New Age Islam
Tue Jun 22 2021, 06:44 AM

Urdu Section ( 28 Apr 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Method of Offering Salat-ut-Tasbeeh Namaz; Its Importance and Virtue صلاۃ التسبیح: اہمیت وفضیلت اور پڑھنے کا طریقہ

محمد نجیب قاسمی سنبھلی، نیو ایج اسلام

29 اپریل 2021

قیامت تک آنے والے سارے انس وجن کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم   کے ارشادات میں صلاۃ التسبیح پڑھنے کی خاص فضیلت وارد ہوئی ہے اور وہ فضیلت یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سابقہ گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے۔ صلاۃ التسبیح سے متعلق یہ مختصر مضمون تحریر کررہا ہوں تاکہ ہم حسب سہولت اس نماز کی بھی ادائیگی کرلیا کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وجہ تسمیہ: اس نماز میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کثرت سے بیان کی جاتی ہے اس لئے اس نماز کو صلاۃ التسبیح کہا جاتا ہے ۔ سُبْحَانَ الله وَالْحَمْدُ لله وَلاإله إلَّا اللّه وَاللّه اَکْبَرکہنا اللہ تعالیٰ کی تسبیح ہے۔ اس نماز کی ہر رکعت میں یہ کلمات ۷۵ مرتبہ پڑھے جاتے ہیں، اس طرح چار رکعت پر مشتمل اس نماز میں ۳۰۰ مرتبہ تسبیح پڑھی جاتی ہے۔

صلاۃ التسبیح کی شرعی دلیل:

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے میرے چچا عباس! کیا میں تمہیں ایک تحفہ، ایک انعام اور ایک بھلائی یعنی ایسی دس خصلتیں نہ بتاؤں کہ اگر آپ ان پر عمل کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کے سارے گناہ پہلے اور بعد کے، نئے اور پرانے، دانستہ اور نادانستہ، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر سب معاف فرمادے۔ وہ دس خصلتیں (باتیں) یہ ہیں کہ آپ چار رکعت نماز ادا کریں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور ایک سورۃ پڑھیں۔ جب آپ پہلی رکعت میں قراء ت سے فارغ ہوجائیں تو قیام ہی کی حالت میں پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھیں (سُبْحَانَ الله وَالْحَمْدُ لله وَلاإله إلَّا اللّه وَاللّه اَکْبَر) پھر رکوع کریں، (سُبْحَانَ رَبّی الْعَظِیم کہنے کے بعد) رکوع ہی میں دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں۔ پھر رکوع سے سر اٹھائیں اور (قومہ کے کلمات ادا کرنے کے بعد پھر) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ اس کے بعد سجدہ کریں ( سجدہ میں سُبْحَانَ رَبّی الْاعْلٰی کہنے کے بعد) دس مرتبہ پھر یہی تسبیح پڑھیں۔ پھر سجدہ سے اٹھ کر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں۔ دوسرے سجدہ میں جاکر (سُبْحَانَ رَبّی الْاعْلٰی کہنے کے بعد) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ اس طرح ایک رکعت میں تسبیحات کی کل تعداد پچھتر (۷۵) ہوگئی۔ چاروں رکعتوں میں آپ یہی عمل دہرائیں۔

اے میرے چچا ! اگر آپ ہر روز ایک مرتبہ صلاۃ التسبیح پڑھ سکتے ہیں تو پڑھ لیں۔ اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں۔ اگر ہفتہ میں بھی نہ پڑھ سکیں تو پھر ہر مہینہ میں ایک مرتبہ پڑھ لیں۔ اگر مہینے میں بھی نہ پڑھ سکیں تو ہر سال میں ایک مرتبہ پڑھ لیں۔ اگر سال میں بھی ایک بار نہ پڑھ سکیں تو ساری زندگی میں ایک بار پڑھ لیں۔

)سنن ابوداود ج۱ ص ۱۹۰ باب صلوٰۃ التسبیح۔ جامع الترمذی ج۱ ص ۱۰۹ باب ما جاء فی صلوٰۃ التسبیح۔ سنن ابن ماجہ ج۱ ص ۹۹باب ماجاء فی صلوٰۃ التسبیح۔ الترغیب والترھیب للمنذری ج۱ ص ۲۶۸ الترغیب فی صلوٰۃ التسبیح(

نوٹ: یہ حدیث حدیث کی بیسیوں کتابوں میں مذکور ہے مگر اختصار کے مدنظر صرف ۴ کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

ایک دوسرا طریقہ بھی صلاۃ التسبیح کے متعلق مروی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ثناء پڑھنے کے بعد مذکورہ تسبیح پندرہ مرتبہ پڑھی جائے، پھر رکوع سے پہلے، رکوع کی حالت میں، رکوع کے بعد، سجدہ اولیٰ میں، سجدہ کے بعد بیٹھنے کی حالت میں، پھر دوسرے سجدہ میں دس دس بار پڑھی جائے۔ پھر دوسرے سجدہ کے بعد نہ بیٹھیں بلکہ کھڑے ہوجائیں۔ باقی ترتیب وہی ہے۔

(جامع الترمذی ج ۱ ص ۱۰۹ باب ماجاء فی صلوٰۃ التسبیح۔ الترغیب والترہیب للمنذری ج۱ ص ۲۶۹ الترغیب فی صلاۃ التسبیح)

اس حدیث کے فوائد:

اس حدیث میں صلاۃ التسبیح کی فضیلت کا بیان، اسکی تعداد رکعت کا ذکر اور نماز کی کیفیت کا بیان ہوا، نیز اس نماز کو وقتاً فوقتاً پڑھنے کا استحباب بھی معلوم ہوا۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی عزت افزائی ہوئی۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کو امت مسلمہ کی کتنی فکر رہا کرتی تھی۔

اس حدیث سے شریعت اسلامیہ کے ایک اہم اصول (نیکیاں گناہوں کو مٹاتی ہیں)کی تایید ہوتی ہے۔

صلاۃ التسبیح کی اہم فضیلت سابقہ گناہوں کی مغفرت:

صلاۃ التسبیح سے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس نماز کے پڑھنے کی برکت سے سارے گناہ پہلے اور بعد کے، نئے اور پرانے، دانستہ اور نادانستہ، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر سب معاف فرمادیتا ہے۔ یقیناًہم گناہ گار ہیں، ہمیں اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کے ساتھ وقتاً فوقتاً صلاۃ التسبیح کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ ہمارے گناہ معاف ہوجائیں۔ گناہوں کی معافی میں نماز کا بڑا اثر ہے، چنانچہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا اور وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے پاس آیا اور اس نے اپنے گناہ کے ارتکاب کا اقرار کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (دن کے دونوں سروں میں نماز قائم رکھ اور رات کے کچھ حصہ میں بھی۔ یقیناًنیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں) (سورۃ ہود ۱۱۴) تو اس شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   سے فرمایا کہ یہ صرف میرے لئے ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے ارشا د فرمایا : یہ فضیلت میری پوری امت کے لئے ہے۔ شریعت کا اصول (نیکیوں سے گناہ مٹتے ہیں) ایک شخص کے واقعہ پر نازل ہوا مگر قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے ہے۔ اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کا ارشاد ہے کہ پانچوں نمازیں، جمعہ کی نماز پچھلے جمعہ کی نماز تک اور رمضان کے روزے پچھلے رمضان تک درمیانی اوقات کے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں جبکہ ان اعمال کو کرنے والا بڑے گناہوں سے بچے۔ (صحیح مسلم) غرضیکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ نماز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ گناہوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ نیز متعدد احادیث میں وارد ہے کہ ذکر کے ذریعہ اللہ تعالیٰ گناہوں کی مغفرت فرماتا ہے اور صلاۃ التسبیح میں وارد (سُبْحَانَ الله وَالْحَمْدُ لله وَلاإله إلَّا اللّه وَاللّه اَکْبَر)  ذکر ہی تو ہے۔ غرضیکہ نماز سے سابقہ گناہوں کی مغفرت کا ہونا ایسا امر ہے جو قرآن وسنت سے ثابت ہے۔صلاۃ التسبیح بھی ایک نماز ہے، لہذا اس کے ذریعہ سابقہ گناہوں کی مغفرت پر کوئی شک وشبہ نہیں ہونا چاہئے۔

سلف صالحین کا صلاۃ التسبیح کا اہتمام:

مشہور ومعروف محدث امام بیہقی ؒ (۳۸۴ھ۔۴۵۸ھ)نے حدیث کی مشہور کتاب (شعب الایمان ۱ /۲۴۷) میں تحریر کیا ہے کہ امام حدیث شیخ عبداللہ بن مبارک ؒ (۱۱۸ھ ۔۱۸۱ھ) صلاۃ التسبیح پڑھا کرتے تھے اور دیگر سلف صالحین بھی اہتمام کرتے تھے۔ اس موضوع پر زمانہ قدیم سے محدثین ، مفسرین، فقہاء وعلماء نے متعدد کتابیں تحریر فرماکر صلاۃ التسبیح کے صحیح ہونے کے متعدد دلائل ذکر فرمائے ہیں، جن میں سے امام حافظ ابوبکر خطیب بغدادیؒ (۳۹۲ھ۔۴۶۳ھ) کی کتاب (ذکر صلاۃ التسبیح) کافی اہم ہے۔

صلاۃ التسبیح کا وقت:

اس نماز کے لئے کوئی وقت نہیں ہے ، دن یا رات میں جب چاہیں ادا کرسکتے ہیں سوائے اُن اوقات کے جن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے خود وضاحت فرمادی ہے کہ اگر آپ ہر روز ایک مرتبہ نماز تسبیح پڑھ سکتے ہیں تو پڑھیں۔ اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھیں۔ اگر ہفتہ میں بھی نہ پڑھ سکیں تو پھر ہر مہینہ میں ایک مرتبہ پڑھیں۔ اگر مہینے میں بھی نہ پڑھ سکیں تو ہر سال میں ایک مرتبہ پڑھیں۔ اگر سال میں بھی ایک بار نہ پڑھ سکیں تو ساری زندگی میں ایک بار پڑھ لیں۔

صلاۃ التسبیح پڑھنے کا طریقہ:

پہلا طریقہ: جس طرح چار رکعت ادا کی جاتی ہے اسی طرح چار رکعت نماز ادا کریں۔ جب آپ پہلی رکعت میں قراء ت سے فارغ ہوجائیں تو رکوع میں جانے سے قبل قیام ہی کی حالت میں پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھیں (سُبْحَانَ الله وَالْحَمْدُ لله وَلاإله إلَّا اللّه وَاللّه اَکْبَر) پھر رکوع کریں، (سُبْحَانَ رَبّی الْعَظِیم کہنے کے بعد) رکوع ہی میں دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں۔ پھر رکوع سے سر اٹھائیں اور (قومہ کے کلمات ادا کرنے کے بعد پھر) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ اس کے بعد سجدہ کریں (سجدہ میں سُبْحَانَ رَبّی الْاعْلٰی کہنے کے بعد) دس مرتبہ پھر یہی تسبیح پڑھیں۔ پھر سجدہ سے اٹھ کر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں۔ دوسرے سجدہ میں جاکر (سُبْحَانَ رَبّی الْاعْلٰی کہنے کے بعد) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ اس طرح ایک رکعت میں تسبیحات کی کل تعداد پچھتر (۷۵) ہوگئی۔ چاروں رکعتوں میں آپ یہی عمل دہرائیں۔

دوسرا طریقہ: ثناء پڑھنے کے بعد مذکورہ تسبیح پندرہ مرتبہ پڑھی جائے، پھر رکوع سے پہلے، رکوع کی حالت میں، رکوع کے بعد، سجدہ اولیٰ میں، پہلے سجدہ کے بعد بیٹھنے کی حالت میں، پھر دوسرے سجدہ میں دس دس بار پڑھی جائے۔ پھر دوسرے سجدہ کے بعد نہ بیٹھیں بلکہ کھڑے ہوجائیں۔ باقی ترتیب وہی ہے۔

ایک شبہ کا ازالہ:

اس دور میں ایک نیا فتنہ برپا ہوا ہے کہ بعض حضرات نے شریعت کی صرف (الف ب ت) سے واقف ہوکر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد حتی کہ علماء کرام کو کافر، مشرک اور بدعتی قرار دینے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے۔ اور لوگوں کے سامنے اپنی رائے اس طرح تھوپنی شروع کردی ہے کہ جو انہوں نے یا اُن کے علماء نے سمجھا ہے صرف اور صرف وہی صحیح ہے، باقی تمام مکاتب فکر کافر، مشرک اور بدعتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے صلاۃ التسبیح سے متعلق احادیث کو ضعیف یا موضوع قرار دے کر بڑی جرأ ت سے کام لیا اور اس نماز کو ہی بدعت قراردینا شروع کردیا ہے۔ حالانکہ صلاۃ التسبیح سے متعلق احادیث حدیث کی اُن مشہور ومعروف کتابوں میں مذکور ہیں جنہیں امت مسلمہ میں زمانۂ قدیم سے ہی مقبولیت حاصل ہے، جن کو صحاح ستہ کہا جاتا ہے یعنی حدیث کی چھ صحیح کتابیں۔ اور ابتداء سے عصر حاضر تک کے ہر زمانہ کے محدثین کی ایک جماعت نے ان احادیث کو صحیح قرار دیا ہے، حتی کہ عصر حاضر کے شیخ ناصر الدین البانی ؒ نے بھی ابوداود میں وارد صلاۃ التسبیح سے متعلق حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔ علماء کرام کی ایک بڑی جماعت نے شیخ ناصر الدین البانی ؒ پر متعدد اعتراضات بھی کئے ہیں کہ انہوں نے احادیث کے اتنے بڑے ذخیرہ کو ضعیف قرار دیا ہے کہ تدوین حدیث سے آج تک اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے، جس سے شریعت اسلامیہ کے دوسرے اہم ذریعہ پر شک وشبہ پیدا ہوتا ہے۔ نیز بڑے بڑے محدثین جن کی قرآن وحدیث کی خدمات سے قیامت تک آنے والے انسان مستفید ہوتے رہیں گے (مثلاً محمد بن اسحاق ابن مندہ، امام خطیب بغدادیؒ ، ابوبکر محمد بن منصور السمعانی ؒ ، امام منذریؒ ، ابن صلاح، امام مسلمؒ ، امام نوویؒ ، امام اسحاق بن راہویہؒ ، ابن حجر العسقلانی ؒ ، ابن حجر الہیثمیؒ ، شیخ عبداللہ بن مبارک ؒ اور علامہ احمد شاکرؒ )نے بھی صلاۃ التسبیح سے متعلق احادیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ جب محدثین کی ایک جماعت نے ان احادیث کو یا صرف ایک حدیث کو بھی صحیح قرار دیا تو پھر بھی صلاۃ التسبیح کو بدعت قرار دینے کی ہمت کرنا کوئی عقلمندی نہیں ہے، بلکہ یہ صرف اور صرف ہٹ دھرمی ہے۔ اگر کسی باب میں ایک حدیث بھی صحیح مل گئی، یا مختلف سندوں سے وارد احادیث موجود ہیں جن کی سند میں کچھ ضعف بھی ہے، تو اُس عمل کو بدعت کہنے کا کوئی حق نہیں ہے، کیونکہ بہت قوی امید ہیکہ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کا ہی فرمان ہو۔

دوسرے شبہ کا ازالہ:

بعض حضرات کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے یہ نماز صرف اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو ہی کیوں سکھائی، عمومی طور پر مسلمانوں کو اس نماز کی تعلیم کیوں نہیں دی۔ تو ہمیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرنی چاہئے کہ قرآن وحدیث کے متعدد احکام بعض انفرادی واقعات پر نازل ہوئے ہیں لیکن قیامت تک آنے والے تمام ہی انسانوں کے لئے یہ احکام ہیں۔ مثلاً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان(رمضان المبارک میں عمرہ کی ادائیگی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے ساتھ حج کی ادائیگی کے برابر ہے) ایک خاص موقع پر ایک عورت (صحابیہ) کے لئے تھا مگر قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کو یہ فضیلت حاصل ہوگی، ان شاء اللہ۔ اسی طرح صلاۃ التسبیح کی ابتدائی تعلیم حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے لئے تھی مگر قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کو اس نماز کے پڑھنے کی فضیلت حاصل ہوگی، ان شاء اللہ۔

تیسرے شبہ کا ازالہ:

بعض حضرات کہتے ہیں کہ جب صلاۃ التسبیح سے متعلق احادیث کے صحیح یا ضعیف ہونے میں اختلاف ہے تو صلاۃ التسبیح کو کیوں ادا کیا جائے بلکہ دیگر سنن ونوافل کا اہتمام کیا جائے۔ میرے بھائیو! صلاۃ التسبیح کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   سے ثابت ہونے کا ہمیں پورا یقین ہے۔ اس میں ہمارے لئے کسی طرح کا کوئی شک وشبہ نہیں ہے، اس لئے ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرمان کے مطابق حسب سہولت صلاۃ التسبیح ادا کرتے ہیں۔ آپ نہیں پڑھنا چاہتے تو نہ پڑھیں لیکن صلاۃ التسبیح کو بدعت قرار دینا خطرہ سے خالی نہیں ہے، کیونکہ بہت ممکن ہے کہ اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے قول کو ہی بدعت قرار دینا لازم آئے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کے احکام وحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے ارشادات کے مطابق زندگی گزارنے والا بنائے۔ آمین۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/mohammad-najeeb-qasmi-new-age-islam/method-offering-salat-ut-tasbeeh-namaz-its-importance-virtue-صلاۃ-التسبیح-اہمیت-وفضیلت-اور-پڑھنے-کا-طریقہ/d/124753


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..