New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 05:58 PM

Urdu Section ( 18 Dec 2017, NewAgeIslam.Com)

Empowering Muslim Women for a Better Tomorrow ایک بہتر مستقبل کے لئے مسلم خواتین کو بااختیار بنانا

 

 

 

 معین قاضی ، نیو ایج اسلام

08 اگست 2017

جنت تمہاری ماں کے قدموں میں ہے (پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم)

ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جس میں غربت زدہ خواتین پیدائش سے لیکر موت تک بڑے پیمانے پر عدم مساوات اور ناانصافی کا شکار ہیں۔ غیر معیاری تعلیم اور ناقص تغذیہ سے لیکر کم تنخواہ کی نوکریوں تک عورت کو اپنی پوری زندگی جس تسلسل کے ساتھ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ناقابل قبول لیکن انتہائی عام ہے۔ جو معاشرے خواتین کو بااختیار بنانے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں وہ فائدے میں ہیں۔ وہ مزید مالدار مزید مستحکم بن جاتے ہیں۔

جب ہم خاص طور پر کم آمدنی والی خواتین پر سرمایہ کاری کرتے ہیں جو روایتی ذرائع سے قرض حاصل کرنے کے قابل نہیں ہیں تو حیرت انگیز طور پر اس کا نتیجہ سامنے آتا ہے اور ان کے لئے کاروباری امکانات کے دروازے کھلتے ہیں۔ ہم صرف خواتین کو ہی نہیں بلکہ ان معاشروں کو بھی بااختیار بنانے میں مدد کرتے ہیں جس میں وہ رہتی ہیں۔ جب خواتین مالدار ہوتی ہیں تو ان کے اندر کئی نسلوں پر محیط غربت و افلاس کو دور کرنے کی جرات اور مہارت پیدا ہوتی ہے۔ ہم دیرپاء سماجی تبدیلی کے لئے ایک انتہائی مضبوط خمیر تیار کرتے ہیں۔

ہندوستان کے اندر مخصوص مسائل سے نمٹنے کے لئے گاؤں اور جھگی جھوپڑیوں میں چلنے والی اکثر تنظیمیں خود کفیل تنظیموں کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ اس صدیوں پرانی روکاوٹ کو ختم کرنے کے لئے جذباتی شدت کی ضرورت ہے۔یہ صرف ان تنظیموں کے ذریعہ ہی ممکن ہوسکتا ہے جو اس جذباتی اقدار میں مشترک ہیں اور ان کا محرک بھی مشترکہ اہداف کے مضبوط جذبات ہوں۔ خود کفیل تنظیمیں اس کردار کے لئے انتہائی موزوں ہیں۔ اس کا ایک بنیادی مقصد ان قرضوں کا حصول ہے جو جس سے خواتین فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ یہ قرض ایک مالی فلسفہ کا حصہ ہے جسے مائکروفائینانس کہا جاتا ہے۔ وہ ایک ساتھ مل کر ایک بڑی تبدیلی پیدا کر سکتی ہیں اور عورتوں کے کردار کے حوالے سے عوامی تصور کو تبدیل کرسکتی ہیں۔ اس کے اراکین مختلف مقاصد کے لئے قرض لیتے ہیں مثلاً: ادویہ کی خریداری کے لئے، کاروبار شروع کرنے کے لئے ، جانور خریدنے کے لئے ، اسکول کی فیس ادا کرنے کے لئے ، کپڑے خریدنے کے لئے ، خزاں کے موسم کے دوران اشیائے خوردنی خریدنے کے لئے اور زراعت میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے۔ خواتین ہر دو ہفتوں میں بقایاجات کی ادائیگی کرنے اور سماجی معاملات یا لڑکیوں کے لئے اسکولوں پر تبادلہ خیالات کرنے کے لئے اکٹھہ ہوتی ہیں۔ قرآن کے بارے میں ایک علمی مجلس بھی منعقد ہوتی ہے جس میں گاؤں کی ایک تعلیم یافتہ خاتون خطاب کرتی ہے۔ ایک مسلمان خاتون کو اکثر اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنے کے لئے منع کیا جاتا ہے، لیکن شوہر اس میٹنگ کو برداشت کرتے ہیں کیونکہ خواتین نقد اور سرمایہ کاری کے خیالات کے ساتھ واپس آتی ہیں۔

میں نے مائکرو فائنانس میں کئی دہائیوں تک کام کیا ہے اور شدید مشکلات کے باوجود میں غربت سے لڑنے میں غریب خواتین کی جرات اور ثابت قدمی پر حیران ہوں۔ جب میں نے بینک مینیجر کے طور پر یہ پروگرام شروع کیا تو مجھے مقامی مذہبی رہنماؤں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھے کہ ان کی خواتین کسی مرد سرپرست کے بغیر میٹنگ میں شرکت کر سکتی ہیں۔ کچھ ایسے تھے جنہیں یہ لگتا تھا کہ چونکہ میں مرد ہوں اسی لئے مجھے خواتین کے ساتھ بات چیت کرنے کا کوئی مذہب جواز حاصل نہیں ہے۔ میں نے گاؤں کے بزرگوں کو اس بات کی یقین دہانی کی کہ اگر ان کی خواتین لاعلم رہ جاتی ہیں تو ان کے بچوں کا بھی یہی انجام ہوگا۔ میرے سامنے بہت سے چیلنجز تھے اور سب سے پہلا چیلنج یہ تھا کہ ایک عورت کو قرض لینے پر کس طرح قائل کیا جائے تاکہ وہ اپنے کاروبار میں اس کی سرمایہ کاری کریں اور اس کے بعد اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لئے کوئی مالیاتی فیصلہ لے سکیں؟ ابتدائی مزاحمت کے بعد گاؤں کے بڑے بزرگوں نے اس پر اپنی رضامندی ظاہر کی۔

سب سے پہلے میں نے مشرقی مہاراشٹر میں چرکھاٹی گاؤں کی ایک خاتون شکیلہ کو اس کی پیشکش کی۔ اس نے سوچا کہ اپنے ظالم شوہر کے ساتھ جہنم نشاں زندگی گزارنے سے بہتر ہے کہ یہ راستہ اختیار کیا جائے جو تمباکو نوشی اور قماربازی میں ساری جمع پونجی کو اڑاتا ہے۔ اس کے پاس آگے بڑھنے کے لئے اور کچھ نہیں تھا اور اسے اس کی پوری زندگی اسی طرح محرومی اور بدقسمتی سے بھری ہوئی نظر آ رہی تھی۔ غربت اور معاشرے کے احترام کے خوف نے بے شمار خواتین کو ظالمانہ رشتہ ازدواج میں باندھ رکھا تھا اور انہیں ان کے بچوں کی نگرانی بھی کھونے کا اندیشہ تھا۔ انسان کی گرفت سے باہر حقیقتوں پر مبنی زندگی میں ایک شناخت قائم کرنے کے امکانات کم ہی ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود خاص طور پر شکیلہ کی ایمانداری کے چرچے نے لوگوں کو اس کا قائل کر دیا۔ ایک گاؤں میں جہاں ایمانداری ناپید تھی میں ایک ایسی عورت کو دیکھ کر بےحد مسرور تھا کہ ایمانداری جس کی ایک واحد دولت تھی۔

شکیلہ بینک اور اس کے مینیجر سے اپنی توقعات کے حوالے سے بہت ہی پرجوش تھی ، لیکن اس کے شوہر نے نادانی قرار دیکر اس کے اس خیال کی تردید کرنے کی کوشش کی کہ حقیقۃ کوئی بینک ان کی مدد کرسکتا ہے۔ ان کے شوہر نے کہا کہ "میں بینک کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں کرنا چاہتا" اور اس طرح اس نے اپنی بیوی سے کسی بھی طرح کے اپنے تعاون کا ہاتھ اٹھا لیا کیوں کہ اس کا ماننا تھا کہ وہ کسی فرضی بینک کے ہاتھوں دھوکے کا شکار ہونے والی ہے۔

جب میں نے پہلی مرتبہ اسے قرض کی پیشکش کی تو شکیلہ بالکل خوف زدہ تھی۔ مجھے اس پر بہت افسوس ہوا اور میں اس نے کہا کہ وہ مجھ پر یقین رکھے اور اگر وہ اس قرض کی مناسب طریقے سے سرمایہ کاری کرنے میں سنجیدہ کوشش کرتی ہے اور اس کے بعد بھی منافع حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو ہم اسے وصول کرنے کے لئے اس کے دیگر حوائج زندگی سے محروم نہیں کریں گے۔ شکیلہ کے ایماندار چہرے پر ابھی تک ناامید کی شکن موجود تھی۔ شکیلہ نے اپنے سر کو کھجلایا ، فوری طور پر دماغ میں کچھ حساب کتاب کیا اور قرض لیکر ایک کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔

کسی لالچ نہیں بلکہ اپنے بچوں کو ایک بہتر زندگی دینے اور اور حتی المقدور اچھی زندگی بسر کرنے کی نیت سے شکیلہ نے ایک کوشش کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن چونکہ اس سے قطع نظر کہ وہ دوسرا قدم بڑھا سکے گی یا نہیں اس نے پہلا قدم بڑھانے کا فیصلہ کیا اور اس فیصلے نے اس کی زندگی کو بدل دیا۔

شکیلہ نے غالبا اپنی ماں اور دادی سے صرف ایک سوئی اور دھاگہ سے سیلائی کرنا سیکھا تھا۔ نیز درزی کی دکانوں سے گزرتے ہوئے اس نے کام کرتے ہوئے انہیں دیکھنے میں بہت وقت گزارا تھا۔ کئی سالوں سے وہ ان کے لئے ٹکڑے میں کام کر رہی تھی جس سے اسے بہت مختصر منافع حاصل ہوتا تھا۔ لیکن اس نے ایک مقامی کریڈٹ ایجنسی سے 15 ہزار روپے کا پہلا قرض لیا۔ جس سے اس نے دو استعمال شدہ الیکٹرک سلائی مشینیں خریدی اور ایک دوکان قائم کی۔

شکیلہ کی نئی سلائی مشینوں نے اس کی پیداوار کو دوگنا کر دیا اور اب وہ اوسطاً 8-9 چولیاں روزانہ تیار کرتی ہے ۔ اس نے دسمبر کے موسم میں بازار کے مطالبات کو پورا کرنے میں اپنی مدد کے لئے ایک شخص کو ملازمت پر بھی رکھا ہے ، جب سردی بڑھتی ہے تو بِکری بھی کم ہو جاتی ہے۔ ایک اور قرض لیکر شکیلہ قریبی رٹیلر کے بجائے تھوک فروشوں سے بڑی مقدار میں دھاگے، ستارے، موتیاں اور دیگر ساز و سامان خرید کر اپنا منافع بڑھانے اور وقت بچانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

شکیلہ نرم مزاج ہے لیکن وہ خاموشی کی زبان بولنے میں اچھی طرح ماہر ہے۔ ایک کاروباری خاتون ہونے کے باوجود، شکیلہ ایک تقویٰ شعار مسلم ہے اور ہمیشہ حجاب کا التزام کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے "میں پردہ اس لئے کرتی ہوں کیونکہ اس سے مجھے سکون ملتا ہے۔ اور یہ روحانی سکون کا بھی باعث ہے۔ یہ میری شناخت ہے اور میرے ایمان کا گواہ ہے۔ جب میں حجاب پہنتی تو میں پر اعتماد محسوس کرتی ہوں، اور مجھے اپنے وجود کا احساس ہوتا ہے، میں ہمیشہ سے ایسی ہی ہوں۔ میرے حجاب نے مجھے کبھی بھی کسی کام سے نہیں روکا ہے ، اور اسی کی بنیاد پر میں لوگوں کی غلط نگاہوں اور طعنوں کو اپنے قریب تک نہیں آنے دیتی۔"

اب شکیلہ گاؤں کی ایک منتخب رہنما بن چکی ہے جو کہ ایک مسلم عورت کے لئے ایک نادر و نایاب بات ہے۔ آج، شکیلہ دیگر خواتین کے لئے مشیر ہیں۔ مزاحمت ختم ہوئی اور اب وہ گاؤں میں ہر فرد کے لئے مرکز توجہ ہے۔ مالیاتی حساب وکتاب میں اس کی مہارت غیر معمولی ہے۔ وہ اور اس کے گاؤں کی خود کفیل دیگر 30 خواتین کی جماعت نے مقامی شراب کی دکان کو اپنے گاؤں سے باہر کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ وہ اپنے لباس میں فخر کے ساتھ چلتی ہیں – جوکہ ہی جیسی ساڑیاں ہیں جو انہوں نے مشترکہ طور پر کمائے ہوئے اپنے پیسوں سے خریدا ہے۔

میں حال ہی میں اس کے گاؤں گیا تھا اور اس نے وہاں جو تبدیلی پیدا کی ہے وہ میرے لئے حیران کن تھی۔ وہاں اب ایک بینک ہے، ایک اسکول ہے، خواتین گھر سے باہر نکلتی ہیں اور صفائی کے نظام اور سبزیوں کے باغات جیسے گاؤں کے لئے فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے چھوٹے کاروبار شروع کر دئے ہیں۔ لوگ زیادہ غذائی خوراک کھاتے ہیں؛ وہ مچھروں سے بچنے کے لئے مچھردانی اور دیگر مدافعتی ترکیبیں استعمال کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے خاندان کو تحفظ دینے کے لئے انہیں پانی کو ابال کر ہی پینا چاہئے۔ اس سے بھی زیادہ قابل ذکر وہ سماجی تبدیلی ہے جو اس تحریک سے پیدا ہوئی ہے۔ کوئی شراب نہیں پیتا۔ صرف چند لوگ ہی دھواں کشی کرتے ہیں۔ یہاں کئی سالوں میں کوئی جرم نہیں انجام دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ چھواچھوت کا عمل بھی کمزور ہوا ہے۔ اب یہ گاؤں بہت خوشحال ہے۔ یہاں دیہی جدیدیت کے نشانات بہت قریب ہیں۔

شکیلہ کی یہ چھوٹی سی کہانی اولاً، ایک سامع کے اندر تھوڑی دلچسپی پیدا کرتی ہے۔ تاہم اگر بازاروں، جھگی جھوپڑیوں، قصبوں اور گاؤں میں بار بار اس کا اعادہ کیا جائے تو یہ انسانی قوت ارادی ، پرعزم استقامت اور ایسے بے شمار لوگوں کی عظمت اور وقار کی مضبوط اور حوصلہ بخش کہانی معلوم ہوگی جو غربت سے بچنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے مرد کو کافی حساس ہونا پڑے گا تاکہ خواتین کو وقت اور آزادی حاصل ہو اور انہیں سماجی اور اقتصادی آزادی کا راستہ تلاش کرنے کا موقع مل سکے۔ عورتوں کو ان کا پیدائشی وقار عطا کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ انہیں کامیابی حاصل کرنے کا یکساں موقع حاصل ہو قرآن کے اس نقطہ نظر کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے، "اے ایمان والو! عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے۔" (4:135)۔

اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مسلم خواتین کی فلاح و بہبودی خارجی طور پر ایک ثقافت کے اوپر عائد نہیں کی جا سکتی۔ اس قدامت پرست معاشرے کے اندر ہی داخلی طور پر مردوں اور عورتوں کو سب سے پہلے اپنے معاشرے میں خواتین کو ان کا مکمل کردار عطا کرنے کے لئے اپنی وجوہات اور اپنا جواز تلاش کرنا چاہئے۔ زیادہ تر لوگ ان وجوہات کو اب اسلام کے اندر ہی تلاش کر رہے ہیں۔ مردوں کی طرح آزادی عورتوں کا بھی حق ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانا ایک مرد کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہونا چاہئے جتنی کہ یہ ایک عورت کی خواہش ہے۔ جیسا کہ مولانا رومی اپنی مثنوی میں کہتے ہیں ، "یہ خاتون، جو آپ کی محبوبہ ہے، درحقیقت اس کی روشنی کی ایک کرن ہے۔ وہ صرف ایک مخلوق نہیں ہے ، بلکہ اس کی مثال ایک خالق کی مانند ہے "۔

آج کی بڑھتی ہوئی عالمی دنیا میں امکانات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ ایسے معاشرے جو خواتین کے تعلیمی اور روزگار کے مواقع کو محدود کرتے ہیں اور جن کی سیاسی آواز مائل بہ پستی ہوتی ہے وہ زیادہ غریب ہیں، زیادہ کمزور ہیں، بدعنوانی کی سطح بہت اونچی ہے اور انتہا پسندی کا شکار ہیں۔

اصلاح پسند نظریات کے مخالفین کے لئے میں علامہ اقبال کا یہ قول پیش کرنا چاہوں گا: " قرآن کی یہ تعلیم کہ زندگی ترقیاتی تخلیق کا ایک عمل ہے، اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ ہر نسل کو، ہدایت یافتہ لیکن اس کے پیشواوں کے کارناموں سے بلا مزاحمت ، چاہئے کہ اسے اپنے مسائل کو خود حل کرنے کی اجازت دی جائے۔"

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/moin-qazi,-new-age-islam/empowering-muslim-women-for-a-better-tomorrow/d/112132

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/empowering-muslim-women-for-a-better-tomorrow--ایک-بہتر-مستقبل-کے-لئے-مسلم-خواتین-کو-بااختیار-بنانا/d/113612

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..