New Age Islam
Thu Apr 22 2021, 10:15 AM

Urdu Section ( 24 Aug 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Qur’anic Laws Protecting Orphans and Women: Essential Message Of Islam: Chapter 31 یتیم اور خواتین کے تحفظ کے لیے قرآنی قوانین: اسلام کا اصل پیغام

 

محمد  یونس اور اشفاق اللہ سید

21 اگست 2015

(مصنفین اور ناشرین کی اجازت کے ساتھ نیو ایج اسلام کی خصوصی اشاعت)

31. خواتین اور یتیموں کا تحفظ

31.1. یتیم اور خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین قرآن

قرآن نے قبل از اسلام کے عرب میں مظلوم اور ستم رسیدہ خواتین اور یتیموں کے مفاد کے تحفظ کے لئے قوانین کا ایک مجموعہ تیار کیا ہے، جس کا نظارہ عصر حاضر میں کہیں بھی کیا جا سکتا ہے۔

قرآن ایمانداری کے ساتھ لوگوں کو اس وقت تک ان یتیموں کی مال و دولت کی حفاظت اور دیکھ بھال کرنے کا حکم دیتا ہے، جو قانونی طور پر ان کی تحویل میں ہیں (2:220, 17:34)، جب تک وہ سن بلوغ یا شادی کی عمر کو نہ پہنچ جائیں(4:6, 17:34)۔ قرآن ایسے یتیموں کی شادی کرنے اور مناسب گواہوں کی موجودگی میں ان کی دولت اور جائداد کو واپس ان کے حوالے کرنے کا حکم دیتا ہے (4:5-6)۔ قرآن ان کی امانت میں موجود کسی بھی جائداد کو غصب کرنے، یا اپنے بیکار اثاثے کو ان کے قیمتی اثاثے سے تبدیل کرنے کے خلاف لوگوں کو تنبیہ کرتا ہے(4:2, 4:10)۔ تاہم، قرآن ایک یتیم کی جائداد کے ضرورت مند نگراں کو مناسب اجرت کا دعوی کرنے کا اختیار دیتا ہے(4:6)۔

".............اور آپ سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرما دیں: ان (کے معاملات) کا سنوارنا بہتر ہے، اور اگر انہیں (نفقہ و کاروبار میں) اپنے ساتھ ملا لو تو وہ بھی تمہارے بھائی ہیں، اور اﷲ خرابی کرنے والے کو بھلائی کرنے والے سے جدا پہچانتا ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، بیشک اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔"(2:220)

 "اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور بُری چیز کو عمدہ چیز سے نہ بدلا کرو اور نہ ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر کھایا کرو، یقیناً یہ بہت بڑا گناہ ہے۔" (4:2)

"اور تم بے سمجھوں کو اپنے (یا ان کے) مال سپرد نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہاری معیشت کی استواری کا سبب بنایا ہے۔ ہاں انہیں اس میں سے کھلاتے رہو اور پہناتے رہو اور ان سے بھلائی کی بات کیا کرو"۔ (4:5)

"اور یتیموں کی (تربیتہً) جانچ اور آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ نکاح (کی عمر) کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان میں ہوشیاری (اور حُسنِ تدبیر) دیکھ لو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو، اور ان کے مال فضول خرچی اور جلد بازی میں (اس اندیشے سے) نہ کھا ڈالو کہ وہ بڑے ہو (کر واپس لے) جائیں گے، اور جو کوئی خوشحال ہو وہ (مالِ یتیم سے) بالکل بچا رہے اور جو (خود) نادار ہو اسے (صرف) مناسب حد تک کھانا چاہئے، اور جب تم ان کے مال ان کے سپرد کرنے لگو تو ان پر گواہ بنا لیا کرو، اور حساب لینے والا اللہ ہی کافی ہے"۔ (4:6)

"بیشک جو لوگ یتیموں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں نری آگ بھرتے ہیں، اور وہ جلد ہی دہکتی ہوئی آگ میں جا گریں گے"(4:10)۔

"اور تم یتیم کے مال کے (بھی) قریب تک نہ جانا مگر ایسے طریقہ سے جو (یتیم کے لئے) بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے، اور وعدہ پورا کیا کرو، بیشک وعدہ کی ضرور پوچھ گچھ ہوگی" (17:34)۔

نزول وحی کے دوران جنگوں میں بہت سے مرد ہلاک کر دیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں خواتین کی تعداد میں ایک غیر متناسب اضافہ ہوا جن میں سے کئی خواتین یتیم تھیں۔ ان عورتوں کے مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے کے  لیے قرآن نے مسلمان مردوں چار یتیم عورتوں سے شادی کرنے کی اجازت دی بشرطیکہ وہ  ان تمام کے درمیان عدل کو برقرار رکھ سکیں ۔ ورنہ صرف ایک ہی عورت سے شادی کرنے کی اجازت ہے، یا اس ایک خاتون سے جو جائز طریقے سے ان کی امانت میں ہیں (4:3)۔

"اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو) یا وہ کنیزیں جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو (4:3)"۔

اس کے بعد کی ایک آیت (4:127) میں، قرآن ان کی امانت میں موجود یتیم عورتوں سے شادی کرنے کےلیے نفسانی خواہش کی وجہ سے ابتدائی مسلمانوں کی مذمت کرتا ہے، اور انہیں صرف ایک ہی عورت سے شادی کرنے کا حکم دیتا ہے اس لیے کہ وہ ان کے درمیان عدل قائم نہیں کر سکتے (4:129)۔

"اور (اے پیغمبر!) لوگ آپ سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ آپ فرما دیں کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں حکم دیتا ہے اور جو حکم تم کو (پہلے سے) کتابِ مجید میں سنایا جا رہا ہے (وہ بھی) ان یتیم عورتوں ہی کے بارے میں ہے جنہیں تم وہ (حقوق) نہیں دیتے جو ان کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اور چاہتے ہو کہ (ان کا مال قبضے میں لینے کی خاطر) ان کے ساتھ خود نکاح کر لو اور نیز بے بس بچوں کے بارے میں (بھی حکم) ہے کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف پر قائم رہا کرو، اور تم جو بھلائی بھی کروگے تو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔'' (4:127)

"اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ (ایک سے زائد) بیویوں کے درمیان (پورا پورا) عدل کر سکو اگرچہ تم کتنا بھی چاہو۔ پس (ایک کی طرف) پورے میلان طبع کے ساتھ (یوں) نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو (درمیان میں) لٹکتی ہوئی چیز کی طرح چھوڑ دو۔ اور اگر تم اصلاح کر لو اور (حق تلفی و زیادتی سے) بچتے رہو تو اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے (4:129)"۔

URL for English article:  https://www.newageislam.com/books-and-documents/muhammad-yunus---ashfaque-ullah-syed/qur’anic-laws-protecting-orphans-and-women--essential-message-of-islam--chapter-31-to-33/d/104338

URL for this article: https://www.newageislam.com/urdu-section/muhammad-yunus---ashfaque-ullah-syed/qur’anic-laws-protecting-orphans-and-women--essential-message-of-islam--chapter-31--یتیم-اور-خواتین-کے-تحفظ-کے-لیے-قرآنی-قوانین--اسلام-کا-اصل-پیغام/d/104364

 

Loading..

Loading..