New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 03:36 AM

Urdu Section ( 29 Jan 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Arrogance Is The State Of The Self That The Holy Qur'an Has Highlighted The Most تکبر، نفس کی وہ کیفیت ہے جس کو قرآن کریم نے سب سے زیادہ نمایاں کیا ہے


محمد عمار خان ناصر

29 جنوری ، 2021

ہم نے قرآن مجید کی روشنی میں یہ سمجھا کہ انسانی نفس میں اللہ نے تقویٰ بھی رکھا ہے اور فجور بھی۔ انسان کے نفس میں وہ صلاحیت بھی رکھی ہے جو اس کو حق کے قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہے اور کچھ ایسی خامیاں اور کمزوریاں بھی اس کی فطرت کا حصہ ہیں کہ جو اس میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ان موانع اور ان عوارض کی پوری ایک فہرست ہے جو انسان کی فطرت کا حصہ ہیں۔ کسی انسان میں ایک رکاوٹ ظہور پزیر ہوتی ہے، تو دوسرے انسان میں دوسری رکاوٹ رو بہ عمل ہوتی ہے۔ ایک گروہ میں نفس کی ایک بیماری زیادہ غالب آجاتی ہے، تو کسی دوسرے گروہ میں نفس کی دوسری بیماری زیادہ غالب آجاتی ہے۔ اور یہ جو نفس کی کمزوریاں ہیں، یہ دنیا میں انسانوں کو، افراد کو بھی اور مختلف گروہوں کو بھی، یا تو حق کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتیں یا حق ملنے کے بعد اور حق کو پا لینے کے بعد اس سے بہک جانے یا اس سے بھٹک جانے کا سبب بن جاتی ہیں۔ قرآن مجید میں ان سب عوارض اور موانع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چند جو بہت نمایاں عوارض ہیں، ان کا ایک مختصر تذکرہ کر لیتے ہیں۔

سب سے بڑی چیز جو اللہ نے نمایاں کی ہے، وہ ہے کبر، تکبر، اپنی بڑائی کا ایسا احساس جو انسان کو حق قبول کرنے سے روک دے۔ کبر، نفس کی ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ جس میں انسان کو کوئی بات قبول کرتے ہوئے اپنی خفت کا احساس ہوتا ہے۔ نفس یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ بات مان لینے سے میرا جو بڑائی کا تصور ہے یا لوگوں کی نظروں میں جو میرا بڑائی کا احساس ہے، وہ کم ہو جائے گا۔ نفس کی یہ کیفیت اس کو اس بات کی طرف متوجہ ہونے سے یا پہچان لینے کے بعد اس کو قبول کرنے سے روک دیتی ہے۔ تکبر نفس کی وہ کیفیت ہے جس کو قرآن مجید نے سب سے زیادہ نمایاں کیا ہے۔ شیطان کا واقعہ بار بار بیان ہوا ہے، اس میں سب سے نمایاں حقیقت یہی ہے۔ شیطان کا بھی نفس ہے جیسے انسان کا نفس ہے۔ شیطان کی، جو انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے، بلکہ اس کائنات میں اللہ کا سب سے بڑا مخالف ہے، اس کی گمراہی کی اور اس کے بھٹکنے کی بڑی وجہ کیا تھی؟ نفس کے اندر یہ احساس کہ خدا مجھے کہہ رہا ہے کہ آدم کے سامنے سجدہ کرو، یہ تو میری شان سے فروتر ہے۔ یہی مرض اللہ تعالیٰ نے یہود کے اندر نمایاں کیا ہے۔ یہود جن کا قرآن مجید میں سب سے زیادہ تفصیلی تذکرہ ہوا ہے، ان کے لئے  یہ بات توہین کے ہم معنی تھی کہ بنی اسرائیل سے اللہ نے نبوت لے کر بنی اسماعیل کو دے دی۔ پڑھے لکھے اہل کتاب (یہود) سے لے کر امیوں کو دے دی۔ ان کے تکبر  اور احساس برتری نے اس طرف آنے سے روک دیا۔ باقی بھی جتنے انبیاء کی قوموں کا اللہ نے ذکر کیا ہے، آپ دیکھیں گے کہ بڑی نمایاں بیماری ان کی یہی کبر تھا۔ انہوں نے پیغمبروں سے کہا کہ تم غریب آدمی ہو، ہم مالدار لوگ ہیں۔ اللہ کو پیغمبری اور نبوت کیلئے کیا یہی ملا تھا۔ قرآن میں  ہے: ’’اور کہنے لگے: یہ قرآن (مکّہ اور طائف کی) دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی  پر کیوں نہیں اتارا گیا۔‘‘ (الزخرف:۳۱)

  تو کبر انسانی نفس کی وہ بیماری ہے کہ حق سامنے ہوگا، روز روشن کی طرح واضح ہوگا اور اندھے کو بھی دکھائی دے رہا ہوگا، لیکن جو گروہ یا فرد اس بیماری میں مبتلا ہوگا، وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھے گا، سنتے ہوئے نہیں سنے گا، اس کی عقل پر پردے پڑ جائیں گے۔ اس لئے کہ نفس نے قبول حق کی جو استعداد تھی، اس کے اوپر تکبر کا پردہ ڈال دیا ہے۔

دوسری چیز جس کو قرآن نے بیان کیا ہے، وہ حسد ہے۔ یہ تکبر کے ساتھ کچھ ملتا بھی ہے، لیکن اس سے کچھ مختلف پہلو بھی رکھتا ہے۔ حسد میں بھی تکبر کا  ایک بہت بڑا اور نمایاں عنصر ہوتا ہے۔ حسد میں یہ چیز شامل ہوتی ہے کہ یہ چیز اصل میں تو مجھے ملنی چاہئے تھی۔ مجھے نہیں ملی اور اسے کیوں مل گئی؟ تو حسد کی کیفیت انسان کے لئے  بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

ایک اور بڑی اہم چیز جو تکبر سے ہی پھوٹتی ہے، اسی سے پیدا ہوتی ہے، اس کو قرآن نے بَغیًا بَیْنَھُمْ کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ انسانوں میں، افراد کے درمیان بھی اور گروہوں کے مابین بھی، مسابقت ہوتی ہے اس بات کی کہ انہیں دوسروں پر برتری حاصل ہو۔ وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ عزت اور سرفرازی سے بہرہ ور ہوں۔ یہ جو چیز ہے، یہ لوگوں کو اس پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر سرکشی کریں، ایک دوسرے پر زیادتی کریں، اور یہ چیز جب دین کے معاملے میں آجاتی ہے تو پھر فرقہ بندی اور گروہ بندی پیدا ہوتی ہے جس کا سب سے زیادہ شکار بنی اسرائیل ہوئے۔ قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ بغیًا بینھم کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے غیر شعوری طور پر حق کی اطاعت قبول کرنے کے بجائے اپنے اپنے گروہی احساس تفاخر کو زیادہ اہمیت دی۔ ایک دوسرے کے مقابلے میں برتری جتانے کے لئے الگ الگ  چیزیں، گوناگوں مسائل، عجب عجب مباحث ایجاد کئے اور ان کی بنیاد پر مجادلوں اور مباحثوں کا طریقہ اختیار کیا اور اس کے نتیجے میں پوری امت گروہوں کے اندر تقسیم ہوگئی۔

ایک چیز جو قرآن نے خاص طور پر نصاریٰ کے حوالے سے نمایاں کی، وہ ہے غلو۔ غلو کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کے درجے اور اس کی حیثیت سے بہت زیادہ بڑھا کر پیش کرنا یا تصور کرنا۔ جتنے بھی انحرافات اور جتنی بھی گمراہیاں دین و مذہب کے معاملے میں انسانوں نے اختیار کی ہیں، قرآن ان کی اصل نفس انسانی کے اندر پائی جانے والی کسی بیماری کو قرار دیتا ہے۔ جو بھی گمراہی پیدا ہوئی، اس کا منبع نفس انسانی کی خرابی ہے۔ یا وہ بَغیًا بَیْنَھُمْ ہوگا یا وہ تکبر کا احساس ہوگا یا وہ اور اس طرح کی کوئی چیز ہوگی۔ اس کا منبع اور اس کا سرا نفس انسانی کے کسی انحراف یا اس کے بگاڑ کے ساتھ جا ملے گا۔نصاریٰ میں جو گمراہی پیدا ہوئی، اور انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں جو عقائد اختیار کئے ہیں ، اس کا منبع غلو ہے۔ غلو نفس انسانی کی ایک کمزوری ہے کہ جب اس کو کسی چیز سے محبت اور عقیدت ہو، تو وہ چاہتا ہے کہ اس کے درجے کو، اس کے مقام کو اس سے زیادہ بڑھا کر دکھائے، اس سے زیادہ بلند کر کے دکھائے جتنا کہ وہ ہے۔ نصاریٰ کو اسی کیفیت نفسانی کے تحت یہ بات حضرت مسیح کی شان سے فروتر محسوس ہوئی کہ ہم بھی اللہ کے بندے ہیں اور حضرت مسیح بھی اللہ کے بندے ہی ہیں۔ نہیں، ان کا درجہ تو زیادہ ہونا چاہئے۔ یعنی اگر ہمارے جیسے انسان ہوں تو یہ ان کی شان سے کمتر بات ہوگی۔ ان کی اس عقیدت کا یا عقیدت میں افراط کا جو نتیجہ نکلا، وہ یہ تھا کہ یہ انسان اچھے نہیں لگتے۔ ان کا الوہیت کے درجے میں کہیں کوئی مقام ہونا چاہئے، تو انہوں نے الوہیتِ مسیح کا عقیدہ اختیار کر لیا۔ قرآن ان کو مخاطب کر کے کہتا ہے: ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو۔‘‘  (النساء:۱۷۱)

 محبت، عقیدت، اللہ کے بندوں کا احترام، ان کو جو اعزاز اور شرف اللہ نے دیا ہے، اس کا اعتراف، یہ تو عین دین اور دین کی روح ہے، لیکن جب وہ عقیدت اور تعظیم حد سے آگے بڑھے گی تو غلو ہوگا۔ تو پیغمبر کو آپ اللہ کی الوہیت میں شریک کریں گے، اس ذات کو جس کی بیٹی بیٹا کچھ بھی نہیں ہے، ماں باپ کے رشتوں میں باندھیں گے اور یوں انسان کی قدر بڑھاتے بڑھاتے خدا کی عظمت اور کبریائی کو مجروح کر دیں گے۔

اسی طریقے سے کئی اور موانع اور امراض ہیں جو انسانوں میں بہت عام ہیں۔ قرآن بھی ان کا جگہ جگہ ذکر کرتا ہے۔ مثلاً حب دنیا، حب شہوات، حب عاجلہ، یہ سب ایک ہی چیز کے مختلف عنوان ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو: ’’ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو۔‘‘ (القیامہ:۲۰) ’’لوگوں کے لئے مرغوبات نفس، عورتیں، اولا د، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے، مویشی او ر زرعی زمینیں بڑی خوش آئند بنا دی گئی ہیں…‘‘  (آل عمران۱۴) عنوان مختلف ہیں، حقیقت ایک ہی ہے کہ انسان کو جو چیز فوری اور نقد یہاں پر ملی ہوئی ہے، اس کی کشش اتنی ہے، اس کی محبت میں انسان اتنا گرفتار ہو جاتا ہے کہ اس کےلئے اصل فائدے کو، ابدی فائدے کو قربان کرنے پر تیار ہو جاتا ہے کہ یہ ہاتھ سے نہ جائے۔ یہ جو ملا ہوا ہے، یہ ہاتھ سے نہ چھوٹے۔

یہود کے جو امراض قرآن نے نمایاں کئے، ان میں ایک بہت بڑا مرض یہ بھی ہے کہ دنیا کی محبت، مال کی محبت، سیادت اور قیادت کی محبت، یہ ایسے ان کے اندر سرایت کئے ہوئے ہے کہ وہ اس کی قربانی دے کر اللہ کے رسول کی اطاعت اختیار نہیں کر سکتے اس لئے کہ اس کے بعد مذہبی منصب ِ قیادت سے محروم ہونا پڑے گا۔ اور جو منصب اور اعزاز ان کا سمجھا جا رہا تھا، اس میں انہیں دوسری صف میں آنا پڑے گا۔ کیونکہ نئی امت جو اللہ نے کھڑی کی ہے وہ تو بنی اسرائیل نہیں بلکہ بنی اسماعیل ہے۔ بنیاد دنیا کی محبت ہے اور دنیا کی محبت میں وہ ساری چیزیں یہود کے رویے میں ظاہر ہوئیں جن کا ذکر ہوا۔

قرآن نفس انسانی پر تبصرہ کرتے ہوئے اس طرح کے بہت سے امراض کو، اور مختلف موانع کو نمایاں کرتا ہے۔ اگر آپ ایک فہرست بنائیں تو کافی طویل ہو جائے گی۔ میں نے اختصار کے ساتھ چند پہلو آپ کے سامنے رکھے ہیں۔

اس ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ انسان اگر حق کا انکار کرتا ہے یا حق ملنے کے بعد اس سے منحرف ہوتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ انسانی نفس کے اندر آنے والی کوئی آلائش یا نفس کا کوئی بگاڑ یا نفس کی کوئی بے اعتدالی ہوتی ہے۔ اسی سے مغلوب ہو کر انسان نے حق کا راستہ چھوڑ دیا اور وہ راستہ اختیار کر لیا جو اس خاص کیفیت میں نفس کو زیادہ پسند ہے۔ اس کیفیت سے اگر انسان کو الگ کر دیا جائے، وہ کیفیت اگر دور کر دی جائے تو وہی نفس قبول حق کے لئے تیار ہو جائے گا۔ یہ جو آلائشیں ہیں، جو امراض اور عوارض ہیں، یہ چند در چند ہیں، ان کی شکلیں مختلف ہیں۔

قرآن مجید کی ایک بڑی عنایت ہدایت کے پہلو سے یہ ہے کہ اس نے انسانی نفس کا بھی ایک گہرا اور حقیقی تجزیہ ہمارے سامنے رکھا ہے کہ اگر انسان اس پر غور کر کے اس سے رہنمائی حاصل کرے تو وہ گمراہیوں سے اور ضلالتوں سے بچ سکتا ہے۔

29 جنوری ،2021،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/arrogance-state-self-that-holy/d/124180


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..