New Age Islam
Wed Jan 19 2022, 11:35 PM

Urdu Section ( 21 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Use and Misuse of Freedom of Expression on This Islamic Website (New Age Islam) اسلامی ویب سائٹ (نیو ایج اسلام) پر اظہار رائے کی آزادی کا صحیح اور غلط استعمال ، اور ایک واضح ایجنڈا کی ضرورت

 

محمد یونس، نیو ایج اسلام

( انگریزی سے ترجمہ ۔ نیو ایج اسلام)

مشترکہ مصنف (اشفاق اللہ سید)، Essential Message of Islam, Amana Publications, USA, 2009

‘‘تقریر کی آزادی ’’ کا آفاقی  تصور ،مظلوم کا  ظالم کے خلاف آواز اٹھانے کا حق دیتا ہے  ، بادشاہ کو مورد الزام ٹھہرانے کا حق دیتا ہے  ، کسی مکتبہ فکر کے ماننے والے   (فرقے، مذہب، سیاست وغیرہ) کو اس کے مخالفین پرتنقید اور سوال وغیرہ کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ اس کا مقصد ،انسانی ذہن کو   نئے خیالات کے لئے  کھولنا ہے ، تازہ خیالات کی جستجو  کی اجازت دیتا ہے ، نئے افق کی تلاش ، اور نئی بلندیوں تک اٹھنے کے ذرائع فراہم کرتا ہے  ۔ لیکن اگر تقریر کی آزادی ایک کا استعمال منصوبہ بند طریقے سے دوسروں  کے خداؤں کی توہین اور II) لوگوں کی ایک جماعت کو برا بھلا کہنے کے لئےکیا جائے  ، ایک ویب سائٹ جو کہ اسلام کے عنوان سے  منسلک ہے، اسے ایسی چیزوں کو جگہ نہیں دینی چاہئے ،اس لئے کہ قرآن ، جو اسلام میں تمام معاملات میں سب سے زیادہ با اختیار ہے ،مندرجہ بالا رویوں میں سے کسی کی اجازت نہیں دیتا ہے (6:108، 49:11) ۔

اس کے علاوہ، اگر اس کا استعمال دوسروں کے مذہب کو بدنام کرنے اور  حریف جماعت کے لوگوں کا مذاق بنانے کے لئے کیا گیا تو یہ ناقص  بات چیت کا دروازہ کھول سکتا ہے  ، جو  لوگوں کے درمیان عداوت کا باعث ہوگا ، برائی کی بیج بوئے گا  ،اور اس ویب سائٹ کو  سرکش بات چیت کے ایک فورم میں تبدیل کر سکتا ہے  ۔ ہم کسی کو  تکلیف پہنچانے کے مطلب کے بغیر ، اس نقطہ نظر  کی وضاحت کے لئے کچھ تازہ مثالوں پر  توجہ دیتے ہیں ۔

کیس 1: ایک مضمون میں جس کا عنوان ‘اے ملاؤں تم پر  لعنت ہو ’ ہے  ، کے تحت ، اردو شاعری سے مندرجہ ذیل تضمین نقل کر  کے ، بے حیائی کے ساتھ  تمام ملا برادری کا مذاق بنایا گیا ہے ۔

"اے ملا: تمہارا پیٹ ایک دخانی جہاز  کی طرح ہے،

تمہاری گردن ایک گینڈا کے مشابہ ہے۔

او ملا:

تمہارے لباس اور داڑھی سے خوشبو آتی ہے 

لیکن تمہارے  جسم سے جانور کے شیڈ کی طرح بد بو  آتی ہے ۔

او ملا:

تم دھوکااور فریب دہی  میں ملوث ہو ،

اب اپنے حیرت انگیز طریقے کی ستائش کرنا  بند کرو۔

او ملا:

ہم ، یقیناً تمہارے راستے کے قابل نہیں ہیں،

آگے بڑھو ، ہمیں اپنی کمیونٹی سے خارج کرو

او ملا:

تم اپنے کندھوں پر  دین داری کے ساتھ قرآن لاتے ہو ،

لیکن تمہارا  دل جانوروں کی گندگی  سے بھرا ہوا ہے۔

او ملا:

ہمیں ،تمہاری ، آسمانی حوروں  (کنواریوں) کی ضرورت نہیں ہے،

ہمارے لئے ہمارے وطن ہی ،سب سے زیادہ انوکھی جنت ہے۔

تاریخ کے ایک لمحے میں، جب مغرب میں مسلمانوں کو تہذیبی طور پر  کمتر درجہ دیا جاتا تھا، اور مسلم تارکین وطن کو  اور جوہری ہتھیار سے لیس ،مسلم زمین کو نکالنے کے لئے لفظ ہوا میں ہیں ، اور  کہیں  اور ،یوروپ میں  مسلمانوں  پر سفاکانہ فاتح کا لیبل لگایا جا رہا ہے اور  انہیں تہذیبی طور پر  کمترسمجھا جا رہاہے ۔ اندرونی سطح پر ان کی فرقہ وارانہ تقسیم ،زور ڈال رہی ہے اور بڑھتے ہوئے تشدد  ، حلال سرگرمیوں میں کامیابی انتہائی کم ہے ، مصائب اور محرومی وسیع پیمانے پر ہے ،اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں (خواتین پر ظلم ، اقلیتوں کے خلاف تعصب، جبری تبدیلی ،وغیرہ ) عالمی برادری کے لئے  خطرے کی گھنٹی ہیں - مصنف نے اس تضمین کو نرالا پایا  ،اور ان لوگوں کی دانشورانہ تذلیل  کا  ایک واضح اشارہ جنہیں  معاشرہ دانشور ممتاز سمجھتا ہے  ۔ وہ تضمین ،  اگر مغربی اسلام مخالف ویب سائٹ پر نقل کئے جاتے ، تو اسے  ، ان کے ،پوری مسلم کمیونٹی کی  شبیہ بگاڑنے کے جواز کے طور پر دیکھا جاتا، مصنف نے ، ایک امن پسند انسان ہونے کی حیثیت سے  ، مضمون کے مصنف سے ،یہ کہا تھا کہ وہ  ایڈیٹر سے اسے ہٹا  لینے کے لئے کہیں ، لیکن یہ ابھی تک یہاں ہے ۔

۔ مصنف کو Percy B. Shelly کے مشہور رباعی کے چوتھے بند (نمایا الفاظ میں) کو ان میں شامل کر کے جواب دیا گیا: -

"ہم یہاں یہاں وہاں  دیکھتے رہتے ہیں – جو چیز نہیں ہے ہم اس کی  خواہش کرتے ہیں ۔

ہماری مخلص ہنسی - کچھ درد کے ساتھ بھری ہوئی ہے

ہمارے مدھر نغمے وہ ہیں – جو ہمارے دکھی فکر کو  بتا تے ہیں -

"ہمارے پسندیدہ موضوعات وہ ہیں - جو مذہبی خیالات کو زہر دیتے ہیں  "

اس تضمین کے دفاع میں ایک مبصر آتا ہے  اور لکھتا ہے:

اللہ تعالی قرآن کریم میں لوگوں کو حیوان ، سور، بندر، گدھا، اندھا، گونگا اور بہرا  بتاتا ہے ۔

اگر آپ ڈھکی چھپی زبان میں کہہ رہے ہیں تو  کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے ۔ یہ مجھے پہلے ہی اندیشہ تھا

مبصر نے ایک تیر سے دو پرندوں کو ہلاک کر دیا: ملا کی ہجو  اور قرآن کا مذاق بنایا ۔ ایک مسلمان کی حیثیت - حق پر ایک گواہ (2:143) جو اچھا ہے اس کا حکم دینے والا  اور برائی سے روکنے والا ، مصنف نے ایک تضمین  کا جوب  تیار کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اسے نہیں بھیجا  (ذیل میں مذکور ،افتتاحی مصرع کے علاوہ) اس لئے  کہ  قرآن نے بھی برائی کا  بدلہ اچھائی سے دینے  کا حکم دیا ہے ۔

"ہنستے ہو ملاؤں پہ ، پر تمیز نہیں کر سکتے  بیویوں ،ماؤں اور بہنوں میں،

پیتے  ہو شراب صبح تلک اور بھول جاتے ہو کس سے کیا رشتہ ہے "

 [یہ ساحر لدھیانوی کےمقبول شاعرانہ تخیل سے مستعار ہے  - یہاں پیر بھی آچکے  ہیں جوان بھی – تن و مند  بیتے بھی  ۔۔۔۔۔]

مصنف ، ایک انسان ہونے کی حیثیت سے  انتہائی پستی میں جا سکتا ہے ، اور اوپر شاعرانہ شطرنج کی چال میں ، بے ذائقہ سطروں کا ضافہ کر سکتا ہے ، ہو سکتا ہے  وہ کتنا ہی خام ہو ۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ  مزیدقدم  بڑھا  سکے، اسی ساتھی کی جانب سے  تبصرے کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا اور مصنف اس کہاوت کی مانند رہ جائیگا - 'تقریر چاندی ہے لیکن خاموشی سونا ہے۔'

 کیس 2: ممکنہ طور پر ایک نیک نیت غیر مسلم تبصرہ نگار  یہ  جاننا چاہے کہ  کس طرح پوپ ایک مسجد کی تعمیر کی اجازت دے سکتا  ہے جب کہ قرانی آیت 5:51مسلمانوں کو  عیسائیوں سے  دوستی نہیں کرنے کو کہتی ہے  اور یہودی قلم زد  نہیں کئے گئے ہیں۔ ایک اچھے انداز میں ایک حقیقی سوال پوچھاسکتا ہے ۔ ایک مسلمان نام کا  (کیس1) و ہی ساتھی ،صریح جھوٹ میں آسانی سے اس بات کی تصدیق کرتا ہے  کہ آیت 5:51 قرآنی پیغام کی روح کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ غیر مسلموں کو  قرآن اور اسلامی عقیدہ کا ایک انتہائی منفی تاثر دیتا ہے، جن میں سے اکثر پہلے سے ہی مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ مصنف نے اسے [The Qur’an’s regard for the People of the Book (Christians and Jews) and the believing humanity– a living testimony] ‘اہل کتاب (یہودی اور عیسائی) اور مومن انسانیت کے لئے  قرآن کی توجہ  -ایک زندہ گواہی ’نامی ایک مضمون میں اس کی تشریح کی ہے

 کیس 3: حال ہی میں ایک تعلیم  یافتہ  اور نیک نیت  تبصرہ نگار نے  ہندو مقامات  (کاشی، متھرا ) کے انہدام اور ان کی جگہ مساجد کی تعمیر کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک عالمانہ تبصرہ لکھا ہے – بلا حجت ، یہ  واضح طور پر قران مخالف کارنامہ  ہے ،اس لئے کہ  قرآن نے  صاف اور واضح طور ہر اعلان کیاہے کہ خدا کا نور تمام خالص عبادت گاہوں میں ہے  (24:36) اور خانقاہوں، گرجا گھروں، یہودی عبادت گاہوں اور مساجد  میں اس کا نام پکارا جاتا  ہے(22:40) ۔ وہ اس بات پر غور و فکر کر رہے ہیں کہ  کیوں کسی  مسلمان نے اس پر اعتراض نہیں کیا اور متعصب  بادشاہ کے ان کے خوف سے اسے منسوب کرتے ہیں ۔

تاہم ، مسلم قارئین کو  ہدایت دادہ ،ور اوپر مذکور  مضمون (واضح لفظوں میں ) کے تحت پوسٹ کیا  ہوا، اس کا منشاء مسلم مبصرین کے ذریعہ  ایک تبصرہ تلاش کرنا ہے ۔ تو یہ مصنف 'دفاع' کے طور پر کام کر رہا ہے ، وکیل مسلمان آمروں ( صدام حسین، ٹکا خان) کی حالیہ مثالیں پیش کرتا ہے ، جو مسلم زمین(ایران، کویت) پر حملہ اور اسے تباہ کرتے ہیں  ، بے رحمی کے ساتھ  اپنے ہی لوگوں (کردوں)کو زہر دے رہے ہیں اور انہیں  ہلاک کر رہے ہیں ،اور دہشت گردی کی حکومت کو آزاد چھوڑ رہے ہیں  (اس وقت کا  مشرقی پاکستان)۔ توجہ دہلی میں ،(1739) میں ہوئے  سب سے زادہ خونریز قتل عام کی طرف بھی   کی گئی تھی جس میں مسلمان سپاہیوں کے ذریعہ 000 ،30-000  ،20 مرد، عورت اور بچے  چھ سے سات گھنٹے کے وقت میں  ہلاک کئے  گئے تھے ۔ ا س مصنف کو ذی عقل سوال کرنے والوں کو سمجھا نا ہوگا ، وہ پہلے سے ہی کیا جانتے تھے، اس بات کا یقین ہے کہ دنیا کے ظالم و جابر اور دنیا کے رہنماؤں کے فوجی اقدامات ان کی انا ، تعریف ، شہرت ،تجارتی، سیاسی مفادات وغیرہ کے جذبہ کے تحت مسلط کردہ ہیں ۔ لہذا موجودہ دور کےمسلمان ، تمام مسلمان حملہ آوروں  کی حیوانیت  کا جواب کس طرح پیش کر سکتے ہیں؟ کیا فاضل تبصرہ  نگا ر کی طرح انتہائی سوجھ بوجھ کا حامل کوئی شخص آج کسی   امریکی سے پوچھ سکتا ہے کہ  انہوں نے ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹم بم کیوں  گرایا تھا ؟ کیا آج کوئی  بھی سمجھدار انسان جرمنی سے پوچھ سکتا ہے کہ  کیوں ہٹلر نے لاکھوں یہودیوں کو  ہلاک کر دیا ؟

دوسرے مثالی معاملات:

معاملات -A: بار ہا فرقہ واریت کے حامل علماء کرام اسلام کو طالبانیت  ،اور دیگر دہشت گرد تنظیموں (مثال کے طور پر ،بوکو  حرام ) کے ساتھ مخلوط کر رہے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کی تصویر کشی ان کے نظریات کے  دقیانوسی تصورات کے ساتھ ، اور ان ہیبت ناک جرائم کے ساتھ کر رہے ہیں جن کا ارتکاب مسلم مجرموں کی طرف سے کیا جا رہا ہے  ۔یہ اجتماعی مسخ کی کوشش  کے علاوہ  کچھ بھی نہیں ہے ، جیسا کہ قبائلی دور میں قبیلے کے  ایک فرد  کی طرف سے کئے گئے جرم کے لئے پورے قبیلے کو ذمہ دار ٹھہرایا جا تا تھا – لیکن وہ تاریخ کے، تقریبا زمانے کی ایک صدی پیچھے چھوٹ گئے  ہیں۔ یہ آج کے مسلمانوں میں  ،اس اصول کو نافذ کرنے کے لئے صرف مضحکہ خیز اور نا معقول اشتعال ہے۔

ایک مسلمان جو دوسرے مذاہب کی عزت واحترام کے قرآنی حکم سے واقف  نہیں ہے بالکل اسی لہجے میں جواب دے  سکتا ہے ، اس لئے کہ  تمام مذاہب کی مذہبی تاریخ میں بوسیدہ  کنکال اور خون آلودہ واقعات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ حال ہی میں ایک ‘ دفاعی مبصر’ نے برائی کاموازنہ برئی کے ساتھ کیا  ،اور اس ویب سائٹ کو ہندو اور مسلم مذہبی  کمیونٹیز کی نمائندگی کرنے والے مبصرین کی  ایک چھوٹی سی ٹیم کے درمیان میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔

معاملات  B: ایک مسلم نام (اوپر کے کیس 1 اور 2) اور اسکالر شپ کے ساتھ  ساتھی ،اسلام کو ان تمام کمزور احادیث کے ساتھ مخصوص  کرتا ہے  جس کا حوالہ دینے سے  مسلمانوں کو  روک دیا گیا ہے : وہ جھوٹا، پرعزم ، وفاداری  اور مصدقہ  طور پر ان کی منصوبہ بندی اس طرح کرتا ہے  گو کہ اسلامی عقیدہ کی حقیقی نمائندگی وہی کرتے ہیں  ۔بہت سارے  جامع تبصرے اس بات کو  سمجھانے کے لئے پوسٹ کئے گئے ہیں کہ  کمزور وجوہات تمام مذاہب میں پائے  جا سکتے ہیں  اس لئے کہ وہ  ایک زمانے میں مرتب کئے گئے تھے جسے  ہم آج قصہ ،جھوٹی کہانی اور عجیب وغریب  اور خیالی کہانی  کہتے ہیں ،جس نے  عام لوگوں کے ذہنوں کو  مشتعل  کر دیا اور اسے ان کے رہنماؤں ، اولیاء ، دیوتا  اور خدا کے خوف اور تعریف سے  بھر دیا ،  اور یہاں تک کہ ان خیالات کے  مسلم مدونوں نے  ان کے نا قابل اعتبار نوعیت کی نسل کو  خبردار کیا ہے کہ انہیں تالیف  و تدوین میں برقرار رکھا گیا ہے - حوالہ دینے کے لئے نہیں بلکہ خالصتا تکنیکی وجوہات کی بنا پر۔

خلاصہ : عیسائی اور یہودی ، آج منظم قتل عام  ،مذہبی جنگوں ، اور ان عظیم جنگوں کے بارے میں کبھی گفتگو نہیں کرتے ،  جو اس زمانے میں  (گزشتہ صدی کے وسط) ایک صدی سے زیادہ تک جاری رہے اور اس کے ذریعے اور اس (تاریخی وقت میں)  محدود ،اس بر صغیر میں  ہندو مسلم بات چیت سے بہت زیادہ بے حد حیوانیت ، اموات اور تباہی ہو ئی - وہ بھی تین سے چھ سو سال پہلے کہ ایک زمانے کے دوران ۔ ہمارے نام نہاد دانشور ان سے سبق نہیں لے سکتے ہیں  یا وہ اسلام، مسلمانوں، اور بھارت کے دشمن کے ، روپے دئے جانے والے ایجنٹ ہیں  ؟

اس کے ساتھ میری تجویز یہ ہے کہ ویب سائٹ کسی بھی سمت کے بغیر بہنے  کے بجائے مندرجہ ذیل ایجنڈا اختیار:

اسلام میں اہم (اجتہاد) سوچ کو فروغ دینا

سماجی، اخلاقی  ،قرآنی پیغام کی تکثیریت پر مبنی سمتوں کے  متعلق ، مسلمان کے ذہنوں کو  روشن کرنا۔

ہندوستانی مسلمانوں کو اوقات کی ضروریات کے مطابق ، ان کے معاشرے کی اصلاح کے لئے مذہبی بنیاد پر فراہم کرنا  - مثلاً عالمی تعلیم اور فن کی تمام شکلوں اور قومی ترقیاتی منصوبوں میں فعال شرکت ۔

مسلمانوں کو اپنے مذہب  کی  بنیادی کتاب قرآن ، کے قریب لانے کے لئے - آج دنیا کے تعلیمی مانگ کو پورا کرنے اور  مہارت حاصل کے لئے مذہبی علم کو  ماہرین سے خارج کرنا۔

تمام اجتماعی، تفرقہ انگیز  اور عسکریت پسند، متعصب اور مسخ کرنے والے  عناصر کا مقابلہ کرنا ۔

بین المذاہب تعلقات کو فروغ دینا

ایک متحدہ اور مربوط بھارت کی تعمیر اور پاکستان کے ساتھ ایک ممکنہ خوشگوار اور پرامن تعلقات کی طرف قدم بڑھانا  ۔

ویب سائٹ کو دغا بازوں اور دشمن کے  ایجنٹوں کے خلاف حفاظت بھی کرنی چاہئے ،جو ہندو اور مسلمان کے نام پر کسی  بھی صحت مند بحث کو ناکام بنانے ، اسلام میں کسی بھی اصلاح کو روکنے کے لئے ، بین المذاہب  دشمنی کی تشکیل اور انتہا پسندوں ، دہشت گردوں اور بنیاد پرستوں کے ہاتھوں کو مضبوط بنانے کے لئے  گھس سکتے ہیں  ، ان میں سے کچھ  واضح طور پر اسلام اور بھارت کے زر خرید  دشمنوں کی فہرست میں ہیں  ، لیکن  غدار اور زر خرید  کے طور پر ، وہ کسی بھی مذہب کو اختیار کر سکتے ہیں  اور کسی بھی نام کو  فرض کر سکتے ہیں۔

اس مصنف نے اپنے اسکول کے دنوں میں اردو شاعری کی کم از کم ایک ہزار لائنوں کو حفظ کیا  تھا ،اور چند ہزار لائنوں کواور مزید پڑھا۔ بہت سے شاعروں - زیادہ تر مسلمانوں نے خدا کے بارے چیزیں کہیں ، اسلامی نماز ملا اور مبلغین کے بارے میں ،جو  کہ نا مناسب لگ سکتی ہیں ، جیسا کہ مندرجہ بالا  میں ملاؤں  کے بارے میں نقل کیا گیا ۔ لیکن اس نے  ہندو مذہب کے کسی بھی پہلو کو مسخ کرنے کے لئے ایک لائن بھی  نہیں پڑھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ  عربی لفظ ‘ صنم ’ ‘ بت ’کے لیے ہے ، جس کا استعمال ،  فارسی اور اردو میں رومانٹک انداز میں ' حقیقی محبوب 'کا مطلب تعبیر  کرنے کے لئے  کیا گیا ہے  ،  جس کا مطلب ‘بالم ’ اور ‘صنم ’ ہے ، مثال کے طور پر ۔ - بدقسمتی سے مالیاتی دباؤ، ترقی اور شہرت اور انٹرنیٹ پر مفت کی اشاعت کے مقصد  کے جذبہ نے ایک لا محدود، دو اشیاء ‘نفرت اور فحاشیت’ کے  مفت  بازار  کو  جنم دیا ہے۔ کوئی بھی  کسی کی کپڑے کے بغیر (ننگی ) ، یا تقوی (اخلاقی راست بازی) کے جامہ کے بغیر  جیسا کہ قرآن (7:26) حکم دیتا ہے ، کوئی تصویر پوسٹ کر سکتا ہے ، اور مقبولیت اور روزی کما سکتا ہے ۔ یہ وہ کیڑے ہیں جو اس  ترقی پذیر ویب سائٹ کی بنیاد پر کو کتر رہے ہیں  ، اور ان پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے ، اگر ضروری ہو تو اس کی بیخ کنی بھی کی جائے  ۔

مصنف کامل ہونے کا دعوی نہیں کرتا لیکن وہ قارئین ، جنہوں نے ان کے مضامین پڑھے ہیں  انہیں  بیوکوف یا کچھ  اور نہیں سمجھ سکتے بلکہ  انسانیت سے ایک محبت کرنے والا  سمجھ  سکتے ہیں۔ لہذا جو وہ کہتے ہیں  وہ کم از کم کچھ غور و فکر کے مستحق ہیں ۔

14 اکتوبر، 2012

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/debating-islam/muhammad-yunus,-new-age-islam/use-and-misuse-of-freedom-of-expression-on-this-islamic-website-(new-age-islam)-and-need-for-a-clear-agenda/d/8997

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/muhammad-yunus,-new-age-islam-محمد-یونس/use-and-misuse-of-freedom-of-expression-on-this-islamic-website-(new-age-islam)-اسلامی-ویب-سائٹ-(نیو-ایج--اسلام)-پر-اظہار-رائے-کی-آزادی-کا-صحیح-اور--غلط-استعمال-،-اور--ایک-واضح-ایجنڈا-کی-ضرورت/d/13142

 

Loading..

Loading..