certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (23 Aug 2019 NewAgeIslam.Com)



Representatives of meaningful literature, Iqbal and Ibne Safi are readers First Choice Even Today با مقصد ادب کے نمائندگان علامہ اقبال اور ابن صفی آج بھی قارئین کی پہلی پسند ہیں

 

مبشراکبر

21اگست،2019

اس بھاگتی دوڑتی ہر لمحہ، پل پل، بدلتی زندگی نے انسان کا دوسرے انسان کے لئے وقت نکالنا مشکل کردیا ہے، ایسے مطالعے کے لئے کیونکر وقت نکالا جاسکتا ہے۔ کیا ٹیکنالوجی جوہر لمحہ اپنے کرشموں سے عقل کو حیران کررہی ہے،مطالعہ کے کم ہوتے رجحان کو پورا کرسکتی ہے۔ ادب کا مطالعہ دن بدن کم ہونا تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں مسلسل گفتگو بھی ہو رہی ہے اور متعدد سوالات قائم ہو رہے ہیں لیکن ان افراد سے اگر پوچھا جائے جن میں ادب کا ذوق موجود ہے یا معلمین جن کے لئے مطالعہ ناگزیر ہے تووہ یہی جواب دیں گے کہ وہ تو مسلسل مطالعہ کرتے ہیں۔ ان کے زیر مطالعہ ہر وقت کوئی نہ کوئی کتاب رہتی ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کیونکہ ان افراد کے لئے مطالعہ ایک ذہنی غذا کا کام کرتا ہے اور وہ مطالعہ کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکتے۔لیکن اس طریقے سے ادب پڑھنے والوں کی تصویر واضح نہیں ہوتی اورنہ ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ادب میں کون سی صنف پڑھ رہے ہیں، افسانہ یا شاعری یا پھر ناول،ان کا پسندیدہ شاعر یا مصنف کون ہے؟ وہ سال بھر میں کتنی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں؟ کس طرح کی کتابیں پڑھتے ہیں اور اپنے مطالعہ کیلئے کس ذریعے کو استعمال کرتے ہیں۔اسی لئے ہم نے کچھ سوالات قائم کئے او رانہیں وہاٹس ایپ اور فیس بک پر اپ لوڈ کر کے جوابات منگوائے۔ کچھ افراد سے ہم نے براہ راست فون کے ذریعہ رابطہ کر کے بھی سوالات کئے۔ سوشل میڈیا کے دونوں ذرائع وہاٹس ایپ اور فیس بک سے ہمیں سینکڑوں جوابات موصول ہوئے جب کہ فون پر بھی جن جن افراد سے رابطہ کیا گیا، انہوں نے جواب دینے کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی بھی کی۔ ان تمام جوابات کی بنیاد پر ہم نے چند گراف تیار کروائے جو ادب پڑھنے والوں کی مجموعی صورتحال،ان کا رجحان، پسند، مطالعہ کے ذرائع اور دیگر کا اجمالی جائزہ قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ سروے بہت چھوٹی تعداد کے درمیان میں کیا گیا تھا، اگر اس کا دائرہ بڑھایا جائے تو ممکن ہے کہ جوابات کا فیصد بھی بڑھے او رکچھ او رپہلو مزید واضح ہوجائیں۔

ہمارا پہلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ پڑھتے ہیں؟ یعنی مطالعہ کرتے ہیں؟ اس کا جواب ہمیں 100فیصد ہاں میں موصول ہوا جس کی وجہ سے ہم نے اس کا گراف تیار نہیں کروایا لیکن پہلے سوال کا جواب یہی مانا جائے گا کہ مطالعہ سبھی کرتے ہیں لیکن وہ کس طرح کا ہے او رکس سطح پر ہے، اس پر گفتگو کے مزید دروا ہوسکتے ہیں۔ ہمارا دوسرا سوال تھا کہ ادب میں کیا پڑھ رہے ہیں؟ شاعری، افسانے، ناول یا دیگر نثر پارے۔ اس سوال کا جواب ہمارے امید کے مطابق شاعری ہی رہا کیوں کہ اردو شاعری ایک ایسی صنف ہے جسے اردو نہ جاننے والا بھی سمجھ سکتا ہے او راس پر سردھن سکتا ہے۔ ہمارے سوالوں کا جواب دینے والوں میں سے 43فیصد افراد نے کہا کہ وہ شاعری پڑھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اس فہرست میں افسانے بہت پیچھے نہیں ہیں کیونکہ 33فیصد افراد نے افسانوں کو اپنی پسندیدہ صنف قرار دیا ہے۔ اسی طرح سے 17فیصد افراد ناول پڑھتے ہیں۔ ناولوں کے ذیل میں کچھ جواب ابن صفی کے ناولوں کے تعلق سے تھے جب کہ بقیہ مختلف ناول پڑھتے ہیں جن میں کسی ایک زبان کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔

ہمارا تیسرا سوال تھا کہ کون سا شاعر سب سے زیادہ پسندیدہ ہے؟ اس سوال کے جوابات بھی ہماری توقع کے مطابق ہی تھے کہ 33فیصد افراد نے اقبال کو اپنا پسندیدہ شاعر قرار دیا جب کہ غالب بھی ان سے بہت دور نہیں رہے، انہیں 28فیصد افراد نے اپنی پسند قرار دیا۔ اس فہرست میں فیص احمد فیض، نظیر اکبر آبادی، احمد فراز اور پروین شاکر بھی شامل ہوئے جب کہ دیگر کے ذیل میں بھی کچھ شعرا کے نام آئے جیسے امیر خسرو، جگر مراد آبادی، مو من خاں مومن، ساحر لدھیانوی، جون ایلیا اور ظفر گورکھپوری۔

چوتھا سوال پسندیدہ مصنف کے تعلق سے تھا اور اس کا جواب ایک بڑی اکثریت نے ابن صفی کے طور پر دیا۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ابن صفی کو 40فیصد جب کہ سعادت حسن منٹو کو 18فیصد افراد نے اپنا پسندیدہ مصنف قرار دیا ہے جس کا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ ادب نواز قارئین کے 50فیصد سے بھی زائد حصہ پر ان دونوں صاحبان کی تقریباً اجارہ داری ہے۔ اس فہرست میں پریم چند کو 10فیصد افراد نے اپنا پسندیدہ مصنف قرار دیا جب کہ دیگر کے ذیل میں متعدد افسانہ نگار وں اور ناول نگاروں کے نام دیئے گئے ہیں جن میں قرۃ العین حیدر، عنایت اللہ التمش، راجندر سنگھ بیدی، انتظار حسین، شمس الرحمان فاروق اور مشرف عالم ذوقی شامل ہیں۔

پانچو اں سوال سال بھر میں پڑھی جانے والی کتابوں کے تعلق سے تھا۔ ہم نے پوچھا کہ اندازہ آپ سال بھر میں کتنی کتابیں پڑ ھ لیتے ہیں، اس سوال پر ملنے والے جوابات نے ہمیں کافی چونکا دیا کیونکہ ہمیں امید تھی کہ ہر ماہ کے حساب سے کم از کم ایک کتاب کا اوسط بھی نکالا جائے تو سال بھر میں 12سے 15کتابیں ذیل میں سب سے زیادہ جوابات موصول ہوئے جب کہ سال بھر میں 16تا 20یا اس سے زائد کتابیں پڑھنے والے صرف 10فیصد افراد ہی ملے۔

ہمارا چھٹاسوال تھا کہ کس طرح کی کتابیں پڑھتے ہیں یا پڑھنا پسند کرتے ہیں، اس کے جواب میں ہمیں سب سے زیادہ 30فیصد جواب دینی کتابوں کے ذیل میں موصول ہوئے۔ 30فیصد قارئین کی کتابیں 25فیصد او رعلمی کتابیں 20فیصد افراد پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ سائنسی کتابوں کے ذیل میں بھی 12فیصد افراد نے جواب دیا ہے۔ ادب نواز قارئین میں عام معلومات کی کتابیں بھی کافی مقبول ہیں کیونکہ 11فیصد افراد نے جواب دیا ہے کہ وہ عام معلومات کی کتابیں رغبت کے ساتھ پڑھتے ہیں۔

ہمارا ساتواں سوال اور آخری سوال یہ تھاکہ ادب پڑھنے کے لئے آپ کس ذریعہ کا استعمال کرتے ہیں؟ ہمیں جو جواب مو صول ہوئے ان کی اکثریت یعنی 38فیصدتعداد نے یہ قبول کیا کہ وہ صرف اخبار کی حد تک ادب پڑھتے ہیں جب کہ 22فیصد افراد نے سوشل میڈیا پر ادب پڑھنے کا اعتراف کیا ہے۔ اسی طرح رسالے پڑھنے والے 12فیصد اور کتابوں کے ذریعہ ادب پڑھنے والے 15فیصد ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اگر سوشل میڈیا اور ای کتاب کے فیصد کو ملا دیا جائے تو یہ کتابوں اور رسالوں کے ذریعے ادب پڑھنے والوں کے مقابلے زیادہ ہوجائے گا جو فکر مندی کا سبب تو ہے لیکن یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اب قاری کتابوں یا رسالوں تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ وہ مختلف ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ادبی ذوق کی تسکین کررہا ہے۔

21اگست،2019، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/mubasshir-akber/representatives-of-meaningful-literature,-iqbal-and-ibne-safi-are-readers-first-choice-even-today--با-مقصد-ادب-کے-نمائندگان-علامہ-اقبال-اور-ابن-صفی-آج-بھی-قارئین-کی-پہلی-پسند-ہیں/d/119540

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content