New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 12:21 PM

Urdu Section ( 20 Jan 2017, NewAgeIslam.Com)

Understanding The Concept of Wahdatul Wajud Through Sufi Literature (5) نظریہ وحدۃ الوجود تعلیمات و اقوال صوفیاء کے آئینے میں




مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

21/01/2017

اللہ کا فرمان ہے:

مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ (النساء:30)

ترجمہ: جس نے رسول کی اطاعت کی بلا شبہ اس نے اللہ کی اطاعت کر لی۔

قارئین کرام! آپ نے دیکھا کہ کس طرح اللہ نے ہمارے آخری نبی ﷺ کو شان ِ ربوبیت کا مظہر بنایا ہے کہ اس ذات حق تعالیٰ نے اپنی محبت کو بھی آپ ﷺ کیکامل اطاعت و فرمانبرادری کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔ جبکہ عقل یہ کہتی ہے اور فطرت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جس سے محبت کا دعویٰ کیا جائے اطاعت و پیروی بھی اسی محبوب کی کی جائے، اپنی پسند و نا پسند کو بھی اپنے اسی محبوب سے وابستہ کر دیا جائے اور اپنا مرکز عقیدتبھی اسی محبوب کو بنایا جائے۔ محبت کا حق تو یہ ہے کہاپنی تمناؤں اور آرزؤں کا مرکز اس وجود کو بنایا جائے کہ جس سےعشق کی دنیا آباد ہے۔ لیکن یہ عشق کا ایک عجیب فلسفہ ہے کہ دعویٰ کسی اور کی محبت کا ہے اور اطاعت و پیروی کسی اور کی کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔

                لیکن یہ بھی اپنی جگہ ایک امر مسلم ہے کہ یہ فلسفہ عشق و طاعت بے معنیٰ نہیں۔ بلکہ اللہ کا رسول کے دست اقدس کو اپنا دست قدرت قرار دینا، رسول کے فعل کو اپنا فعل قرار دینا، رسول کی اطاعت کو اپنی محبت کی دلیل قرار دینا یہاں تک رسول کی اطاعت کو خاص اپنی اطاعت قرار دینا اس لیے ہے کہ خالق اور مخلوق، رب اور مربوب اور عبد اور معبود کی سرحد کے علاوہ اللہ اور رسول ﷺ کے درمیان سے دوئی اور دوگانگی کے ہر تصور کو مٹا دیا جائے ۔ اس لیے کہ ذات مصطفیٰ ﷺ کا منبع براہ راست خدا کی ذات ہے اور ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم براہ راست ذات خدا سے فیض حاصل کر رہی ہے اور اپنی ذات کے فیضان کرم سے کل کائنات کی پرورش کر رہی ہے۔ اور یہ ایک ایسی روشن حقیقت ہے کہ کوئی حکیم، کوئی عارف اور کوئی صوفی اسے تسلیم کیے بغیر نہ رہ سکا۔

نور کے پردہ میں پنہاں ہے وہی             اور اس پردہ سے عریاں ہے وہی

ہر طرف ہر سمت ہے جلوہ نما      بس اسی کی ذات بے چون وچر

ا حور و غلماں جن و انساں اور پری              سب ہیں اس کے نور کی جلوہ گری

(نغماتالاسرار)

احد در میمِ احمد گشت ظاہر               دریں در اول آمد عین آخر

زِ احمد تا احد یک میم فرق است              ہمہ عالم درآں یک میم غرق است

(گلشن راز)

ترجمہ:احد کا ظہور احمد کی میم ہوا ، اور اس دور میں عین اول آخر وارد ہوا۔احمد صلی اللہ علیہ وسلم سے احد تک کا فاصلہ صرفایک میم کا ہے اور کل کائنات اسی میں غرق ہے۔

علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں حقیقت محمدی کو ایسا "درآبدار" کہا ہے جو پہلے حسنِ مطلق کی آغوشِ تجلیات میں پنہاں تھا۔ اور حسن مطلق نے جذبہ خود نمائی سے مسحور ہو کر اس "در آبدار" کو اپنی آغوشِ تجلیات و معرفت سے جدا کر کے اسے اپنے سامنے رکھ دیا تاکہ وہ اس میں اپنا جمال دیکھ دیکھے۔ شعر ملاحظہ فرمائیں:

بہ ضمیرت آرمیدم تو بہ جوش خود نمائی                     بہ کنار برفگندی در آبدار خود را

ترجمہ: میں تیرے ضمیر میں آرام پذیر تھا اور تونے خود نمائی کے جذبہ سے سرشار ہو کر اپنے "در آبدار کو باہر اپنے کنارے ڈال دیا۔

 علامہ اقبال مزید یہ کہتے ہیں کہ عالم رنگ و بو کی تمام بہاریں یا تو نور مصطفیٰ ﷺ کی مرہون منت ہیں یا وہ ابھی نور محمدی ﷺ کی تلاش میں سرگردہ ہیں:

ہر کجا بینی جہان رنگ و بو                     آنکہ از خاکش بروید آرزو

یا زِ نور مصطفیٰ او را بہا است                    یا ہنوز اندر تلاش مصطفیٰ است

ترجمہ:جہاں کہیں بھی تو رنگ و بو کی دنیایا کوئی ایسا جہاں دیکھتا ہے کہ جس کی خاک سے آرزو جنم لیتی ہے۔ تو اس کا وجود یا تو نور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ کے وجودِ حیات آفریں کی بدولت ہے یا وہ ابھی نور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں سرگر داں ہے۔

اس موقع پر غالب کے ان اشعار کا مطالعہ کافی دلچسپ ہو گا جس میں انہوں تخلیق کے پورے فلسفہ کو بیان کیا ہے۔

نورِ محض واصلِ ہستی ذات اوست                     ہر کہ جز حق بینی از آیات اوست

تا بہ خلوت گاہ غائب الغیب بود            حسن را اندیشہ سر در جیب بود

جلوہ کرد از خویش ہم بر خویشتن             داد خلوت را فروغ انجمن

جلوہ اول کہ حق بر خویش کرد                  مشعل از نورِ محمد پیش کرد

شد عیاں زاں نور در بزم ظہور                 ہر چہ پنہاں بود از نزدیک و دور

نور حق است احمد و لمعان نور              از نبی در اولیاء دارد ظہور

ہر ولی پرتو پذیر است از نبی                        چوں مہ از خود مستنیر است از نبی

جلوہ حسن ازل مستور نیست               لیکن اعمیٰ را نصیب از نور نیست

ترجمہ:

1.      نورِ محض اور روح کائنات صرف اسی (محمد ﷺ)کی ذات مبارکہ ہے۔ اور حق کے علاوہ جو کچھ بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے وہ اسی ذات کی نشانیاں ہیں۔

2.      جب تک اس کا نور غائب الغیب کی خلوت گاہ میں پنہاء تھاتب تک حسنِ مطلق کی فکر گریبان میں سر دئے ہوئے تھی۔

3.      اس حسن مطلق نے خود سے خود کے اوپر اس جلوہ (نور محمدی) کو ظاہر کیا اور اس طرح اس نے عالم خلوت کو انجمن کا فروغ عطا کیا۔

4.      حسن مطلق نے نور محمدی کی مشعل کی صورت میں جب سے پہلا جلوہ اپنے اوپر ظاہر کیا۔

5.      دور اور نزدیک کے تمام راز ہائے سربستہ اسی نور محمدی سے فیض پا کر بزم ظہور میں عیاں ہو گئے۔

6.      احمد صلی اللہ علیہ وسلم نور حق ہیں اور انوار و تجلیات کا جو ظہور اولیاء میں ہوتا ہےاسے بھی فیض نور محمدی صلی للہ علیہ وسلم سے ہی ملتا ہے۔

7.      جس طرح چاند سورج سے توانائی حاصل کر کے منور ہوتا ہے اسی طرح ہر ولی کو نور محمدی ﷺ سے فیض حاصل ہو رہا ہے، اور وہ اسی نور کا فیض دنیا میں تقسیم کر رہے ہیں۔

8.      اندھے تو (یعنی منکرین نور محمدی) اس نور کی خیرات سے ہی محروم ہیں،ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ حسن ازل مستور نہیں بلکہ افشاں ہے۔

علامہ اقبال اپنے ایک اور شعر میں کہتے ہیں کہ کائنات کے ذرے ذرے میں نور محمدی کا عکس جمیل عیاں ہے:

لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب                      گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

اسی طرح جہاں تخلیقِ کائنات کے اس فلسفہ کی وضاحت میں علماء اولیاء اور عرفائے کاملین نے ہزاروں لاکھوں صفحات سیاہ کیے ہیں وہیں ہر زبان و ادب کے مشاق شعراء نے اپنی شاعری کی بساط کو اس فلسفہ سے منور کیا ہے۔ اور اسی سلسلہ کی ایک کڑی حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کا ایک خوبصور ت گلدستہ اشعارملاحظہ فرمائیں:

سب دیکھوں نور محمد کاسب بیچ ظہور محمد کا                        جبرئیل مقرب خادم ہے، سب جا مشہور محمد کا

وہ منشاء سب اسماء کا ہے، وہ مصدر ہر اشیاء کا ہے    وہ فخر ظہور خفا کا ہے،سب دیکھو نور محمد کا

کہیں روح مثال کہایا ہے کہیں جسم میں جاں سمایا ہے                        کہیں حسن و جمال دکھایا ہے، سب دیکھو نور محمد کا

کہیں عاشق وہ یعقوب ہوا، کہیں یوسف وہ محبوب ہواکہیں صابر وہ ایوب ہوا، دیکھو نور محمد کا

کہیں ابراہیم خلیل ہوا، سن راز قدیم علیل ہوا      کہیں ہارون وہندیم ہوا، سب دیکھو نور محمد کا

کہیں غوث ابدال کہایا ہے، کہیں قطب بھی نام دہرایا ہے    کہیں دین امام کہایا ہے، سب دیکھو نور محمد کا

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ

جاری.........................

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/understanding-the-concept-of-wahdatul-wajud-through-sufi-literature-(5)-نظریہ-وحدۃ-الوجود-تعلیمات-و-اقوال-صوفیاء-کے-آئینے-میں/d/109795

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..