New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 11:29 AM

Urdu Section ( 9 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

There Is No Single Islamic Culture اسلامی ثقافت کا تعین ممکن نہیں

 

محمد جیبرا

3 اکتوبر ، 2013

بدنام زمانہ جم جونز کے بارے میں بہت سارے لوگوں کو یاد ہے جو کہ مغربی دنیا میں ایک منحرف مذہبی فرقہ اور مذہب کے نام پر محکومی کی ایک علامت بن گیا ہے ۔ اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ  جم جونز اور ان کی جماعت عیسائیت کے بہترین مثال ہیں  اور وہ پوری دنیا کے ہر ایک عیسائی فرقے یا جماعت  کے عقائد اور مذہبی معمولات کی نمائندگی کرتے ہیں  تو اس کے  بارے میں  لوگ یہ کہیں گے کہ اس  شخص کا ذہنی توازن کھو چکا ہے ۔ جم جونز نے جو کیا ہے مجھے  نہیں یاد ہے کہ اس کے لئےدنیا کے عیسائیوں  نے معذرت خواہی کی اواز  بلند کی ہو ۔

اسی طرح میں ان باتوں کے لئے بھی معذرت خواہی کے خلاف ہوں جو دوسرے فرقے اسلام کے نام پر کرتے ہیں ۔ واضح طور پر میں نہ تو ان باتوں پر  یقین رکھتا ہوں جن پر وہ یقین رکھتے ہیں ، اور نہ ہی میں تمام فرقوں کو یکجا کر تے ہوئے  ایک عام درجہ بندی میں شامل کئے جانے کا حامی ہوں ۔

جس طرح عیسائی ان گنت فرقوں اور جماعتوں میں منتشر ہو گئے  بالکل اسی طرح مسلمان بھی منتشر ہو گئے ۔ جس طرح کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائی کچھ بنیادی عقائد میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے  ہیں کہ بالکل اسی طرح کے حالات  ہم اس  دنیا کے مسلمانوں کے درمیان بھی پائیں گے۔

فرقہ  مذہب کے اندر ایک گروپ ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں بے شمار فرقے اور جماعتیں ہیں  جن کے عقائد اور معمولات میں زبردست اختلافات ہیں۔متشدد اور غیر عفو پسند قرامطہ سے لے کر جو  چھوٹی چھوٹی گناہوں کے ارتکاب پر بھی  سزائے موت جاری کرتے ہیں اور آخرت مین ابدی عذاب  کے لئے ان کی مذمت کرتے ہیں ، انتہائی لبرل اور عفو پسند فرقہ مرجعہ تک جو یہ  کہتے ہیں کہ کوئی بھی گناہ  بڑا نہیں ہے اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے ۔ اور انتہائی قدامت پسند سلفیوں سے لے کر جو مذہبی کتابوں کے مطالعہ میں انتہائی لفظ پرست ہیں باظنی اسمٰعلی تک جو  کتابوں میں  چھپے ہوئے ذیلی معنی کو بھی تلاش کرتے ہیں ۔

کسی کے لئے ہر پروٹسٹنٹ فرقے کی  زمرہ بندی ایک ہی صف میں کرنا  غیر منطقی اور حقیقت سے بعید ہوگا ۔ جب کوئی یہ کہتا  ہے کہ  پروٹسٹنٹ کا عقیدہ ایسا ہے یا ان کے معمولات ایسے ہیں تو اس سےہم یہ سوال کرتے ہیں کہ ہے آپ کس پروٹسٹنٹ فرقے کا حوالہ پیش کر ر رہے ہیں میتھو ڈَسٹ؟  اناجیلی؟  سبتی؟ پیورٹن؟ کالوینیی؟ مسیحی؟ یا بیپٹسٹ اور 117 بیپٹسٹ فرقوں میں سے آپ کس کا حوالہ پیش کر رہے ہیں ؟ یہاں تک مورمن جیسے چھوٹے مذہبی گروہوں میں بھی  ہم ایک سے زیادہ فرقے پاتے ہیں ۔ اس روئے  زمین پر ایک بھی مذہبی برادری ایسی نہیں ہے جس کا یہ حال نہ ہوا ہو ۔

جب کوئی مزید واضح ہونا چاہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ  سنی اسلام کے حنفی مسلک کا عقیدہ یہ ہے اور ان کے معمولات اس طرح ہیں تو ہمیں مزید یہ پوچھنا چاہئے  کہ آپ کس حنفی کی بات کر رہے ہیں  ؟ مشرق وسطی یا برصغیر کے حنفی کی ؟ ان  میں بہت تھوڑا اختلاف ہے ، اور اگر آپ نے برصغیر کہا تو  میرا سوال یہ ہوگا کہ  آپ کس مسلک کی تشریح کی بات کررہے ہیں ؟ انتہائی قدامت پسند دیوبندی یا  بریلوی ؟

مسلمان اسلام کے معمولات اور اس کی افہام و تفہیم میں مختلف ہیں وہ خطے اور ثقافت کے اعتبار سے مختلف ہیں وہ تعلیمی سطح کے اعتبار سے مختلف ہیں ؛ نسلی اور معاشیاتی اعتبار سے مختلف ہیں؛ اور مسلمانوں کے ذریعہ کی  گئی اسلام کی تشریحات  اور   ان کے معمولات سیاسی اور سماجی استحکام یا عدم استحکام سے  متاثر ہوتے ہیں ۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ آئرش کیتھولک اور میکسیکن کیتھولک ایک جسے ہیں ؟ کیا روسی کیتھولک فلپائن میں کچھ کیتھولک کی ہی طرح ہیں جن کا معمول  ہر عید الفصح کے دن تازیانہ زنی اور تصلیب کرنا ہے ؟ یہ کہتےہوئے کہ سنیوں کا اعتقاد یہ ہے یا شیعوں کا اعتقاد یہ ہے  سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنا  غیر مناسب ،غیر منفعت بخش اور غیر منصفانہ ہو گا۔

متشدد انتہا پسند جو  اپنے غضبناک اور تلخ چہروں کے ساتھ ہر خبر کی شہ سرخی بنے ہوئے ہیں  وہ انتہائی قدامت پسند سلفیوں  وہابیوں کے درمیان ایک بہت چھوٹی سی اقلیت ہیں  جو کہ حنبلی مذہب کی  ایک چھوٹی سی شاخ ہیں اور وہ بھی  اسی طرح سنیوں کی 800 شاخوں کے درمیان ایک اقلیت ہیں ۔ اسی طرح وہ  لوگ جو تازیانہ زنی  کرتے ہیں وہ اقلیتی  مکتب جعفری کے درمیان ایک اقلیت ہیں جو کہ شعیت کے  186 شاخوں میں سے ایک ہے ۔

اکثر لوگ  چیزوں کو آسان بنا نا پسند کرتے ہیں اور سمجھنے میں ہر ممکن حد تک انہیں  آسان بنانے کی کوشش کرتے  ۔ وہ سیاہ اور سفید، اچھا اور برا، صحیح اور غلط چاہتے ہیں، اور یہ ایک ایسا  نقطہ نظر ہے جسے  ایسے انتہائی قدامت پسند  متشدد ین استعمال کرتے  ہیں جو مذہبی سوالات کا  ایک فوری اور سادہ جواب تلاش کرنے والے سادہ لوح نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ، اسلام کی روایتی تشریح کی اور اسلامی قوانین کی افہام و تفہیم  کے تناظر میں  وہ جوابات چند لمحوں کےچھوٹے سے بیان میں نہیں پائے جاسکتے  جو کہ آج اکثر لوگ چاہتے ہیں  ۔

اب، کینیڈا اور مغربی ممالک میں اس تعلق سے کیا صورت حال پائی جاتی ہے ؟ جس  طرح اسلام کی تفہیم اور تشریح جگہ کے اعتبار سے  مختلف ہے بالکل اسی طرح ہم کینیڈین کو بھی اپنی منفرد کینیڈین اسلامی شناخت رکھنے کی ضرورت ہے ۔ جب لوگ دوسرے ممالک سے اسلام کی تشریحات کو یہاں درآمد کرتے ہیں تو  وہ لازمی طور پر کینیڈا کے تنا طر میں جاری نہیں ہوتے۔ اور کینیڈین کہتے وقت بھی ہم اسے عام نہیں کر سکتے ۔ آپ کینیڈا کی کس ثقافت کا حوالہ دیتے ہے؟ موہاک ؟ انوئٹ ؟ کوئیبی کوئیز ؟ فرانکو - آنٹیرین ؟ نیو فاؤنڈ لینڈ ؟ پرائیریز ؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن کہتا ہے، "اور ہم نے تمہیں مختلف ثقافتوں اور مختلف اقوام میں پیدا کیا تا کہ تم ایک دوسرے کے اختلافات، خوبیوں اور کمیوں کو جان سکو ، اور ان اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرو اوران سے  محبت کرو ۔ "

مجھے یقین ہے کہ کینیڈا کے ہر گوشے  میں اگر مسلمانوں کو ان کی اپنی مرضی پر چھوڑ دیا جائے تو وہ  اپنی منفرد کینیڈین مسلم تشخص کو فروغ دیں گے ۔ ہر خطے کے مسلمانوں کی طرح  کوئیبی کوئیز کے مسلمانوں کے پاس بھی  ایک منفرد کوئیبی کوئیز اسلامی ثقافت ہونی چاہئے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ  تشویش کا مسئلہ یہ ہونا چاہئے کہ  دوسرے  ممالک اسلام کے نام پر ان کے اپنے مخصوص ثقافتی رسومات کو  کینیڈا پر  مسلط کرتے ہیں  اورخاص طور کینیڈا کے مسلمان اسے  قبول کر لیتے ہیں ۔ میں فرانسیسی کینیڈین کی ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا جو اسلام قبول کرنے کے بجائے دراصل پاکستانیت کو قبول کر رہا تھا اور اس نے پاکستانی رسم و رواج  اور اسلام کی ثقافتی تشریحات کو اپنانا شروع کر دیا اور  نادانستہ طور پر یہ سوچ رہا تھا کہ وہ اسلامی اقدار اختیار کر رہا ہے  ۔ اس ذہنیت نے  اسے اس کے  غیر مسلم خاندان سے جدا کر دیا ۔

اکثر اسلام قبول کرنے والئے اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اسلام ایک روحانی اور مذہبی نظام ہے یہ ایک ثقافتی اور قومی تشخص کا کوئی  متبادل نہیں ہے۔ دراصل آپ دنیا میں جہاں بھی جائیں گے تو وہاں  اسلامی اور مقامی اقدار کا ایک منفرد اور ہم آہنگ سنگم پائیں گے ۔ سب صحارا افریقہ کی ایک اپنی منفرد اسلامی ثقافت ہے جو چینی مسلم ثقافت سے مختلف ہے  اسی طرح وہ  بلقان کی اسلامی ثقافت سے بہت مختلف ہے۔

کینیڈا کے مسلمانوں اور اسلام قبول کرنے والوں کی ضرورت  ایک منفرد اسلامی شناخت کو فروغ دینے کی آزادی ہے  جو ان کی مخصوص ثقافت اور قوم کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اسلام پانی کی طرح ہے، یہ آسانی سے ٹھوس اشیاء کے ارد گرد بہتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ آسانی کے ساتھ  کسی بھی ثقافتی گروپ کے سیاق و سباق میں سما سکتا ہے ۔

تاہم، جب تک ہم دوسروں کی تعریف و تشخیص کے بوجھ تلے دبے ہیں  ہماری  اپنی  مذہبی آزادی کے حق کا احساس نہیں کیا جا سکتا ۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

محمد جیبرا  اوٹاوا میں کورڈووا اسپریچول ایجوکیشن سینٹر امام اعلیٰ اور رہائشی اسکالر ہیں۔

ماخذ: http://www.ottawacitizen.com/life/faith-ethics/There+single+Islamic+culture/8993880/story.html

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-culture/mohamad-jebra/there-is-no-single-islamic-culture/d/13844

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/mohamad-jebra,-tr-new-age-islam/there-is-no-single-islamic-culture-اسلامی-ثقافت-کا-تعین-ممکن-نہیں/d/13931

 

Loading..

Loading..