New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 06:19 PM

Urdu Section ( 16 Jan 2017, NewAgeIslam.Com)

Understanding The Concept of WahdatulWajud Through Sufi Literature (2) نظریہ وحدۃ الوجود تعلیمات و اقوال صوفیاء کے آئینے میں





مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

16/01/2017

 

جیسے قطرہ میں ہے دریا کی نمود

جیسے ذرّہ میں ہے صحرا کا وجود

روشنائی جس طرح سے حرف میں

آبِ شیریں جس طرح سے برف میں

یوں محمدﷺ میں خدا ہے جلوہ گر

جیسے آئینہ میں آئینہ نگر

بے حلول و اِتّحادو اِتّصال

آئینہ میں آئینہ بیں کا جمال

پھول میں خوشبو نہاں ہے جس طرح

جسم کے پردہ میں جاں ہے جس طرح

چشمِ بینا میں بصارت جس طرح

گوشِ شنوا میں سماعت جس طرح

یوں ہی احمد میں احد ہے خود نما

بے گماں بے کیف بے چون و چرا

بے حلول و اتحاد و اتصال

حاصل ہے اس کو وصالِ ذوالجلال

لاشک اﷲ بے شک اﷲیاد کن

سینہ را از عشقِ او آباد کن*

اس عنوان پر سلسلہ وار تحریر کے آخری مضمون میں ہم نے تصور "وجود" پر گفتگو شروع کی تھی جس میں ہم نے مختلف اصحاب تحقیق اور اہل عرفان  کے اقوال کی روشنی میں "وجود" کی تعریف اور اس کی ماہیت پر گفتگو کی۔ اب ہم اہل شوق کے مذاق علمی و عرفانی کی تسکین کے لیے حضرت ابو سعید مبارک محزمی {متوفی403ہجری}کے مشہور رسالہ تحفہ مرسلہ کی روشنی میں "وجود" کے مراتب اور احوال پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔ گزشتہ مضمون میں ہم نے یہ جانا کہ "وجو"  کے متعلق  حضرت ابو سعید مبارک مخزمی {متوفی403ہجری}کا موقف کیا ہے۔ استحضارِ ذہنی اور ربطِ تحریر کے لیے اسے یہاں  مزید ایک مرتبہ پیش کیا جاتا ہے:

"اعلموا اخوانی اسعدکم اللہ تعالیٰ و ایانا۔ ان الحق سبحانہ و تعالیٰ ھو الموجود المطلق۔ و ان ذالک الوجود لیس لہ شکل و لا حد و لا حصر و مع ھذا اظھر و تجلی بالعدّ و الشکل۔ و لم یتغیر عماّ کان من عدم الشکل و عدم العد بل الان کما کان و ان الوجود و احد و الالباس مختلفۃ و متعدّدۃ۔ و ان ذالک الوجود حقیقۃ جمیع الموجودات و باطنھا و ان جمیع الکائنات لا یخلُوا عن ذالک الوجود۔"

(اے میرے برادر عزیز!اللہ تعالیٰ ہم سب کو سعادت دارین سے مالا مال فرمائے۔ تو جان کہ ذات حق سبحانہ و تعالیٰ ہی "وجود مطلق" ہے۔اس کی ذات شکل اور حد و حصر سے پاک ہے۔ اس کے با وجود ظہور ذاتِ حق کی تجلیات شکل اور حد و حصر میں نمایاں ہیں، لیکن کمال یہ ہے کہ اس سے اس کے بے صورت ، بے حد و حصر اور بے کم و کیف ہونے میں کوئی فرق نہیں پیدا ہوتا۔ بلکہ وہ جیسا تھا ویسا ہی ہے۔ وہ ایک وجود واحد ہے لیکن اس کی جلوہ نمائی مختلف لباس اور متعدد شکل و صورت میں ہے۔ یہی وجودِ واحد کائنات کے تمام موجودات کی حقیقت اور ان کا باطن ہے۔ اور کائنات کا کوئی بھی ذرہ اس کے ظہورِ ذات کی تجلیات سے خالی نہیں ہے)۔

آگے آپ مراتبِ وجود پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وَ اِن لذَالِکَ الوجود مراتب کثیرۃ۔

اَلمَرتبۃُ الاولیٰ: مرتبۃ لا تعین و لاطلاق و الذاتالبحت لا بمعنیٰ ان قید الاطلاق و مفھوم سلب و لتعین ثابتان فی تلک المرتبۃ۔ بل بمعنی ان ذالک الوجود فی تلک المرتبۃ منزۃ عن اضافۃ النحوت و مقدس عن کل قید حتی قید الاطلاق ایضاً۔   و ھذا المرتبۃُ تسمیٰ با المرتبۃ الاحدیۃو ھی کنہ الحق سبحانہ و تعالیٰ۔ و لیس فوقھا مرتبۃ اخریٰ بل کل المراتب تحتھا۔

و المرتبۃ الثانیۃ:مرتبۃ التعین الاول و ھی عبارۃ عن علمہ تعالیٰ لذاتہ و صفاتہ بجمیع الموجودات علی طریق الاجمال من غیر امتیازبعضھا من بعض و ھذہ المرتبۃ تسمیٰ بالوحدۃ الحقیقۃ المحمدیۃ ﷺ۔

و المرتبۃ الثالثۃ: مرتبۃ التعین الثانی و ھی عبارۃ عن علمہ تعالیٰ لذاتہ و صفاتہ و بجمیع الموجودات علیٰ طریق التفصیل و امتیاز بعضھا عن البعض و ھذہ المرتبۃ تسمیٰ بالوحدیۃ و الحقیقۃ الانسانیۃ۔

و المرتبۃ الرابعہ: و ھی مرتبۃ الارواح عن الاشیاء الکونیۃ المجردۃ البسیطۃ التی ظھرت علیٰ ذواتھا و علیٰ امثالھا۔

و المرتبۃ الخامسۃ: عالم الامثال و ھی عبارۃ عن الاشیاء الکونیۃ المرکبۃ الطیفۃ التی لا تقبل التجزیَ و لا التبعیض و لاالفرق و لالتیام۔

و المرتبۃ السادسہ: ھی مرتبۃ عالم الاجسام و ھی عبارۃ عن الاشیاء الکونیۃ المرکبۃ الکثیفۃ التی تقبل التجزیٰ و التبعیض۔

و المرتبۃ السابعہ: ھی مرتبۃ الجامعیۃ لجمیع المراتب المذکورۃ الجسمانیۃ و النورانیۃ و الروحانیۃ  و الواحدۃ  الواحدیۃ و ھو التجلیٰ الاخیرۃ و اللباس  الاخیرۃ و ھی الانسان۔

 الاولیٰ منھا  ھی مرتبۃ "لا ظھور"۔ و الستۃ الباقیۃ منھا ھی مراتب  الظھور الکلیۃ۔ و الاخیرۃ  منھا اعنی الانسان۔ اذا عرج ظھر فیہ جمیع مراتب المذکورۃ مع انبساطھا یقال لہ "الانسان الکامل"۔ و العروج و الانبساط علی وجہ الاکمل کان فی نبیناﷺ و لھٰذاکان  ﷺ خاتم النبین۔

حضرت ابو سعید مبارک محزمی {متوفی403 ہجری}"وجود کی  تعریف کے بعد اس کے مدارج اور مراتب کی تفصیل میں فرماتے ہیں کہ:

                اس "وجود" کے متعدد مراتب اور مدارج ہیں۔ ان تمام میں پہلا درجہ لا تعین، اطلاق یا ذات بحت کا درجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس درجہ میں اطلاق کی قید اور سلب تعین کا مفہوم ثابت نہیں   بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ "وجود" کا یہ درجہ اس معنیٰ میں "لا تعین" ہے کہ یہ صفات کی تمام نسبتوں اور یہاں تک کہ اطلاق کی قید سے بھی پاک اور منزہ و مبرہ ہے۔ اس مرتبہ کا نام مرتبہ "احدیت" بھی ہے۔ اور یہ  ذات حق سبحانہ و تعالیٰ کی کنہ ہے اور کوئی بھی مرتبہ اس مرتبہ سے اوپر نہیں ہے بلکہ "وجود" کے تمام مدارج و مراتب اس کے ماتحت مندرج ہوتے ہیں۔

دوسرے مرتبہ کو "تعین اول" کہا جاتا ہے۔ اور اس سے مراد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا اپنی ذات و صفات کو اجمالی طور پر ایک دوسرے سے امتیاز کیے بغیر جاننا ہے۔ اور اس مرتبہ کو "مرتبہ وحدت" اور "حقیقتِ محمدیہ ﷺ" بھی کہا جاتا ہے۔

تیسرے مرتبہ کو "تعین ثانی" کہا جاتا ہے۔  اور اس تعین ثانی سے مراد حق تعالیٰ کا اپنی ذات و صفات اور جملہ موجودات کو ایک دوسرے کے امتیاز کے ساتھ بالتفصیل جاننا ہے اور اسے "واحدیت" اور "حقیقت انسانیہ" بھی کہا جاتا ہے۔

وجود کا چوتھا مرتبہ "مرتبہ ارواح" ہے۔  اور مرتبہ ارواح میں وہ تمام مجرد اور بسیط کونی اشیاء شامل ہیں جن کا ظہور ان کی ذوات اور امثال پر ہوتا ہے۔

وجود کا پانچواں مرتبہ "عالمِ مثال" ہے۔ اور عالم مثال میں وہ اشیائے کونیہ مرکبہ لطیفہ شامل ہیں جنہیں اجزاء میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی وہ خرق و التیام (یعنی پھٹنے اور جڑنے) کے عمل کو قبول کرتے ہیں۔

وجود کا چھٹا مرتبہ "عالم اجسام" ہے۔ اور عالم اجسام ان اشیائے کونیہ مرکبہ کثیفہ سے عبارت ہے جو تقسیم و تجزی اور خرق و التیام (یعنی جدا ہونے اور جڑنے کے عمل) کو قبول کرتے ہیں۔

اور "وجود" کا ساتواں مرتبہ ان تمام مدارج اور مراتبِ مذکورہ کا جامع ہے یعنی اس میں مرتبہ جسمانی، مرتبہ نورانی، مرتبہ روحانی، مرتبہ وحدت اور مرتبہ واحدیت جیسے تمام مراتب و مدارج شامل ہیں۔ اور یہ وجود کی سب سے آخری تجلی اور وجود کا سب سے آخری لباس ہے جسے  انسان کہا جاتا ہے۔

مذکورہ مراتب میں سب سے پہلا مرتبہ "لا ظھور" کا ہے۔  اور بقیہ چھ مدارج و مراتب ظہور کلیہ  میں سے ہیں۔  اور جب "وجود" کا آخری مرتبہ یعنی انسان عرج پذیر ہوتا ہے تو اس میں مذکورہ بالا تمام مدارج و مراتب بدرجہ اتم اپنے تمام تر کمالات اور وسعت کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔ اور جس انسان میں ان تمام مراتب و مدارج کا ظہور ہوتا ہے اسے "انسان کامل" کہا جاتا ہے۔  اور مرتبہ انسانی کا یہ عروج اور مذکورہ بالا تمام مراتب وجود کا ظہور پوری وسعت کے ساتھ بدرجہ اتم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک میں ہوا۔  اسی آپ کو خاتم النبین قرار دیا گیا۔

*صاحب نغمات الاسرار، ابو سعید احسان اللہ چشتی

جاری......................................

URL: http://newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/understanding-the-concept-of-wahdatulwajud-through-sufi-literature-(2)-نظریہ-وحدۃ-الوجود-تعلمات-و-اقوال-صوفیاء-کے-آئینے-میں/d/109742

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..