New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 09:46 AM

Urdu Section ( 22 Jan 2017, NewAgeIslam.Com)

Understanding The Concept of WahdatulWajud Through Sufi Literature (6) نظریہ وحدۃ الوجود تعلیمات و اقوال صوفیاء کے آئینے میں





مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

23/01/2017

نظر بر حقیقت تو لا الٰہ الا اللہ

نظر بر مراتب محمد ﷺ رسول اللہ

معزز قارئین! ابھی ہماریگفتگو "وجود" کے مرتبہ ثانی یعنی مرتبہ تعین اول پر چل رہی ہے جسے حقیقت محمدیہ بھی کہا جاتا ہے۔اور اس مرتبہ کے دیگر نام عالم لاہوت، عقل اول، تجلی اول، نفس اول، خلق اول، نشاط اول، کنز الکنوز، روح اعظم، قلم اعلیٰ، ام الکتاب، اور برزخ البرزخ بھی ہیں۔خالق اور مخلوق کے درمیان برزخ کبریٰ کی حیثیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت کو حاصل ہے، اس لیے کہ یہ مرتبہ "وجود" اپنے اوپر مرتبہ "لا تعین" سے فیض حاصل کر رہا ہے جو کہ ’’وجود‘‘ کا پہلا مرتبہ ہےاور اس فیض کو مرتبہ "واحدیت" تکپہنچا رہا ہے جو کہ ’’وجود‘‘ کا تیسرا مرتبہ ہے۔ اور خود مرتبہ "وحدت" پر قائم ہے جو کہ ’’وجود‘‘ کا دوسرا مرتبہ ہےاور برزخ کہتے ہی اسے ہیں جو اپنے اوپر کے مرتبہ اور اپنے نیچے کے مرتبہ دونوں سے تعلق برقرار رکھتا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ نے خود اپنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان سے عبد اور معبود کی سرحد کے علاوہ دوئی اور دوگانگی کے ہر تصور کو مٹا دیا ہے۔ اس لیے کہ ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلمکا منبع براہ راست خدا کی ذات ہے اور ذاتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم براہ راست ِذات خدا سے فیض حاصل کر رہی ہے اور اپنی ذات کے فیضان کرم سے کل کائنات کی پرورش کر رہی ہے۔ اور یہ ایک ایسی روشن حقیقت ہے کہ کوئی حکیم، کوئی عارف اور کوئی صوفی اسے تسلیم کیے بغیر نہ رہ سکا۔ اس سلسلے میں حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی کا وہ قول نقل کرنا مناسب ہے جسے انہوں نےاپنی کتاب "اخبار الاخیار فی تذکرۃ ا لابرار" کے مقدمہ میں لکھا ہے، آپ لکھتے ہیں:

                "پاک ہے وہ ذات جس نے خاک سے بنائے ہوئے سر کو فلک پر پہنچا دیابلکہ فلک نے اس خاک کے سایہ سے نور حاصل کیا(یہاں خاک سے مراد بشر خاکی یعنی حضرت آدم علی نبینا علیہ الصلوٰۃ و التسلیم ہیں۔) جب آدمِ خاکی کا نور جلوہ گر ہوا تو علوم و معرفت کے وہ تمام خزانے جو پردہ ازل میں پنہاں تھےظاہر ہو گئے۔ تمام فرشتے آپ کی خدمت میں صف بستہ کھڑے ہیں۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کو یہ مرتبہ و مقام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ و طفیل سے حاصل ہوا۔بہشت کے باغوں کو اپ کی ہی خوشبو نے معطر کیااور حوروں کے لب و رخسار پر ملاحت آپ کے چہرہ انور سے پھوٹنے والے نور سے قائم ہے۔

اگر چہ نور صفا کا ظہور صفا کی جانب سے ہوا جس طرح درختِ شعشہسے کوہ طُور پر آگ بھڑکی لیکن جس کا دل نور شعور سے منور ہے اسے بخوبی یہ علم ہےکہ اس کے چہرے سے کس کا نور پھوٹ رہا ہے۔ ذات بحت سے پہلے عقل و نفس میں اسی کزرگاہ سے ہو کر ظاہر ہونے والا نور نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلمہی ہے۔ ابجد کا پہلا حرف ذات مصطفیٰصلی اللہ علیہ وسلم کی ایجاد ہے۔اس حرف نے کاتب ازل (ذات وحدہ لا شریک) سے اصل سطور کا مقام حاصل کیا۔

فرقان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسا وصف جمیل ہے جو توریت میں اورانجیل و زبور میں بھی لکھا ہوا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کے سامنے عقل کی حیثیت ایسی ہیہے جیسے سورج کے سامنے آنکھ، کہ جب دونوں کا سامنا ہوتا ہے تو آنکھ خیرہ ہو جاتی ہے اور دور رہ کر ہی سورج سے استفادہ کرتی ہے۔

حق تعالیٰ کا مشاہدہ اگر چہ کسی انسان کی آنکھوں نے نہیں کیا لیکن جمال مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلمکے آئینے میں سب نے جلوہ حق کا مشاہدہ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوقات میں سب سے بہتر، نبیوں کے امام اور نورِ حق کے مظہر کامل ہیں۔آپ کا وجودِ مسعود براہ راست نورِ خدا سے ہے اور کائنات کی باقی تمام چیزیں نور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہیں۔(لہٰذا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام کائنات کی روح اور حق تعالیٰ کو جانِ روح سمجھو۔ ذات حق تعالیٰ کی معرفت بغیر وساطت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ تلاش کیا جائے۔روز ازل حق تعالیٰ نے آئینہ وجود کے روبرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےآئینہ حقیقت کورکھ دیا"۔

امام احمد رضا خان فرماتے ہیں:

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ مین آسمان ہے                                جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے

بزمِ ثنائے زلف میں میری عروسِ فکر کو                         ساری بہارِ ہشت خلد چھوٹا سا عِطر دان ہے

عرش پہ جا کے مرغِ عقل تھک کے گرا غش آگیا              اور ابھی منزلوں پَرے پہلا ہی آستان ہے

عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دَھام                       کان جدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے

اِک ترے رخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی                                اِنس کا اُنس اُسی سے ہے جان کی وہ ہی جان ہے

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو                            جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے

گود میں عالمِ شباب حالِ شباب کچھ نہ پوچھ !                                  گلبن ِ باغِ نور کی اور ہی کچھ اٹھان ہے

تجھ سا سیاہ کار کون اُ ن سا شفیع ہے کہاں                         پھر وہ تجھی کو بھول جائیں دل یہ ترا گمان

پیش نظر وہ نو بہار سجدے کو دل ہے بے قرار                              روکیے سر کو روکیے ہاں یہی امتحان ہے

شان ِ خدا نہ ساتھ دے اُن کے خرام کا وہ باز                               سدرہ سے تا زمیں جسے نرم سی اِک اڑان ہے

بارِ جلال اٹھا لیا گرچہ کلیجا شق ہُوا                                              یوں تو یہ ماہِ سبزۂ رنگ نظروں میں دھان پان ہے

خوف نہ رکھ رضا ذرا تو تو ہے عَبد مصطفٰے                          تیرے لیے امان ہے تیرے لیے امان ہے

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جملہ کائنات و موجوداتکا انحصار اسی ہستی کے نور یا حقیقت پر ہے جس کا نام محمد مصطفیٰ ہے۔ جملہ اعدام کے وجود کی بنیاد حقیقت محمدیہ پر ہی ہے۔یہی وجہ ہےکہصوفیاء حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو وجود و عدم کے درمیان ایک برزخ کبریٰ اور ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقت ثابتہ کا نمائندقرار دیتے ہیں۔وجود و عدم یا وجود ِمطلق اور کائنات میں تلازم کی بنیاد اسی حقیقت ثابتہ پر ہے۔جب ذات بحت خود اپنی ہی تجلی سے اپنے اسما و صفات کے نورسے روبرو ہوئی تو اس میں نور محمدی کا آئینہ نصب کیا اوراپنا نور اسیآئینے سے گزار کر جملہ اعدام تک پہنچایاجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام اشیا موجود ہو گئیں۔ صوفیا اور عرفا اکثر اپنی تحریروں میں احد اور احمد کے درمیان ایک خاص تعلق کی بات کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ احد اور احمد میں صرف ایک میم کا فرق ہے۔اس سے یہی حقیقت مراد ہے کہ نور محمدی نور خدا میں ملفوف ہے اور نورِ خدا جملہ اشیا میں ظاہر ہے اوراس حقیقت کا اعتبار کرتے ہوئے کل کائنات اور تمام موجودات بیک وقت نور خدا اور نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے مظہر ہیں۔

در عقل و نفس آمدہ زیں جا عبور یافت                            نور محمدی ﷺ ست کہ اول زِ ذات بحت

(ترجمہ: سب سے پہلے ذات بحت سے فیض یاب ہو کر عقل و نفس کے راستے سے ظاہر ہونے والا نور نورِ محمدی ہی ہے)

جاری.....................................

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/understanding-the-concept-of-wahdatulwajud-through-sufi-literature-(6)-نظریہ-وحدۃ-الوجود-تعلیمات-و-اقوال-صوفیاء-کے-آئینے-میں/d/109810

 

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..