New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 04:35 PM

Urdu Section ( 31 Jul 2015, NewAgeIslam.Com)

Allowables & Forbidden For Food: Essential Message of Islam; Chapter 25 حلال اور حرام غذاؤں کا بیان؛ اسلام کا اصل پیغام

 

  

محمد یونس اور اشفاق اللہ سید

25 جولائی 2015

(مصنفین اور ناشرین کی اجازت کے ساتھ نیو ایج اسلام کی خصوصی اشاعت)

25.1۔ قرآن غذا میں مروجہ ناجائز پابندیوں کو ختم کرتا ہے

قبل از اسلام عرب میں بہت سی خوردنی اشیاء کو یا تو صرف مردوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا تھا، یا مروجہ پابندیوں کی بنیاد پر ان غذاؤں کو حرام قرار  دیا گیا تھا (نوٹس 4-6 / باب 1)۔ قرآن ان پابندیوں کو منسوخ کرتا ہے (6:145، 10:59)۔

"آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام بلند کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص (بھوک کے باعث) سخت لاچار ہو جائے نہ تو نافرمانی کر رہا ہو اور نہ حد سے تجاوز کر رہا ہو تو بیشک آپ کا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے (6:145)"۔

"فرما دیجئے: ذرا بتاؤ تو سہی اللہ نے جو (پاکیزہ) رزق تمہارے لئے اتارا سو تم نے اس میں سے بعض (چیزوں) کو حرام اور (بعض کو) حلال قرار دے دیا۔ فرما دیں: کیا اللہ نے تمہیں (اس کی) اجازت دی تھی یا تم اللہ پر بہتان باندھ رہے ہو (10:59)"۔

25.2۔ قرآن تمام حلال و طیب چیزوں کی اجازت دیتا ہے

قرآن میں ‘کھانے’، ‘فائدہ اٹھانے’ (2:168، 2:172 / باب 23.4)، اور ساتھ ہی ‘استعمال کرنے’ کے لیے لفظ [اکل] کا استعمال کیاگیا ہے (2:188 / باب 22.1) ۔ لہٰذا، قرآن کی ابتدائی (2:168، 2:172) [باب 23.4] اور اواخر کی کچھ آیتوں میں لفظ [کولو] کا ترجمہ ‘کھاؤ’ کیا جا سکتا ہے1، وہ آیتیں حسب ذیل ہیں۔

"اے لوگو! زمین کی چیزوں میں سے جو حلال اور پاکیزہ ہے کھاؤ، اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔۔۔ "(2:168)

"اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اور اﷲ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی بندگی بجا لاتے ہو "(2:172)

لہٰذا، قرآن غذا کے طور پر (خنزیر کے علاوہ) تمام مویشیوں سمیت تمام حلال اور اچھی چیزوں کو کھانے کی اجازت دیتا ہے، (5:1)۔ اور قرآن تمام سمندری مخلوق اور پرندوں سمیت(5:96) ان چیزوں کے بھی کھانے کی اجازت دیتا ہے جن کے شکار کے لیے شکاری جانوروں کو تربیت دی جا سکتی ہے (5:4)۔ 2

"اے ایمان والو! (اپنے) عہد پورے کرو۔ تمہارے لئے چوپائے جانور (یعنی مویشی) حلال کر دیئے گئے (ہیں) سوائے ان (جانوروں) کے جن کا بیان تم پر آئندہ کیا جائے گا (لیکن) جب تم اِحرام کی حالت میں ہو، شکار کو حلال نہ سمجھنا۔ بیشک اﷲ جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے (5:1)"۔

"لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لئے کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں، آپ (ان سے) فرما دیں کہ تمہارے لئے پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اور وہ شکاری جانور جنہیں تم نے شکار پر دوڑاتے ہوئے یوں سدھار لیا ہے کہ تم انہیں (شکار کے وہ طریقے) سکھاتے ہو جو تمہیں اﷲ نے سکھائے ہیں، سو تم اس (شکار) میں سے (بھی) کھاؤ جو وہ (شکاری جانور) تمہارے لئے (مار کر) روک رکھیں اور (شکار پر چھوڑتے وقت) اس (شکاری جانور) پر اﷲ کا نام لیا کرو اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اﷲ حساب میں جلدی فرمانے والا ہے" (5:4)

"تمہارے لئے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدے کی خاطر حلال کر دیا گیا ہے، اور خشکی کا شکار تم پر حرام کیا گیا ہے جب تک کہ تم حالتِ احرام میں ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی (بارگاہ کی) طرف تم (سب) جمع کئے جاؤ گے"(5:96)۔

مزید برآں، قرآن میں لفظ کولو کو  دو معانی ('فائدہ اٹھانے' اور 'کھانے')، عطا کر کے قرآن نے حلال غذا اور آمدنی کے جائز ذرائع کو یکجا کیا گیا ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس چیز کے حصول میں بہت محتاط رہتے تھے اور جو وہ کھاتے تھے۔ اس طرح ہمیں ایسی روایتیں بھی ملتی ہیں جن میں اس بات کا ذکر ہے کہ حضرت ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) نے اس وقت دودھ جیسی خالص غذا کو پھینک دیا جب وہ اسے استعمال کرنے کے اپنے حق پر مطمئن نہیں ہوئے۔ 4

25.3۔ ‘‘اہل کتاب’’ کی خوراک

وحی کے اختتامی مرحلے میں قرآن کا اعلان ہے:

"آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ (بھی) جنہیں (اِلہامی) کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے................."(5:5)۔

تاہم قرآن میں اس بات کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ دوسرے آسمانی مذاہب کے پروکاروں کی کس قسم کی غذا مسلمانوں کے لئے جائز ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ دودھ، مچھلی اور انڈے جیسی فطری غذائیں ان کے پیدا کرنے والوں سے قطع نظر جائز ہیں، اس لیے کہ ان کی کاشت یا پروسیسنگ میں ذبح اور کسی  قرآنی حکم کا کوئی دخل نہیں ہے۔ جہاں تک ذبح کے جانوروں کی بات ہے تو اس  سلسلے میں بے شمار اختلافات ہیں اور ان پر آج بھی اختلاف رائے موجود ہے۔ تاہم، یہ بات قابل ذکر ہے کہ  بائبل میں خنزیر کا گوشت، خون، اور غذا کے طور پر مردہ جانور کو حرام قرار دیا گیا ہے، اور اس میں مویشیوں کے ذبح کے وقت اللہ کا نام لینے کا حکم دیا گیا ہے5۔ اور اس وجہ سے اہل کتاب (عیسائی اور یہودی) کا ذبیحہ مسلمانوں کے لئے حلال ہے، اگر وہ اس میں اپنے مذہبی مراسم کی رعایت کرتے ہیں۔

25.4۔ قرآن صرف چند چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے۔

قرآن صرف مردار، بہنے والا خون، سور کا گوشت، اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر  آزاد کردہ جانور یا خدا کے نام بغیر ہی ذبح کئے گئے جانور کو حرام قرار دیتا ہے (2:173، 5:3، 119/6:118)6۔قرآن جانوروں کی موت کے کچھ غیر فطری حالات کی بھی وضاحت کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کا گوشت حرام ہو جاتا ہے، اور قرآن لاٹری سے بھی منع کرتا ہے (5:3)۔

"اس نے تم پر صرف مُردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو حرام کیا ہے، پھر جو شخص سخت مجبور ہو جائے نہ تو نافرمانی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر (زندگی بچانے کی حد تک کھا لینے میں) کوئی گناہ نہیں، بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے (2:173)"۔

"تم پر مردار (یعنی بغیر شرعی ذبح کے مرنے والا جانور) حرام کر دیا گیا ہے اور (بہایا ہوا) خون اور سؤر کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو اور گلا گھٹ کر مرا ہوا (جانور) اور (دھار دار آلے کے بغیر کسی چیز کی) ضرب سے مرا ہوا اور اوپر سے گر کر مرا ہوا اور (کسی جانور کے) سینگ مارنے سے مرا ہوا اور وہ (جانور) جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو سوائے اس کے جسے (مرنے سے پہلے) تم نے ذبح کر لیا، اور (وہ جانور بھی حرام ہے) جو باطل معبودوں کے تھانوں (یعنی بتوں کے لئے مخصوص کی گئی قربان گاہوں) پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم پانسوں (یعنی فال کے تیروں) کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرو (یا حصے تقسیم کرو)، یہ سب کام گناہ ہیں۔ آج کافر لوگ تمہارے دین (کے غالب جانے کے باعث اپنے ناپاک ارادوں) سے مایوس ہو گئے، سو (اے مسلمانو!) تم ان سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو (بطور) دین (یعنی مکمل نظامِ حیات کی حیثیت سے) پسند کر لیا۔ پھر اگر کوئی شخص بھوک (اور پیاس) کی شدت میں اضطراری (یعنی انتہائی مجبوری کی) حالت کو پہنچ جائے (اس شرط کے ساتھ) کہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو (یعنی حرام چیز گناہ کی رغبت کے باعث نہ کھائے) تو بیشک اﷲ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے (5:3)"۔

‘‘سو تم اس (ذبیحہ) سے کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام لیا گیا ہو اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہو (6:118)’’

‘‘اور تمہیں کیا ہے کہ تم اس (ذبیحہ) سے نہیں کھاتے جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام لیا گیا ہے (تم ان حلال جانوروں کو بلاوجہ حرام ٹھہراتے ہو)؟ حالانکہ اس نے تمہارے لئے ان (تمام) چیزوں کو تفصیلاً بیان کر دیا ہے جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، سوائے اس (صورت) کے کہ تم (محض جان بچانے کے لئے) ان (کے بقدرِ حاجت کھانے) کی طرف انتہائی مجبور ہو جاؤ (سو اب تم اپنی طرف سے اور چیزوں کو مزید حرام نہ ٹھہرایا کرو)۔ بیشک بہت سے لوگ بغیر (پختہ) علم کے اپنی خواہشات (اور من گھڑت تصورات) کے ذریعے (لوگوں کو) بہکاتے رہتے ہیں، اور یقینا آپ کا ربّ حد سے تجاوز کرنے والوں کو خوب جانتا ہے (6:119)’’۔

کھانے کی پسند اور ناپسند کا انحصار مقامی روایات پر ہوتا ہے اسی لیے  قرآن واضح طور پر حرام چیزوں کے علاوہ تمام حلال اور طیب چیزوں  کو کھانے کی عام اجازت دیکر مقامی اثرات کو خت کر دیا (7:32)۔

"فرما دیجئے: اﷲ کی اس زینت (و آرائش) کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا فرمائی ہے اور کھانے کی پاک ستھری چیزوں کو (بھی کس نے حرام کیا ہے)؟ فرما دیجئے: یہ (سب نعمتیں جو) اہلِ ایمان کی دنیا کی زندگی میں (بالعموم روا) ہیں قیامت کے دن بالخصوص (انہی کے لئے) ہوں گی۔ اس طرح ہم جاننے والوں کے لئے آیتیں تفصیل سے بیان کرتے ہیں"(7:32)۔

جیسا کہ محمد اسد نے لکھا ہے کہ 7، یہ آیت کسی بھی نفس کشی اور رہبانیت کی قرآنی ممانعت پر دلالت کرتی ہے جسے روایتی طور پر تقوی کے ساتھ منسلک کیا جاتا تھا۔

حوالہ جات

1۔ 5:88، 23:51۔

2۔ 16:14، 35:12۔

3۔ اس سے مردہ مچھلی، یا سمندر کے کنارے یا تالاب کے کنارے سے حاصل کردہ دیگر سمندری مخلوقات مراد ہیں۔ - ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، 1931؛ طبع ثانی نئی دہلی 1989، جلد۔2، صفحہ۔ 670۔

4۔ محمد الغزالی، احیاء العلوم، اردو ترجمہ ، احسن صدیقی، کراچی 1983 ء، جلد۔2، صفحہ۔128 ۔

5۔ بائبل، Deuteronomy ، باب۔ 12-14۔

6۔ 6:121۔

7۔ محمد اسد، قرآن کا پیغام، جبرالٹر 1980، ۔ باب 7، نوٹ 24 ۔

[7 حوالہ جات]

URL for English article: https://newageislam.com/books-and-documents/the-primacy-of-justice-in-the-qur’an--essential-message-of-islam;-chapter-21-to-25/d/104027

URL for this article: https://www.newageislam.com/urdu-section/muhammad-yunus---ashfaque-ullah-syed/allowables---forbidden-for-food--essential-message-of-islam;-chapter-25--حلال-اور-حرام-غذاؤں-کا-بیان؛-اسلام-کا-اصل-پیغام/d/104115

 

Loading..

Loading..