New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 09:45 AM

Urdu Section ( 9 Feb 2017, NewAgeIslam.Com)

Unfolding The Real Face of Sufism (Part: 6) حقیقت تصوف اور طریقہ معرفت






مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

2017/02/08

تصوف اور سلوک و معرفت کا چشمہ انسان کے نفس اور قلب و باطن میں اس وقت پھوٹتا ہے جب انسان اپنے نفس سے اخلاق ذمیمہ کو ختم کرتا ہے اور اس کی جگہ اخلاق حسنہ کا جوہر اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ اور اخلاق حسنہ کو فروغ دینے اور صفائے قلب و باطن کے اس عمل میں تہذیبِ اخلاق، سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن کا کردار سب سے اہم ہے۔ اور اس کاطریقہ یہ ہے کہ انسانمال اور اپنے نفس کی بخالت اور تنگی کو ختم کر کے اس کی جگہ سخاوت اور کشادہ قلبی پیدا کرے، اپنی طبعیت سے تکبر اور رعونت کو ختم کر کے اس کی جگہ تواضع اور انکساری پیدا کرے، اپنے مزاج سے خود نمائی اور خود پسندی کو ختم کر کے سادگی اور اخلاص پیدا کرے،کذب اور دروغ گوئی کی جگہ اپنی خصلت کو صداقت سے، وعدہ خلافی کی جگہ ایفائے عہد سے،بے وفائی کی جگہ وفاء سے، تلخ گوئی کے بجائے نرم گوئی سے،اپنے چہرے کو تلخی اور درشتگی کے بجائے نرمی اور ملائمت سے آراستہ کرے۔الغرض! جو انسان ان اخلاقی خوبیوں کا حامل بنتا ہے اسی کے نفس اور قلب و باطن میں وصول الی اللہ اور حصولِ معرفت کی استعداد پیدا ہوتی ہے او راس پھر اس نفس کو اللہ کے فرمان ’’لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا‘‘ کا فیض ملتا ہے اور اس پر عالم ملکوت و جبروت کے اسراراور معارفِ ذات و صفاتِ الٰہیہ کے دروازےکھول دیے جاتے ہیں۔

 اب رہا یہ سوال کہ راہ سلوک اور طریقت و معرفت میں عبادت و ریاضت اور مجاہدۂ نفس کا کیا مقام ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تصوف اور سلوک و معرفت میں ان کی حیثیت ثانوی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان اپنے وجود کو ان اخلاق حسنہ سے مزین کر لیتا ہے اور اپنے نفس اور قلب و باطن کی زمین کو ہموارکر لیتا ہے اور اس کے بعد فرائض عبادتوں کے علاوہ نفلی عبادات اور ریاضات و مجاہدات میں مشغور ہوتا ہے تویہ ریاضات اور مجاہداتِ نفس وصول الی اللہ میں سالک کی معاونت کرتے ہیں اور اس کے نفس اور ذات حق تعالیٰ کے درمیان کی مسافتوں کو کم کرتے ہیں۔

ورنہ اگر کوئی بندہ لاکھ عبادتیں کر لےاور سالہا سال سخت ریاضت اور مجاہدات میں بھی گزار لے لیکن اگر وہ ان اخلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ کا حامل نہیں ہے، مخلوق کے ساتھ اس کے معاملات اچھے نہیں ہیں اور اس کی ذات جھوٹ، مکر، فریب، دغا، بخل، انا، غرو ر اور تکبر کا مجسمہ اور مرقع ہے تو اسے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ قلب و باطن کے احوال سنوارے بغیر، مخلوق کے ساتھ معالات کو درست کیے بغیر اور اپنے قلب و باطن کو ’’اِنک لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیم‘‘ کے نور سے منور کیے بغیر عبادات و ریاضات اور مجاہدات کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی سخت، بنجر اور پتھریلی زمین پر کاشت کاری کرنے کی کوشش کرے اور اس پر پھل پھول اور پودھے اگانے کی انتھک کوششیں کرے۔

ہم اکثر یہ دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی یہ شکایتیں ہوتی ہیں کہ ہم نے عبادت و ریاضت اور مجاہدہ و مراقبہ میں ایک مدت گزار دی لیکن ہماری آنکھوں کو وہ بصیرت حاصل نہیں ہوئی اور نہ ہی اب تک ہمارے اوپر معرفت الٰہی کا دروازہ کھل سکا۔ ایسے لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سلوک، تصوف، معرفت اور ولایت کا راستہ علم کے بغیر کھلتا ہی نہیں ہے۔اور یہ کہنا سراسر جہالت، دجل اور فریب ہے کہ ہم طریقت اور سلسلہ والے ہیں لہٰذا ہم اہل حال ہیں اور علم، تقویٰ، شریعت، حقوق، آداب زندگی اور اخلاقیات کی باتیں کرناعلمِ ظاہریرکھنے والے اہل قال کا کام ہے۔ اس لیے کہ ایسے لوگوں نے تصوف کو ایک خاص قسم کے مراسم و معمولات اور اوراد ووظائف میں محدود کر رکھا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ مراسم و معمولات خیرپر مبنی ہیں تو ایک وسیع ترین نظام ِتصوف میں ان سب کے اپنے اپنے چھوٹے بڑے مقامات ہیں اور ان کی اپنی اپنی حیثیتیں ہیں،لیکن ان میں سے کوئی بھی شئی اساسِ تصوف، اصل سلوک اور حقیقتِ طریقت ومعرفت نہیں ہے۔

دم، ورد اور تعویذکرنا، مزارات پر جا کر جھومنا، چلہ باندھنا اگر یہ تمام باتیں خیر پر مبنی ہوں اور نیک مقاصد کے لیے ہوں تو ان میں سے کچھ جائز ہیں، کچھ مستحسن ہیں اور کچھ مستحب ہیں لیکن ان میں سے کسی بھی شئی پر تصوف کی بنیاد نہیں ہے۔ اگر کسی کو میری باتیں بے بنیاد معلوم ہوں تو میری یہ گزارش ہے کہ مجھ پر الزام دینے سے پہلے حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کی کتاب ’’کشف المحجوب‘‘،حضرت شیخ عبدا لرحمٰن سلمی کی کتاب ’’طبقات الصوفیاء‘‘، امام ابو نعیم کی کتاب ’’حلیۃ الاولیاء‘‘،امام ابو القاسم القشیری کے ’’رسالہ قشیریہ‘‘، سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے رسائل،امام غزالی کی کتاب ’’احیاء العلوم‘‘، غوث پاک کی کتاب ’’غنیۃ الطالبین‘‘، ’’سر الاسرار‘‘، ’’فتوح الغیب‘‘، اور ’’الفتح الربانی‘‘، اور حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی کتاب ’’عوارف المعارف‘‘ کو پڑھ لیا جائے اور حضور خواجہ اجمیر اورحضرت محبوب الٰہیکے ملفوظاتکا بھی مطالعہ کر لیا جائے۔

راقم الحروف نے ان اکابر اولیاء اور صوفیاءکے ناموں کو اس لیے درج کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ آج کوئی کتنا بڑا بھی پیر، شیخ، صوفی یا عارف کیوں نہ کہلائے لیکن وہ مذکورہ ہستیوں سے بڑا صوفی اور عارف ہونے کا دعویٰ کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا،اور نہ ہی مذکورہ کتابوں میں سے کسی بھی کتاب میں ان مراسم و معمولات کو تصوف کہا گیا ہے جنہیں آج جہالت کے باعث تصوف اور سلوک و معرفت کا نام دے دیا گیا ہے۔ اور امت مسلمہ پر ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اب قریہ قریہ اور بستی بستی ایسے پیشے ور پیر اور فقیر دورہ کرنے لگے ہیں جو اپنا نسب اکابر اولیاء سے جوڑتے ہیں اور یہ پروپگنڈہ کرتے ہیں کہ ہماولاد غوث اور اولاد خواجہ ہیں بس ہمارے ہاتھ میں ہاتھ دے دو تمہارا بیڑا پار ہے، تاکہ مریدوں اور متوسلوں کی تعداد بڑھ جائے، اور اہل نظر یہ بھی جانتے ہیں کہ ایسے لوگو اپنی دکان چمکانے کے لیے اور کیا کیا کرتے ہیں، میں یہاں ان تمام باتوں کا ذکر مناسب نہیں سمجھتا، صرف اشارہ ہی کافی ہے۔ اور سادہ لوح مسلمانوںکو اس بات کا اندیشہ بھی نہیں ہے کہ نذرانہ میں موٹی رقم دیکر بیڑا پار کروانے کی اسی لالچ نے ان کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ اس لیے کہ یہ کہنا کہ صرف میرے ہاتھوں میں ہاتھ دے دو اور تمہارا بیڑا پار ہے اتنا بڑا جھوٹ اور امت مسلمہ کے ساتھ اتنا بڑا فریب ہے کہ اس کا قول خود ان بزرگوں نے اپنی حیات میں کبھی نہیں کیا جن سے یہ اپنا شجرہ نسب جوڑتے ہیں۔اس لیے کہ پوری تاریخ اسلام میں کسی بھی بزرگ، کسی بھی پیر یا کسی بھی فقیر نے کبھی بھی اتباعِ شریعت، اتباعِ قرآن و حدیث اور اطاعتِ اللہ و رسول کے بغیر نجات اور جنت کا دعویٰ نہیں کیا۔

اور ان جھوٹے مدعیان تصوف کی فریب کاریوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم و فکر اور تقویٰ و طہارت کا جو نور لیکر ہمارے نبی ﷺ حرا کے غار سے نکلے تھے، اور علم و فکر پر مبنی جس انقلابی نظریۂ دین کو ہم تک منتقل کرنے کے لیے آپ ﷺ نے ساری مصیبتیں اٹھائی تھیں، طائف کی وادیوں میں پتھر کھائے تھے، اپنا سراپا لہو لہان کیا تھا، ہجرت کی تھی اور گھر بار قربان کیاتھا اب وہ نظریۂ دین ہم نے گم کر دیا اور پھر ہم ایام جاہلیت کی ہی طرح توہمات اور باطل افکار و نظریات کے پیچھے بھاگنے لگے۔ اس لیے کہ تصوف اور پیری فقیری کا جو راستہ آج بھولی بھالی امت کو دکھایا جا رہا ہے وہ ہرگز وہ راستہ نہیں ہے جوصحابہ کرام سےچلا اورحضرت اویس قرنی، حضرت جنید بغدادی،حضرت بشر الحافی، حضور غوثپاک، حضرت شہنشاہ نقشبند سے ہوتا ہوا حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری تک پہونچا اور پھر ان سے ہوتا ہوا حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری تک پہونچا۔

الغرض! ان تمام اولیاء اور صوفیائے کرام کی تعلیمات میں اس طرح بیڑا پار کروانے اور جنت میں پہونچانے کے یہ جھوٹے قصے اور کہانیاں نہیں تھیں۔ علم و عمل، زہد و تقویٰ اور خشیت الٰہی پر مبنی ان کا نظریہ تصوفبر حق ہے۔ اگر ہم ان کے دکھائے ہوئے طریق پر چلتے تو ہم پر کبھی جہالت کا طعنہ نہ آتا، ہم پر کبھی گمراہی کا الزام نہ لگتا اور نہ ہی کبھی تصوف کا مذاق اڑایا جاتا۔ اسی لیے آج اس بات کی ضرورت شدید تر ہو چکی ہے کہ عوامی سطح پر تصوف کی حقیقی تعلیمات پیش کی جائیں تاکہ پھر سے اس دنیا کو اسلام کی حقیقی روح سے واقف کیا جائے۔

جاری...........

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/unfolding-the-real-face-of-sufism-(part--6)--حقیقت-تصوف-اور-طریقہ-معرفت/d/110021

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..