New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 01:33 PM

Urdu Section ( 11 Jun 2017, NewAgeIslam.Com)

Wahhabism –background and foreground (5) نظریہ وہابیت –پس منظر و پیش منظر

 

 

 

 

مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

7 جون 2017

وہ جماعت کس بنیاد پر قیام امن اور پیغام انسانیت کو عام کرنے کا دعویٰ کر سکتی ہے جس کا ایک ذمہ دار نمائندہ ایک ایسے دہشت گرد کو اسلامی خلیفہ تسلیم کرتا ہے جو مسلکی اختلاف کی بنیاد پر بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانا، ان کے مال و اسباب کو لوٹنا اور خواتینِ اسلام کو لونڈی (جنسی غلام) بنانا اپنا دینی فریضہ مانتا ہے۔ دینی غیرت اور دیانت داری کا تقاضا ہے کہ جو بھی مذہبی یا مسلکی جماعت –خواہ اس کا تعلق سنی، بریلوی مکتبہ فکر سے ہو خواہ سلفی، اہلحدیث، وہابی اور دیوبندی جماعت سے ہو –اسلام کے نام پر انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف ہے وہ ان دہشت گرد جماعتوں اور ان کے قائدوں کی کھل کر نہ صرف مذمت کرے بلکہ ان مذہبی اصول و معتقدات اور عبارات کا بھی جائزہ لے اور ان کی اس از سر نو تعبیر و تشریح پیش کرے جن کی بنیاد پر پوری دنیا میں دہشت گردی کا یہ کار و بار رواں دواں ہے۔ اور خاص طور پر بر صغیر ہند و پاک کے تناظر میں سلفی، دیوبندی وہابی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء اگر حقیقۃً امت کو عدم رواداری، مذہبی تشد، انتہاپسندی اور دہشت گردی کی لعنت سے محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اب اپنا یہ دوہرا رویہ ترک کر نا ہوگا۔ اور اپنے تعلیمی اور دعوتی مراکز سے نجدی علماء کی زہر آلود کتابوں کی مفت تقسیم کو روکنا ہو گا اور ان علماء سے علی الاعلان برأت کا اظہار کرنا ہو گا جن کی تعلیمات یہ ہیں کہ:

1.    کافروں سے مدارت رکھنے والا کافر

2.    کافروں کی باتوں پر عمل کرنے والا کافر

3.    کافروں کو امرائے اسلام کے پاس لے جانے والا اور ان کو ہم مجلس بنانے والا کافر

4.    کافروں سے کسی امر میں مشورہ کرنے والا کافر

5.    مسلمانوں کے امور میں سے کسی ایک مسئلۂ امارت (و خلافت) وغیرہ میں کافروں سے کام لینے والا کافر

6.    کافروں کے پاس بیٹھنے اور ان کے پاس جانے والا کافر

7.    کافروں سے خوش مزاجی کے ساتھ پیش آنے والا کافر

8.    کافروں کا اکرام کرنے والا کافر

9.    کافروں سے امن طلب کرنے والا کافر

10.                       کافروں کی خیر خواہی کرنے والا کافر

11.                       کافروں سے مصاحبت (دوستی کرنے) و معاشرت رکھنے والا کافر

12.                      کافروں کو سردار کہنے والا کافر

13.                      علم طب جاننے والے کو ‘‘حکیم’’ کہنے والا کافر

14.                      کافروں کے ملک میں ان کے ساتھ رہنے والا کافر [1]

اور اگر سلفی، وہابی اور دیوبندی علماء کے اندر ان نجدی علماء اور ان کی تعلیمات سے لاتعلقی اور دست برداری کا اظہار کرنے کی جرأت نہیں ہے تو کم از کم وہ اتنا ہی کر لیں کہ اپنے ایمان کی بقاء اور تحفظ کی خاطر اِس ملک سے ہجرت کر جائیں اور اپنے لیے زمین کا کوئی ایسا خطہ تلاش کر لیں جہاں مذکورہ بالا پیمانے پر ان کا ایمان کھرا اتر سکے، اس لیے کہ یہ ان کی غیرتِ ایمانی کا مسئلہ ہے۔

تاریخ سے ادنی سی واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ جانتا ہے کہ شاہ اسمٰعیل دہلوی کی کتاب تقویۃ الایمان نے –جو کہ محمد بن عبد الوہاب کی کتاب ‘کتاب الوحید’ کا اردو ترجمہ ہے – کس طرح بیٹے کی نظر میں باپ کے ایمان کو مشکوک کیا جس کے نتیجے میں آپسی خونی رشتے ایک دوسرے سے برسر پیکار نظر آنے لگے اور ہندوستان میں عدم روادی، مذہبی منافرت، تشدد، انتہاپسندی اور مذہبی دہشت گردی کی فضا قائم ہو گئی۔ نتائج اور ثمرات کے اعتبار سے اس کتاب کے فتنہ پرور ہونے کا اظہار دبے لفظوں میں خود کتاب کے مصنف مولوی اسمٰعیل دہلوی نے کیا ہے:

‘‘میں نے یہ کتاب لکھی ہے اور میں یہ جانتا ہوں کہ اس میں بعض جگہ ذرا تیز الفاظ آ گئے ہیں اور بعض جگہ تشدد بھی ہو گیا ہے۔ ان وجوہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ اس کی اشاعت سے شورش ضرور ہوگی۔ گو کہ اس سے شورش ہو گی مگر توقع ہے کہ لڑ بھڑ کو خود ٹھیک ہو جائیں گے[2]۔’’

قارئین کرام! انتہائی اختصار کے ساتھ مولوی اسمٰعیل دہلوی کی مذکورہ کتاب کی چند عبارتیں نقل کی جا رہی ہیں، آپ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ کس مکاری و عیاری کے ساتھ اس کتاب میں تمام مسلمانوں کو کافر و مشرک بنانے اور انبیاء، اولیاء اور عام انسانوں کی توہین و تذلیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے:

1.    سب انبیاء اور اولیاء، اللہ کے سامنے ایک ذرہ ناچیز سے بھی کمتر ہیں [3]۔

2.    ایک حدیث کا ترجمہ یہ پیش کیا: ‘پھر اللہ آپ ایسی ایک باؤ (ہوا) بھیجے گا کہ سب اچھے بندے کہ جن کے دل میں تھوڑا سا بھی ایمان ہو گا مر جاویں گے اور وہی لوگ رہ جائیں گے جن میں کچھ بھلائی نہیں’’۔ اس حدیث پر انہوں نے یہ تبصرہ کیا: ‘‘سو پیغمبر خدا کے فرمانے کے موافق ہوا۔ یعنی بھیج چکا اللہ ایسی باؤ جس سے وہ سب اچھے بندے جن کے دل میں تھوڑا سا بھی ایمان تھا مر گئے اور اب کوئی مسلمان باقی نہ رہا’’[4]۔

3.    اللہ کو ہر وقت غیب کا علم نہیں رہتا بلکہ جب چاہتا ہے غیب کی بات دریافت کر لیتا ہے[5]’’۔

4.    ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا (نبی ہویا ولی) وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے[6]’’۔

5.     اپنی اولاد کا نام عبد النبی، عبد الرسول، علی بخش، نبی بخش، پِیر بخش، غلام محی الدین، غلام معین الدین رکھنا شرک ہے [7]۔’’

نام نہاد ‘خالص توحید پرستی’ کےنام پر تنقیص شان رسالت مآب، توہین اولیاء و صالحین اور من جملہ تذلیل انسانیت کی یہ انتہائی قبیح کوشش ہندوستان کے ان امن پسند مسلمانوں کے لیے کسی بھی قیمت پر قابل قبول نہیں تھی جو صدیوں سے انبیاء، اولیاء اور صلحاء سے عقیدت اور محبت رکھتے تھے، لہٰذا اس کتاب کی اشاعت سے امت کے اندر اختلاف، انتشار اور قتل و غارت گری کا ظاہر ہونا ایک فطری بات تھی۔

خود دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ایک عالم احمد رضا بجنوری ‘‘تقویۃ الایمان’’ کے فتنہ پرور ہونے کی شہادت ان الفاظ میں دیتے ہیں:

‘‘افسوس ہے کہ اس کتاب ‘‘تقویۃ الایمان’’ کی وجہ سے مسلمانانِ ہند و پاک جن کی تعداد بیس کروڑ سے زیادہ ہے اور تقریباً نوے فیصد حنفی المسلک ہیں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایسے اختلافات کی نظیر دنیائے اسلام کے کسی خطے میں بھی ایک امام ایک مسلک کے ماننے والوں میں موجود نہیں [8]’’۔

مولوی اسمٰعیل دہلوی کے حقیقی چچازاد بھائی شاہ مخصوص اللہ دہلوی نے بھی ‘تقویۃ الایمان’ کی مذمت کی:

‘‘جس رسالے اور جس کے بنانے والے سے لوگوں میں برائی پھیلے، اور خلاف اولیاء و انبیاء کے ہو، وہ گمراہ کرنے والا ہو گا یا ہدایت کرنے والا ہوگا۔میرے نزدیک اس رسالہ ‘‘تقویۃ الایمان’’ کا اعمال نامہ برائی اور بگاڑ کا ہےاور اس کا بنانے والا فتنہ گر، مفسد، نماوی اور مغوی ہے [9]۔’’

دہلی میں بیسویں صدی کے مشہور و معروف نقشبندی مجددی عالم دین مولانا ابو الحسن زید فاروقی دہلوی (متوفی1993عیسوی) کی بھی ایک چشم کشا تحریر ملاحظہ فرمائیں:

‘‘حضرت مجدد (الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی) کے زمانے سے 1240ھ بمطابق 1825 عیسوی تک ہندوستان کے مسلمان دو فرقوں میں بٹے رہے۔ اہلسنت و جماعت دوسرا شیعہ۔ اب اسمٰعیل دہلوی نے تقویۃ الایمان لکھی اس کتاب سے مذہبی آزاد خیالی کا دور شروع ہوا کوئی غیر مقلد ہوا، کوئی وہابی بنا، کوئی اہلحدیث کہلایا۔ کسی نے اپنے آپ کو سلفی کہا، ائمہ مجتہدین کی جو منزلت اور احترام دل میں تھا وہ ختم ہوا، معمولی نوشت و خواند کے افراد امام بننے لگے اور افسوس اس بات کا ہے کہ توحید کی حفاظت کے نام پر بارگاہ نبوت کی تعظیم و احترام میں تقصیرات (بے ادبی و گستاخی) کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ یہ ساری قباحتیں ماہِ ربیع الآخر1240ھ بمطابق 1825 عیسوی کے بعد سے ظاہر ہونی شروع ہوئی ہیں [10]۔’’

..........................................

[1] ملخص اردو از مجموعۃ التوحید مطبوعہ ام لقریٰ مکہ معظمہ1322 ہجری، صفحہ 86-87 (بحوالہ تاریخ نجد و حجاز)

[2] مولوی اسمٰعیل دہلوی، تقویۃ الایمان ص:75

[3] مولوی اسمٰعیل دہلوی، تقویۃ الایمان ص:76

[4] مولوی اسمٰعیل دہلوی، تقویۃ الایمان ص:26

[5] مولوی اسمٰعیل دہلوی، تقویۃ الایمان ص:26

[6] مولوی اسمٰعیل دہلوی، تقویۃ الایمان ص:19

[7] مولوی اسمٰعیل دہلوی، تقویۃ الایمان ص:8

[8] مولوی احمد رضا بجنوری، انوار الباری، جلد نمبر 11، ص: 107

[9] حضرت شاہ مخصوص اللہ دہلوی، تحقیق الحقیقہ، مطبوعہ بمبئی 1267 ھ

[10] مولانا ابو الحسن زید احمد فاروقی، مولانا اسمٰعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان ص:9، دہلی (بحوالہ: بر صغیر میں افتراق بین المسلمین کے اسباب)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/wahhabism-–background-and-foreground-(5)-نظریہ-وہابیت-–پس-منظر-و-پیش-منظر/d/111500

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..