New Age Islam
Tue Oct 27 2020, 06:10 AM

Urdu Section ( 7 Feb 2017, NewAgeIslam.Com)

Unfolding The Real Face of Sufism (Part: 5) حقیقت تصوف اور طریقہ معرفت






مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

2017/02/06

ابھی ہماری گفتگو حقیقت تصوف اور طریقہ معرفت میں سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن کے عنوان پر ہو رہی جس کے ضمن میں ہم نے ابو داؤد اور ترمذی کی ایک روایت کا مطالعہ کیا۔  اسی روایت کو ابن عساکر نے اپنی سند کے ساتھ ایک الگ انداز میں کچھ اضافہ کے ساتھ بیان کیا ہے۔وہ روایت کرتے ہیں کہ جب بارگاہ نبوت سے اللہ کی راہ میں مال و اسباب کا سوال ہوا تو حضرت ابو بکر نے اپنے گھر کے سارے سامات تو لائے ہی اور ساتھ ہی ساتھ آپ نے اپنے کپڑے بھی اللہ کی راہ میں پیش کر دیے اور آپ نے اپنے بدن پر صرف ایک چادر  ڈال لیاور اس میں کانٹے سے ٹانکے لگا کر نبی ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ حضرت ابو بکر کی یہ ادا اللہ کو اس قدر پسند آئی کہ اللہ نے جبرئیل امین کے ذریعہ نبی ﷺ کی وساطت سے حضرت ابو بکر کو سلام بھیجااور  نبی ﷺ کو حضرت ابو بکر سے یہ دریافت کرنے کے لیے کہا کہ اے ابو بکر! اللہ تم سے یہ پوچھتا ہے کہ کیا تم اپنا سب کچھ اللہ کی بارگاہ میں قربان کر دینے کے باعث فقر و فاقہ کے اس عالم میں اللہ سے راضی ہو؟ اس پر حضرت ابو بکر مچل اٹھے اور آپ پر ایک وجد کی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ بے ساختہ یہ پکار اٹھے ’’انا عن ربی راضیٍ‘‘کہ یا رسول اللہ میں تو اپنے رب سے راضی ہوں آپ اللہ سے یہ پوچھ کر بتائیں کہ وہ بھی مجھ سے راضی ہوا یا نہیں ہوا۔

اسی بنیاد پر صوفیائے کرام نے کہا کہ تصوف کا مقصود بندے کے عمل میں اسی معیار کا صدق اور اسی قدر اعلیٰ سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن پیدا کرنا  ہے کہ انسان کا ظرف اتنا عالی ہو کہ وہ اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کر کے بھی اپنی زبان بند رکھے اور  انسان اپنی کل متاعِ حیات لٹا کر بھی اسی فکر میں ڈوبا رہے کہ مجھ سے میرا رب راضی ہوا یا نہیں۔ المختصر! روحِ تصوف یہ ہے کہ انسان کی تمام جد و جہد، تمام کاوشوں، تمام عبادتوں، تمام ریاضتوں، تمام قربانیوں اور تمام نیکوں کا مقصدرضائے الٰہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔اور بندہ جہنم کے خوف سے اور جنت اور حور و قصور کی لالچ میں اللہ کی طاعت و بندگی کا دم نہ بھرے۔ بلکہ اس کا مطمح نظر صرف رضائے  حصول ہو۔

تو دل میں داغ محبت بنا لے اے زاہد

نشانِ سجدہ بنا تو کوئی کمال نہیں

 اور ایسے ہی لوگوں کا ذکر اللہ نے قرآن مقدس میں اس انداز میں کیا ہے:

’’اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللَّہِ لَا نُرِیْدُ مِنکُمْ جَزَآئً ا وَّلَا شُکُوراً ۔ (سورۂ دہر ۔آیت9-8)‘‘

خلاصہ: اللہ کے نیک بندے یہ کہتے ہیں کہ ہم غریب اور مفلس و نادار لوگوں کو کھانا صرف اس لیے کھلاتے ہیں اور ان کی کفالت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ہمیں صرف اللہ کی رضاء و خوشنودی عزیز ہے، اسی لیے ہم ان نیکیوں پر نہ تو کوئی اجر چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی کی جانب سے شکر گزاری اور تعریف و توصیف کی خواہش رکھتے ہیں۔ اور صوفیائے کرام نے لکھا ہے کہ انسان جب سخائے نفس، غنائے قلب و باطن، وسیع ظرفی اور کشادہ قلبی کے اس مقام پر فائز ہو جاتا ہے تب جا کر اس کے قلب اور نفس کی زمین زرخیز ہوتی ہے،  اور پھر اس کے بعد اس پر اللہ کی عنایات و الطاف اور توجہات کی بارش ہوتی ہے  جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دل کیاس زرخیز زمین پر تصوف و سلوک کا پودھا اگتاہے اور اس سے پھر سلوک اور  حقیقتو معرفت کے چشمے پھوٹ تے ہیں۔

یہ تو سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن کا ایک پہلو تھا۔ جبکہ غنائے نفس اور کشادہ قلبی کا ایک پہلو اور بھی ہے جسے ذکر کرنا میں انتہائی ضروری سمجھتا ہوں۔اس لیے کہ ہم جس تصوف کا دم بھرتے ہیں وہ صرف ایک ڈھونگ ہے اور ہمارے عمل، ہماری نیتیں اور ہماری خلوتیں روح تصوف سے خالی ہو چکی ہیں۔ اس لیے کہ سچے صوفیاء اور عرفاء جو ہم سے صدیوں پہلے گزر چکے  ان کے تصوف کی بنیاد علم و عمل، زہد و ورع ، کتاب و سنت،  اسوہ رسول اکرم ﷺ اور اسوہ صحابہ کرام پر تھی جبکہ آج ہمارے دور میں مزارات اور ظاہری رسوم و روایات تصوف کی اساس  بن چکی ہیں۔

جیسا کہ میں نے اس سلسلہ تحریر کے آغازمیں ہی یہ عرض کیا  تھا کہ تصوف و معرفت کا سب سے بڑا چشمہ ذات مصطفیٰ ﷺ سے پھوٹ رہا ہے اور سلوک و معارف کا سب سے بڑا مینارۂ نور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہے۔ لہٰذا، آپ ﷺ کی اتباع کیے بغیر اور آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنائے بغیر  اور وسیع ظرفی، کشادہ قلبی، خلق خدا کے ساتھ محبت و مروت، رأفت و رحمت، کردار و گفتار اور حسن سلوک میں آپ ﷺ نے جو پیمانہ مقرر کیا ہے اس سے ہٹ کر کبھی بھی تصوف کا باب مکمل نہیں ہو سکتا۔

احادیث کے ذخیرے میں ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ ستاروں کی مانند صحابہ کرام کی  چھرمٹ میں ایک روشن چاند کی طرح جلوہ گر ہیں۔ صحابہ کرام اپنی اپنی ضروریات اور اپنے اپنے سوالات آپ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر رہے ہیں اور آپ ﷺ لوگوں کی ضروریات بھی پوری فرما رہے ہیں اور ان کے سوالوں کے جوابات بھی مرحمت فرما رہے ہیں۔ دریں اثناء ایک اعرابی آیا اور آپ کی گردن میں لٹکی ہوئی چادر کو پکڑ کر کھینچا اور زور دار جھٹکا دیتے ہوئے بولا کہ ائے محمد (ﷺ)! پہلے میری بات سنیں۔ یہ دیکھ کر صحابہ کرام آگ بگولہ ہو گئے اور اس کی طرف لپک پڑے لیکن آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو! یہ بدو ہے اور آداب مجلس سے بھی واقف نہیں ۔الحاصل، یہ قوت برداشت، یہ وسعت نظر اور اسوہ رسول ﷺ کی یہ مثال اساس تصوف ہے جو کہ ہمارے اندر مفقود ہے۔

جاری............

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/unfolding-the-real-face-of-sufism-(part--5)-حقیقت-تصوف-اور-طریقہ-معرفت/d/109991

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..