New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 01:07 AM

Urdu Section ( 23 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Imam Husain: A Short Biography امام حسین : ایک مختصر سوانحی خاکہ


محمد رضا فراز ، نیو ایج اسلام

24جون، 2012

طاغوتی طاقتوں سے پنجہ آز مائی کرنا،شہرت وناموری کی خاطر حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا اوراپنی غیرت وحمیت کی خاطر لشکرجرار کے سامنے سینہ سپر ہوناتوآسان بات ہے مگر صرف دین اوراللہ کے پرچم کوبلند کرنے کے لیے اپنے گھربار،دوست وخاندان اوراپنے تمام متاع دنیوی کوقربان کردے ،ہزاروں سال پر پھیلے اس دنیا کی طویل تاریخ میں بہت کم ملتی ہیں۔امام حسین نے مہبط وحی الہی کی گود میں پرورش پائی اوردین کے اسرارورموز کو خود منبع دین سے سیکھا،اپنے والدین سے،صبرورضا،تقویٰ واحسان ،جراء ت مندی، خودداری،سخاوت وفیاضی اوردین کے نام پرباطل طاقتوں سے لڑنے کاجذبہ سیکھا تھا اور جب بھی ،جہاں بھی انھوں نے دیکھاکہ دین کے نام پرمفاد پرست دین کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں،انھوں نے اپنی ہمت مردانہ کے ساتھ اس باطل قوت کے سامنے سینہ سپر ہوکردلیری کے ساتھ اس کا مقابلہ کیاہے۔

ولادت باسعادت:

امام حسین ۳شعبان ۴ہجری بمطابق۸جنوری ۶۲۶عیسوی کو مدینہ منورہ میں پیداہوئے،حضرت فاطمۃ الزہرارضی اللہ عنہاسے حضور اکرم ﷺ بہت زیادہ محبت کرتے تھے ،اس لیے حضرت امام حسین کی کابچپن حضور ﷺ کے سایہ رحمت میں گزرا،کبھی سجدوں میں کندھوں پربیٹھ جایاکرتے،کبھی آغوش اقد س میں بیٹھ کرریشہ مبارک کے بال پکڑاکرتے ۔حضوراکرم کی بارگاہ میں انھوں نے سردیں کو نہایت باریکی سے سیکھا۔حضورﷺ نے انھیں اسلام کامکمل آئینہ دار بنادیا۔

حضرت امام حسین کاعلمی مقام:

امام حسین نے دین کو خود سرچشمہ دین سے سیکھاتھا،حضور کی وفات کے بعد انھوں نے اجلہ صحابہ کی معیت میں رہے ان سے خوشہ چینی کی اور سے احادیث وقرآن سیکھے ۔ان سے کئی احادیث مرو ی ہیں۔انھوںںے اسلام کی تعلیمات کوفروغ دینے میں بہت اہم کارنامہ انجام دیا۔حضوراکرم ﷺ سے قربت کی وجہ سے لوگ بہت زیادہ عزیز رکھتے اہلبیت اطہار کے ایک فرد ہونے کی حیثیت سے ان کو اپنا پیشوامانتے تھے۔اس لیے انھوں نے کسی حاکم کے خوف سے پرے ہوکر دین وقوم کی خدمات انجام دی۔خاص طور سے اگرکسی حاکم کی طرف سے بدعنوانی کا معاملہ جب بھی پیش آیا،انھوں نے اپنا مذہبی اوردینی فریضہ سمجھ کر اس حاکم کواس کام سے باز آنے کی تلقین کی ۔

تقویٰ وطہارت:

عہدطفولیت سے ہی ان کے اوپرعہدنبوی کی چاندنی کاپرتوان کی ذات پر نمایاں تھا اس لیے اس لیے وہ پوری زندگی سنت نبوی پر صبرواستقامت کے ساتھ قائم رہے۔انھوں نے اپنی پوری زندگی کا ایک ایک لمحہ تقویٰ کے ساتھ گزاری ۔اللہ رب العزت نے ان کے دلوں کی گندگی دورکرکے انھیں خوب خوب پاک وصاف کردیاتھا۔وہ چاہتے تو ایک بادشاہ کی طرح حکومت کرسکتے تھے مگرانھوں نے اللہ کی اطاعت،مخلوق خداکی افادیت اوردین اسلام کی شفافیت کے لیے اپنی زندگی وقف کردی تھی اوراسی کے پس منظرمیں انھوں نے اپنی زندگی صرف کی۔تقویٰ میں وہ اپنی مثال آپ تھے ،بنی امیہ کی طرف سے دولت وامارت کی پیش کش سے کبھی آپ کے پائے استقلال میں لغزش تک نہیںآئی۔

جودوسخا:

نبی اکرم ﷺ سراپاسخی تھے،انھوں نے کسی صورت میں منگتوں کوخالی ہاتھ لوٹنے نہیں دیا،حضرت امام حسین کاپوراگھرانہ اس صفت سے معمور تھا۔قرآن میں بھی اہل بیت کی سخاوت کاتذکرہ آیاہے۔ سخاوت ان کا طرہ امتیازتھا،سخاوت کے سلسلے میں حضرت امام حسین اتنے مشہورتھے کہ اگرکسی کوکھانے کی چیزکہیں نہیں ملتی تووہ حضرت امام حسین کی بارگاہ میں حاضرہوجاتااس امیدپرکہ ان کے یہاں سے خالی ہاتھ نہیں لوٹناپڑتاہے اورامام پاک توقع سے کہیں زیادہ انھیں نوازتے۔حضرت فاطمۃ الزہرارضی اللہ عنہاایک بارروزے سے تھیں،اتفاق سے افطار کے وقت ان کے پاس ایک فقیرآیااورسوال کرنے لگا،حضرت فاطمہ نے گھرکاپواکھانااس فقیر کودے دیااورخود پانی پر قناعت کرلی ،دوسرے اورتیسرے دن بھی یہی واقعہ پیش آیااس کے بعدیہ آیت کریمہ نازل ہوئی ویطعمون الطعام علیٰ حبہٖ مسکیناو یتیماواسیرا(الانسان:۹)یعنی یہ ایسے لوگ ہیں جواللہ کی رضاکے لے غریبوں،یتیموں اورقیدیوں کوکھاناکھلاتے ہیں۔یہ آزمائش اتفاقیہ نہیں تھی بلکہ یہ اللہ کی طرف سے بھیجاہوافرشتہ جوتینوں دن خاص افطار کے وقت ان کی آزمائش کے لیے بھیجاگیاتھااوراہل بیت اطہار اس امتحان میں کامیاب بھی ہوگئے تھے۔حضرت امام حسین کی پوری زندگی جودوسخاسے پرتھی ،انھوں نے اپنے دشمنوں کی بھی مدد کی ہے۔

ایثاروقربانی:امام حسین نے اللہ رب العزت کی رضاکی خاطر اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی آخری وقت میں امام پاک اپنی جان جان آفریں کے سپرد کرتے ہوئے حال زار سے یوں کہہ رہے تھے

جان دی دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادانہ ہوا

امام حسین کی داستان صبرورضااورایثاروقربانی سے پوری تاریخ بھری پڑی ہے۔امام حسین کی ولاد ت کے بعد سے ہی ان کی شہادت کاواقعہ مشہور ہوچکا تھاکہ حضرت امام حسین ایک جابربادشاہ کے خلا ف پرچم حق بلندکریں گے اورحق کی سربلندی کے لیے آخری دم تک لڑتے ہوئے شہیدکردیے جائیں گے۔یہ بات ہمیشہ حضرت امام حسین کے پیش نظر رہیں۔جب حضرت معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو خلافت عطاکی توحضرت امام حسین نے فرمایاکہ اسلامی خلافت ایک ایسے شخص کے سپردکردیاگیاہے جودین کے حدود کوتوڑکراپنی من مانی کرتاہے اورشریعت اسلامی کو پامال کیاہے ،ہم کسی بھی صورت میںیزید کی بیعت نہیں کر سکتے،کئی صحابہ کرام نے بھی یزیدکی بیعت سے انکار کیامگرآخر ی وقت میں ڈرادھمکاکرکسی طرح ان سے بیعت لے لیاگیامگرحضرت امام حسین نے ہرگزاس کی بیعت نہ کی۔اس کے لیے کوانھیں مدینہ چھوڑناپڑا اورمکہ میں رہنے لگے اورایک وقت ایساآیاجب انھیں مکہ چھوڑکرکوفہ جانا پڑا۔حضرت امام حسین نے یزیدکی سلطنت کوکبھی تسلیم نہیں کیااورکوفہ جاکر انھوں نے یزید کے خلاف ایک محاذ قائم کرنے ارادہ کر لیاتھامگر راستہ میں ہی انھیں روک لیاگیااوریہیں ایک تاریخی کربناک اورپوری انسانیت کے لیے سربلندی کاعظیم پیغام دینے والاکربلا کاواقعہ پیش آیا۔اس وقت بھی انھیں مہلت دی گئی کہ آپ یزید کی بیعت کرلیں اور انھیں امارت کی لالچ بھی دی گئی مگر انھوں نے رضائے الٰہی کی خاطر اس پیشکش کوٹھکرادیااورظالموں کے ساتھ سینہ سپرہوکر اللہ کی راہ میں اپنے تمام دوستوں،اعزاء واقارب یہاں تک کہ اپنے جوان اورچھ مہینہ کے ننھے علیٰ اصغرکی قربانی کے بعد اپنے خون کا آخری قطرہ تک لٹادیا۔تاریخ صبرورضا میں اس کی مثال ڈھونڈ نے سے بھی نہیں ملتی۔

حضرت امام پاک کی زندگی ہمارے لیے عزیمت واستقامت اورصبرورضا کاعظیم پیغام ہے۔انھوں نے ایسے مشکل وقت میں جب ایک عام شخص کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے،چٹان کی طرح ثابت قدم رہے اورحق وصداقت کا دامن بالکل نہیں چھوڑا۔آج بھی زمانے کے یزیدیوں سے لڑنے کے لیے حسینی صداقت اورقوت ایمانی کی ضرورت ہے ۔حضرت امام حسین کی اس قربانی نے اسلام کو قیامت تک کے لیے لالہ زار کردیا،حضرت امام حسین کی شہادت ۱۰محرم ۱۶ہجری بمطابق۱۰اکتوبر۶۸۰کو ہوئی تھی ۔اس اعتبارسے آج حضرت امام حسین کی شہادت کے تقریباساڑھے چودہ سو سال ہوگئے مگر امام حسین کی یاد ،ان کاپیغام ،دلوں پر ان کی حکومت،جلالت شان،ان کے تذکرے جس اندازوآہنگ سے ہماری مجلس کی زینت ،ضرب المثل بن چکے ہیں اس سے لگتاہے کہ آج بھی امام حسین ہمارے درمیان موجود ہیں اورہماری رہنمائی فرمارہے ہیں۔دنیاکی ساری قومیں امام حسین کی قربانی کی یاد مناتی ہیں کیوں کہ امام حسین نے صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تکریم انسانیت کی صدابلند کی تھی اوررہتی دنیاتک امام حسین انسانیت اورحق وصداقت کے لیے آوازبلندکے والوں کے سرخیل اور علمبردار کے طور پر مشہوررہیں گے۔

مصنف روزنامہ انقلاب، نئی دہلی کے نامہ نگار ہیں۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/imam-husain--a-short-biography--امام-حسین---ایک-مختصر-سوانحی-خاکہ/d/7725

 

Loading..

Loading..