New Age Islam
Mon Nov 29 2021, 03:20 AM

Urdu Section ( 19 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sir Syed and Urdu Journalism سر سید اور اردو صحافت

 

 

محمد جہانگیر وارثی

17 اکتوبر، 2014

ہندوستان  میں اخبار نویسی  اور خبر رسانی  کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ ہندوستان میں اردو صحافت کی باقاعدہ ابتدا مئی 1822 میں جام جہاں نما ہفتہ وار اخبار سے ہوئی ۔ اردو صحافت ، اخبار یا خبر نامہ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسری ایجاد وں کی طرح ہی اس کی تاریخ  بہت ہنگامہ  خیز رہی ہے۔ انیسویں  صدی میں ملک گیر پیمانے پر آزادی اور قومی اتحاد کے لئے جد و جہد  کا سہرا اردو صحافت ہی کے سر ہے۔ اردو کے اخبارات ہی نےجنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ اس کا ثبوت ایک نامور صحافی اور مدیر مولوی محمد باقر کی شہادت سے ملتا ہے۔ اردو اخبارات کے مدیر ان انگریزوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ۔ پریسوں پر چھاپہ مار کر تالے ڈال دیئے گئے ۔ ان سب اذیتوں کے باوجود وہ انگریزوں کے ظلم و ستم کا مردانہ وار مقابلہ کرتے رہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ دوسری زبانوں  میں اخبار بہت کم تھے اور انگریزی اخبار انگریزوں کے حامی اور ہم نوا ہوا کرتے تھے ۔ لہٰذا اردو اخبارات اور اردو صحافیوں ہی نے برطانوی سامراج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ انہوں نے سیاسی بیداری اور تحریک آزادی  میں سب سے نمایاں رول ادا کیا ۔ 1866 سے اردو صحافت کے ایک نئے دور  کا آغاز سر سید احمد خاں کے اخبار سائنٹفک سوسائٹی سے ہوا ۔ اس اخبار کا اختصاص دو لسانی  تھا ۔ اس اخبار کے توسط  سے سر سید  احمد خاں انگریزوں او رمسلمانوں کے درمیان  جو شکوک اور تعصّبات جگہ پاگئے تھے اسے دور کرنا چاہتے تھے ، تاکہ  افہام و تفہیم  کی راہ ہموار ہو اور  ترسیلی  خلا دور ہوسکے ۔

پروفیسر اصغر عباس صاحب لکھتے ہیں ‘ اس اخبار کے دو کالم رکھے گئے ۔ ایک انگریزی  میں، دوسرا اردو میں ہوتا تھا ۔ اس کا مقصد بھی یہی ہوتا تھا کہ اس کے ذریعے ہندوستانی اور انگریز ایک دوسرے کے خیالات کو سمجھیں  اور باہم ارتباط پیدا ہو۔ سرسید اپنے دو لسانی اخبار کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے خود اپنے  ایک اداریہ میں لکھتے ہیں : ‘‘ جو تعصّبات کہ آپس کی محبت اور ارتباط کے مخل ہوتےہیں ان کو دور کرے اور ان کے دلوں میں ایسا عمدہ اثر پیدا کرے کہ وہ تمام قوم جسمانی بلکہ  روحانی بھلائی و بہبودی  کے بڑے بڑے  کاموں میں اپنے آپ کو بھائی بھائی سمجھیں ۔ سر سیّد احمد خاں لندن گئے تو سائینٹفک سوسائٹی  کے سیکرٹری راجہ جے کشن داس بنا دیے گئے ۔ تنبیہہ کے طور پر ایک مکتوب میں سرسید احمد خاں کو لکھتے ہیں : ‘‘ اپنی سوسائٹی اور اخبار کی آزادی کو ہر گز ہاتھ سے جانے مت دینا۔ بعد میں برطانیہ  سے واپس آنے پر سرسید نے ایک خالص علمی جریدہ  تہذیب الاخلاق جاری کیا۔ انیسویں صدی کا نصف آخر  اردو زبان کی تاریخ کا وہ روشن زمانہ ہے جب اس پر انگریزی زبان و ادب کے اثرات مرتب ہوئے ۔ ایسی زمانے کو اردو صحافت کا دور جدید بھی کہا جاتاہے، سر سید احمد خاں، ان کے رفقاء  اور معاصرین نے ان عہد میں اردو زبان کے ہمہ جہت ارتقاء  کے لیے راہ ہموار کی اور اس کے نشو نما میں  بھر پور حصہ لیا ۔ انہیں دنوں دہلی میں اردو کے متعدد اخبار نکالے گئے ۔ انیسوی صدی کے اختتام تک زمانہ اردو میں صحافت کے فروغ اور ترقی کا زمانہ ہے۔ اس زمانے تک جہاں اردو زبان میں خود ان گنت  اصطلاحات اور تراکیب ، الفاظ نے جنم لیا وہیں غیر زبانوں کے بھی ہزاروں الفاظ ابلاغ کی ضرورتوں کے تحت ہماری زبان میں آگئے تھے ۔

خواجہ احمد فاروقی  نے دہلی اردو اخبار کے چند ابتدائی پرچوں  کا جائزہ لے کر انگریزی کے متعدد الفاظ جمع کئے جاتے تھے ۔ الفاظ جیسے پولیس ، اسٹامپ ، مجسریٹ ، لیفٹنینٹ وغیرہ وغیرہ۔ زبان اپنے تعمیری  عہد میں         دروازے کھلی رکھتی ہے اور وہ عصری  شعور کی ترجمانی  کا فریضہ اسی وقت ادا کر سکتی ہے جب ہر قسم کے تعصّبات سے بالا تر  ہوکر نئے افکار اور  عملی پیش رفت کا ساتھ دے سکے ۔ اردو میں اس نظریے کی اشاعت سب سے پہلے  سرسید کے مضامین کے ذریعے ہوئی تھی اور سر سید نے ہی ایک سائنسی  اسلوب کی بنیاد ڈالی تھی جو کہ جدید صحافت کے لیے موزوں  او رمناسب تھا ۔ اردو صحافت کے ترقی پذیر دور میں  صحافیوں  نے ان تمام باتوں کا خیال رکھا جن سےزبان کو فروغ حاصل ہو۔ سرسید نے مفید صحافتی کارنامے انجام دئے ۔ غازی پور میں انہوں نے جو سائنٹفک سوسائٹی قائم کی اسی نام سے اخبار سائنٹفک سوسائٹی بھی جاری کیا ۔ علی  گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ بھی اس کی بدلی ہوئی شکل تھی ۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے ۔ ان سب کوششوں میں اہم  اور نمایاں درجہ تہذیب الاخلاق کو حاصل ہوا کیونکہ  اس علمیت زیادہ  تھی ۔ اس کے مضامین عام اور سطحی  اخباری دلچسپی  سے زیادہ قوم کو گہرے ذہنی انقلاب کے لیے تیار کرنے میں مدد دیتے تھے ۔ سر سید احمد خاں کے بعد بھی ان  صحافیوں  نے اردو زبان کے فروغ میں حصہ لیا ، جن کے ذہنی دریچے کھلے  ہوئے تھے ۔ صحافتی  مضامین کا کمال یہ ہے کہ ان میں نہ صرف حالیہ زندگی کی نبض  دھڑکتی ہوئی محسوس  ہو بلکہ مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی بھی نشاندہی ہونی چاہیے ۔ جن صحافیوں نے اس معیار  کو پیش نظر رکھا وہ زبان کی خدمت کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی خدمت کابھی حق ادا کر گئے ۔ سرسید احمد خاں کے تہذیب الاخلاق جاری کرنے کی سب سے بڑی وجہ  یہ تھی کہ مسلمانوں کو پرانے خیالات سے نکالا جائے اور جدید  علوم  و فنون کی طرف لوگوں کو راغب کیا جائے ۔ اس کے بعد 1953 میں مولانا حسرت موہانی کا رسالہ اردو ئے معلی اسی علی گڑھ سے شائع ہوا ۔ اسی وقت  مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی لسان الصدق کےذریعے میدان صحافت میں قدم رکھا ۔

 ان دونوں  نے صحافت اور آزادی کی جد وجہد میں بے مثال قربانیاں بھی دیں ۔ مولانا آزاد نے بعد میں ہفتہ  وار الہلال  اور البلاغ جاری کیا ۔ایک بیان تو یہ بھی ہے کہ انقلاب زندہ باد کا نعرہ حسرت موہانی  کی زندہ جاوید یاد گار ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اگست 1947 تک ہندوستان میں اردو کے 548 اخبارات و جرائد شائع ہورہے تھے ۔ جب 1956 میں رجسٹرار آف نیوز پریس آف انڈیا کا قیام عمل میں آیا تو ملک بھر  میں شائع ہونے والے تمام اخبارات و رسائل  کی تفصیلات جمع کرنے اور شائع کرنے کا کام شروع ہوا۔ چنانچہ 1957 اخبار شماری کا  اولین سال تھا ۔ اس رپورٹ کے مطابق 1957 میں اردو اخباروں کی کل تعداد 513 تھی ۔ اس طرح 1983 میں جو رپورٹ شائع ہوئی اس کے مطابق 1982 میں شائع ہونے والے اردو اخبارات کی تعداد 1330 ہے، جو 1957 کے مقابلے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔  اس اعداد و شمار کو سامنے  رکھا جائے تو پتہ چلتا کہ اردو اخبار نے ہر اعتبار سے شاندار ترقی کی ہے۔ جس جدید صحافت کا خواب سر سید احمد خاں نے دیکھا تھا ، آج ہمارا ملک دیانت  دارانہ اور عادلانہ صحافت کی قدر  و قیمت  سے محروم ہوچکا ہے ، اور وہ اس حقیقت سے ناآشنا ہے کہ صحافت کو چوتھی حکومت کہا گیا ہے۔ صحافت حق گوئی اور باطل شکنی کا دوسرا نام ہے۔ یہ ایک قومی رابطہ ہے حکومت اور  عوام کے درمیان ، یہ رابطہ قومی ہونے کے ساتھ ساتھ جتنا مثبت  ، جتنا خیر پسند اور جتنا خیر سگالی ہوگا معاشرہ اسی طرح صحت مند اور ترقی کی منزل کی طرف گامزن ہوگا۔ صحافی کا کردار         معاشرے کے مصلح  کا کردار ہوتا ہے ۔ اس کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ واقعات  اور حالات کے تعلق سے صداقت اور حقیقت  اس انداز میں پیش کرے کہ  باہمی نفرت اور غلط  فہمی  کی خلیج  پر ہوجائے ۔ دراصل ایسی ہی صحافت  کی بنیاد سر سید احمد خاں کی صحافت کا اصل مقصد تھا ۔ ( تہذیب الاخلاق : اپریل 1997 سے ترمیم کے ساتھ ماخوذ)

17 اکتوبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ خبریں ، نئی دہلی 

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/mohammad-jahangir-warsi/sir-syed-and-urdu-journalism--سر-سید-اور-اردو-صحافت/d/99606

 

Loading..

Loading..