New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 12:59 AM

Urdu Section ( 19 Jan 2017, NewAgeIslam.Com)

Understanding The Concept of Wahdatul Wajud Through Sufi Literature (4) نظریہ وحدۃ الوجود تعلیمات و اقوال صوفیاء کے آئینے میں






مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

19/01/2017

حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں

داءک فیک و ما تشعر                           دواءک منک  و ما تبصر

و تزعم انک جرم صغیر                                   و فیک انطویٰ  العالم الاکبر

و انت الکتاب المبین الذی                      باحرفہ یظھر المضمر

فلا حاجۃ لک من خارج                                     و فکرک فیک و ما تفکر

ترجمہ:

تیری بیماری اور اس بیماری کی دوا بھی تجھ ہی میں ہے اور تو اسے  نہیں دیکھتا۔

تو یہ سمجھتا ہے کہ  تو ایک چھوٹا سا  وجود ہے، جبکہ تیرے اندر ایک عظیم کائنات سمائی ہوئی ہے۔

تیرا وجود ایک ایسی روشن کتاب ہے کہ جس کے ایک ایک حرف سے رازہائے کائنات سے پردے اٹھتے ہیں۔

(اسی لیے تیری معرفت کے لیے) تجھے کسی خارجی شئی کی ضرورت نہیں بلکہ تیری معرفت کے سارے راز تجھ میں ہی سر بستہ ہیں۔

ابھی ہماری گفتگو "وجو" کی حقیقت اور اس کے مدارج و مراتب اور ان  کی تفصیلات پر ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے گزشتہ تحریر میں "وجود" کے مرتبہ اول "مرتبہ لاتعین"  پرگفتگو کر لی اور اس کے بعد "وجود" کے مرتبہ دوم  یعنی "تعین اول" پر  گفتگو شروع کی جس میں ہم نے یہ جانا کہ جب ذات حق تعالیٰ نے اپنے ظہور کا ارادہ کیا اور اس کی مشیت ہوئی کہ میں پہچانا جاؤں تو سب سے پہلے اس نے نور ِمحمدیﷺ کو ظہور بخشا اور پھر اس ذات حق نے نور محمدیﷺ سے کل کائنات کی تخلیق کی۔ اور اس سر عظیمسے پردہ بھی خود رسول اخر الزماں محمد صلی للہ علیہ وسلم نے اٹھایا ہے۔ لہٰذا، کل موجودات عالم میں حقیقت محمدی ﷺ کا ظہور ہے اور اس کائنات کی کل موجودات اسی حقیقت محمدیہ ﷺ کا مظہر ہیں۔ اور حقیقت محمدی ﷺ ہی کل کائنات کی پرورش کر رہی ہے۔  اس عالم کی ظاہری صورتوں کی پرورش حقیقت محمدی ﷺ کی  ظاہری صورت سے ہو رہی ہے اور اس کائنات کے باطن کی پرورش حقیقت محمدی ﷺ کا باطن کر رہی ہے۔

اور آپ ﷺ یہ شان ربوبیت  آپ کی حقیقت کے فیض سے ہے بشریت کے فیض سے نہیں بلکہ بشریت پر نظر کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود مربوب ہیں۔ چونکہ اللہ نے آپ صلی علیہ وسلم کی ذات مقدسہ کو جہت عبودیت اور مظہر شان ربوبیت دونوں کا جامع بنایا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دونوں شانیں قرآن سے ثابت ہیں۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام فقہا، صوفیا اور  عرفا نے بالاجماع برزخ کبریٰ قرار دیا ہے۔  اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں ایک طرف مخلوق میں شامل ہیں وہیں دوسری طرف خالق سے واصل بھی ہیں۔

اُدھر سے اﷲ سے واصل، اِدھر مخلوق میں شامل

خواص اس برزخ کبرٰی کو ہے حرفِ مشدد کا

قرآن میں اللہ کا فرمان ہے:

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ (18:110)

فرما دیجئے: میں تو صرف (بخلقتِ ظاہری) بشر ہونے میں تمہاری مثل ہوںمیری طرف وحی کی جاتی ہے۔

مذکورہ آیت کریمہ سے آپ ﷺ کی ذات اقدس میں جہت بشریت کا ثبوت ملتا ہے۔

جبکہ قرآن مقدس میں ایسی متعدد آیات کریمہ ہیں جن سے ہمارے نبی آخر الزماں ﷺ کی ذات میں شان ربوبیت کا پہلو بھی ثابت ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اللہ کا فرمان ہے:

وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى۔ (8:17)

(اور (اے حبیبِ محتشم!) جب آپ نے (ان پر سنگ ریزے) مارے تھے (وہ) آپ نے نہیں مارے تھے بلکہ (وہ تو) اللہ نے مارے تھے)۔

اس آیت کریمہ کا پس منظر یہ ہے کہ ہجرت کی رات آپ کے خون کے پیاسے کفار و مشرکینِ عرب آپ ﷺ کو قتل کرنے کے ارادے سے گھات لگائے بیٹھے تھے۔ لیکن جب آپ ﷺ علیہ وسلم کاشانہ نبوت سے باہر تشریف لائے  اور آپ کی نظر  آپ کے خون کے پیاسے ان دشمنوں پر پڑی تو آپ ﷺ علیہ وسلم نے زمین سے ایک مٹھی کنکری اٹھا کر دشمنوں کے منھ پر دے ماری جس سے ان کی بینائی جاتی رہی اور آپ ﷺ علیہ وسلم ان کے درمیان سے گزر گئے اور انہیں خبر تک نہیں ہوئی۔  اور اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ محبوب آپ نے ہجرت کی رات دشمنوں کو جو کنکریاں ماری تھیں وہ آپ نے نہیں ماری بلکہ ہم نے ماری۔ اللہ نے اس آیت میں واضح طور پر رسول اللہ ﷺ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے آپ کے کنکریاں مارنے کے عمل کو خود اپنا عمل قرار دیا ہے۔

اور ایک مقام پر اللہ نے فرمایا کہ:

إِنَّ الَّذِینَ یُبَایِعُونَکَ إِنَّمَا یُبَایِعُونَ اللَّہَ یَدُ اللَّہِ فَوْقَ أَیْدِیہِمْ (الفتح: 10)

(اے حبیب!) بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اﷲ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اﷲ کا ہاتھ ہے۔)

اس آیت میں اللہ نے بیعت رضوان کا ذکر کیا ہے اور یہ  فرمایا ہے کہ ائے محبوب مکرم! بیعت رضوان کے موقع پر جن لوگوں نے آپ کے دست اقدس پر بیعت کی انہوں در اصل اللہ کے دست قدرت پر بیعت کی اس لیے کہ ان کے ہاتھوں پر آپ کے دست اقدس کی صورت میں اللہ کا ہاتھ ہے۔  اول الذکر آیت کریمہ میں اللہ نے نبی کے فعل کی نفی خود نبی ﷺ سے کر کے اسے اپنا فعل قرار دیا  تھا اور آخر الذکر  آیت کریمہ میں اللہ نے واضح الفاظ میں نبی ﷺ علیہ وسلم کے اعضائے جسمانی میں سے ایک حصہ یعنی دست اقدس کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور یہ اعلان کیا ہے کہ بیعت رضوان کے موقع پر بیعت کرنے والوں کے ہاتھوں پر ائے نبی مکرم! آپ کے دست اقدس کی صورت میں خود اللہ کا ہاتھ تھا۔ جبکہ اللہ جسم و جسمانیات سے پاک ہے اس کے باوجود ان صحابہ کرام کے ہاتھوں پر اللہ کے فرمان کے مطابق  اللہ کا ہاتھ ہے۔ اب یہ ایک الگ موضوع ِبحث ہے کہ بیعت رضوان کرنے والے ان صحابہ کرام کے ہاتھوں پر کس اعتبار اور کس جہت سے اللہ کا ہاتھ ہے ، لیکن اس بنیاد پر بھی اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ اللہ نے نبی ﷺ اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس کو خود اپنا ہاتھ قرار دیا ہے۔

اس سلسلے میں ایک اور دلچسپ آیت کریمہ وارد ہوئی ہے، ملاحظہ فرمائیں:

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْیُحْبِبکُمُ اللہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْ بَکُمْ ط وَاللہُ غَفُوْر'' رَّحِیْم۔ (آل عمران:31)

ترجمہ:

اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لئے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔

اس موضوع پر گفتگو آگے بڑھانے سے پہلے میں ایک امر کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔ اور و ہ یہ ہے کہ عقل یہ کہتی ہے اور فطرت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے اطاعت و پیروی بھی اسی کی کرتا ہے، انسان اپنی پسند و نا پسند اسی سے وابستہ کر لیتا ہے جو اس کا مرکز عقیدت ہوتا ہے۔ اور انسان اپنی تمناؤں اور آرزؤں  کا مرکز اسی کو بناتا ہے جس سے وہ اپنی عشق کی دنیا آباد رکھتا ہے۔ الحاصل، صحرائے عشق کا کوئی ادنیٰ سا مسافر بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر تم "زید" سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتے ہو تو تمہارا یہ دعویٰ اس وقت تک ثابت نہیں ہو سکتا جب تک تم "بکر" کی کامل اطاعت و فرمانبرداری اپنے اوپر لازم نہ کر لو، اور جب تم ایسا کر لو گے تو زید کے ساتھ محبت کا تمہارا دعویٰ  ثابت ہو جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ ایسا کرنے پر تمہارے لیے اس بات کی ضمانت بھی ہے کہ "زید" جو کہ تمہاری محبتوں کا مرکز ہے وہ  بھی تم سے محبت کرنے لگے گا۔ لیکن یہ عشق کا ایک عجیب فلسفہ ہے کہ دعویٰ کسی اور سے محبت  کرنے کا ہے اور اطاعت و پیروی کسی اور کی کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔

جاری.................................

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/understanding-the-concept-of-wahdatul-wajud-through-sufi-literature-(4)-نظریہ-وحدۃ-الوجود-تعلیمات-و-اقوال-صوفیاء-کے-آئینے-میں/d/109780

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..