New Age Islam
Sun Oct 24 2021, 08:19 PM

Urdu Section ( 12 Jan 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Visiting the graveyard is a virtue and permissible in Islam قبروں کی زیارت ایک جائز اور نیک عمل ہے

مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

11/01/2017

زیارت قبور کا بیان

انسان کیاصل کامیابی اخروی فلاح ہے۔ انسان کو پوری توجہ اور خلوص و للٰہیت کے ساتھ ایسے اعمالِ صالحہ انجام دینا چاہیے جو رضائے الٰہیکا باعث ہوں۔ ایک مسلمان کی پوری زندگی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل اطاعت میں بسر ہونی چاہیےاور اس کی زندگی کے ہر ہر گوشے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی جھلک نمایاں ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اسلام نے متعدد ذرائع اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔اور اس کے حصول کا سب سے بہترین ذریعہ آخرت کی یادہے۔اس سے انسان کے اندر اس مادی دنیاکی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور اس کے اندر آخرت کی حقیقی زندگیکو بہتر بنانے کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اورآخرت کو یاد کرنے کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ اس شہرِ خاموشاں میںقدم رکھنے کے بعد انسان کو اس بات کا احساس احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہےاور اس کا مزہ ہر انسان کو چکھنا ہے۔

مسلمانوں کا ایک خاص طبقہعام مسلمانوں کو زیارتِ قبور سے روکتا ہے اور وہاں فاتحہ پڑھنے کو شرک اور قبر پرستی کا نام دیتا ہے اور اس پر عمل کرنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتاہے۔ یہ ایک انتہا پسند نظریہ ہے۔ قرآن و حدیث میں اس نظریاتی شدت پسندیکی کوئیبنیاد نہیں ہے۔ صحیح احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بہ نفس نفیس قبورِ شہداء پر تشریف لے جاتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بھی یہی معمول رہا۔ لہٰذا یہ عمل نہ تو شرک ہے اور نہ ہی منافئ توحید ہےاب ہم اسحوالے سے احادیث مبارکہ اورمعمولات صحابہ کرام کا مطالعہ کرتے ہیں تاکہ اس کے مختلف پہلو صحیح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اجاگر ہو سکیں۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

        ’’تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘ (مسلم،حاکم)

        ’’میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘ (حاکم، المستدرک)

        ’’میں تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا کرتا تھا، بلاشبہ اب مجھے اپنی والدہ محترمہ کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے پس تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔(ترمذي)

        ’’میں نے تمہیں تین کاموں سے منع کیا تھا لیکن اب میں تمہیں انہیں کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا لیکن اب ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ اس میں نصیحت ہے (اور یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے)۔ میں نے تمہیں چمڑے کے سوا دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب ہر برتن میں پی لیا کرو، ہاں! نشہ لانے والی چیز نہ پیا کرو۔ اور میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع کیا تھا لیکن اب کھا لیا کرو اور اپنے سفر میں اس سے فائدہ اٹھایا کرو۔‘‘ (أبو داؤد،نسائی)

قبروں کی زیارت کرنا ایک عمل صالح ہے

زیارتِ قبور کے اثبات میں جوروایات بیان کیجاتی ہیں ان سے یہ بھیثابت ہوتا ہے کہ قبروں کی زیارت نیکیوں میں اضافے کا باعث ہے اور جو عمل نیکیوں میں اضافہ کا باعث ہو وہ یقیناً عملِ صالح اور شرعًا مستحب و مستحسن ہے۔

        ’’میں نے تمہیں تین باتوں سے منع کیاتھا۔ ان میں سے ایک قبروں کی زیارت تھی، لیکن اب قبروں کی زیارت کرو اور اس زیارت سے اپنینیکیوں میں اضافہ کرو۔‘‘ (نسائي،حاکم،ابن حبان)

        ’’بے شک میں نے تمہیں زیارت قبور سے منع کیا تھا اب جو بھی قبر کی زیارت کرنا چاہے اسے اجازت ہے کہ وہ زیارت کرے کیونکہ قبروں کی زیارت سے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے، آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیںاور آخرت کی یادتازہ ہوتیہے۔‘‘ (حاکم، المستدرک)

زیارت قبور باعث عبرت ہے

        ’’میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ اس میں نصیحت اور عبرت ہے۔‘‘ (حاکم، بيهقی)

        ’’میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا پس اب تم زیارت کیا کرو بے شک اس میں تمہارے لئے نصیحت ہے۔‘‘ (طبراني)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

        ’’اپنے (فوت شدہ) بھائیوں کی زیارت کیا کرو اور انہیں سلام کہا کرو اور ان پر رحمت بھیجا کرو بے شک ان کی زیارت میں تمہارے لئے عبرت ہے۔‘‘ (ديلمی)

        ’’میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا سے بے رغبت کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘ (ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم)

        ’’آگاہ رہو! بے شک میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو، یہ تمہیں تمہاری آخرت یاد دلائے گی۔‘‘ (دار قطنی)

        ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے زیارتِ قبور سے منع فرمایا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں آخرت کی یاد دلائے گی۔‘‘ (ابن ابی شیبہ، أبو يعلي،أحمد بن حنبل)

قبروں کی زیارتکرنا خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں شامل تھا

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں :

        ’’جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں قیام فرما ہوتے تو (اکثر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے آخری حصہ میں بقیع کے قبرستان میں تشریف لے جاتے اور (اہلِ قبرستان سے خطاب کرکے) فرماتے : تم پر سلام ہو، اے مومنوں! جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ تمہارے پاس آ گئی تم بہت جلد اسے حاصل کرو گے اور اگر اﷲ تعالیٰ نے چاہا تو ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اﷲ! بقیعِ غرقد والوں کی مغفرت فرما۔‘‘ (مسلم، نسائی)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب قبروں کی زیارت کے لئے جائیں تو کیا کہیں:

        ’’اے اہل دیارِ مومنین و مسلمین! تم پر سلامتی ہو اور اِن شاء اللہ ہم بھی ضرور بالضرور تم سے ملنے والے ہیں، ہم اﷲ سے اپنے لئے اور تمہارے لئے عافیت کے طلب گار ہیں۔‘‘ (مسلم، احمد بن حنبل)

        ’’اے اہلِ قبور! تم پر سلام ہو، اﷲ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے تم ہم سے پہلے پہنچے ہو اور ہم بھی تمہارے پیچھے آنے والے ہیں۔‘‘ (ترمذي)

ایصال ثواب

        .۱]

’’ اور جو لوگ ان (اہل ایمان) کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں، اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ایمان کے ساتھ ہم سے پہلے گزر گئے اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کینہ نہ بنا۔ اے ہمارے پروردگار! بلاشبہ تو مشفق مہربان ہے۔

اسی طرح حدیث میں آتا ہے جب نجاشی فوت ہوا ، تو نبیصلی الله علیہ وسلم نے اس کی اطلاع دیاور فرمایا:

        اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو۔ (بخاری ،نسائی )

        ’’عائشہرضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریمصلی الله علیہ وسلم البقیع کی طرف نکلاکرتے اور ان کے لیے دعا کرتے تھے۔ عائشہرضی اللہ عنہما نے آپصلی الله علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: مجھے ان کے لیے دعا کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ ( مسند احمد)

        ۱۲]

’’ بلاشبہ ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں۔ وہ اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کررکھا ہے۔‘‘

        ’’ جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کا عمل اس سے منقطع ہوجاتا ہے، مگر تین چیزیں ہیں (جن کا فائدہ اسے مرنے کے بعد ہوتا رہتا ہے۔ )(۱)صدقہ جاریہ۔ (۲) علم جس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے۔ (۳) نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔‘‘ ( مسلم، ترمذی )

        ’’ آدمی اپنے بعد سب سے بہترین تین چیزیں چھوڑ کر جاتا ہے۔ (۱) نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔ (۲) صدقہ جاریہ، اس کا اجر اسے (مرنے کے بعد) پہنچتا ہے۔ (۳) اور علم جس پر اس کے بعد عمل کیا جاتا ہے۔‘‘ ( ابن ماجہ )

        ’’بلاشبہ مومن آدمی کو اس کے عمل اور نیکیوں سے اس کی موت کے بعد جو ملتا ہے اس میں سے (۱) ایسا علم جس کی اس نے تعلیم دی اور اسے نشر کیا۔ (۲) اور نیک اولاد، جو اس نے چھوڑی۔ (۳) اور مصحف (قران) جو اس نے ورثاء کے لیے چھوڑا۔ (۴) یا جو اس نے مسجد تعمیر کی۔ (۵) یا مسافر خانہ تعمیر کیا۔(۶) یا نہر جاری کی۔ (۷) یا اپنی زندگی اور تندرستی میں اپنے مال سے صدقہ نکالا اسے مرنے کے بعد ان کا اجر ملتا رہے گا۔‘‘ (ابن ماجہ )

        "اللہ کی راہ میں ایک دن اور ایک رات سرحدوں کا پہرہ دینا، ایک مہینے کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے اور اگر وہ مرگیا، اس کا وہ عمل اس پر جاری رہے گا، جو وہ کرتا رہا۔ اور اس پر اس کا رزق و بدلہ جاری کردیا جائے گا اور وہ فتنے سے محفوظ ہوگا۔'‘ ( مسلم ، نسائی )

        ’’ ہر میت کا خاتمہ اس کے عمل پر ہوجاتا ہے، مگر اللہ کی راہ میں پہرہ دینے والا اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور وہ قبر کے فتنوں سے بچالیا جاتا ہے۔‘‘

        ( ابو داؤد ، ترمذی)

’’ بلاشبہ آدمی جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتا ہے، وہ سب سے پاکیزہ ہے اور بلاشبہ آدمی کی اولاد اس کی کمائی سے ہے۔‘‘ (نسائی ، ترمذی ،ابنماجہ)

        ’’ایک آدمی نے نبیصلی الله علیہ وسلم سے کہا میری ماں فوت ہو گئی ہے۔ میرا خیال ہے اگر مرتے وقت وہ بات کر سکتی تو صدقہ کرتی۔ کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کروںـ؟آپصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ہاںتو اس کی طرف سے صدقہ کر۔‘‘ ( بخاری، ابو داؤد، مسلم، نسائی، ابن ماجہ )

        ’’ ایک آدمی نے نبیصلی الله علیہ وسلم سے کہا میرا باپ فوت ہوگیا ہے اور اس نے ترکے میں مال چھوڑا ہے، اور وصیت نہیں کی ۔ میرا مال اس کی طرف سے صدقہ کرنا ، کیا اس کے لیے کفارہ بنے گا؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ ‘‘ ( نسائی، مسلم، ابن ماجہ)

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/visiting-the-graveyard-is-a-virtue-and-permissible-in-islam--قبروں-کی-زیارت-ایک-جائز-اور-نیک-عمل-ہے/d/109699

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..