New Age Islam
Sat Aug 15 2020, 03:46 AM

Urdu Section ( 1 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Cultural Narcissism- Part 5 (تہذیبی نرگسیت حصہ (5

 

 

مبارک حیدر

پاکستان کی افغان پالیسی

پاکستان کے بااثر یا بااقتدار طبقوں میں انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے سلسلے میں تذبذب اور نیم دلی کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اِن کے خیال میں افغان حکومت کے موجودہ نیٹو سیٹ اَپ میں بھارت کی طرف دوستانہ رُجحانات رکھنے والے عناصر غالب ہیں۔ چنانچہ اگر موجودہ سیٹ اَپ کو طالبان پر فتح حاصل ہوتی ہے تو اس کا فائدہ بھارت کو ہو گا۔ جبکہ طالبان پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ اگر انہیں ترقی و طاقت ملے تو یہ پاکستان کے حق میں بہتر ہو گا۔ اس طرزِ فکر کے تین بنیادی مفروضے ہیں۔

1۔ افغان حکمرانوں کے موجودہ سیٹ اَپ میں بھارت کی حمایت کے رجحانات موجود ہیں لہٰذا یہ پاکستان کا مخالف ہے۔

2۔ طالبان پاکستان کے لئے ہمدردی رکھتے ہیں یا پاکستان کے حامی ہیں، لہٰذا ان کا افغانستان میں طاقتور ہونا پاکستان کے لئے تقویت کا باعث ہو گا۔

3۔ ہماری حکمت عملی میں بھارت کے ساتھ کشیدگی اور مسابقت کو ہمیشہ فیصلہ کن اہمیت حاصل رہنی چاہیے، یعنی بھارت کا دوست پاکستان کا مخالف ، بھارت کا مخالف پاکستان کا دوست، یہ قانون ہے اور اس قانون پر کوئی اختلاف ممکن نہیں۔

لیکن کیا یقینی طور پر یہ مفروضے صحیح ہیں؟ کیا پچھلے اکسٹھ برس کی تاریخ نے ہمارے خیالات کی صداقت یا قوت کو ثابت کیا؟ کیا اِن مفروضوں کے تنقیدی جائزہ کی کوئی ضرورت ہے، یا انہیں قانونِ فطرت کی طرح اٹل ماننا ضروری ہے؟ کیا اِس نقطۂ نظر کے خالق پاکستانی عوام یا اُن کے نمائندے ہیں جنہوں نے نسل در نسل اِن موضوعات پر تبادلہ خیال کیا ہے یا یہ کسی گروہ یا طاقتور طبقہ نے خاموشی سے نافذ کر دئیے ہیں؟

ضیاء الحق کی کمان میں دنیا بھر کے جہادی عناصر نے پاکستان کی سرزمین کو تاراج کر کے افغانستان میں جو جنگ لڑی کیا وہ بالآخر پاکستان کی طاقت بنی یا تباہی؟ اتنی قربانیاں دینے کے بعد پاکستان کو افغان مجاہدین کے بارے میں یہ انکشاف ہوا کہ وہ تو بھارت کے حامی نکلے۔ حالانکہ بھارت نے تو اِس جنگ میں افغانوں کی کوئی خدمت نہ کی۔ بھارت تو اسے امریکہ کی جنگ سمجھتا تھا جس میں روس کو شکست دینا مقصود تھا اور بھارت کو روس سے نفرت تھی نہ امریکہ سے محبت۔ یہ دونوں تو ہمارے تشخص کی علامتیں ہیں۔ تب بھی پاکستان کے مقتدر حلقوں نے اپنی افغان پالیسی کی شکست کی وجوہات پر کوئی خود تنقیدی جائزہ پیش نہیں کیا نہ آج تک کسی اسمبلی میں اس پر بحث کی گئی۔ پھر ہمارے مردانِ باکمال (Men at their best) نے مسئلے کا حل یہ پیش کیا کہ مدرسوں سے طالبان نکالے اور انہیں افغان حکومت بنا دیا۔ اِس فیصلے سے افغان عوام کے لئے، پاکستان کے لئے اور دنیا بھر کے انسانوں کے لئے کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں، آہستہ آہستہ سب پر کھل رہے ہیں اور آئندہ وقتوں میں مزید کھلتے جائیں گے۔ لیکن کیا ہماری قیادت کو اپنے اس فیصلے کی اچھائی برائی کا کوئی اندازہ تھا، اس کا حساب اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف چند برس بعد اسی اسٹیبلشمنٹ نے اپنی ہی تربیت یافتہ طالبان حکومت کے خلاف فوج کشی کی اور امریکہ کی قیادت میں ہونے والی اس فوج کشی کو پاکستان کی حفاظت قرار دیا گیا۔ اب چند سال گزرنے کے بعد اسی باکمال قیادت کے پروردہ عناصر کہہ رہے ہیں کہ طالبان کو ہی افغان قوم کے مستقبل کا مالک بنایا جائے اور پھر وہی جواز دیا جا رہا ہے کہ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ بھارت کے حامی عناصر کا افغانستان میں برسراقتدار ہونا ہمیں قبول نہیں۔

یہ مفروضہ کہ افغان قیادت میں بھارت کے حامی عناصر کا غلبہ ہے، اگر مان بھی لیا جائے، تب بھی یہ سوال قائم رہتا ہے کہ آخر اس میں بذاتِ خود کیا قباحت ہے کہ کسی پڑوسی ملک کی حکومت بھارت سے دوستانہ تعلقات استوار کرے۔ ایران اور بھارت کے درمیان دوستانہ تعلقات موجود ہیں، عرب ملکوں کے حتیٰ کہ ہمارے قبلہ و کعبہ سعودی عرب کے مراسم بھارت سے مکمل خیرسگالی کے ہیں، دوطرفہ تعلقات کی اس دنیا میں ہم عوامی جمہوریہ چین سے بھی ایسی کوئی توقع نہیں رکھتے کہ وہ ہماری خاطر بھارت سے تعلقات کشیدہ کر لے۔ ہمارے اپنے حلیف امریکہ نے بھارت سے کیسی کیسی محبتیں استوار کی ہیں۔ لیکن ہم نے امریکی حکومت یا ایران، عرب اور چین کی حکومتیں گرانے یا بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ تو اگر ہم افغان حکومت کو بھی بھارت سے دوستی کرنے کی اجازت دے دیں اور طالبان کے ذریعے افغان حکومت گرانے کا ارادہ ترک کر دیں تو کیا یہ خیرسگالی ہمارے لئے مفید ہو گی یا مُضر؟ پاکستان کے وہ علاقے جو افغان حلقۂ اثر کے ممکنہ علاقے ہیں یعنی قبائلی علاقہ جات، یہ صدیوں سے جدید تہذیب کے مقابلہ میں قبائلی روایات اور کرخت رویوں کے حامی رہے ہیں۔ افغانستان میں طالبان طرزِ حکومت کے اثرات ان علاقوں پر مزید بنیاد پرستی اور تشدد کی صورت میں نکلے ہیں اور نکلیں گے۔ جبکہ ایک جدید افغان حکومت اول تو ان قبائلی علاقوں پر اثرانداز ہی نہیں ہو پاتی کیونکہ ان علاقوں کا معاشی انحصار پاکستان پر ہے، اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو 1990ء کے بعد ہمیں شمال کی طرف سے کسی سرخ آندھی کا خطرہ نہیں۔

دوسرا مفروضہ کہ طالبان پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں، پہلے مفروضے سے بھی زیادہ ناقص نظر آتا ہے۔ طالبان کے افکار کی بنیاد جس نظریہ پر ہے، اس کا سرچشمہ دیوبند سے ہوتا ہوا سید قطب اور سید وہاب سے جا ملتا ہے۔ اس طرزِ فکر کے مطابق ہر وہ معاشرہ جو ابتدائی اسلامی معاشرہ سے مختلف ہے، جاہلیت کا معاشرہ ہے جسے تباہ کرنا ہر سچے مسلمان کا فرض ہے۔ یعنی وہ معاشرت جسے طالبان نے 1995ء میں افغانستان میں رائج کیا وہ جبراً ساری دنیا میں رائج کی جائے گی۔ یعنی مسجدوں میں حاضری لگے گی، عورتوں کو گھروں تک محدود کیا جائے گا، لڑکیوں کے سکول بند کیے جائیں گے، تمام تفریحات و فنون لطیفہ کی جبری بندش ہو گی، مقررہ لباس اور مقررہ حُلیہ لازمی ہو گا، انسانی حقوق (بالغ رائے دہی کاحق، اظہار رائے کا حق، اختلاف کا حق، انفرادیت کا حق، جاننے اور سوچننے کا حق) ختم کیے جائیں گے، تمام غیر مسلموں کو ذمی کی حیثیت دی جائے گی اور لونڈیوں، غلاموں کی قانوناً اجازت ہو گی، تعلیم کو حتیٰ المقدور محدود کیا جائے گا، اس انداز سے کہ لوگ قرآن اور سنت کی تعلیم کے علاوہ کوئی علم حاصل نہ کریں۔ (دیکھئے سید قطب کی کتاب معالم فی الطریق۔ باب ’’پہلی قرآنی نسل‘‘ اور ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘)

اس نقطۂ نظر کے عظیم مفکر سید قطب سے پہلے پاکستان کے مولانا مودودی تھے ، جنہوں نے اسلام کو کرخت چہرے کے ساتھ پیش کیا۔

مندرجہ ذیل اقتباسات اس نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہیں

’’ جن لوگوں نے موجودہ زمانے کی روشن خیالی سے متاثر ہو کر اختلافی بحث کا دروازہ کھولا، اُن کی جسارت فی الواقع سخت حیرت انگیز ہے۔ شکوک پیدا کرنے کی بجائے درحقیقت اِن لوگوں کے لئے زیادہ معقول طریقہ یہ تھا۔۔۔کہ غور اِس امر پر کرتے کہ ہم اِس دین کا اِتباع کریں یا نہ کریں جو مُرتد کو موت کی سزا دیتا ہے۔

’’اپنے مذہب کی کسی ثابت و مسلّم چیز کو اپنے عقلی معیاروں کے خلاف پا کر جو شخص یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ چیز سرے سے مذہب میں ہے ہی نہیں وہ دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ کافر نتوانی شُد، ناچار مسلمان شُد، کی حالت میں مبتلا ہے۔ یعنی اُس کا طریقہ فکر و نظر جس مذہب کے حقیقی راستے سے منحرف ہو چکا ہے اس میں رہنے پر وہ صرف اس لئے اصرار کر رہا ہے کہ مذہب اس نے باپ دادا سے پایا ہے‘‘۔

(مولانا مودودی: اسلامی قانون میں مرتد کی سزا)

جدید تہذیب میں ہوش سنبھالنے والے مسلمانوں کے بارے میں فرماتے ہیں

’’اگر ان میں سے کوئی اسلام سے پھرے گا تو وہ بھی اسی طرح قتل ہونے کا مستحق ہو گا جس طرح وہ شخص جس نے کفر سے اسلام کی طرف آ کر پھر کفر کا راستہ اختیار کیا ہو‘‘۔

اسلامی انقلاب آنے کے بعد اسلامی حکومت کی پالیسی کا یوں بیان فرماتے ہیں

’’ مسلمان آبادی کو نوٹس دے دیا جائے گا کہ جو لوگ اسلام سے اعتقاداً و عملاً منحرف ہو چکے ہیں اور منحرف ہی رہنا چاہیں، وہ ایک سال کے اندر اپنے غیر مسلم ہونے کا اعلان باقاعدہ اظہار کر کے ہمارے نظامِ اجتماعی سے باہر نکل جائیں۔ اس مدت کے بعد اِن سب لوگوں کو جو مسلمانوں کی نسل سے پیدا ہوئے ہیں، مسلمان سمجھا جائے گا، تمام قوانین اسلامی ان پر نافذ کیے جائیں گے، دینی فرائض و واجبات کے التزام پر انہیں مجبور کیا جائے گا اور پھر جو کوئی (مجبور کیے جانے کے اس عمل سے گھبرا کر یا اختلاف کرتے ہوئے) دائرہ اسلام سے باہر قدم رکھے گا، اسے قتل کر دیا جائے گا۔

جن لوگوں نے مولانا کی تحریریں پڑھی ہیں اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسی طرح کے مضبوط اور پراعتماد لہجے میں انہوں نے ان گنت دوسرے فیصلے بھی دئیے ہیں۔

جہاں تک سید قطب کا تعلق ہے وہ تو مولانا محترم سے بھی زیادہ دو ٹوک ہیں۔ اُن کی کتاب معالم فی الطریق کی ایک ایک سطر تیغِ آبدار کی طرح ہر اس چیز کو کاٹنے کا عزم کرتی ہے جو اسلام کے علاوہ اس دنیا میں کہیں بھی موجود ہے۔ یہ کتاب آج کی تحریکِ غلبۂ اسلام کے منشور کا درجہ رکھتی ہے۔ اس منشور کو سمجھنے کے لئے ساری کتاب کو پڑھنا ضروری ہے تاہم چند اقتباسات نقل کئے جاتے ہیں۔

پہلے باب میں تعارف کے طور پر لکھتے ہیں

’’ اگر اسلام نے نوعِ انسانی کی پھر سے قیادت کرنی ہے تو پھر ضروری ہے کہ مسلم معاشرہ اسلام کی اصل صورت میں بحال کیا جائے‘‘۔

’’جسے دنیائے اسلام کہا جاتا ہے، وہ یورپ کے تخلیقی حسن سے مکمل طور پر خالی ہے، اس کے باوجود اسلام کو بحال کرنا ضروری ہے‘‘۔

’’مسلم معاشرہ کے لئے نہ یہ ممکن ہے ، نہ ہی ضروری کہ وہ اپنے آگے دنیا کا سر جھکانے کے لئے اور دوبارہ دنیا پر اپنی قیادت قائم کرنے کے لئے مادی ایجادات میں اپنی عظیم صلاحیت پیش کرے۔ اس میدان میں یورپ کا تخلیقی ذہن کہیں آگے ہے اور کم از کم کئی صدیاں ہم اِن میدانوں میں یورپ کا مقابلہ کرنے اور اس پر فوقیت پانے کی توقع نہیں کرسکتے‘‘۔

’’لہٰذا ضروری ہے کہ ہمارے اندر کوئی اور صلاحیت ہو جو جدید تہذیب کے پاس نہیں‘‘۔

’’جدید دنیا کو دیکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ ساری دنیا جاہلیت میں غرق ہوئی پڑی ہے۔ یہ جاہلیت اس بغاوت پر مبنی ہے جو زمین پر اللہ کی حاکمیت کے خلاف کی گئی ہے۔ اصول اور قانون بنانے کا اختیار اور اپنے لئے طرزِ زندگی چننے کا اختیار انسان کو دے دیا گیا ہے، جس سے انسانوں کو انسانوں کا غلام بنا دیا گیا ہے۔۔۔‘‘

’’ صرف اسلامی طرزِ زندگی ایسا ہے کہ جس میں سبھی انسان دوسروں کی غلامی سے آزاد ہو کر صرف اللہ کی عبادت میں لگ جاتے ہیں اور صرف اُس کے آگے جھکتے ہیں۔ اللہ کی حاکمیت کا یہ نیا نظام صرف ہمارے پاس ہے، جسے دنیا نہیں جانتی۔

’’ اس نئے نظام کو دنیا پر دوبارہ غالب کرنے کے لئے ضروری ہے کہ احیائے اسلام کی تحریک کسی ایک ملک میں قائم کی جائے۔ اس کے لئے لازم ہے کہ اس تحریک کا ایک ہراول دستہ ہو جو عزم کرکے جاہلیت کے اس وسیع سمندر میں اپنا رستہ بناتا جائے گا، جس نے دنیا کو گھیر رکھا ہے۔۔۔تاکہ جاہلیتی نظاموں کو ختم کر کے اللہ کی حاکمیت قائم کی جائے۔۔۔۔۔۔‘‘

’’ آج ہم بھی جاہلیت میں گھرے ہوئے ہیں، جو اسی طرح کی ہے جیسی اسلام کے پہلے دور میں تھی، بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ گہری ہے۔ ہمارا پورا ماحول ، لوگوں کے عقائد اور خیالات، عادات اور فنون، ضابطے اور قانون، سب جاہلیت ہے، اس حد تک کہ جسے ہم اسلامی ثقافت، اسلامی مآخذ، اسلامی فلسفہ اور اسلامی فکر سمجھتے ہیں، وہ بھی سب جاہلیت کے تعمیر کردہ ہیں۔

’’لہٰذا مسلمان کے موجودہ اسلام (یعنی تحریک کے بعدکا اسلام) اور اُس کی سابقہ جاہلیت(یعنی تحریک میں شامل ہونے سے پہلے کی زندگی) کے درمیان علیحدگی ہو جائے گی اور جاہلیت کے ساتھ اُس کے سب رشتے ختم ہو جائیں گے اور اسے اسلام سے مکمل طور پر جوڑ دیا جائے گا۔

’’ ہمارا اولین مقصد یہ ہے کہ ہم جان لیں کہ قرآن ہم سے کس طرح کی زندگی مانگتا ہے، اور وہ کیا قانون اور آئینی نظام ہے جو وہ ہم سے دنیا میں نافذ کروانا چاہتا ہے‘‘۔

یاد رہے کہ شیخ اُسامہ بن لادن اور شیخ ایمن الظواہری اخوان المسلمون کے سرگرم رہنما ہیں جس کی بنیاد شیخ وہاب نے سعودی عرب میں 1744ء میں رکھی تھی اور جس کے لئے سید قطب کو مصر میں جمال عبدالناصر کی حکومت نے 1966ء میں پھانسی دی۔ اس طرزِفکر کے پیروکار اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکی زندگی میں قائم ہونے والا اسلامی معاشرہ اور آپؐ کے ہاتھ پر مسلمان ہونے والے انسان وہ مکمل مثال ہیں جس سے انحراف نہ تو رہن سہن میں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی جسمانی حلیہ اور لباس و اطوار میں۔ قیامت تک کے لئے مسلمانوں کا حلیہ، رہن سہن اور لوازماتِ زندگی طے ہو چکے ہیں، اِس نسل کی مثال سے کہ جو نسل رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں موجود تھی۔ اور جو فیصلے آپؐ کے خلفاء نے کیے یعنی دنیا کی اقوام کو دعوتِ دین دی گئی، دوسرے متبادل کے طور پر انہیں ذمی کی حیثیت سے اسلامی حکومت کی رعایہ بن کر جینے کا حق دیا گیا اور تیسرے متبادل میں مسلمانوں کی تلواروں کا سامنا کرنے کے لئے کہا گیا، وہی فیصلے آج مسلمانوں کی حکومت کرے گی اور اقوامِ عالم کی سب جدید تہذیبوں کو ختم کیا جائے گا، دعوت سے اور پھر شمشیر سے۔

پاکستانی معاشرہ طالبان کی نظر میں جاہلیت کا معاشرہ ہے۔ ان کی نظر میں فرق صرف اتنا ہے کہ یہ معاشرہ خود کو مسلم معاشرہ سمجھتا ہے ، جس پر جاہلیت اور گمراہی کا رنگ غالب ہے اور شیطانی قوتیں قابض ہیں۔ اِن کا قبضہ طاقت کے ذریعے ختم کرنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ صوبہ سرحد کے بعض علاقوں میں حجاموں اور ویڈیو والوں کو کاروبار بند کرنے کے احکام اور پھر اِن دکانوں کو اڑا دینے کے اقدامات اسی نقطۂ نظر کے تحت کئے گئے۔ پاکستان کے طول و عرض میں مدرسوں، مسجدوں اور تبلیغی مراکز کے ذریعے کافی بڑی تعداد میں ایسے ذہن تیار کیے جا چکے ہیں جو مکمل خلوص اور نیک نیتی سے موجودہ تہذیب و تمدن کو گمراہی مانتے ہیں اور طالبان کے اس نظریہ کے پرجوش حامی ہیں کہ پاکستان کی موجودہ ریاست کو یکسر ختم کر کے اسے ایک عالمی اسلامی مملکت کا صوبہ بنا دیا جائے۔ اس مملکت کا دارالحلافہ غالباً شمالی علاقہ جات یا آزاد قبائل میں ہو گا یا ممکن ہے افغانستان میں ہو۔ اگرچہ وہ ان نظریات کی عملی صورتوں کا غالباً پوری طرح اندازہ نہیں لگا سکتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اسلامی پاکستان کی صحیح صورت ہو گی۔

تیسرا مفروضہ کہ بھارت سے نفرت یا کشیدگی ہماری حکمت عملی کی بنیادی قوت ہے، اتنی شدت سے قائم کیا گیا ہے کہ اس کی حیثیت تقریباً نصِّ دینی جیسی مقدس بنا دی گئی ہے۔ تسلیم کہ وطن کی آزادی ، آبرو اور ترقی ایسی منزلیں ہیں جن تک پہنچنے کے لئے ہر قربانی جائز اور ضروری ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وطنِ عزیز کو اِن منزلوں تک لے جانے کا صرف وہی راستہ درست ہو جو ہمارے عسکریت پسند رہنماؤں نے چنا اور جس پر چل کر ہم مطلوبہ منازل کی طرف جانے کی بجائے آج تک صرف بھٹک رہے ہیں۔ ہم کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کی بجائے آدھے پاکستان سے محروم ہوئے ہیں۔ ہم صنعتی ، زرعی اور علمی میدان میں پاکستان کے بعد آزاد ہونے والی اقوام سے بھی کہیں پیچھے ہیں جس کی مثال کوریا اور ملائیشیا ہی نہیں بلکہ خود بنگلہ دیش ہے جو ہم سے الگ ہو کر پچیس سال بعد سفر پر روانہ ہوا۔ آج دنیا کے کسی سنجیدہ فورم پر ہمارا موازنہ بھارت سے نہیں کیا جاتا، جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہی نہیں بلکہ صفِ اوّل کی صنعتی معیشت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو ایک عالمی معیشت اور عالمی فوجی قوت کے مرتبہ کی امیدوار ہے۔ بھارت سے موازنہ کرتے رہنا اور جوہری اسلحہ سے لے کر کرکٹ میچ تک ہر معاملہ کو بھارت کے حوالے سے طے کرنا، ایک ایسا رویہ ہے جس کی صحت و خرابی کا جائزہ کبھی لیا ہی نہیں گیا۔ جیسے یہ قومی ایمان کا کوئی حصہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دوڑنے والے نے آگے والے کی ایڑیاں دیکھتے دیکھتے اپنا توازن ہی بگاڑ لیا ہے، جیسے ایک ہی چیز پر ٹکٹی باندھ کر دیکھتے رہنے سے سر چکرا گیا ہو اور طرح طرح کی شکلیں تصور میں ابھر کر کبھی ڈراتی اور کبھی لبھاتی ہوں جن کا اصل سے کوئی واسطہ نہیں۔ بھارت کی جارحانہ، توسیع پسندانہ اور تنگ نظر برہمنی سیاست، ہنود و یہود کی سازشیں اور اسلام دشمنی کے الزام کچھ کہے سنے بغیر تسلیم (بھلا کوئی پاکستانی کیسے جرأت کر سکتا ہے کہ ان خیالات سے اختلاف کر کے غدار اور اسلام دشمن کہلائے) لیکن یہ بات اپنی جگہ قابلِ غور ہے کہ چھ دہائیوں میں ہم اسلامی ممالک میں سے بھی کسی کو اپنا ٹھوس ہمنوا نہیں بنا سکے۔ ایک چین ہمارے نقطۂ نظر کا حامی رہا ہے جس کی متعدد وجوہات ہیں جو سبھی کی سبھی ہم سے متعلق نہیں، لیکن اس حمایت سے ہم نے کیا حاصل کیا ہے، سب کے سامنے ہے اور چین نے کیا حاصل کیا ہے یہ بھی واضح ہے۔ شاید وقت کا تقاضا یہ ہے کہ بھارت سے مسابقت اور عسکریت پسندی کی حکمت عملی پر نظرثانی کی جائے اور اپنے عوام کی ذہنی اور جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے وسائل کا رخ موڑا جائے۔

URL for Part 4:

http://newageislam.com/urdu-section/mobarak-haider/cultural-narcissism--part-4--(تہذیبی-نرگسیت-حصہ(-4/d/87260

URL for this part:

http://newageislam.com/urdu-section/mobarak-haider/cultural-narcissism--part-5 

Loading..

Loading..