New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 11:26 AM

Urdu Section ( 20 Feb 2017, NewAgeIslam.Com)

Unfolding The Real Face of Sufism (Part: 9) حقیقت تصوف اور طریقہ معرفت






مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

19/02/2017

سلوک، تصوف، طریقت اور معرفت کے باب میں علم کی اہمیت اور ضرورت پر اپنی گفتگو کے آخری مرحلے میں علم کے حوالے سے قطب عالم، شہنشاہِ ولایت، غوث الثقلین حضرت سیدنا شیخ عبد القادرجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیات و خدمات پر مختصر روشنی ڈالنا میں ضروری سمجھتا ہوں۔ اس لیے کہ یہ آپ کی حیات مقدسہ کا وہ پہلو ہے جسے ہر دور میں نظر انداز کیا گیا ہے۔اولیاء اور صوفیاء سے محبت کرنے والی جماعت کے زعماء، علماء اور مفکرین کے لیے یہ امر کسی المیہ سے کم نہیں ہے کہ آپ کی زندگی کا یہ قیمتی پہلو ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا اور اولیائے کرام کی حیات کے یہ روشن گوشے کتبِ تاریخ و سیَر کے اوراق میں گم ہو کر رہ گئے۔اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اولیاء اور عرفاء کے مخالفین و معاندین کی دیرینہ خواہش اور اولین کوشش تو یہ ہے ہی کہ انہیں فراموش کر دیا جائے اور اس پر مستزاد یہ کہ ہماری جماعت کے مقررین اور اہل قلم حضرات نے اولیائے کرام اور صوفیائے عظام کی صرف کرامتوں اور شرف و بزرگی کو ہی بیان کرنا اپناشیوا بنائے رکھا اور بہت کم لوگوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ انہیں تصوف، سلوک، ولایت اور طریقت کے اس مقام پر کس چیز نے فائز کیا؟

اسی بنیاد پر راقم الحروف نے اس بات کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کی کہ اکابر آئمۂ محدثین اور فقہاء کے حوالے سے سیدنا غوث الاعظم کے مقامِ علمی کو واضح کر دیا جائے تا کہ لوگوں کی نظر میں سلوک، تصوف اور طریقت کا ایک نیا گوشہ واضح ہو سکے۔اور یہ امر بھی واضح ہو سکے کہ کیا صرف عقیدت مندوں نے ہی آپ کا یہ مقام بنا رکھا ہے یا جلیل القدر آئمہ علم، آئمہ تفسیر اورآئمہ حدیث نے بھی ان کے حوالے سے ان باتوں کو بیان کئےہیں؟ اس لیے کہ شاید ہی کسی نے اس امر پر غور کرنے کی کوشش کی ہوگی کہ مرتبہ قطبیت میں جو اس قدر اعلیٰ مقام آپ کو حاصل ہوا کہ آپ نے اللہ کے اذن سے عالم جذب میں یہ اعلان فرما دیا،’’قدمی ھٰذہ علیٰ رکبۃ کل ولی اللہ‘‘، کہ میرا یہ قدم تمام اولیا کی گردنوں پر ہے، کائنات ولایت میں آپ کے اس مقام و مرتبہ کا طریق کیا ہے؟اور آپ کا لقب’’محی الدین‘‘ یعنی دین کو زندہ کرنے والاکیوں ہوا؟

لہٰذا، اس حوالے سےسیدنا غوث الاعظم کی حیات مقدسہ کا مطالعہ کرنے والے اہل علم اسبات سے بخوبی واقف ہیں کہ آپ نے اپنی کرامتوں سے نہیں بلکہ اپنی علمی خدمات کے ذریعہ دین کو زندہ کیا ہے، اور آپ کی محیر العقول کرامتیں آپ کے اس مرتبہ علمی کی گرد ہیں، اور آپ صرف ولایت میں ہی مقام غوثیت پر فائز نہیں تھے بلکہ علم میں بھی آپ کی ذات مقدسہ آپ کے تمام ہم عصروں پر یکتا و بے مثال تھی۔ آپ ایک جلیل القدر مفسر اور فقہ کے عظیم امام بھی تھے۔ آپ کے دور کے جلیل القدر آئمہ کی ایک بڑی جماعت نے آپ سے علم الحدیث، علم التفسیر، علم العقیدہ، علم الفقہ، تصوف، معرفت، فنی علوم، فتویٰ اور دیگر علوم حاصل کی۔

مورخین و سوانح نگار لکھتے ہیں کہ 528 ہجری سے لیکر 561 ہجری تک 33 برس ہفتے کے ساتوں دن آپ نے مسلسل تدریسی خدمات انجام دئے اور آپ ہر دن اپنی درس گاہ میں تیرہ علوم و فنون کا درس دیتے تھے اور آپ کی درس و تدریس کا یہ سلسلہ 90 سال کی عمر یعنی زندگی کے آخری ایام تک جاری رہا۔ نیز521 ہجری سے لیکر 561 ہجری تک 40 سال مسلسل آپ نے ہفتے کے میں تین دن خطاب کیے۔ آپ کے خطاب کی ہر مجلس میں 70 ہزارسے لیکر 1 لاکھ تک سامعین موجود ہوتے جن میں سے 4 سو کاتبین ہوتے جو آپ کے خطابات سے علوم و معارف کو لکھ کر جمع کرتے تھے۔امام ابن حجر عسقلانی نے ’مناقب شیخ عبدالقادر جیلانی‘ میں لکھا ہے اور اسے تمام مورخین اور سوانح نگاروں نے تواتر کے ساتھ نقل کیا ہے کہ 70 ہزار سے لیکر 1 لاکھ تک کے سامعین پر مشتمل آپ کے خطابی اجتماع میں قریب و بعید کے ہر فرد کو آپ کی آواز یکساں سنائی دیتی تھی۔آپ کی ان علمی مجالس میں صاحبِ صفۃ الصفوہ اور اصول حدیث کے مشہور امام ابن جوزیجی سے ہزارہا محدثین، آئمۂ فقہ، متکلم، نحوی، فلسفی، مفسر آپ سے تلمذ اور اکتسابِ فیض کرتے تھے۔ اور درس و تدریس میں آپ کے انہماک اور تسلسل کا یہ عالم تھا کہ بغداد میں موجود آپ کے دارالعلوم سے جو کہ حضرت شیخ حماد سے آپ کو منتقل ہوا تھا ہر سال 3000 طلبہ جید عالم اور محدث بن کر فارغ ہوتے تھے۔

ایک طرف جہاں آپ نے علوم دینیہ اور علوم متداولہ کی تحصیل کے لئے حضرت قاضی ابو سعید ابو المبارک المعجزوی جیسےعظیم شیخ اور حضرت ابو ذکریا تبریزی علیہ الرحمہ جیسےیکتائے روزگار عالم دین سے اکتساب فیض کیا وہیں آپ نے ابو الغنائم محمد بن علی میمون الخراسی، ابو البرکات طلحہ العاقولی، ابو عثمان اسماعیل بن محمد الاصبہانی، ابو طاہر محمد عبدالرحمن بن احمد، ابو المنصور عبدالرحمن، ابو النصر محمد بن المختار ہاشمی، شیخ ابو الخطاب محفوظ الکوذانی، ابو الوفا علی بن قیل حنبلی، ابو الحسن محمد بن قاضی، محمد بن الحسین القادری السراج جیسے نامور محدثین اور فقہاء کے علمی اور فقہی کمالات سے بھی ایک عرصہ تک خوشہ چینی کی۔علوم حدیث میں آپ کے کمالِ فہم اور دقت نظر کا یہ عالم تھاکہ اکثر آپ کے اساتذہ آپ کو سند حدیث دیتے وقت فرمایا کرتے تھے’’اے عبدالقادر! ہم تمہیں الفاظ حدیث کی سند دے رہے ہیں ورنہ حدیث کے معانی میں تو ہم تم سے استفادہ کرتے ہیں کیونکہ بعض احادیث کے مطالب جو تم نے بیان کئے ہیں ان تک ہماری فہم کی رسائی نہیں۔‘‘

چنانچہ خود غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے قصیدہ میں فرماتے ہیں کہ حصول علم کی تڑپ اور لذت نے مجھے مقامِ قطبیت پر فائز کر یا۔

آپ فرماتے ہیں

دَرَسْتُ الْعِلْمَ حَتَّى صِرْتُ قُطْباً                وَنِلْتُ السَّعْدَ مِنْ مَوْلَى الْمَوَالِي

ترجمہ:

میں علم حاصل کرتا رہا یہاں تک کہ مقامِ قطبیت پر فائز ہو گیا، اور میں نے خداوندتعالٰی کی مدد سے دونوں جہاں کی سعادت مندی حاصل کر لی۔

اپنے زمانے کے کتنے عظیم علماء، فقہاء اور محدثین کو سیدنا غوث پاک سے شرف تلمذ حاصل ہے اس کی وضاحت اس امر سے ہوتی ہے کہ فقہ حنبلی میں امام ابو القاسم الخرقی کی ایک چھوٹی کتاب’المختصر‘کے نام سےمشہور ہے۔ اور اس کتاب ’المختصر‘ کی انتہائی مستند اور مصدر و مرجع کی حیثیت رکھنے والی 15 جلدوں پر مشتمل ایک شرح ’کتاب المغنی‘ ہے، جو کہ فقہ حنبلی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے اور جسے فقہ حنبلی کی امہات الکتب میں شمار کیا جاتا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف امام ابن قدامہ مقدسینے ’المختصر‘ سیدنا غوث پاک سے پڑھی ہے، جو کہ آپ کی شرح ’کتاب المغنی‘ کا متن ہے۔

ایک مرتبہ سیدنا غوث الاعظم اپنی ایک مجلس میں قرآن مجید کی کسی آیت کی تفسیر فرمارہے تھےاور اسمیں امام ابن جوزی بھی کسی دوسرے محدث کے ہمراہ موجود تھے۔ جب سیدنا غوث الاعظم نے اس آیت کی پہلی تفسیر کی تو ان کے ساتھ موجود محدث نے پوچھا کہ کیا آپ کو یہ تفسیر معلوم تھی تو امام ابن جوزی نے جواب دیا ہاں! اور اسی طرح مسلسل اسی ایک آیت کی 11 تفاسیر تک آپ یہی فرماتے رہے کہ مجھے یہ تفاسیر معلوم ہیں۔ حتیٰ کہ سیدنا غوث الاعظم نے اس آیت کی مسلسل چالیس مختلف تفسیریں بیان کیں۔ جبکہ امام ابن جوزی گیارہ تفاسیر کے بعد مسلسل چالیس تفسیروں تک یہی کہتے رہے کہ مجھے یہ تفسیر معلوم نہیں۔ اور جب سیدنا غوث الاعظم اس ایک آیت کی چالیس تفسیریں بیان کر چکے تو فرمایا:الآن نرجع من القال إلی الحال۔

ترجمہ: ’’اب ہم قال سےحال کی تفسیروں کی طرف بڑھتے ہیں۔‘‘

یہ سن کر امام ابن جوزی تڑپ اٹھےاور وہ عالم وجد میں ہوش و حواس اورتاب و تواں کھو بیٹھے اور اپنے سر پیٹنے لگے اور کپڑے پھاڑنے لگے۔ خیال رہے کہ امام ابن جوزی کا شمار صوفیاء میں نہیں ہوتا بلکہ آپ جلیل القدر محدث، اسماء الرجال اور فن اسانیدمیں سند کی حیثیت رکھنے والے امام ہیں۔

جاری.....................

URL:http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/unfolding-the-real-face-of-sufism-(part--9)--حقیقت-تصوف-اور-طریقہ-معرفت/d/110144

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..