New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 02:06 PM

Urdu Section ( 7 Jun 2017, NewAgeIslam.Com)

Wahhabism –background and foreground (3) نظریہ وہابیت –پس منظر و پیش منظر

 

 

 

 

 

مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

3 جون 2017

وہابی تکفیری فیکٹریوں سے نکلنے والے یہی وہ زہر آلود نظریات ہیں جنہوں نے سرزمین عرب میں ایک ایسا زلزلہ برپا کیا جس کے جھٹکے پوری دنیا میں محسوس کئے گئے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب شیخ نجدی نے اپنے نظریات کو عملی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا تو قاتل بھی ‘‘اللہ اکبر’’ کا نعرہ بلند کر رہے تھے اور بے گناہ مقتول بھی ‘‘اللہ اکبر’’ کا نعرہ بلند کر رہے تھے۔ میدان جنگ کا یہ منظر ‘‘جاہل نجدی سپاہیوں’’ کی نظر میں کھٹکنے لگا کہ ہمیں تو کافروں کو تہہ تیغ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا لیکن یہ کیسے ‘‘کافر’’ ہیں کہ جو زیر خنجر بھی ‘‘نعرہ توحید’’ بلند کر رہے ہیں۔ لیکن اس دنیا میں اپنی نام نہاد ‘‘خالص توحید پرستی’’ کو بالا دست کرنے کے جنون میں وہ اور ان کے وہابی لیڈر ‘‘صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ’’ کی تصویر بن چکے تھے اور سچ کو دیکھنے، سننے اور سمجھنے سے معذور تھے۔

اپنے وہابی نظریات کی بنیاد پر انسانوں سے عدم رواداری، نفرت، عداوت، بغض و عناد اور قتل و غارت گری کی جو تخم کاری شیخ نجدی نے کی تھی آج وہ ایک تناور درخت کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ آج عالم عرب اور دنیا کے دیگر خطوں میں یہ انتہاپسند جماعتیں اپنے فرقہ اور اپنے مسلک کی بالادستی کے لیے بلا امتیاز کس طرح عام مسلمانوں کو موت کی آغوش میں سُلا رہی ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ آج حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کی بارگاہ میں آداب نیازمندی بجا لانے کی قیمت صوفی مسلمانوں کو صرف اس لیے اپنی جان دے کر ادا کرنی پڑتی ہے کہ ایک انتہاپسند مذہبی طبقہ انہیں کافر سمجھتا ہے۔ اس ضمن میں شیخ نجدی کے بارے میں ایک غیر مقلد وہابی عالم کی ایک عبارت نقل کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں تاکہ یہ امر واضح ہو سکے کہ شیخ نجدی اور ان کے متبعین اولیاء اور صالحین کی بارگاہ میں حاضری دینے والے امن پسند صوفی مسلمانوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں:

‘‘جاہلوں کے غلط عقیدوں کی اصلاح معبودان باطل قبہ و قبر سے ہٹا کر پھر معبود حقیقی کی درگاہ میں لا کر کھڑا کرنا ان کا مقصود تھا۔ پھر یہ ہر کس و ناکس کی بات نہ تھی اس کے لیے ایمان خالص اور سچی عزیمت کی ضرورت تھی۔ اس راہ میں شیخ کو جن صبر آزما مصیبتوں سے دوچار ہونا پڑا اور جس خندہ پیشانی کے ساتھ انہوں نے اس راہ کی تکلیفوں کا استقبال کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان اوصاف سے پوری طرح متصف تھے’’[1]۔

ہندوستان کے ایک اور دیوبندی عالم شیخ نجدی کی اور ان کے مشن کی تعریف میں رقم طراز ہیں:

‘‘توحید کی دعوت دی، غیر اللہ کے آگے سر خم کرنے، قبروں ولیوں سے مدد مانگنے اور نیکوکار بندوں کو معبود ثانی بنانے سے روکنے کی کوشش کی، قبروں کی زیارت میں مسنون طریقہ کے خلاف جو بدعتیں رائج ہو گئی تھیں ان کے مٹانے کو عملی اقدام اٹھایا۔ پھر کیا تھا! مخالفت کا سیلاب امنڈ آیا۔ اعزاء و اقرباء در پے آزار ہو گئے، خود باپ کو بھی یہ ادا پسند نہ آئی۔ شیخ نے باپ کے ادب اور استاذ کی عزت کا پورا لحاذ کیا، پر جو قدم آگے بڑھ چکا تھا وہ پیچھے نہ ہٹا’’ [2]۔

قارئین کرام! دیکھا آپ نے کہ خالص توحید پرستی کو غالب کرنے کے جذبات سے لیس 18ہویں صدی میں پیدا ہونے والی نام نہاد اصلاح پسند وہابی تحریک کے علماء اور زعماء نے کس دریدہ ذہنی کے ساتھ گزشتہ ادوار کے اور موجودہ دور کے تمام امن پسند صوفی مسلمانوں کو کافر و مشرک اور اولیاء و صالحین کے مزارات کو معبود ثانی قرار دیا، جس کے نتیجے میں تکنیکی طور پر صرف ایک ہی فرقہ مسلمان ٹھہرا جسے ہم وہابیت کے نام سے جانتے ہیں۔ اس نام نہاد توحید پرست فرقہ نے قبروں کی زیارت میں مسنون طریقہ کے خلاف جو بدعتیں رائج ہو گئی تھی ان کو ختم کرنے کے لیے ایک طرف تو اولیاء اور صلحاء کے مزارات اور ان کی زیارت گاہوں کو ہی ڈھانا شروع کر دیا اور اس طرح عالم اسلام کے بے شمار عظیم اور قیمتی ورثے اس مہلک وہابی نظریہ کی بدولت زمیں بوس ہو کر گمنامی کا شکار ہو گئے۔ اور دوسری طرف ان بزگوں سے محبت رکھنے اور ان تاریخی اسلامی میراثوں کو احترام کی نگاہ سے دیکھنے والے سادہ لوح مسلمانوں کے خلاف عالمی پیمانے پر عملی طور پر ایک خونی جنگ کا بھی آغاز کر دیا جو کہ نہ صرف صوفی سنی مسلمانوں کے جائز اختیارات اور ان کی مذہبی آزادی پر ایک عظیم انسانیت سوز حملہ ہے، بلکہ وسیع تر تناظر میں یہ پوری انسانیت کے خلاف باطل قوتوں کا ایک منظم حملہ ہے۔

وہابی لابی نے اپنے نظریات کو عالمی سطح پر غالب کرنے کے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے پوری دنیاں میں جہاں تحریر، تقریر اور بعض صورتوں میں مسلح حملوں کا سہارا لیا ہے، وہیں پیٹرول ڈالر کی قوت سے زرپرست علماء کے ایک طبقہ کو اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا بھی ہمیشہ اس کے منصوبے کا ایک حصہ رہا ہے۔ ہم آئندہ اپنی سلسلہ وار تحریروں میں بالتفصیل اس پر روشنی ڈالیں گے۔ مگر ابھی میں برصغیر ہندو پاک کے تناظر میں اس پر کچھ روشنی ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں۔

جیسا کہ اب یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ آج اسلام کے نام پر جتنی بھی دہشت گرد تنظیمیں دنیا کے مختلف خطوں میں سرگرم عمل ہیں سب کی نظریاتی بنیاد نظریۂ وہابیت پر ہی ہے۔ اور وہ سب کے سب اسی نظریہ کو عملی شکل دینے میں سرگرم عمل ہیں کہ ‘‘جو بھی فرد یا فرقہ فکری اور نظریاتی طور پر ہم سے متفق نہیں ہے وہ خارج از اسلام، کافر و مرتد اور مباح الدم ہے، یعنی ایسے کسی فرد کو یا ایسی کسی جماعت سے وابستہ افراد کو قتل کرنا، ان کے مال و اسباب کو لوٹنا، ان کے گھروں کو جلانا، ان کی عوتوں کی آبرو ریزی کرنا اور انہیں جنسی غلام بنانا سب جائز ہے۔’’ اور یہ ایک ایسا قضیہ ہے جس کی تائید ادوار ماضیہ میں اور موجودہ دور میں بھی خود وہابی مکتبہ فکر سے منسلک فرقوں اور جماعتوں کی سرگرمیوں سے ہوتی ہے، اس کی تائید میں کسی اور شہادت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

لہٰذا، ہمارے ملک ہندوستان میں سعودی زر پرستی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک وہابی دہشت گرد انتہاپسند تنظیم داعش کے لیڈر ابو بکر البغدادی کی حمایت میں وہابی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ مولانا سلمان حسینی ندوی نے ابو بکر البغدادی کے نام ایک خط لکھ کر ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ اگر چہ یہ خط ‘‘نیو ایج اسلام’’ نے بر وقت شائع کر کے ہندوستان میں وہابی علماء کی ناپاک ذہنیت کا پردہ فاش کیا تھا، مگر میں اسے اپنی اس تحریر میں بھی اس مقصد کے ساتھ شامل کر رہا ہوں کہ عالم اسلام کے مسلمانوں کو بالعموم اور ہند و پاک کے مسلم نوجوانوں کو بالخصوص اس حقیقت سے با خبر کیا جائے کہ وہابی لیڈرں یا مذہبی قائدوں کا تعلق خواہ عالم عرب کے سعودی، عراق، بغداد اور یمن جیسے خطوں سے ہوں خواہ ہمارے ملک ہندوستان سے ہو، وہ ہمارے ایمان، ہمارے معاشرے کے سکون و اطمینان اور ہمارے ملک کی سالمیت کے لیے یکساں طور پر مہلک اور نقصاندہ ہیں۔ اور امت کے ہر خاص و عام تک یہ بات پہنچا دی جائے کہ یہ علماء کے لباس میں وہی تکفیری ٹولہ ہے جس نے عالمی سطح پر اسلام کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور امت کی وحدت کو پارہ پارہ کیا ہے۔ اب ابو الحسن علی حسنی ندوی کے پوتے سلمان حسینی ندوی کا وہ خط ملاحظہ کریں جس میں وہ ایک قاتل، ایک عالمی دہشت گرد اور نام نہاد اسلامی خلیفہ ابو بکر البغدادی کی نیازمندی کرتے اور اس کی اطاعت میں سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

عالمی مسلم برادری کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی کو مولانا سلمان حسینی ندوی کا خط

(عربی سے ترجمہ، نیو ایج اسلام)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اسلام کے ایک خادم ابو الحسن علی حسنی ندوی کے پوتے سلمان حسینی ندوی کی جانب سے عراق کی اسلامی ریاست اور مشرقی بحیرہ رومی علاقوں کے امیر المومنین جناب ابوبکر البغدادی الحسینی کے نام اللہ تعالی ان کی حفاظت فرمائے ان سے امت کو فائدہ پہنچائے اور ان کے ذریعے اسلام کا پرچم بلند کرے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : «مذہب مشورہ ہے»۔ اس پر صحابہ کرام نے دریافت کیا : «اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مطمح نظر کون ہے»۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : «اللہ، اللہ کے رسول اور اس کی کتاب اور مسلمانوں کے رہنما اور عامۃ الناس»۔ اور اللہ کا فرمان ہے (زمانے کی قسم، بیشک (بالیقین) انسان سرتا سر نقصان میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی)۔

محترم اسلامی رہنما، میں ایک طویل وقت سے اسلامی ریاست کے بارے میں پل پل کی خبر رکھ رہا تھا اور اس بارے میں بڑا پر جوش تھا۔ اس سے قبل میں افغانستان میں اسلامی تنظیموں کے جہاد کی برابر خبر رکھ رہا تھا جو کہ در اصل روس کے خلاف تھا۔ اس کے بعد عراق پر امریکی حملہ ہوا۔ میں شام کے حالات سے بھی آگاہ ہوں جہاں النصرہ اور اسلامی ریاست کے درمیان اختلافات شدید تر ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، شام میں لڑنے والی تنظیموں کے درمیان اختلافات ہمارے لئے ایک برا شگن تھا۔ تاہم، اسی دوران ہمیں ایک اچھی خبر ملی کہ آپ نے عراق میں موصل پر قبضہ کر لیا ہے اور ظالم مالکی پر فتح حاصل کر لی ہے۔ موجودہ وقت میں مالکی بہت جارحیت پسند ہے اور اس نے مذہبی انتشار پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ یہ ایک سنگین فساد ہے اور جو اسے پھیلا رہا ہے وہ اور بھی بڑا ظالم ہے۔

میں نے اگرچہ آپ کو نہیں دیکھا ہے لیکن میں نے آپ کی بات بہت توجہ کے ساتھ سنی ہے۔ بلکہ میں نے اس کی بات سنی ہے جو آپ کے نمائندے کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ آپ بہادری کے ساتھ ایک چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور آپ نے ایک ایسے سفر کا آغاز کیا ہے جو کانٹوں اور پتھروں سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے آپ کی وہ تقریر سنی جو آپ نے موصل کی جامع مسجد میں رمضان میں جمعہ کے دن دو روز قبل کی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تمام سنی قبائل آپ کے ساتھ ہیں۔ اس کے علاوہ جہادی تنظیمیں آپ کے خلاف لڑنا نہیں چاہتی۔ آپ کے کردار کو تمام لوگوں نے قبول کر لیا ہے اور امیر المومنین کے طور پر آپ کو تسلیم بھی کر لیا۔

میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ انصاف قائم کیا جانا چاہئے اور ظلم و ستم کو ختم کر دیا جانا چاہئے۔ تمام گروپ ایک ہی پلیٹ فارم پر نظر آئیں۔ میری خواہش ہے کہ اسلامی ریاست ایک اسلامی خلافت میں تبدیل ہو جائے۔ ایک مذہب کا پیروکار کسی دوسرے مذہب کے پیروکاروں کو نشانہ نہ بنائے۔ شیعہ اور سنی ہلاک نہ کئے جائیں۔ تمام مذاہب کے پیروکاروں کو انصاف دیا جائے۔ بلا جواز کسی کو ناحق قتل نہ کیا جائے اور انہیں ہی قتل کیا جائے جو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ چھڑتے ہیں اور فساد پھیلاتے ہیں۔ بوڑھے بچوں اور عورتوں کا قتل تبھی کیا جائے جب ان کا جرم ثابت ہو جائے اور سزا ایک متقی قاضی ہی سنائے۔

ائمہ حدیث خوارج، شیعہ، مرجعہ معزلہ وغیرہ سے حدیثیں روایت کرتے تھے ‘‘کتب التراجم و الطبقات’’ میں اس کے شواہد موجود ہیں۔ لہٰذا ہمیں تعلیم و تعلم اور اصلاح کے تعلق سے دانشورانہ نظریاتی اور عملی اصولوں کے لئے اپنے دلوں کو کشادہ کرنا چاہیے۔ معافی اور بخشش عام کرنا چاہیے جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عام اعلان کیا تھا جو کہ ہمارے لئے بہترین ماڈل اور بنیاد ہے۔

ان اسلامی گروہوں پر فتاوے اور سخت بیانات جاری نہ کیے جائیں جن کے اخلاص، صداقت، اس کے بانیوں کی عظمت اور اسلام کے لئے ان کی نیک خدمات ہمارے درمیان عام ہیں۔ اور نہ ہی ان کے موقف، نقطہ نظر اور پالیسی کی بنیاد پر اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے جو کہ براہ راست یا بلاواسطہ قبضے کے بعد ضرورت پر مبنی پالیسیاں ہیں۔ لہٰذا اس سلسلے میں بہت ساری رائیں ہیں۔

عالمی ممالک کے ساتھ تعلقات اس بنیاد پر قائم کیے جائیں کہ (جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے)۔

علیحدگی نہیں بلکہ تبلیغ کے لئے آپ کو موقع اور فتوحات کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ آپ کو اسے مشکل بنانے کے بجائے آسان بنا چاہئے۔ آپ کو مخلوق کے لئے تئیں انسانیت نوازی ، ہمدردی اور رحمدلی اور محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر اسلام کی تبلیغ کرنی چاہئے۔ (پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے)۔

آج ظلم و ستم اور بربریت کے خلاف اس دنیا میں سلامتی، امن، ہم آہنگی کے لیے ایک متحدہ محاذ قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

لہذا، اس کے لیے طاقتور میڈیا، زبردست سرگرمیاں، مضبوط گرفت اور معصوم اور امن پسند لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہونا ناگزیر ہے۔ اور اس کے لیے وفود بھیجنا، سفارتی رابطہ، حکومتوں کی غلط شکایات کی رپورٹ، دنیا کے سامنے دستاویزات کی نمائش، انسانی حقوق اور انصاف سے لوگوں کو مطمئن کرنا اور بدعنوانی، ظلم اور بربریت کے اڈوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔

یو ٹیوب پر موصل کے مسجد میں دیے گئے آپ کے خطاب جمعہ کو سننے کے بعد میں 7 رمضان مبارک کی رات میں آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔ میں تمام قبیلوں، گروہوں اور فوجی دستوں کو آپس میں رشتہ اخوت پیدا کر کے ان تمام باتوں سے گریز کرتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی گزارش کرتا ہوں جو خون ناحق یا ذلت و رسوائی کا باعث بنیں یا فرقہ وارانہ مفادات اور اختلافات میں اضافہ کریں۔ (اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ (تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے)[3]۔

اگر چہ بعض میڈیا رپورٹ کے مطابق اس کے خلاف مذمتوں کے بعد انہوں نے اس خط سے بیزاری کا اعلان کیا تھا لیکن یہ خط دیوبندی اور وہابی قائدین کی ذہنیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1] سید احمد دحلان مکی شافعی، متوفی 1304 ہجری، الدرر السنیہ، ص47۔

[2] مسعود عالم ندوی: محمد بن عبد الوہاب، ص 31

[3] http://newageislam.com/the-war-within-islam/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/-recruit-sunnis-for-a-powerful-global-islamic-army-to-fight-shias-and-help-muslims-in-need;-five-lakh-brave-indian-youth-will-be-provided---maulana-salman-nadvi-to-saudi-government/d/98206

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/wahhabism-–background-and-foreground-(3)--نظریہ-وہابیت-–پس-منظر-و-پیش-منظر/d/111450

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..