New Age Islam
Tue Oct 27 2020, 04:29 AM

Urdu Section ( 5 March 2018, NewAgeIslam.Com)

Triple Talaq and God's Commands طلاق ثلاثہ’اور احکام خداوندی

 

محمد نور عالم اعظمی

5مارچ،2018

پچھلے دنوں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں انتہائی خدا لگتی بات کہی کہ شیعہ یا سنی نام کا کوئی دین نہیں ۔ ہمارا دین ہے جو اسلام ہے۔ اس کینوس کو ذرا اور بڑا کرلیں تو دیوبندی، بریلوی، حنبلی ،شافعی یا مالکی ،حنفی نام کا بھی کوئی دین نہیں ہے۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کا بس ایک ہی دین ہے جو کہ اسلام ہے لیکن آج ہم مختلف فرقوں میں بٹ گئے ہیں او رہر فرقے او رمسلک کو حب رسول اورعشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ ہے۔ حالانکہ قرآن کہتاہے کہ ’’ بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو فرقوں میں تقسیم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی چیز میں ان سے کوئی تعلق نہیں‘‘ ( سورۃ انعام ، آیت 150) ۔ باوجود اس کے ہر فرقہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے نصیب ہونے کا بھی دعویٰ ہے۔ ہمارا حال بھی قوم اسرائیل کا سا ہو گیا ہے جن کی بابت ارشاد ربانی ہے : ’’ جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروہ گروہ ہوگئے اورہر فرقہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر ریجھ رہا ہے‘‘ (سورۃ روم آیت 32)۔جب کہ ہمارا ایک ہی خدا ہے۔ ایک ہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم او رایک ہی کتاب ہدایت قرآن مجید ہے تو یقیناًہماری ساری ذلت و خواری کی اصل وجہ بھی ہماری قرآن سے دوری ہی ہے۔

آج ہم ہدایت او ررہنمائی کے لیے قرآن کا سہارا لینے کے بجائے اپنے اپنے فرقہ اور مسلک کی کتابوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے خلاف کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہوتے، حالانکہ دنیا و آخرت کے تمام معاملات میں رہنمائی کے لئے قرآن میں واضح احکامات موجود ہیں لیکن عام مسلمانوں کو قرآن سے یہ کہہ کر دور رکھنے کی کوشش کی جاتی کہ قرآن کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ اس کے لئے پہلے آٹھ علوم کا ماہر ہونا ضروری ہے۔ حالانکہ ارشاد ربانی ہے : ’’ یقیناًہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے بس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا‘‘ ( سورۃ القمر، آیت 17,22,32,60) ۔قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان ہونے پر زور ڈالنے کے لئے اللہ نے اسے ایک ہی سورۃ میں چار مرتبہ دہرایا ہے۔ پھر بھی کچھ علماء اس بات پر مصر ہیں کہ قرآن کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ رہے وہ خود، تو اول تو انہیں قرآن پر غور و فکر کرنے کی توفیق ہی نہیں او رجو کرتے ہیں وہ اس سے پہلے اپنی آنکھوں پر فرقہ او رمسلک کی عینک لگانا نہیں بھولتے ۔

حالات حاضرہ میں طلاق ثلاثہ کا موضوع پورے ملک میں ہی چھایا ہوا ہے۔ موجودہ حکومت اس بہانے ہمارے پرسنل لاء میں دخل دینے کے فراق میں ہے۔ لہٰذا اس کے سدباب کے لیے ہمیں اپنے اپنے مسلک و فرقہ سے اوپر اٹھ کر قرآن کی رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ نکاح ،طلاق اور وراثت کے معاملات چونکہ ہمارے اسلامی معاشرے سے سیدھے طور پر جڑے ہوئے ہیں، لہٰذا ان تینوں معاملات سے متعلق احکامات قرآن میں نہایت تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ وراثت او رنکاح سے متعلق جہاں سورۃ نساء او رسورۃ نور میں مکمل تفصیل موجود ہے وہیں طلاق کے معاملہ کو سب سے اہم مانتے ہوئے اس کے لیے ’ سورۃ طلاق‘ نام کی ایک مکمل سورۃ قرآن میں موجود ہے۔ اس کی پہلی کچھ آیتوں کے مفہوم ملاحظہ فرمائیں۔

آیت اوّل: ’’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی امت سے کہئے ) کہ جب تم اپنی بیبیوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت (طہر کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو اور عدت کا حساب رکھو او راللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو، نہ تم انہیں ( مطلقہ عورتوں کو ) ان کے گھر سے نکالو او روہ نہ خود نکلیں ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کربٹھیں ۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناًاپنے اوپر ظلم کیا تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کردے۔‘‘

آیت دوئم: ’’ پس جب یہ عورتیں (مطلقہ ) اپنی عدت ( تین حیض ، تین مہینے ) پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعدہ کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کر دو اورآپس میں سے دو عادل کو گواہ کر لو او راللہ کی رضا کے لئے ٹھیک ٹھیک گواہی دو ۔ یہی ہے جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے او رجو شخص اللہ سے ڈرتاہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل میں نکال دیتا ہے‘‘۔

آیت چہارم: ’’ تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے نا امید ہوگئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض شروع ہی نہ ہوا ہو۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل ہے۔ او ر جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے ہر کام میں آسانی پیدا فرمادے گا‘‘۔

آیت ششم :’’ تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں ان (طلاق والی) عورتوں کو رکھو اور انہیں تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ پہنچاؤ ۔ اگر وہ حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا ہولے انہیں خرچ دیتے رہا کرو ۔ پھر اگر تمہارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو اور باہم مناسب طور پر مشورہ کرلیا کرو۔ اگر تم آپس میں کشمکش کرو تواس کے کہنے سے کوئی اور دودھ پلائے گی‘‘۔

مندرجہ بالاتر جمے سورۃ طلاق کی چار آیتوں کے ہیں جس سے کسی مسلک کسی فرقہ کو کوئی اختلاف نہیں ۔ ان کی روشنی میں چند باتیں واضح ہوجاتی ہیں۔

(1) طلاق ایک سنجیدہ فعل ہے نہ کہ جذباتی یا غصے کا لیکن تمام صورتوں میں گھر سے نہ نکالنے کی واضح ہدایت موجود ہے کہ ’’ نہ توتم انہیں نکالو او رنہ وہ خود نکلیں ‘‘( البتہ کھلی برائی کرنے کی صورت میں جس میں نہ تو گھر میں رکھے جانے کی اجازت ہے او رنہ ہی واپسی کی)۔ اب علما ء بتائیں کہ طلاق ثلاثہ کے بعد فوری گھر سے اخراج حکم خداوندی کی کیا شریح خلاف ورزی نہیں ۔

(2) مطلقہ کہ عدت کی معیاد تین مہینے بتائی گئی ہے۔ اس بیچ واپسی کی مکمل آزادی ہے خواہ طلاق تین دی گئی ہو یا تیس ۔ آیت نمبر دو ملاحظہ فرمائیں کہ قاعدہ کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دویا دستور کے مطابق الگ کردو۔

(3) طلاق ہر حال میں حالت طہر میں دی جائے نہ تو حالت حیض میں او رنہ ہی حاملہ کو ۔طہر والی کے لئے میعاد جہاں تین مہینے رکھی گئی وہیں حاملہ کو مکمل نومہینے کی چھوٹ دی گئی ( حاملہ عورتوں کہ عدت ان کی وضع حمل ہے)۔اس بیچ شاید زین و شوکی محبت جوش مارے اورگھر ٹوٹنے سے بچ جائے جس کی بابت اللہ نے فرمایا ’’ تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے گا‘‘۔

(4)مطلقہ عورت کے بارے میں واضح حکم ہوا کہ انہیں وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو ساتھ ہی اس کے بعد بھی تنبیہ کی گئی کہ انہیں تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ پہنچاؤ ۔ اگر حمل سے ہوتو خرچ پورا دو۔ وضع حمل کے بعد اگر وہ بچہ کو دودھ پلائے تو اسے اس کی اخراجات ادا کرو ( کیونکہ بچہ تمہارا ہے)۔

اللہ کے اتنے واضح احکامات کے بعد بھی کوئی آدھی رات کو طلاق دیکر اپنی بیوی کو اس کے گیارہ ماہ کے بچہ سمیت گھر سے نکال دے ( لکھنؤ کی صوفیہ پروین جیسے پچھلے دنو ں اتر پردیش کی یوگی سرکار نے اقلیتی سیل میں جگہ دی) یا ایسے نا ہنجار جو بزدلوں کی طرح Whatsappپر Massagesپر یا فون پر یا خطوط کے ذریعہ طلاق ثلاثہ کا استعمال کرے اور اس کے جواب میں میں علماء کا یہ کہنا کہ طلاق واقع ہوگئی او رمسلم مرد کو اس کا حق حاصل ہے تو ان سے بڑا جاہل اور خدا کا باغی اور کون ہوگا۔ اور ایسے ناہنجاروں کو جب سزا دینے کی بات کی جائے تو اسے مداخلت فی الدین کا نام دیا جائے تو ایسی عقل پر ماتم کرنے کے علاوہ کیا کیا جاسکتا ہے ۔ زیادہ حیرت کی بات تو یہ ہے کی پرسنل لاء بورڈ کی خواتین ممبران اپنی بہنو ں او ربیٹیوں کے ساتھ ہونے والے اس ظلم پر مہر بہ لب ہیں ۔

رہی بات طلاق ثلاثہ کی تو سارے ہی علماء اس بات پر متفق ہیں کہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور مکمل دورِ خلافت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دو سال خلافت حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک ایک نشست کی تمام طلاقیں ایک گنی جاتی رہی ہیں ۔ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی ابورکانہ رضی اللہ عنہ کا جنہوں نے اپنی اہلیہ کو ایک نشست میں تین طلاق دی تھیں انہیں رجوع کرلینے کا حکم دیا تھا، لیکن المیہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو حنفی کہلانے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو درکنار کر کے طلاق ثلاثہ کو تین مانتے ہوئے زوجین کو فوری طور پر الگ کردینے پر مصر ہیں اور اللہ کے کوئی نئی بات پیدا کر دینے کا انتظار بھی کرنا گوارہ نہیں کرتے۔

اب یہ فیصلہ ہم جیسے عام مسلمانوں کو خود کرنا ہوگا کہ ہم قرآن کے احکامات اور اسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرینگے یا دین کے ان خود ساختہ ٹھیکیداروں کی جنہوں نے دین کو نہ صرف کھیل تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے بلکہ اسے اپنی روزی روٹی کا ذریعہ بھی ۔

5مارچ،2018 بشکریہ : روز نامہ اخبار مشرق، کلکتہ

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/mohammad-noor-alam-azmi/triple-talaq-and-god-s-commands-طلاق-ثلاثہ’اور-احکام-خداوندی/d/114487

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..