئیں۔ تاتاریوں کے ہاتھ میں اقتدار منتقل ہونے پر تنزلی نے اور رفتار پکڑلی۔  [2] ان لوگوں نے اسلامی نظریے کے مطابق فرمان الہی  کی غلط تعبیرو تشریح کی تاکہ انسانی مرضی کو ناکام کر سکیں اور جدوجہد کے ہروہ  عمل اور  اصول کو جو ان کے  مذہب کے خلاف ہو اور مذہبی  احکامات  کی تردید کرنے ولا ہو اس دور  کا قانون بن گیا اور بغیر کسی تردد کے اسے قبول کر لیا گیا[3]۔اس طرح وقت کے ساتھ ساتھ جہاد عظیم کی روح مٹ گئی  اور اسلام کو عبادات کی اسلامی رسوم،  روزے اور حج کے ساتھ کچھ ایسے اقوال میں تبدیل کر دیا ، جو تمثیلی تشریح  کی وجہ سے  گمراہ ہو گئے تھے، [4]۔

ایسا طویل تاریخ مدت میں ہوا، جس کے متعلق  کسی  بھی طرح کی  گفتگو  قارئین پر دبائو ڈالے گی اور موضوع سے بھٹکنے کا سبب بنے گی ۔ لہذادورحاضر  میں لمبی چھلانگ لگاتے ہوئے، ہر انسان  کو گلے لگانے والے جہاد کبیرہ کا تصور صرف اسلامی رسومات[4]  پر زور دینےکی وجہ   سے وقت کے ساتھ مکمل طور پر گہن کا شکار ہو گیا ،جس میں صرف   غیر اسلامی مسائل جیسے داڑھی، برقعہ، مخصوص انداز کا لباس اور عرب پرستی پر توجہ دیا  گیا  ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہو اکہ  اسلام جیسے  ایک عالمگیر مذہب جس نے تاریخ انسانیت میں عظیم سماجی اور دانشورانہ نقلاب پیدا کیا وہ ایک مسلک میں مسلسل تبدیل  ہو گیا ،جو محض ایسے رسومات اور علامات کے ایک مجموعے پر توجہ دیتا ہے، جو اقوام عالم اور تہذیبوں کے درمیان نا مناسب ہے، اورجو جہاد عظیم کے اصولوں  پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں ( یقیناً نادانستہ طور پر): یعنی ذاتی سطح پر کارکردگی میں سر بلندی کے لئے جہدمسلسل ،، علم میں ترقی، سائنس ، ٹیکنالوجی، طب، زراعت اور مواصلات کے شعبے میں نئی تحقیق کے ذریعہ زندگی کے معیار کو بہتر بنانے، اور اجتماعی  طور  پر عام شہریوں کی جسمانی ضروریات، عالمی مسائل جیسے موسم کی  تبدیلی اور سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح وغیرہ سے نمٹنے کے لئے تیار رہنا ۔

سرطان کی مانند  زور پکڑنے  والے سیاست زدہ،فرسودہ اور مکمل خشک،سلفی اسلام  نے جو عالمی پیمانے پر بنیاد پرستی کو فروغ دے رہا ہے اور دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے شاید اس نے عظیم جہاد کے تصور کی موت کے بعد اس کی تابوت میں آخری کیل  گاڑ دیا ، جو اب اہل مغرب کے لئے عظیم خطرہ اور مسلمانوں کی اکثریت اور اقلیت والی آبادی والے  ممالک سمیت باقی دنیا کے لئے ایک بڑی  لعنت بن گیا ہے ۔

اسلام میں موجودہ اس نقصاندہ روش کی وجہ سے  مسلمانوں کے لئے جہاد عظیم کی روح کو بحال کرنا  کسی دوسرے کام کےبہ نسبت زیادہ اہم ہے ، جس میں  ناکام  ہو نے کی صورت میں مسلمانوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ،جس کی پیشن گوئی  ابھی یہاں کرنا مشکل ہے۔

نتیجہ: اقلیتی مسلم طبقے کی حالت اکثر  غیر مسلم یا سیکولر ممالک میں بہت سے معاملوں میں دور نبوت کے مکّہ کے مسلمانوں جیسی ہی ہے۔ اگرچہ ضروری نہیں ہے کہ وہ سیکولر دنیا کے شہری ہونے کی وجہ سے حکو متی  سطح پر جسمانی  زیادتی اور مظلومیت کے شکار ہوں، اثاثہ کی ملکیت، تعلیمی کارکردگی، اور انتظامیہ میں نمائندگی، سول سروسز، مسلح افواج، پیشہ وارا نہ نوکریوں میں، کارپوریٹ اور  کاروباری دنیا کے اعلی عہدوں ،آرٹ اور کھیلوں کے میدان  کے  حقیقی اعداد و شمار ان کی محرومیت کی  حقیقت واضح کرتے ہیں۔ سماجی، تعلیمی اور ثقافتی شعبے میں انتہائی پست کارکردگی اور عسکریت پسند جہاد کی آمد اور بنیاد پرستی کی سرطان کے ارتقاء نے مسلمانوں کے عالمی امن، خوشحالی اور  فلاح و بہبود پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس  طرز عمل کی مزاحمت کی جانی چاہئے اور جہاد عظیم کی روح  بحال کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ اور  قرآن کے اختتامی آیات  کے مطابق ، اعمال صالحہ،  مثالی کردار ،اور عالمی برادری کے ساتھ مثبت مقابلوں کی تمام صورتوں  کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے (,5:4849:13) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکّہ کے لوگوں کو قران کی سماجی اور اخلاقی مثالوں کی وسیع اطاعت کےبارے  میں جو ہدایت کی گئی تھی (اوپر 25:52)۔

 "لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے"(49:13)۔ [اتقیٰ لفظ تقوی سے بنا ہے جوبری خواہشات سے بچتے ہو ئے عمل اور کردار  میں سربلندی اور اپنی  سماجی، اخلاقی ذمہ داریوں  پر توجہ دینے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

"... ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ شریعت اور کشادہ راہِ عمل بنائی ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تم سب کو (ایک شریعت پر متفق) ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں ان (الگ الگ احکام) میں آزمانا چاہتا ہے جو اس نے تمہیں (تمہارے حسبِ حال) دیئے ہیں، سو تم نیکیوں میں جلدی کرو۔ اﷲ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان (سب باتوں میں حق و باطل) سے آگاہ فرمادے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے"(5:48)

نوٹس

رومن قانون خواتین کو  اس کے شوہر کی ملکیت تصور رکرتا ہے اور جو سخت حالات میں ان پر زندگی اور موت کے حق کا استعمال  کرتا ہے۔

چالیس سال (1220-1258) کی مدت کے دوران، منگول فوج منگولیا سے مغرب کی جانب  بڑھے اور  اسلامی تہذیب کے مختلف مقامات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جو اسلامی خلافت کے مشرقی علاقوں اور ایشیاء کے مرکزی میدانی علاقے میں سر سبزو شاداب  تھے ۔ ہلاکوخان (1258) کے سامنے خلافت کے دارالحکومت بغداد کے ذریعہ ہتھیار ڈالنے کے بعدمنگولوں نے فتح کئے گئے تقریبا تمام اسلامی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ تاہم طویل عرصے قبل انہوں نے اسلام قبول  کر لیا جو تاتار کے طور پر جانے گئے۔ ایمان نے ان پر  پر امن کامیابی حاصل کی جسے اس کے فوجیوں نے جنگ میں کھو دیا تھا۔

محمد عبدوح کی طرف سے اقتباس، محمد حسین ہیکل کی کتاب' دی لائف آف محمد' سے ماحصل، انگریزی ترجمہ محمد اسماعیل راگی کے ذریعہ، 8 واں ایڈیشن،کراچی 1989 ء، صفحہ 584 ۔

حوالہ کوٹیشن فرام محمدعبدوح، صفحہ 585۔

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔

 

URL for English article:

http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/the-qur’anic-perspective-on-jihad-and-greater-jihad--sos-to-global-muslim-community/d/6855

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/quranic-view-on-jihad-and-greater-jihad--جہاد-اور-عظیم-جہاد-پر-قرآنی-نقطہ-نظر--عالمی-مسلم-کمیونٹی-کے-لئے-مصیبت-کا-اشارہ/d/6983

 

Loading..

Loading..