New Age Islam
Sun Oct 25 2020, 09:46 PM

Urdu Section ( 2 Feb 2017, NewAgeIslam.Com)

Unfolding The Real Face of Sufism (Part: 4) حقیقت تصوف اور طریقہ معرفت








مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

2017/02/02

معزز قارئین! ابھی ہماری گفتگو اس امر پر جاری ہے کہ مال کا بخل نفس اور قلب کے بخل کے مقابلے میں ادنی اور کمتر ہے۔ اور صوفیائے کرام نے فرمایا کہ نفس اور قلب کا بخل مال کے بخل سے بڑا اور خطرناک ہے۔ اسی لیے مال کے بخل سے نجات پانا آسان ہے جبکہ نفس اور قلب کے بخل کو ختم کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اس لیے کہ اس کےلیے اعلیٰ اخلاقی ظرف اور سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن کی ضرورت ہوتی ہے اور سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن کے حصول کے لیے ایک کامل مربی کی تربیت اور با اثر صحبت درکار ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اگر مال کا بخل ختم ہو جائے اور نفس اور قلب و باطن کا بخل برقرار رہے تو راہ سلوک کا مسافر تصوف اور معرفت کی راہ میں ٹھوکریں کھاتا ہے اس لیے کہ سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن کے بغیر سلوک کا راستہ طئے کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ کیوں کہ جس دل اور جس قلب میں غنا اور سخا کا یہ جوہر نہیں پیدا ہوتا اس دل کی زمین پر اللہ کی معرفت کے چشمے نہیں پھوٹتے اور اس دل اور اس نفس کے تار عالم ملکوت و جبروت اور پھر محبوب حقیقی سے نہیں جڑتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صوفیاء اور عرفاء سالک راہ حق کے اندر جس شانِ بندگی کی شمع روشن کرنا چاہتے ہیں وہ سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن کے اس صوفیانہ تصور کی مزید وضاحت کے لیے یہاں ایک حدیث پاک کا مطالعہ کافی دلچسپ اور فکر انگیز ہوگا:

ابو داؤد اور ترمذی ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ آج اللہ کے دین کو تمہارے مال کی ضرورت ہے۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام سے جو بھی بن سکااپنی اپنی استطاعت کے مطابق مال و اسباب لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ لہٰذا، اللہ کے دین کی خاطر اپنے مال و اسباب قربان کرنے والوں کی صف میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے، چنانچہ آپ اپنے گھر کی ساری چیزیں اٹھاکر نبی ﷺ کی بارگا میں حاضر ہوئے یہاں تک کہ آپ نے اس روز رات میں کھانے پینے کے لیے بھی کچھ نہیں چھوڑا۔ نبی ﷺ نے جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مال اور ان کے احوال دیکھے تو آپ سے دریافت فرمایا کہ "مَا اَبقَیتَ لِاَھلِکَ یا اَبا بَکرٍ؟" ترجمہ: ائے ابو بکر اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟آپ ﷺ کے اس سوال کے جواب میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو جواب ارشاد فرمایااس کے بارے میں صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے کسی کی زبان سے اگر سب سے پہلا کوئی ایسا جملہ صارد ہوا جس پر تصوف اور معرفت کی بنیاد رکھی گئی اور جس کے چشمہ فیض سے تمام صوفیاء اور عرفاء نے سیرابی حاصل کی وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات ہے۔

جب نبی ﷺ نے پوچھا کہ "ائے ابو بکر اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟" تو آپ نے فرمایا "یَا رسولَ اللہﷺ! اَبقَیتُ لھمُ اللہَ و رسولَہُ" ترجمہ: یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے گھر والوں کے لیے اللہ اور اللہ کا رسول چھوڑ کر آیا ہوں۔ صوفیاء اور عرفاء فرماتے ہیں کہ بخل فی المال کے بت کو توڑنے کے بعد سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن یہی وہ معیار ہے کہ جس کے حصول کے بعد ایک سالکِ راہِ حق کے نفس اور قلب و باطن میں تصوف، سلوک اور معرفت کے چشمے پھوٹتے ہیں۔راہ سلوک و معرفت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول کے مقام اور اس کی اہمیت و افادیت کومکمل طور پر سمجھنے کے لیے یہاں چند اہم نکات کا ذکر ضروری ہے۔

صوفیائے کرام فرماتے ہیںکہ جب نبی ﷺ نے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ سےدریافت فرمایا کہ "ائے ابو بکر اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟"تو اس کا جواب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ"یا رسول اللہ میں اپنا سارا مال و اسباب یہاں لے آیا ہوں اور اپنے گھر والوں کے لیے اللہ اور اللہ کا رسول چھوڑ آیا ہوںیا آپ یہ بھی فرما سکتے تھے کہ یا رسو ل اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے"۔ اس لیے کہ اگر آپ مال کا ذکر کردیتے اور یہ فرمادیتے کہ میں اپنا سارا مال یہاں لے آیا ہوں اور اپنے گھر والوں کے لیے اللہ اور اللہ کا رسول چھوڑ آیا ہوں تو یہ مال کی تو سخاوت ہوتی مگر نفس کی سخاوت نہ ہوتی ۔ مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا مال کا ذکر نہ کرنا اورآپ کا یہ بھی نہ کہنا کہ "میں نے گھر والوں کے لیے کچھ نہیں چھوڑا ہے" اور صرف یہ فرمانا کہ "یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے گھر والوں کے لیے اللہ اور اللہ کا رسول چھوڑ کر آیا ہوں" آپ کے اندر سخائے مال اور سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن کی بھی علامت ہے اور اللہ کی ذات پر صبر اور توکل میں کمال کی دلیل بھی ہے ۔ اس لیے کہ اگر آپ یہ فرما دیتے کہ "گھر والوں کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے"، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا کہ جب گھر والوں کے لیے کچھ نہیں چھوڑا تو پھر ان کا گزر بسر کیسے ہوگا؟ لیکن تصوف، سلوک اور معرفت میں آپ کا ظرف اتنا عظیم ہے کہ آپ نے ایسا جواب مرحمت فرمایا کہ بعد میں اٹھنے والے تمام سوالات کے دروازے بھی بند ہو گئے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ تصوفسخائے مال، سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن میں اس قدر وسعت ظرفی، ضبطِ نفس، خاکساری، صبر و تحمل اور توکل علی اللہ کا مطالبہ کرتا ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لیے اللہ کے حکم سے اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ لٹا دے اور اپنی زبان پر اس کا ذکر بھی نہ لائےاور جب کوئی اس درجے کی سخاوت اور اللہ کی راہ میں ایسی قربانی دیکھ کر حیران ہو اور یہ پوچھےکہ اب تمہارا اور تمہارے اہل و عیال کا گزر بسر کیسے ہوگا تو اللہ اور رسول پر اس کے توکل کا ظرف اتنا وسیع ہو کہ وہ انسان یہ کہہ اٹھے کہ ہمارے لیے اللہ اور اس کا رسول ہی کافی ہے۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/unfolding-the-real-face-of-sufism-(part--4)-حقیقت-تصوف-اور-طریقہ-معرفت/d/109932

 

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..