New Age Islam
Mon Apr 19 2021, 07:07 PM

Urdu Section ( 16 Oct 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Suicide: The Worst Sin, the Worst Crime خودکشی: بدترین گناہ، بدترین جرم


محمد تنویر شعیبی

16اکتوبر،2020

زندگی ایک عظیم نعمت اور ایک عظیم امانت ہے،مبارک ہیں وہ لوگ جو اس کی قدر اور حفاظت کرتے ہیں اور اسے اللہ کی بندگی میں لگاتے ہیں،لیکن بد قسمتی سے آج ہمارے معاشرے اور خصوصاً ہمارے مسلم سماج میں ایسے لوگوںکی کمی نہیں، جو زندگی کا اصل مقصد اور دنیا میں بھیجے جانے کی ذمہ داریاں بھول چکے ہیں اور زندگی کا مرتبہ ان کی نگاہوں سے یکسر اوجھل ہو چکا ہے۔انہیں یہ شاید یاد ہی نہیں کہ زندگی ایک ایسی بیش بہا دولت ہے جو انہیں بن مانگے ملی ہے اور لطف یہ کہ ایمان و اسلام کی دولت کے ساتھ ملی ہے۔یہ جسم و جان اصل میں ہمارے پاس ہمارے رب کی دی ہوئی سب سے پہلی امانت ہے۔یہ جسم جو اللہ نے ہمیں دیا ہے اس سے بڑھ کر اس دنیا میں کوئی چیز نہیں، اس کے بعد خدا کی یہ زمین اور یہ پوری کائنات اور اس پر حاصل اختیارات یہ سب امانت ہیں اور پھر انسانی تعلقات بلکہ خدائے پاک کی تمام مخلوقات کے ساتھ تعلقات بھی امانتیں ہی امانتیں ہیں اور اعتماد و امانت داری ہی پر اس دنیا کا سارا انتظام کھڑا ہے،اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ’’جان ہے تو جہان ہے۔‘‘ سچ مچ کتنے بد بخت اور کیسی نا شکری ، کیسی غیر ذمہ داری اور کیسی خیانت کرنے والے ہیں وہ لوگ ،جو شراب اور طرح طرح کی نشہ آور چیزوں کے استعمال سے اپنی صحت بگاڑ لیتے ہیں اور اپنی لاپرواہی سے اپنا جسم عیب دار بنالیتے ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی ختم کر دیتے ہیں۔

خودکشی یعنی اپنے آپ کو خود ہی کسی طرح مارڈالنا بظاہر ایک عمل دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک خفیہ منصوبہ بند اور بسا اوقات اعلانیہ اضطراری ردّعمل ہوتا ہے اور اتنا خوفناک کہ اگر یہ ناکام بھی ہو جائے تو اپنے اثر سے زندہ درگور، اپاہج، معذور و مریض اور خاندان، پڑوس اور سماج میں سدا کے لئے نکو، بے اعتبار اور ذلیل بنا کر رکھ دیتا ہے۔ خود کشی کی کوشش سے بچ جانے والوں یا بچا لئے جانے والوں کو سماج کبھی معاف نہیں کرتا، معصوم و مظلوم نہیں سمجھتا بلکہ ہمیشہ ہی شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان سے اسی طرح ہوشیار رہتا اور دور بھاگتا ہے، جس طرح کسی ظالم، قاتل، وحشی اور جنونی شخص سے پناہ مانگتا ہے۔خودکشی کا ارتکاب کرنے والے لوگ یقینا حرام موت کو گلے لگانے والے لوگ ہیں جس پر نہ صرف یہ کہ قرآن و حدیث میں سخت وعید آئی ہے بلکہ عالمی قوانین میں بھی اسے بدترین جرم کہا گیا ہے۔قرآن کریم کا صاف حکم و اعلان ہے کہ’’اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے۔‘‘اس ارشاد ربانی سے خود کشی کا اُخروی انجام بھی معلوم ہوا اور بالواسطہ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت کا یقین اور اس کے غیض و غضب پر اعتماد کا اُٹھ جانا ہی اس بدترین گناہ کا محرک ہوتا ہے۔ایک اور مقام پر فرمایا گیا ہے’اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں مت پڑو۔‘

اسلام میں صرف ایسا نہیںہے کہ حرام موت سے منع کیا گیا اور اس پر جہنم کی وعید سنائی گئی ہے بلکہ موت کی دعا مانگنے یعنی ایسا قدم اٹھانے میں اللہ سے مدد طلب کرنے کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔زندگی جبر نہیں اللہ کی عطا ہے اور ہمیں اس سے اس عطا کو واپس لے لینے کی التجا کا حق بھی نہیں ملا ہے تو پھر ظاہر ہے کہ زندگی کے معاملے میں ایک شخص کو اپنے فیصلہ خود کرنے کا حق کیوں کر مل سکتا ہے۔بیشک موت کا حق اپنے ہاتھ میں لینا اور موت کو زندگی پر ترجیح دینا بدترین انسانی اور اسلامی جرم ہے ۔  خود کشی کا رحجان ہر عمر ہر طبقے اور ہر معاشرے میں کم و بیش مل جاتا ہے۔ البتہ ماہرین کے مطابق پندرہ سے چوبیس سال کی عمر یا پینتالیس سال سے اوپر کی عمر والے زیادہ خودکشی کرتے ہیں۔مردوں کے یہاں یہ کوشش کم، مگر موت زیادہ اور عورتوں میںیہ کوشش زیادہ اور موت کم ہوتی ہے،طلاق شدہ، تنہا زندگی گزارنے والی اور دوسروں کی توجہ لینے کے لئے جذباتی عورتیں اکثر ایسا قدم اٹھاتی ہیں۔ذہنی طور سے کمزور، جسمانی لحاظ سے معذور، یاسیت، تنہائی ، محرومی اور مسلسل ناکامی و نامرادی کے شکار اور منفی سوچ رکھنے والے افراد عموماً خودکشی کے زیادہ مرتکب ہوتے ہیں۔تجزیہ کاروں نے شدید احساس شکست، سخت پچھتاوے، اپنی موت سے مسئلہ کے حل پر اعتماد جیسی باتوں کو بھی خودکشی کی نفسیاتی وجہ بتایا ہے اور کہا ہے کہ اداسی کی بیماری، جنوں یعنی سکز و فرینیا کا مرض، محبت میں ناکامی، لاعلاج مرض میں مبتلا ہونا، نشہ خوری، سماجی بائیکاٹ کا سامنا، عزت پر حملہ، جھوٹا الزام، ملازمت سے برطرفی، دوسروں کے سامنے بے عزتی، مشکل ازدواجی زندگی، امتحان میں ناکامی یا ناکامی کا خوف یا کسی قسم کے کھیل یا مقابلے میں ہارنے یا ہار جانے کا ڈر، اور گہری ذہنی کشمکش بھی خود کشی کی وجوہات میں شامل ہے۔اسی طرح جذباتیت، گھبراہٹ، اداسی و بے چہرگی، برداشت کے مادے کا فقدان، بزدلی، کم ہمتی، گھریلو الجھن، شادی میں تاخیر یا بے جوڑ شادی، بیوی یا کسی اور کی خاص بیوفائی، انتہائی ہتک عزتی، سماج کے لعن و طعن اور بدنامی کا خوف،مسلسل غربت و افلاس، فاقہ کشی، غصہ، ضد، ہٹ دھرمی، خود اذیتی کا رحجان،مطلوبہ بالا دستی یا مفروضہ مستقبل کے حصول میں ناکامی ، بیکاری و بے روز گاری اور آج کے دور میں انٹرنیٹ، موبائل اور بہت سارے غلط قسم کے ٹی وی سیریل دیکھتے رہنا اور نوعمر لڑکے لڑکیوں کا اس سے متاثر ہونا اور اس کی نقل اُتارنا بھی خود کشی تک پہنچاتا ہے۔

یہ سب کچھ اپنی جگہ ،لیکن سوال یہ ہے کہ آج کے سماج میں خودکشی کی وارداتوں میں جو اضافہ دیکھا جا رہا ہے، آئے دن جس طرح خود کشی کی خبریں پڑھنے اور سننے کو مل رہی ہیں، اس کا اصولی اور احتیاطی حل کیاہو سکتا ہے اور اس معاملے میں اسلامی تعلیمات سے کس طرح رہ نمائی مل سکتی ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ آخرت کے عذاب کا خوف، امانت میں خیانت کا احساس، والدین کی اطاعت کا جذبہ، ایمان کی مضبوطی، صبر و شکر اور برداشت کا مادہ، تدبیر کے ساتھ تقدیر پر بھروسہ، توکل و قناعت پسندی، راضی بہ رضا رہنے کی صفت، ذکر الٰہی سے ذہنی آسودگی اور سکون کا حصول، قدرتی مناظر سے رغبت، حرص و ہوس سے دوری، اللہ کی رزاقی اور اس کے وعدوں پر اعتماد، حلال و حرام کی تمیز ہمیں اس بدترین گناہ کا مرتکب ہونے سے یقینا بچائے رکھ سکتی ہے۔خود کشی کے مبینہ اسباب و محرکات بتارہے ہیں کہ اسلام میں ان کے انسداد کی راہیں کھلی ہیں، مثلاً یہاں احتسابِ ذات، احتسابِ عمل اور احتساب قوت پر زور دیا گیا ہے۔ غصہ کو حرام ،جلد بازی کو شیطان کا کام بتایا گیا اور طلاق کو مکروہ ترین عمل کہا گیا ہے اور جھوٹ، شراب اورکسی بھی طرح کی نشہ بازی سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے ساتھ ہی ساتھ اہل و عیال اور ملازمین کے حقوق ادا کرنے،افلاس سے پناہ مانگنے، محنت سے کمانے کی ہدایت اور حسب ضرورت ’عزل‘ سے کام لینے یعنی عورت ، خصوصاً بیوی کی صحت کا خیال رکھنے اور اس کے لئے اپنی خواہش میں احتیاط برتنے کے احکامات موجود ہیں، نوجوانوں کو بروقت نکاح کی رغبت دلائی گئی ہے، نکاح بیوگان کا ثواب بتایا گیا ہے، مطلقہ عورتوں کے لئے نکاح ثانی کی راہ کھلی رکھی گئی ہے اور نوجوانی کی عبادت کو بہترین کہا گیا ہے۔نماز و صبر سے مدد کی تلقین کی گئی ہے اور توبہ و احتساب نفس کی تعلیم دی گئی ہے جو یقینا خود کشی کے مسائل کا حل دکھاتی ہے۔مذہبی احکامات و ہدایات کے دائرے اور فائدے اپنی جگہ، مگر ان کا اثر بہر صورت ان پر انفرادی اور اجتماعی عمل سے ہی ظاہر ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس تناظر میں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اسلامی نہج پر افراد کی تربیت، ان کی ذہنی سازی، ان کی عادتوں پر نظر رکھنا اور معاشرے کی خود ساختہ برائیوں کا خاتمہ، ہماری وہ ذمہ داری ہے جسے پورا کئے بغیر خود کشی کے بڑھتے رحجان کو کم کرنے کی صرف باتیں اور تمنائیں کی جا سکتی ہیں،ان کا پھل نہیں دیکھا جا سکتا۔

16اکتوبر،2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/mohammad-tanweer-shoaibi/suicide-the-worst-sin-the-worst-crime-خودکشی-بدترین-گناہ،-بدترین-جرم/d/123168


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..