New Age Islam
Fri May 14 2021, 07:33 PM

Urdu Section ( 9 Jun 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Wahhabism –background and foreground (4) نظریہ وہابیت –پس منظر و پیش منظر

 

 

 

مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

5 جون 2017

ایک طرف تو علمائے دیوبند کا ایسے شدت پسند مذہبی افکار و نظریات اور اصول معتقدات پر عمل پیرا ہونا کہ جن سے مذہبی دہشت گردی کی بنیادیں فراہم ہوتی ہیں اور ان کا ایسی انتہا پسند دہشت گرد جماعت کے قائدوں کی چوکھٹ پر سر نیاز خم کرنا جو عالمی سطح پر مذہبی دہشت گردی کی قیادت کر رہی ہیں، اور دوسری طرف ان کا پیغام امن، قیام امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی جیسے عنوانات پر بڑے بڑے کانفرنسز منعقد کرنا علمائے دیوبند کے فکر و نظر اور قول و عمل کا ایک انوکھا تضاد ہے۔ جس سے پردہ اٹھانا آج اعتدال پسند علماء اور مفکرین کے لیے انتہائی ضروری ہو چکا ہے تاکہ بھولی بھالی عوام کو اس گمراہ گر انتہاپسند جماعتوں کے دامِ مکر و فریب سے محفوظ کیا جا سکے۔

فروری 2008 میں دار العلوم دیوبند کی قیادت میں علمائے دیوبند نے دہشت گردی کے خلاف ایک کل ہند کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں جمعۃ  علماء ہند ، جماعتِ اسلامی ہند، جمعۃی اہل حدیث کے اکثر سرکردہ علماء و زعماء نے شرکت کی۔ اس کانفرن کا مقصد اس بات کا اعلان کرنا تھا کہ ‘‘اسلام دینِ رحمت اور محسنِ انسانت  ہے۔اسلام دہشت گردی کو ختم کرنے آیا ہے، امن وسلامتی اسلام کی حقیقت میں داخل ہے۔اسلام دہشت گردی کی تمام صورتوں کو مسترد کرتا ہے۔’’ اس کانفرنس میں مولانا سید سلمان حسینی  ندوی استاذ دارالعلوم ندوة العلماء لکھنوٴ کا بھی خطاب ہوا تھا جن کا ایک مکتوب گزشتہ قسط میں آپ نے ملاحظہ کیا۔

اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کانفرنس میں پیغام امن، قیام امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور دہشت گردی کی مخالفت جیسے موضوعات پر جماعتِ دیوبند کے چند اہم اور ذمہ دار علماء کے دل نشین بیانات اور بلند بانگ دعوں پر بھی ایک سرسری نظر ڈال لی جائے تاکہ علمائے دیوبند کے فکر و نظر اور قول و عمل کا تضاد طشت از بام ہو سکے۔

کانفرنس کا تاریخی اعلامیہ: بزبان مولانا مفتی محمدابوالقاسم نعمانی، رکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند وشیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ بنارس

اعلامیہ میں اس حقیقت کا اعلان کیاگیا ہے کہ اسلام ساری انسانیت کے لیے دین ِ رحمت ہے وہ دائمی امن وسلامتی اور لازوال سکون واطمینان کا سرچشمہ ہے، اسلام نے پوری انسانی برادری کو بلاتفریق قوم ومذہب اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ اسلام ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کا شدید مخالف ہے۔

رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ملت اسلامیہ کے تمام مکاتبِ فکر کے نمائندوں کی یہ دہشت گردی مخالف کل ہند کانفرنس ہرقسم کے تشدد اور دہشت پسندی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

مولانا سید محمدرابع حسنی ندوی،صدرمسلم پرسنل لاء بورڈ وناظم ندوة العلماء لکھنوٴ کا تحریری بیان، بزبان: مولانا عبدالقادر:

‘‘دہشت گردی مخالف اس کل ہند کانفرنس میں شرکت کرکے مجھے خوشی ہوتی، لیکن صحت کی خرابی کے باعث میں شریک ہونے سے معذور ہوں اس لیے صرف اس پیغام کے ذریعہ شرکت پر اکتفاء کررہاہوں، دہشت گردی کی مذمت کے ساتھ اس کو مسلمانوں کے ساتھ وابستہ کرنے کو قابل مذمت فعل قرار دینے کے لیے کانفرنس کا انعقاد موجودہ حالات کے اس پس منظر میں ایک ضروری اقدام ہے اس کے لیے ہر مسلک وجماعت کے نمائندے ، ملک کے وفادار شہری اپنا صاف اور صحت مندانہ موقف پیش کریں گے اور توجہ دلائیں گے کہ ملک میں آج کل دہشت گردی کا تذکرہ بار بار کیا جاتا ہے اور اس کو مسلمانوں اور مدارس اسلامیہ کی طرف منسوب کیا جاتاہے، اس کو اسلام اور ملت اسلامیہ سے وابستہ کرنا، اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ بڑی زیادتی کی بات ہے، اسلام میں ہر طرح کے ظلم وزیادتی کو سخت الفاظ میں منع کیاگیا ہے اور مسلمان قوم کے افراد اسلامی تعلیمات کے تحت زیادتی اور ظلم سے بچنے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور کسی سے اگر ظلم وزیادتی کا فعل ہوجائے تواسے بہت برا سمجھتے ہیں، اور اس کوغیراسلامی عمل قرار دیتے ہیں۔

مولانا محمد سالم قاسمی صاحب مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند ونائب صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ:

حق کا نظریہ جو دلائل سے ثابت ہے،جس کی تعلیمات روشن اور واضح ہیں۔ کفر کا نظریہ جو بے دلیل اور بے بنیاد ہے۔چوں کہ باطل دلائل سے شکست خوردہ ہے،اس لیے وہ تلوار اور طاقت کے ذریعہ حق کا مقابلہ کررہا ہے۔ لیکن ہم شکست خوردہ نہیں ہوں گے۔اس لیے کہ اسلام کے پاس واضح دلائل اوربینات ہیں جو باطل کے پاس نہیں ہیں۔اسلام کا نظام تعلیم، نظام تہذیب وثقافت سب براہین سے ثابت ہیں۔اسلام دہشت گردی کا شدید مخالف ہے اسلام ایک شخص کے ناحق قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔

مولانا عمید الزماں صاحب کیرانوی کارگزار صدر تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند:

‘‘اسلام ہمارا عقیدہ،ہمارا مذہب، ہماری روح، اور ہمارا منہج حیات ہے اور شرعی حب الوطنی کے دائرے میں ہندوستان ہماری محبت، شیدائیت کا مرکز اور محور ہے۔ اسلام عدم تشدد کی ایک فلاسفی پیش کرتا ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اسلام نے انسانیت کو جو مرتبہ ومقام عطا کیا ہے وہ کسی اور مذہب نے عطا نہیں کیا ہے۔ اسلام میں ایک بے قصور انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ایسے مذہب کے ماننے والوں کو دہشت گرد قرار دینا سراسر بہتان عظیم نہیں تو اور کیا ہے؟۔

جامعہ سلفیہ بنارس کے استاذ مولانا عبدالوہاب حجازی سلفی:

‘‘آج کا یہ بابرکت اور عظیم الشان اجتماع حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب حفظہ اللہ مہتمم دارالعلوم دیوبند کی دعوت پر منعقد ہوا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شان دار اجتماع کو اپنے مقاصد میں پوری طرح کامیاب فرمائے۔ جو اعلامیہ پیش کیاگیا ہے وہ ہماری دلی آواز ہے۔ مسلمانوں کو دہشت گردی کی جہت سے جو مشکلات درپیش ہیں ان کو دور کیا جائے۔مسلمانوں کی تاریخ بتاتی ہے اور اس کا اعتراف غیروں کو بھی ہے کہ اسلام امن ورحمت کا مذہب ہے، مسلمان جس معبود کی پرستش کرتے ہیں وہ رحمن ورحیم ہے اور جس نبی کی اتباع کرتے ہیں وہ رحمة للعالمین ہے۔ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ سارے جہاں کے لیے رحمت ہے، رحمن ورحیم کے پرستاروں اور رحمة اللعالمین کے پیروکاروں کے دل سے رحمت کیوں کر ختم ہوسکتی ہے۔ یہ امت تمام انسانیت کے لیے رحمت اور امن کی پیامبر ہے، اس امت کو ظالم اور امن کا دشمن قرار دینا وقت کا سب سے بڑا ظلم ہے۔ یہ کانفرنس وقت کی آواز ہے، آج مسلمانوں کوطرح طرح سے پریشان کیا جاتاہے مختلف الزامات لگاکر ان کو گرفتار کرلیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ جرم ثابت ہونے سے پہلے مجرموں جیسا سلوک کیاجاتاہے یہ قانون اور انصاف کے رو سے بھی صحیح نہیں ہے مسلمان بڑی تعداد میں یہاں رہ رہے ہیں،اس ملک میں طرح طرح کی قومیں۔ مختلف مذاہب ، الگ الگ بولیاں اور رنگ وروپ ہیں یہ سب چیزیں زینت چمن ہیں۔

مولانا عبدالعلیم فاروقی رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند ومہتمم دارالمبلغین لکھنوٴ:

‘‘یہ تقریباً سبھی حضرات ِ مقررین نے فرمایا کہ :اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے،اس میں کوئی شبہ بھی نہیں کہ ہمارے نزدیک دہشت گردی جتنا بڑا جرم ہے شاید دنیا کے کسی انسان کے نزدیک اتنا بڑا جرم نہ ہو، اسلام کا معنی ہے سرڈالنا، اطاعت کرنا، فرماں برداری کرنا، سرڈالنے والا دہشت گرد کیسے ہوسکتا ہے؟

مولانا غلام محمد وستانوی صاحب زیدمجدہم رکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند ومہتمم جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم مہاراشٹر

”ہم اس ربِّ کریم کا شکرادا کرتے ہیں جس خالق ومالک نے مجھے اور آپ کو اور ہم ہندوستان کے مسلمانوں کو، دارالعلوم دیوبند جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی، دارالعلوم دیوبند ہندوستان کے مسلمانوں کی آبرو ہے، دارالعلوم دیوبند ہندوستانی مسلمانوں کا تڑپتا ہوا دل ہے، دارالعلوم نے ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی، ثقافتی، سماجی،ہر لحاظ سے صحیح رہبری کی ہے۔دہشت گردی کو مسلمانوں اور مدارس اسلامیہ سے جوڑا جارہاہے۔ دارالعلوم یہ عظیم الشان اجلاس بلاکر ان خیالات کی مذمت کرتا ہے، مسلمانوں اور مدارس اسلامیہ کا دہشت گردی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا فیض ملک کے کونے کونے میں جاری ہے اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کا تقدس دارالعلوم دیوبند اور مدارس اسلامیہ کی دین ہے۔

        دارالعلوم دیوبند کا کوئی فاضل آج تک دہشت گردی کے کسی کام میں پکڑا نہیں گیا کسی اور مدرسے کا بھی کوئی استاذ یا طالب علم کسی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث نہیں پایاگیا[1]۔

معزز قارئین! ذرا غور کریں کہ دہشت گردی کے خلاف پیغام امن اور قیام امن کے عوان پر ایسے دلفریب بیانات وہ جماعت جاری کر رہی ہے جس جماعت کے ایک نامور ادارے کے ایک ذمہ دار استاذ ہزاروں بے گناہ انسانوں کے قاتل ایک عالمی دہشت گرد ابو بکر البغدادی کی شان میں کچھ اس طرح آداب نیاز مندی بجا لاتے ہیں:

‘‘اسلام کے ایک خادم ابو الحسن علی حسنی ندوی کے پوتے سلمان حسینی ندوی کی جانب سے عراق کی اسلامی ریاست اور مشرقی بحیرہ رومی علاقوں کے امیر المومنین جناب ابوبکر البغدادی الحسینی کے نام اللہ تعالی ان کی حفاظت فرمائے ان سے امت کو فائدہ پہنچائے اور ان کے ذریعے اسلام کا پرچم بلند کرے۔

میں نے اگرچہ آپ کو نہیں دیکھا ہے لیکن میں نے آپ کی بات بہت توجہ کے ساتھ سنی ہے۔ بلکہ میں نے اس کی بات سنی ہے جو آپ کے نمائندے کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ آپ بہادری کے ساتھ ایک چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور آپ نے ایک ایسے سفر کا آغاز کیا ہے جو کانٹوں اور پتھروں سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے آپ کی وہ تقریر سنی جو آپ نے موصل کی جامع مسجد میں رمضان میں جمعہ کے دن دو روز قبل کی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تمام سنی قبائل آپ کے ساتھ ہیں۔ اس کے علاوہ جہادی تنظیمیں آپ کے خلاف لڑنا نہیں چاہتی۔ آپ کے کردار کو تمام لوگوں نے قبول کر لیا ہے اور امیر المومنین کے طور پر آپ کو تسلیم بھی کر لیا[2]۔’’

جاری..........................

 [1] دارالعلوم، شماره : 4، جلد: 92 ربیع الثانی 1429ھ مطابق اپریل ۲۰۰۸ء –بحوالہ: http://darululoom-deoband.com/urdu/articles/tmp/1417579231%2005-Dahshat%20Gardi%20Ke%20Khilaf_MDU_04_APRIL_2008.htm

[2] [3] http://newageislam.com/the-war-within-islam/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/-recruit-sunnis-for-a-powerful-global-islamic-army-to-fight-shias-and-help-muslims-in-need;-five-lakh-brave-indian-youth-will-be-provided---maulana-salman-nadvi-to-saudi-government/d/98206

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/wahhabism-–background-and-foreground-(4)-نظریہ-وہابیت-–پس-منظر-و-پیش-منظر/d/111482

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..