New Age Islam
Sun Oct 25 2020, 08:53 PM

Urdu Section ( 27 Jun 2019, NewAgeIslam.Com)

Understanding Quran with Quranic Spirit--Conclusion علم اور خشیت الٰہی کا باہمی ربط


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

26 مئی 2019

ہمیں اللہ نے پیکر بشریت عطا کر کے اس دنیا میں بھیجا ۔ اور ماسوائے انسان پوری کائنات کو اسی پیکر بشر کی خدمت کے لیے پیدا کیا۔ اگر ہم غور کریں اور نظام کائنات پر ایک گہری نظر ڈالیں تو یہ اقرار کئے بنا نہیں رہ سکتے کہ اس کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز کسی نہ کسی طور پر انسان کی خدمت پر معمور ہے ۔ اس کائنات کی ہر شئی انسان کی کسی نہ ضرورت  کو ضرور پوری کرتی ہے ۔ کیوں کہ جو کچھ بھی ان آسمانوں اور زمینوں کے درمیان ہے اللہ نے ان سب کو انسانوں کے لئے مسخر کر دیا ہے(قرآن)۔ 

جب یہ بات واضح ہو گئی  کہ اللہ نے اس زمیں پر ہم انسانوں کو مجبور و محتاج بنا کر نہیں بھیجا ہے  تو ہمیں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ ہماری ہدایت کے اسباب و ذرائع بھی اللہ نے اس دنیا میں ہمیں ضرور فراہم کیا ہوگا۔ اس لئے کہ صحیح ہدایت بھی ایک اہم انسانی ضرورت ہے ۔  اور ہدایت منحصر ہے صحیح علم اور درست فہم و فراست پر ۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ خالق ارض و سماوات نے ہم انسانوں کو  اس زمین پر ایک لمحے کے لئے بھی ہدایت سے محروم نہیں رکھا بلکہ اس دنیا کے سب سے پہلے انسان حضرت آدم علی نبینا علیہ الصلوٰۃ و التسلیم کو نبی بنا کر مبعوث کیا اور نبی کا وجود اپنی جگہ خود رشد و ہدایت کا سر چشمہ ہوتا ہے۔  بطور انسان ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ ہم ہدایت کے ان سرچشموں کو پہچانیں اور حتی المقدور ان سے اکتساب فیض اور استفادہ علم و حکمت کریں۔

انسانی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ہر زمانے میں ہدایت کے اسباب و ذرائع اور معیارات جدا جدا رہے ہیں ۔  جب جس زمانے میں انسانی عقل جس سطح پر پہونچی اللہ نے انسانوں کی ہدایت اور اپنی معرفت کے لئے اسی سطح کے اسباب و ذرائع بھی مہیا کئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نبی کے معجزات جدا ہیں اور ہر پیغمبر کے کمالات الگ الگ ہیں ۔ اب یہ تلاش کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہمارے لیے ہدایت اور معرفت الٰہی کا سرچشمہ کیا ہے ۔  بحیثیت مسلم ہمارے لئے ہدایت اور معرفت الٰہیہ کا مصدر و سرچشمہ قرآن کے علاوہ اور کوئی شئی نہیں ہو سکتی ۔  کیوں کہ یہی ایک ایسی زندہ و جاوید آسمانی کتاب ہدایت ہے جو آج بھی اسی طرح باقی اور صحیح و سالم ہے جس طرح یہ چودہ سو سال قبل ہمارے نبی ﷺ پر نازل ہوئی تھی۔ اور قیامت تک یہ اسی شکل میں برقرار بھی رہے گی کیوں کہ اس میں نہ تو آگے سے ملاوٹ کی جا سکتی ہے اور نہ ہی پیچھے سے(قرآن)۔  اس لئے کہ خدائی منصوبہ یہ ہے کہ اب قیامت تکقرآن ہی ہدایت انسانی کی ضرورت پوری کرے،  اور اس کے   لئے اس کتاب کا ہر قسم کی تبدیلی اور تحریف سے پاک ہونا انتہائی ضروری ہے۔

چونکہ ہمارا دور علم اور سائنس کی ترقی کا دور ہے  اسی لئے ہدایت سے علم کو آج کسی بھی صورت میں جدا نہیں کیا جا سکتا ۔  آج ہم اس دور میں داخل ہو چکے ہیں کہ علم سے ناطہ توڑ کر ہدایت کا تصور بھی نہیں  کیا جا سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جس انداز میں علم و تعلم کا ذکر کیا ہے وہ سب سے نرالا ہے اور اہل علم کو جو امتیازی مقام عطا کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

قرآن کی سب سے پہلی آیت علم کے بارے میں  ہے

اقْرَأْبِاسْمِرَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (1) خَلَقَالْإِنسَانَمِنْعَلَقٍ (2) اقْرَأْوَرَبُّكَالْأَكْرَمُ (3) الَّذِي عَلَّمَبِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَالْإِنسَانَمَالَمْيَعْلَمْ (96:5)

ترجمہ: پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا - آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا، پڑھو - اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم - جس نے قلم سے لکھنا سکھایا - آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا– کنزالایمان

اللہ علم والوں کے درجات بلند کرتا ہے۔

يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَآمَنُوامِنكُمْوَالَّذِينَأُوتُواالْعِلْمَدَرَجَاتٍۚوَاللَّهُبِمَاتَعْمَلُونَخَبِيرٌ (58:11)

ترجمہ: اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ کنزالایمان

علم والے اور بے علم برابر نہیں ہو سکتے

قُلْ هَلْيَسْتَوِيالَّذِينَيَعْلَمُونَوَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَۗإِنَّمَايَتَذَكَّرُأُولُوالْأَلْبَابِ (39:9)

ترجمہ: کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ کنزالایمان

علم و معرفت نور ہے اور جہالت تاریکی و اندھیرا

قُلْ هَلْيَسْتَوِيالْأَعْمَىٰوَالْبَصِيرُأَمْهَلْتَسْتَوِيالظُّلُمَاتُوَالنُّورُۗ (13:16)

ترجمہ: فرما ؤ کیا برابر ہوجائیں گے اندھا اور انکھیارا (بینا) یا کیا برابر ہوجائیں گی اندھیریاں اور اجالا۔ کنزالایمان

علم چھپانے والوں پر اللہ کی لعنت

إِنَّالَّذِينَيَكْتُمُونَمَاأَنزَلْنَامِنَالْبَيِّنَاتِوَالْهُدَىٰمِنبَعْدِمَابَيَّنَّاهُلِلنَّاسِفِيالْكِتَابِۙأُولَٰئِكَيَلْعَنُهُمُاللَّهُوَيَلْعَنُهُمُاللَّاعِنُونَ (2:159)

ترجمہ: بیشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرماچکے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ۔کنزالایمان

کتاب اللہ کا علم سیکھنے اور سکھانے والے  علماء ربانیین ہیں

كُونُوارَبَّانِيِّينَبِمَاكُنتُمْتُعَلِّمُونَالْكِتَابَوَبِمَاكُنتُمْتَدْرُسُونَ (3:79)

ترجمہ: اللہ والے ہو جاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس سے کہ تم درس کرتے ہو۔ کنزالایمان

حصول علم کی فضیلتیں:

من سلک طریقاًیطلب بہ علماًسھّلاللہُلہطریقا من طُرُقالجنۃ۔ و ان الملائکۃلتضعاجنحتھا لطالب العلم رضا بمایصنع و اِنالعالمیستغفرلہ کل من فیالسماوات و من فیالارض و الحیتان فی جوف الماءواِن فضل العالم علیالعابدکفضلالقمرلیلۃالبدر علی سائر الکواکبواِنالعلماء و رثۃالانبیاءواِنالانبیاءلمیورثوادرھماً و لا دیناراً و اِنماورثواالعلم؛ فمن اخذ فقد اخذ بحظ وافر۔ (مسند احمد ۔ ابوداؤد۔ ترمذی۔ ابن ماجہ)

ترجمہ مع مفہوم

جو شخص حصول علم کے لئے اپنے گھر سے نکل کر سفر کرتا ہے اللہ اس کے بدلے اپنے فضل سے اس کے لئے جنت کے راستوں میں سے کوئی ایک راستہ آسان فرما دیتا ہے۔ طلب علم کے مقصد سے گھر سے نکلنے والوں کی راہ میں فرشتے ان کے عمل سے خوش ہو کر ان کے راستے میں اپنے پروں کو بچھا دیتے ہیں۔ اور سن لو! زمین و آسمان اور دریا و سمندر میں رہنے والی اللہ کی تمام مخلوقات علم رکھنے والے کے حق میںدعائے مغفرت کرتی ہیں۔ اور ایک اہل علم کی فضیلت ہزاروں بکثرت عبادت گزاروں پر ایسی ہیہے جیسے چودہویں رات کا چاند تمام سیارگان فلک پر جگمگاتا ہے اور اس کی روشنی میں تمام ستاروں کیضیاپاشیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ اور حاملان علم ہی انبیاء کے وارث ہیں اس لئے کہ انبیاء اپنی وراثت میں درہم و دینار نہیں چھوڑتے بلکہ وہ اپنے بعد وراثت میں علم کا سرمایہ دنیا میں چھڑ جاتے ہیں۔ لہٰذا، جس نے علم حاصل کیا اس نے اللہ کی رحمت اور انبیاء کی وراثت سے بھرپور حصہ لیا۔

حصول علم کا مقصد کیا ہے ؟

آج کچھ اہل علم حضرات ہمیں یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہمیں خشیت الٰہی کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی انسانی ہدایت کے لئے اب اس کی کوئی ضرورت اور اہمیت  و افادیت باقی بچی ہے۔ ہاں اگر کبھی ہم سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس گناہ کی بنیاد پر ہمیں اللہ سے ڈرنا چاہئے۔  جبکہ قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ علم کا مقصد  اللہ کی معرفت حاصل کرنا ہے اور  معرفت حق کو خشیت الٰہی  لازم ہے اس طور پر علم کا ایک بنیادی مقصد خشیت الٰہی کا حصول ہے۔ اب ذیل میں قرآن کی جو آیت پیش کی جا رہی ہے اسے دیکھ کر ایسے لوگوں کو یا تو اہل علم ہونے کا گمان ترک کر دینا چاہئے یا خشیت الٰہی کا اقرار کر لینا چاہئے۔

قرآن کہتا ہے:

علم والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں

إِنَّمَايَخْشَى اللَّهَ مِنْعِبَادِهِالْعُلَمَاءُۗإِنَّاللَّهَعَزِيزٌغَفُورٌ (35:28)

ترجمہ: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں بیشک اللہ بخشنے والا عزت والا ہے ۔کنزالایمان

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/understanding-quran-with-quranic-spirit--conclusion--علم-اور-خشیت-الٰہی-کا-باہمی-ربط/d/119014

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..