New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 09:33 AM

Urdu Section ( 1 Feb 2017, NewAgeIslam.Com)

Unfolding The Real Face of Sufism (part: 3) حقیقت تصوف اور طریقہ معرفت








مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

2017/02/01

بانیان تصوف اور اکابر اولیاء کاملین کی عبارتوں کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ دین مکمل طور پر اخلاق حسنہ سے عبارت ہے۔ لہٰذا،اخلاق حسنہ میں جو سب سے بلند ہے ہمارے درمیان وہی دین میں سب سے آگے اور سب سے پختہ ہے۔ اور یہی حال تصوف کا بھی ہے (یعنی تصوف بھی کلیۃً اخلاق حسنہ سے عبارت ہے)۔ لہٰذا،ہمارے درمیان اخلاق حسنہ میں جو سب سے آگے ہے تصوف میں اسی کا پایہ سب سے بلند ہے۔ اور حسن خلق کی دولت کا حصول نفس کو تمام اخلاقِ ذمیمہ سے پاک کر کے تہذیب اخلاق اور تزکیہ قلب و باطن کیے بغیر ممکن نہیں۔ اور صوفیائے کرام نے تہذیب اخلاق اور تزکیہ قلب و باطن کے لیے سب سے پہلے طبعیت کو بخل کی بری خصلتسے پاک کرنے کو لازم قرار دیا ہے۔اور صوفیائے کرام نے فرمایا کہ بخل کی بھی دو قسمیں ہیں ایک تو مالی بخل ہے جس سے ہم سب واقف ہیں اور دوسرا نفس اور قلب کا بخل جسے ہم تنگئ قلب سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔

مال کا بخل یہ ہے کہ دل میں مال کی محبت اس قدر مضبوط ہو جائے کہ پوری فراوانی کے ساتھ مال و دولت ہوتے ہوئے بھی انسان کے اندر غریب و نادار، مفلس و مسکین اور مستحقین پر اس مال کو خرچ کرنے کی ہمت نہ ہو اور جب محتاجوں اور ضرورت مندوں کے اوپر خرچ کرنے کی باری آئے تو انسان کو یہ خطرہ ستائے کہ کہیں مال ختم نہ ہو جائے۔اور تصوف جن اخلاق حسنہ کا مطالبہ کرتا ہے اس میں بخل کا خاتمہ ضروری ہے اس لیے کہ بخل کی بنیاد مال و دولت سے محبت ہےاور تصوف کا مقصد انسانوں کی محبتوں اور عقیدتوں کا مرکز صرف خدا کی ذات کو بنانا ہے۔یہی وجہ ہے نیکوں کی سیڑھیاں چڑھ کر اللہ کی معرفت اور قربت حاصل کرنے والے راہ سلوک کے مسافروں کے لیے قرآن میں اللہ نے فرمایا، "لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ"۔ (ترجمہ: تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔)

قارئین کرام! دیکھا آپ نے کہ اللہ نے نیکیوں کی راہ پر چلنے والوں کے لیے واضح ہدایت فرمائی کہ تم اس وقت تک ہرگز نیکیوں کی گرد کو بھی نہیں پا سکتے جب تک تم صرف اللہ کے لیے وہ نہ خرچ کرو جس سے تمہیں محبت ہے۔اور انسان کے دل میں مال کی محبت کتنی ہوتی ہے یہ بیان کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔

اگر اس آیت کو اس کے وسیع ترین تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مال تو صرف ایک شئی ہے جس سے انسان محبت کرتا ہے، لیکن مال و دولت کے علاوہ بھی انسان کی زندگی میں ایسی بے شمار چیزیں ہیں جن سے انسان ٹوٹ ٹوٹ کر محبت کرتا ہے۔ لہٰذا، تصوف کی تعلیم یہ ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کا حکم واردہو جائے تو ان تمام چیزوں کو بھی اللہ کے حکم سے خالصۃً لوجہ اللہ خرچ کرنا بھی حصول قرب و معرفت کا سببہے جسے ہم آئندہ تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ جب تک ہم اپنی محبت کے تمام بتوں کو توڑ نہ دیں اور تمام محبتوں پر صرف اللہ کی محبت کو غالب نہ کر دیںتب تک ہم نیکی کی گرد کو بھی نہیں پا سکتے۔اور تصوف کی بنیاد اس بات پر ہے کہ انسان جو بھی چھوٹی یا بڑی چیز خرچ کرے وہ صرف اللہ کے لیے، اللہ کی محبت اور اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں کرے۔

لہٰذا، قرآن میں ایک دوسرے مقام پر اللہ نے نیکی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا، "لَيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ"، (ترجمہ:نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو)۔اس آیت کریمہ میں اللہکا پیغام ہے کہ محض مشرق و مغرب کی طرف چہرہ پھیرنا ہی نیکی نہیں ہے اور نہ ہی اللہ سمتوں کا محتاج ہے، بلکہ قرآن میں ایک مقام پر اللہ نے فرمایا، "قُل للہِ المَشرِقُ وَ المَغرِبُ یَھدِی مَن یَشٰاءُ اِلٰی صِراطٍ مُستَقیمٍ"، (ترجمہ:آپ فرما دیں: مشرق و مغرب (سب) اﷲ ہی کے لئے ہے)۔

اور اسی کو بنیاد بنا کر اہل تصوف اور عرفائے کاملین یہ کہتے ہیں کہ نیکی رسوم پروری کا نام نہیں ہے بلکہ اصل نیکی دل کا تقویٰ ہے اور اس کا دار و مدار خلوص نیت پر ہے۔لہٰذا، معلوم ہوا کہ تہذیب اخلاق اور تزکیہ قلب و باطن کےباب میں صوفیائے کرام سب سے پہلے اس امر پر توجہ دیتے ہیں کہ اللہ کے عشق اوراس کی محبت کی ضرب سے مال و دولت کی محبت کا بت توڑا جائے اس لیے کہ جب مال و دولت کی محبت کا بت ٹوٹے گا تو دل کی زمین سے بخل کا خاتمہ ہوگا اور جب دل کی زمین سے بخل کا صفایا ہو گا تب اس دل کی زمین پر تصوف کا پودھا اُگے گا اور پھر اس کے بعد اس دل کی زمین سے اللہ کی حقیقت اور معرفت کے چشمے پھوٹیں گے۔

معزز قارئین! یہ تو بخل کی پہلی قسم یعنیمالی بخل کا بیان تھا جس کا ابھی ہم نے مطالعہ کیا اور اب جس بخل کا بیان آ رہا ہے وہ نفس اور قلب کا بخل جسے ہم تنگئ قلب سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔ اور صوفیائے کرام نے فرمایا کہ نفس اور قلب کا بخل مال کے بخل سے بڑا اور خطرناک ہے اور مال کا بخل اس کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے۔اس لیے کہ مال کے بخل سے نجات پانا آسان ہے لیکن نفس اور قلب کے بخل سے نجات پانا انتہائی مشکل ہے اس لیے کہ اس کےلیے اعلیٰ ظرف، سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن کی ضرورت ہوتی ہے اور سخائے نفس اور غنائے قلب و باطن کے حصول کے لیے ایک کامل مربی کی تربیت اور با اثر صحبت درکار ہے۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/unfolding-the-real-face-of-sufism-(part--3)-حقیقت-تصوف-اور-طریقہ-معرفت/d/109919


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..