New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 08:00 PM

Urdu Section ( 7 Jan 2019, NewAgeIslam.Com)

We need a Comprehensively Objective Study of Ahadith -- I علوم الحدیث کا ایک جامع اور معروضی مطالعہ ناگزیر


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

8 جنوری 2019

ابھی چند مہینوں کے مطالعات اور غور  و خوض کے بعد راقم السطور کو یہ محسوس ہوا کہ مشرق ہو یا مغرب شمال ہو یا جنوب ، الغرض پوری دنیا کے اہل علم (Academics)اور اہل فکر و نظر (Intellectuals) خواہ وہ کسی بھی شعبہ علم سے تعلق رکھتے ہوں ، ڈاکٹر ہوں یا انجینئر، تاریخ دان ہوں یا ماہرنفسیات، انگریزی زبان و اداب کے لکچرر(lecturer) ہوں یا تہذیب و تمدن اور ادب و ثقافت پر گہری نظر رکھنے والے کوئی پروفیسر  (professor)، سب کی علمی معروضات اور فکری  نگارشات (Academic and Intellectual Discourses) کا عنوان علم حدیث اور احادیث کی صداقت اور معتبریت (Authenticity) ہے۔ اور وہ اپنے اس جنون شوق میں کبھی کبھی ایسی باتیں بھی کر جاتے ہیں جو انتہائی مضحکہ خیز اور معیارِ علم و فکر (Level Intellectual) سے  گری ہوئی ہوتی ہیں ، جن سے اکثر تعصب  و تنگ نظری کی بو آتی ہے۔

اس صدی کے اس عظیم المیہ کی  کئی وجوہات ہیں۔ جن میں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس موضوع پر خامہ فرسائی کرنے والے اکثر اہل علم کی رسائی براہ راست اصل مصادر ماخذ تک نہیں ہوتی ۔ اکثر وہ یا تو ان اصل مصادر و ماخذ کے انگریزی تراجم یا دیگر زبانوں میں تراجم کا مطالعہ کرتے ہیں یا ان کے حوالے سے کسی مستشرق (Orientalist) کی تحریروں سے متاثر ہوتے ہیں۔  جس کا لازمی نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ وہ ان اہم اور حساس موضوعات پر طبع آزمائی کرتے ہوئے بحیثیت فن علوم الحدیث کی باریکیوں کا کوئی لحاظ نہیں کرتے ۔

ویسے بھی جب علم  و فن اور تحقیق کی بات آتی ہے تو پوری دنیاکا اصول یہی ہے کہ جو فرد جس علم پر گہری بصیرت رکھتا ہو، جو شخص جس فن کا ماہر ہو اور کسی موضوع پر جس کی تحقیق سب سے اچھی ہو وہ اس موضوع پر زبان کھولے۔  یہاں کبھی بھی کسی تاریخ دان کو میڈیکل  (Medical)کے عنوان (Subject) پر نہیں بولنے دیا جاتا اور نہ ہی کسی ڈاکٹر سے تاریخ کے عنوان پر کوئی رائے لی جاتی ہے۔ یہاں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ کسی سیاست دان (Politician) کے ساتھ کسی ٹیلی ویژن چینل پر  وقت اور خلاء (Time and Space) کی باریکیوں پر بحث  و تمحیص  اور غور خوص کیا جائے۔  اور نہ ہی کبھی ناسا (NASA) کے سائنسدانوں کے پاس کوئی ٹی وی چینل جا کر امریکہ کی سیاست پر  گفتگو کرتا ہے۔ لیکن جونہی بات اسلام ، شریعت، قرآن ، حدیث، سنت، اجماع اور تقلید جیسے انتہائی اہم موضوعات کی آتی ہے تو علم و تحقیق کے اس بنیادی اصول کو درکنار کر ہر کوئی ٹیوی جینلز پر اپنی رائے دیتا ہوا نظر آنے لگتا ہے،  اور کسی کو بھی ان موضوعات پر کسی ویب سائٹ یا اخبارات میں لکھنے کے لئے مدعو کر دیا جاتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ لکھنے یا بولنے والا کسی اعلی عہدے پر فائز ہو ، نامور ہو، اور ہاں اس کی انگریزی بھی کافی اچھی ہونی چاہئے۔ پھر چاہے وہ کوئی ماہر اقتصادیات (Economist) ہو، ریٹائزڈ فوجی جرنل ہو، کوئی موسیقی کار ہو، کوئی ادا کار ہو، کوئی فلمساز ہو، کوئی سیاستدان ہو ، حتی کہ کوئی چائے فروش ہی کیوں نہ ہو۔  اگر کبھی میزان الاعتدال جیسے کتابیں ان کی نظروں سے گزری ہوتیں تو وہ اس علم اور فن کو اتنے ہلکے میں کبھی نہ لیتے۔ ویسے بھی یہ بات مشاہدے کی ہے کہ مسلمانوں میں بھی اسلام ، شریعت، قرآن ، حدیث، سنت، اجماع اور تقلید جیسے انتہائی حساس اور اہم مسائل علمی اداروں میں کم اور  گلی نکڑ پر چائے پان کی دکانوں میں یا محلے کے کسی چائے  ناشتے کی ہوٹل میں زیادہ سلجائے جاتے ہیں۔ اللہ ہی خیر کرے اس امت کا!

 بات نکلی تو دور تک چلی گئی، بہر کیف!میرا مقصد اس مضمون میں بحیثیت فن علوم الحدیث میں سے ان چند مبادیات کا ذکر کرنا ہے  جن کا جاننا  اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

سب سے پہلے ہم یہ جانتے ہیں کہ بحیثیت ایک فن کے، حدیث کہتے کسے ہیں؟

ویسے تو عام کتب حدیث میں یہ بیان کیاگیا ہے کہ ‘‘نقل ما اضیف الی النبی ﷺ من القول او الفعل او تقریرا و وصف’’۔ یعنی نبی ﷺ سے منسوب کسی قول ، فعل یا تقریر بیان کرنے کو حدیث کہا جاتا ہے۔

لیکن قدرے وسعت کے ساتھ ملا علی قاری نے حدیث کی تعریف اس طرح کی ہے:

نقل ما صدر و ظھر عن النبی ﷺ قولا و فعلا  او تقریراً او وصفاً خلیقاً او نعتاً خلیقاً۔

ترجمہ: قول، فعل، تقریر  کی شکل میں جو نبی ﷺ سے صادر ہو ، یا جو کسی خلقی صفت یا کسی خلقی تعریف کے طور پر جو نبی ﷺ سے ظاہر ہو اس کے بیان کو حدیث کہا جاتا ہے۔

نبی ﷺ کی حدیث بیان کرنے کے لئے کبھی سنت ، خبر، اثر جیسے الفاظ بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔

علم حدیث کی اقسام:

تدریب الراوی میں علامہ جلال الدین السیوطی لکھتے ہیں کہ درایت اور روایت کے اعتبار سے علم حدیث کی دو قسمیں ہیں:

روایۃً علم حدیث کی تعریف:

ھو علم یشتمل علیٰ اقوال النبی ﷺ و افعالہ و روایتھا و ضبطھا و تحریر الفاظھا۔

روایۃً علم حدیث کا موضوع نبی ﷺ کے اقوال، آپ ﷺ کے افعال، ان کی روایت، ان کے ضبط  وتحفظ اور ان کے الفاظ کی تحریر کو شامل ہے۔

درایۃً علم حدیث کی تعریف:

ھو علم یعرف منہ حقیقۃ الروایۃ و شرطھاو انواعھا و احکامھاو حال الرواۃ و شروطھم و اصناف المرویات و ما یتعلق بھا۔

درایۃً علم حدیث وہ علم ہے جس سے کسی روایت کی حقیقت،  اس کے شرائط، اس کے اقسام، اس کے احکام، اسے روایت کرنے والے راویوں کے احوال، ان کے شرائط ، مرویات کی اقسام و اصناف اور ان سے متعلق جزویات و فروعیات  کا علم حاصل ہوتا ہے۔

مصادر و ماخذ:

نخبۃ الفکر

میزان الاعتدال

تدریب الراوی

النکت علی کتاب ابن الصلاح

تہذیب التہذیب

تقریب التہذیب

التقیید و الایضاح

فتح المغیث

المدخل فی اصول الحدیث

شرح صحیح مسلم

URL:  http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/we-need-a-comprehensively-objective-study-of-ahadith----i--علوم-الحدیث-کا-ایک-جامع-اور-معروضی-مطالعہ-ناگزیر/d/117392


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..