New Age Islam
Mon Apr 12 2021, 11:13 AM

Urdu Section ( 23 Feb 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Unfolding The Real Face of Sufism (Part: 11) حقیقت تصوف اور طریقہ معرفت






مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

2017-02-32

طریقت و تصوف کی ابتداء اس امر سے ہوتی ہے کہ متصوف اور سالکِ راہِ طریقت اپنی تمام عبادتوں میں اجازات اور سہولیات پر اکتفاء نہ کرے بلکہ عزیمت کو اختیار کرے اور اپنے نفس کو سخت مجاہدات اور ریاضات میں مشغول کر لے، اور طریقت کی انتہاء یہ ہے کہ سالکِ راہ طریقت اپنے ہر امر، ہر خواہش، ہر طلب اور ہر آرزو کو اللہ ہی کی طرف لوٹا دے اور ہر لحاظ سے اپنا مطلوب، اپنا مقصود، اپنا محبوب اور اپنے تمام امور کا مرجع و منتہیٰ صرف خدا کی ذات کو ہی بنا لے۔

اور اس کی ایک اور انتہائی ایمان افروز توضیح جو صوفیائے کرام سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ اپنی بدایت کی طرف لوٹنا ہی نہایتِ تصوف ہے۔ یعنی اپنی ابتداء کی طرف لوٹنا طریقت کی انتہاء ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ بندہ توکل رضاء اور تفویض میں اپنی اس کیفیت کی طرف لوٹ جائے جو کیفیت اس کی رحم مادر میں تھی۔

معزز قارئین! اگر ہم اس امر پر غور کریں تو یہ حقیقت عیاں ہو گی کہ جب انسان رحمِ مادر میں ہوتا ہے تو اس کا مربی صرف اور صرف اللہ کی ذات ہوتی ہے۔ اس بچے کا فقر بھی اللہ کی طرف تھا، اس کی احتیاج بھی اللہ کی طرف تھی، اس کی عاجزی بھی اللہ کی طرف تھی اور اس کا بھروسہ بھی صرف اللہ کی ذات پر تھا۔ اور وہ اپنی ضرورت، اپنے رزق، اپنی پرورش و پرداخت اور نشو نما میں اللہ کی مرضی اور اس کی مشیت پر منحصر بھی تھا اور راضی بھی ۔ اس لیے کہ اللہ رحم مادر میں ایک پرورش پانے والے بچے کو صحت مندی دے یابیماری، اسے رزق مہیا کرائے یا بھوکا رکھے، اسے کمزور بنائے یا طاقت و قوت سے نوازے، اسے خوبصورتی عطا کرے یا بدصورت بنائے، بہر صورت اللہ کی مرضی اور اللہ کے فیصلے پر اس کی رضاء کا عالم یہ ہوتا ہے کہ اللہ اسے جس حال میں رکھے وہ صابر و شاکر ہوتا ہےاور اس کی ذات سے اللہ کی ناشکری کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔ نیز شکم مادر میں وہ بچہ تمام قسم کے نفسانی عیوب و نقائص اور اخلاق ذمیمہ سے پاک اور مبرا و منزہ تھا۔ اس بچے کو نہ کسی سے حسد تھی نہ کسی کا بغض و کینہ تھا، نہ خود پسندی تھی اور نہ ہی کوئی تکبر تھا۔ بلکہ اس کی شخصیت میں گناہ، معصیت، نافرمانی، ناشکری، اور صفاتِ ذمیمہ اور اخلاقِ رزیلہ اس وقت پیدا ہوتےہیں جب و ہ شکم مادر سے برآمد ہوتا ہے اور پاکیزگی و طہارتِ نفس کی جو کیفیت شکمِ مادر کے اندر تھی وہ مدھم ہوتی چلی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جیسے جیسے وہ اس دنیا میں پروان چڑھتا ہے اس کی شخصیت اس کے گرد و پیش کے ماحول سے متأثر ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کے اخلاق و کردار پر ‘‘اسفل سافلین’’ کے اثرات مرتب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور جوں جوں اس کے دل و دماغ پر مادیت کا غلبہ ہوتا گیا توں توں وہ اللہ کی بارگاہ میں خود سپردگی اور تسلیم و رضاء کی لذتوں سے انجان ہوتا چلا گیا۔ جس کے نتیجے میں اس کے اندر خود پسندی اور خود بینی پیدا ہو گئی۔ اور جب وہ اس لائق بنا کہ اپنی دیکھ بھال خود کر سکے تو اس دنیا کی رنگینیوں نے اللہ رب العزت کی شان ربوبیت سے اس کی توجہ ہٹا دی۔ جب وہ اپنے نفع و نقصان کو سمجھنے کے قابل ہوا تو مشیت الٰہی پر انگلیاں اٹھانے لگا۔ لہٰذا، جب اس کے اندر یہ باتیں پیدا ہونے لگیں تو وہ رفتہ رفتہ وہ شان عبدیت سے محروم ہونے لگا اور شوائب نفس سے مغلوب ہوتا چلا گیا۔

معزز قارئین! جب آپ کسی ایسے بچے پر نظر ڈالیں جس کا شعور ابھی بلوغ کے مقام تک نہ پہنچا ہو تو آپ یہ پائیں گے کہ ایسے پچے کی کل کائنات ماں کی گود ہوتی اور جب اسے بھوک لگتی ہے یا کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ رو پڑتا ہے اور جب ماں اسے اٹھا کر سینے سے لگاتی ہے تو اس کی ساری تکلیفیں ختم ہو جاتی ہیں اور وہ مسکرانے لگتا ہے۔  اور یہی بچہ جب نوجوانی کی طرف بڑھتا ہے اور جب اس کا شعور بالغ ہونے لگتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے نفسِ امارہ کا شعور بھی بیدار ہوتا ہے جو انسان کے نفس میں انانیت کا شعور پیدا کر دیتا ہے اور انانیت حرص و ہوس دنیا، شیطنت، لالچ، ریاء، غرور و تکبر اور فخر و مباہات کو جنم دیتا ہے۔

 الغرض! انسان کے اندر جب ‘‘میں’’ یعنی انانیت کا شعور اپنا سر اٹھاتا ہے تو اس کے اندر سے تسلیم و رضاء، اطاعت و فرمانبرداری اور پاکیزگی و طاہرتِ نفس کا وہ شعور دم توڑ دیتا ہے جو عالم طفولیت میں شعور بالغ ہونے سے پہلے اس کے اندر موجود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ اللہ کی نافرمانی اور ناشکری کرتا ہے، والدین کو تکلیف پہنچاتا ہے اور اپنے اقوال و افعال کے ذریعہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف بغاوت و شرکشی کا اظہار بھی کرتا ہے۔

اسی لیے اولیاء اور عرفاء فرماتے ہیں کہ سالکِ راہِ تصوف و طریقت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس دنیا میں اپنے نفس، قلب، اخلاق اور کردار کا ایسا تزکیہ، ایسی تہذیب اور ایسی تحسین کرے کہ وہ پاکیزگی و طہارتِ نفس میں شکم مادر کے حال پر لوٹ جائے۔ یعنی وہ اپنے سارے معاملات مالک حقیقی کے سپرد کر دے، وہ نعمتوں سے نوازے تو بھی بندہ خوش رہے اور نعمتیں چھین لے تو بھی بندہ اس کے فیصلے پر راضی رہے۔ وہ جس حال میں اسے رکھے اس پر خوش رہے اور اپنے اندر ناشکری کی بو بھی پیدا نہ ہونے دے۔ اسی لیے جب کوئی بندہ تسلیم و رضاء اور طمانیتِ قلب و باطن کے اس مقام پر فائز ہو جاتا ہے تو پھر اللہ اپنے اِس کلام کے ساتھ اپنے اس بندۂ خاص کی طرف متوجہ ہوتا ہے: ‘‘یا ایتہا النفس المطمئنہ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ۔ ( سورہ فجر آیت / ۲۸ ، ۲۷)’’ یعنی اے اللہ کے ذکر اور اس کی طاعت و بندگی سے اطمینان پا جانے والی نفس! آ، اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ آ کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔

جاری .........

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/unfolding-the-real-face-of-sufism-(part--11)-حقیقت-تصوف-اور-طریقہ-معرفت/d/110183

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..