New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 05:40 AM

Urdu Section ( 17 Apr 2020, NewAgeIslam.Com)

We were Successful When We Took Religion and World Together دین و دُنیا ساتھ ساتھ لے کر چلے، تب ہم کامیاب تھے


مبارک کاپڑی

12 اپریل 2020

کامیاب زندگی گزارنے کیلئے نصاب زندگی میں کئی مضامین ہوتے ہیں جیسےحسن اخلاق ،تواضع و انکساری ،سنجیدگی و صبر ، صلہ رحمی وہمدردی وغیرہ۔ ہماری قوم میں بعض کمیوں اور خامیوں کے باوجود الحمدللہ ان میں سے کئی مضامین میں ہماری قوم امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔البتہ پتہ نہیں کیوں اور کس بناء پرزندگی کے دو اہم مضامین میں ہماری قوم کا پرفارمنس لگ بھگ صفر ہے اور وہ ہیں سائنس اور معاشیات۔کچھ لوگ کہیں گے کہ ان دو محاذوں پر جھنڈے گاڑنے والے ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ،برطانیہ،اٹلی اوراسپین وغیرہ تو ایک بیماری کے جرثومے سے چاروں شانے چت ہو گئے۔ انہیں یہ بات سمجھنی چاہئے کہ انہی ممالک نے کبھی لاکھوں ٹن بارود  برساکراور کبھی اقتصادی پابندیاں عائد کر کے گزشتہ تین دہائیوں میں چھوٹے بڑے نصف درجن مسلم ممالک کو تباہ و برباد کردیا۔۶۵؍ مسلم ممالک میں سے کسی کے پاس  اپنا دفاعی نظام تک نہیں ہے۔اس لئے کسی مسلم ملک نے اس حیوانیت اور سفاکیت پر دبے الفاظ بھی احتجاج نہیں کیا اور آج کورونا وائرس میں امریکہ اور برطانیہ کو جو ناکامی ہوئی ہے، اس کی بھڑاس بھی تیل کے کنویں والے مسلم ممالک پر اُترنے والی ہے اور انہیں کھلی دھمکی دی جائے گی کہ اگر و ہ اپنی عافیت چاہتے ہیں تومعدنی تیل اور قدرتی گیس کو اُن عالمی طاقتوں کی مرضی کے مطابق  ہی فروخت کریں!

نوجوانو !  ۱۹۱۴ء میں پہلی جنگِ عظیم سے لے کر آج تک یعنی ایک صدی سے زائد عرصے میں عالمی طاقتوں نے مسلم ممالک کو جو تباہ و برباد  کیا ہے اُسے ہماری قوم’ سازش‘ قرار دیتی ہے۔چلئے ٹھیک ہے کہ وہ ایک سازش تھی مگر ہم اس کے آلۂ کار کیوں بنے؟وہ ایک کھُلی سازش تھی اور بالکل واضح منصوبہ کہ مسلمانوں کو عصری علوم،سائنس،ٹیکنالوجی اور جدید علوم کے حصول سے دُور رکھا جائے مگر اس دھرتی پر ۵۷؍ مسلم ممالک نے ان تین چار طاقتوں کا یہ فرمان قبول کیوں کیا؟ اور کتنی ’فرمانبرداری‘سے قبول کیا۔ ملاحظہ کیجئے کہ آج ایک چھوٹے سے جزیرے جاپان میں یونیورسٹیوں کی تعداد، تمام مسلم ممالک کی یونیورسٹیوں سے زیادہ ہے۔جاپان میں آج ۹۶؍ قومی یونیورسٹیاں، ۹۵؍ عوامی یونیورسٹیاں اور ۶۰۳؍ نجی یونیورسٹیاں ہیں۔مسلمانوں میں آج بمشکل ۴؍ فیصد افراد  اعلیٰ تعلیمی اداروں کا رُخ کرتے ہیں جبکہ جاپان میں ۵۲؍ فیصد سے زائد آبادی اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فیضیاب ہوتی ہے۔

تاریخ پر سرسری نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان  سائنس دانوں نے بنی نوع انسان کو آسانیاں بہم پہنچانے کیلئے ہزاروں اختراعات لیں اور اپنے نظریات،افکار،تجربات،مشاہدات اور ایجادات کی بدولت انسانی زندگی اور اس کے طرز فکر پر گہرے نقش چھوڑے۔دراصل نئی نسل کو اپنی وراثت،بیش قیمت سرمایہ اور اس کے روشن پہلوؤں سے ہم واقف تک نہیں کراسکے۔تاریخ کے بے پناہ صفحات ایک طوفان کی طرح مغرب سے مشرق کو رواں ہوئے۔نئی نسل نے اُنہیں معتبر مان لیاجبکہ وہ تاریخ نہیں ،صرف اور صرف فریب کاری تھی۔مثلًا اُن میں سے کسی صاحبِ قلم نے یہ نہیں بتایا کہ وہ راجر بیکن جسے انگلستان میں بابائے سائنس کا درجہ حاصل ہے وہ در اصل عربوں کا شاگرد تھااور اپنے شاگردوں سے کہا کرتا تھا کہ صحیح علم کی گہرائی میں جانا ہے تو عربی زبان پڑھو۔ان مورخین نے یہ ذکر کبھی اور کہیں نہیں کیا کہ گلیلیو،  کیپلر اوربرونو جینرڈ ڈیکن وغیرہ عربوں کے نقال ہُوا کرتے تھے۔نئی نسل کو کسی نے یہ بھی نہیں بتایا کہ بحری راستوں کو دریافت کرنے میں یورپ کی پیش رفت ہوئی وہ جن نقشوں کی بنیاد پر ہوئی وہ عربوں نے بحرِ روم،بحرقلزم،بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے سفر میں لگ بھگ دو صدیوں تک استعمال کئے تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ دَور کے مسلمان آخر کس مٹی کے بنے ہوئے تھے کہ جب دنیا میں بجلی کے قمقمے نہیں تھے، اُس وقت ایک مسلمان آنکھوں کا آپریشن کرتا ہے۔سائنس کا کوئی بول بالا نہیں تھا اُس وقت دوسرا مسلمان اس کائنات کے سارے عناصر کو سمیٹ کر دَوری جدول تیار کرتا ہے۔ حساب کی کوئی مشین نہیں تھی مگر ایک مسلم ریاضی داں آج کے ریاضی کی ایک معروف شاخ علمِ مثلث کو دریافت کرتا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اُس دور کے مسلمان دُھن کے پکّے تھے،اُصول کے پابند تھے،کشادہ ذہن تھے،اُن پر کوئی زور زبردستی نہیں تھی مگراُنہوں نے خود حصولِ علم کو اپنا مقصدِحیات بنالیا تھا اور اُن کی زندگی کیسی ست رنگی اور حسین تھی کہ وہ سائنس کے علاوہ فنونِ لطیفہ کے بھی دِلدادہ تھے۔انہوں نے حکایات،خطبات اور دیگر موضوعات پر بڑا ہی وسیع نثری و شعری ادب چھوڑا۔اٹھارویں صدی میں ان سب کا اس قدر بول بالا تھا کہ الف لیلیٰ کی بارہ جلدوں کا ترجمہ یورپ میں بڑے اہتمام سے ہوا۔انیسویں صدی ہی میں عربی حکایات کا ترجمہ۱۳؍ جلدوں میں ہوا۔یہ سلسلہ اتنا دراز ہوا کہ انگریزی کے نامور ادباء و شعراء یہ کہتے رہے کہ 'پہلے تمام دنیا یونانی تھی اور اب عربی ہے۔

پھرہمارے پاس تخت و تاج آگئے۔ ایسے میں علمی پیش رفت میں تیزگامی آنی چاہئے تھی لیکن تعطل آگیا۔اقتدار کے نشے میں پہلے تو غنودگی آئی اور پھر نیند اورہم آج بھی لگ بھگ اسی کیفیت میں مبتلا ہیں ورنہ ہم اپنی نئی نسل کو بتاتے کہ جوار بھاٹا،چاند کی کشش اور کششِ ثقل یہ سب محض اتفاق نہیں بلکہ یہ قدرت کے پیدا کردہ ہیں۔اس کے بعد نیوٹن کے نظریات کی جگہ آئنسٹائن کی فکر وجود میں آئی۔بینر برگ نے  لاپلاس کے نظریات منسوخ کر دئیے۔نظریہ اضافیت اور گوانتم تھیوری نے خود سائنس دانوں کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ سائنس میں مشاہد کو مشاہدے سے الگ کیا جانا ممکن نہیں۔اسی سائنسی نقطہ نظر سے مذہب کی اہمیت مسلّم ہو گئی۔اسی دوران نیوٹن کا نظریہ نور ناکام ہُوا۔میکسویل کے تجربات کی اشاعت کے بعد مزید واضح ہوگیا کہ روشنی ایک برقی مقناطیسی مظہر ہے۔اسی دور میں ہمیں سائنس میں تحقیقات کیلئے ہمارے نوجوانوں کی ایک ٹیم تیار کرنی چاہئے تھی۔اس سے اسی دور کی بقیہ ساری تحقیقات پر ہمارا حق ہوتا اور دوم یہ کہ اسی دور میں ہمارا نوجوان زندگی کے کنفیوژن سے باہر نکل آتا۔حیرت کی بات یہ کہ اسلام کا مطالعہ کرکے غیروں نے روشنی حاصل کر لی۔

 (۱)اس کی ایک مثال مارٹن لوتھر کی ہے۔لوتھر نے سب سے زیادہ تحریک لی پیغمبرؐکے خطبہ حجۃ الوداع سے جس میں انسانوں کے مابین مساوات کے پیغام پر زور دیا گیا ہے کہ نہ عرب کو فضیلت ہے عجم پر اور نہ عجم کو عرب پر،نہ گورے کو نہ کسی کالے پر اور ہ کسی کالے کو کسی گورے پر۔پھر لوتھر میں حقیقت پسندی معقولیت اورآزاد خیالی آتی کہاں سے؟اس کے اسلام کے مطالعے سے۔اس نے اپنے ۹۵؍ نکاتی اجتماعی ایجنڈے میں پادریوں کو یہ بھی لکھا تھا کہ پادریوں کا شادی نہ کرنا سنت انبیاء(ابراہیمؑ،اسحٰقؑ،داؤدؑ )کے خلاف ہے۔

 (۲)اس کی دوسری  ہمارے ملک کے عظیم مفکّر سوامی وویکانند کی ہے۔ آج اس ملک کی فرقہ پرست پارٹی کے ٹویٹ اور وہاٹس ایپ  پوسٹ  پر ہمارے نوجوان مشتعل ہوجاتے ہیں البتہ سوامی وویکانند نے بنارس میں ایک بڑے ہندو سمیلن کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا دینِ اسلام کبھی ختم نہیں ہو سکتا کیوں کہ اُس کی آسمانی کتاب میں زیر و زبر کی بھی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

آجہم اپنے ہی دِین سے رہنمائی حاصل کرنے  سے قاصر کیوں ہیں؟ کورونا وائرس جیسی وباء پراگر کوئی ہمارے کردار پر انگلی اُٹھائے تو ہم یہ کیو ں مطالعہ نہیں کرتے کہ عمر فاروقؓ  کے بارہ برس کے دور میں پانچ برس قحط میں گزرے تھے، تب اُ ن کا رویہ کیسا تھا  اور ہماری بناء پر ایک شخص کو بھی تکلیف نہ پہنچے اس کیلئے قرآن کی سورۃ مائدہ کی ایک آیت سے ہدایت لیں کہ ’’جس نے ایک جان کو بچا لیا اُس نے گویا پوری بنی نوع انسان کو بچا لیا۔‘‘باقی آئندہ۔

12 اپریل 2020    بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/mubarak-kapdi/we-were-successful-when-we-took-religion-and-world-together--دین-و-دُنیا-ساتھ-ساتھ-لے-کر-چلے،-تب-ہم-کامیاب-تھے/d/121604

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..