New Age Islam
Thu Dec 02 2021, 05:40 PM

Urdu Section ( 22 Feb 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Unfolding The Real Face of Sufism (Part: 10) حقیقت تصوف اور طریقہ معرفت


مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

2017-02-22

ولایت، کرامت نہیں بلکہ استقامت کا نام ہے

قرآن مقدس میں اللہ کا فرمان ہے:

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ (41:30)

ترجمہ:

‘‘بے شک جن لوگوں نے کہا: ہمارا رب اﷲ ہے، پھر وہ (اِس پر مضبوطی سے) قائم ہوگئے، تو اُن پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور تم جنت کی خوشیاں مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا’’۔

اسی لئے اولیاء اللہ نے فرمایا:

الإستقامة فوق الکرامة.

ترجمہ: استقامت کا درجہ کرامت سے برتر و بالا ہے۔

ولایت، تصوف، سلوک اور معرفت کی دنیا میں استقامت کو اولین اور کرامت کو ثانوی حیثیت حاصل ہے۔اور ولایت، کرامت نہیں بلکہ استقامت سے عبارت ہے۔ اس لئے کہ اولیائے کرام کی کرامتیں ان کی شان کا ایک گوشہ ہے، جبکہ طریقت و ولایت میں ان کا اصل مقام کتاب و سنت کی متابعت، تقویٰ اور ریاضت و مجاہدات میں ان کے استقامت سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے کہ مذکورہ بالا آیت مقدسہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب کوئی بندۂ مومن اللہ کی وحدانیت کا اقرار کر لیتا ہے، اور اس اقرار سے مراد صرف زبان کا اقرار نہیں بلکہ ایسا اقرار مراد ہے کہ جس کی تصدیق بندے کے اقوال و افعال دونوں سے ہوتی ہو اور اس کا یہ اقرار اس کے حال سے بدل جائے ، اور وہ اس پر اس طرح جم جائے کہ حالات کے نشیب و فراز اور بڑے بڑے حوادث زمانہ بھی اس کے پائے استقامت میں لغزش نہ پیدا کر سکیں اور آزمائشوں اور مخالفتوں کی بلاخیز آندھیاں بھی اسے راہ ِحق سے ہٹا نہ سکیں۔ اور اس کی پوری زندگی طاعت و بندگی، تقویٰ و طہارت، خشیت الٰہی، اطاعت شعاری اور ذوق بندگی سے عبارت ہو جائے تب بندے کے اوپر ولایت کا دروازہ کھلتا ہے اور جب بندہ اپنے نفس اور قلب و باطن کی اس استعداد کے ساتھ سلوکِ تصوف و ولایت میں منازل طے کرتا جاتا ہے تو اسے اس میں عروج اور کمال نصیب ہوتا ہے۔

جب ہم حقیقتِ تصوف و طریقت کے مفہوم کو سمجھ چکے اور یہ بات ثابت ہو چکی کہ شریعت کے بغیر طریقت کا کوئی تصور درست نہیں تو اب ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ طریقت کی ایک ابتداء ہے اور ایک انتہاء ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ شریعت کے اندر مباہات، مستحبات، اجازات، رخصتیں اور عزیمتیں بھی ہیں۔ لیکن جب انسان شریعت سے آگے نکل کر تصوف و طریقت کی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اس کی ابتداء اس طرح ہوتی ہے کہ سالک مباہات، مستحبات، اجازات اور رخصتوں سے صَرف نظر کرتے ہوئے عزیمت کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ لہٰذا، طریقت کی بدایت یہ ہے کہ بندہ عزیمت کی راہ پر چل پڑے اور عبادات میں ریاضت و مجاہدہ اور سخت محنت و مشقت کو اپنے اوپر لازم کر لے۔ اور تصوف و طریقت کا یہ تصور قرآن کی اس آیت پر مبنی ہے:

‘‘وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللهَ لَمَعَ المُحْسِنِينَ’’ (العنکبوت:69)

ترجمہ:

‘‘اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے’’۔

اس لیے کہ ہر عمل کے دو درجے اور دو مراتب ہوتے ہیں، یعنی ہر عمل کا ایک اعلیٰ درجہ ہوتا ہے اور ایک ادنیٰ درجہ ہوتا ہے اور جب کوئی سالک طریقت کے باب میں محض اجازات اور سہولیات پر اکتفاء کرنے کے بجائے جو کہ ادنیٰ درجہ ہے، اعمال صالحہ میں مجاہدات اور سخت ریاضات میں نفس کو مشغول کر لیتا ہے اور ہر عبادت کو علی وجہ الکمال ادا کرتا ہے اور ہر معاملے کی ادائیگی میں خواہ اس کا تعلق اللہ سے ہو خواہ مخلوق سے ہو، ادنیٰ کے بجائے اعلیٰ طریقہ اختیار کرتا ہے تو پھر اللہ اس کے اوپر اپنی معرفت اور ولایت کے راستے کھول دیتا ہے۔ اور اولیاء اسے طریقت کی ابتداء قرار دیتے ہیں۔

اور طریقت کی انتہاء اللہ کی طرف لوٹ آنا ہے۔ یعنی اپنے تمام معاملات کو اللہ کی طرف لوٹا دینا اور ہر جہت سے صرف اللہ کی ذات کو اپنا مطلوب، اپنامحبوب اور اپنا مقصودِ حیات بنا لینا ہے۔ نیز ہر خیر کا مصدر و منبع اللہ کو سمجھنا، ہر شئی کا مرجع و منتہیٰ اللہ کو ہی جاننا، زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کی رضا و خوشنودی کو پیش نظر رکھنا، اور پوری زندگی اس خیال کے ساتھ گزارنا کہ مجھے آخر کار پلٹ کر اللہ ہی کی طرف جانا ہے، طریقت کی انتہاء ہے۔ اور طریقت کے اس اصول کو اولیاء اور عرفاء نے قرآن مقدس کی ان آیات سے اخذ کیا ہے:

‘‘وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ’’ (ھود :123)

ترجمہ: ‘‘اور اسی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے’’۔

وَ اِلَیۡہِ تُرجَعُونَ (یٰسین:۲۲)

ترجمہ: ‘‘اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے’’۔

لہٰذا، سالکِ راہ طریقت اپنے ہر امر کو، ہر خواہش کو، ہر طلب کو اور ہر آرزو کو اللہ ہی کی طرف لوٹاتا ہے جس کی بنیاد پر اللہ کی رضاء پر اس کی رضاء قائم ہو جاتی ہے اور اس کی ذات توکل علی اللہ کا مظہر بن جاتی ہے اور یہی طریقت کی انتہاء ہے۔  

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/unfolding-the-real-face-of-sufism-(part--10)-حقیقت-تصوف-اور-طریقہ-معرفت/d/110170

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..